مسلم آبادی گھٹ رہی ہے- معصوم مرادآبادی

 

آسام کے بعد اترپردیش بی جے پی اقتدار والی دوسری ریاست ہے جہاں ان دنوں فیملی پلاننگ کے بہت چرچے ہیں۔ صوبے میں دوبچوں کی پالیسی نافذ کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کا مداواکیا جارہا ہے۔اس کے ساتھ ہی حسب عادت سنگھ پریوار کی تنظیموں نے اس مہم کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑ دیا ہے اور ہمیشہ کی طرح یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے مسلمان واحد ذمہ دار ہیں اور سب سے زیادہ پابندیاں ان ہی پر لگنی چاہئیں۔ مسلم آبادی بڑھنے کے پروپیگنڈے کے دوران حال ہی میں ایک ایسی سروے رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس نے اس پروپیگنڈے کی ہوا نکال دی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن صوبوں میں مسلم آبادی زیادہ ہے، وہاں زرخیزی کی شرح قومی اوسط سے نیچے ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال 96 فیصد مسلم آبادی کا صوبہ لکش دیپ ہے، جہاں زرخیزی کی شرح صرف ایک اعشاریہ چار فیصدہے۔نیشنل فیملی ہیلتھ سروے نمبر 5 کی اس چشم کشارپورٹ پر ہم آگے چل کر روشنی ڈالیں گے، آئیے پہلے یوپی میں دوبچوں کی پالیسی پرہونے والی سرپھٹول کا جائزہ لیتے ہیں۔

اترپردیش کی یوگی سرکار ایک ایسا قانون لانے کی تیاری کررہی ہے جس کے تحت دوسے زیادہ بچوں والا کوئی شخص سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوگااور اگر ملازمت کے دوران اس کے ہاں تیسرے بچے کی ولادت ہوئی تو وہ نوکری سے ہاتھ دھوبیٹھے گا۔خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنے والے سرکاری ملازمین کو طرح طرح کے لالچ دئیے جارہے ہیں۔یعنی جو سرکاری ملازم نس بندی کرائیں گے ان کی تنخواہ میں خصوصی اضافہ ہوگا۔ہاؤسنگ بورڈ کے مکانوں میں سبسڈی ملے گی اور سستی شرح پر’ہوم لون‘ ملے گا۔ اتنا ہی نہیں نس بندی کرانے والے ملازمین کو پروموشن میں بھی ترجیح دی جائے گی۔جبکہ عام لوگوں کو ہاؤس ٹیکس، بجلی اور پانی میں سبسڈی ملے گی۔ اگراکلوتی اولاد لڑکی ہے تو وظیفہ اورمفت تعلیم کے ساتھ ملازمت میں بھی ترجیح دی جائے گی۔غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے والدین اگر ایک بچے کے بعد نس بندی کرائیں گے تو نقد رقم ملے گی۔ایک لڑکا ہے تو 80 ہزارروپے اور لڑکی ہے تو ایک لاکھ۔یہ اور اس قسم کی دیگر دلکش رعایتوں پر مشتمل قانونی مسودہ لاء کمیشن نے تیار کیا ہے اور اس پر عوامی رائے اکھٹا کی جارہی ہے۔

یوں تو اس پالیسی کا براہ راست مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کا منفی اثر ان پر پڑنے والا ہے کیونکہ مسلمانوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے پہلے سے ہی بند ہیں، لیکن اس کے باوجود اس پالیسی کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اس معاملے کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دیا جاسکے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ مسلمان اس پر خاموشی اختیار کریں لیکن نہ جانے کیوں بعض خودساختہ ’مسلم لیڈران‘ اس پر غیرضروری بیان بازی کررہے ہیں اور اس معاملے میں فرقہ پرستوں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یوگی سرکار نے جن لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہ پالیسی وضع کی ہے، انھوں نے ہی اس پر سوال کھڑے کرنے شروع کردئیے ہیں۔سب سے پہلا ردعمل آرایس ایس کی ذیلی تنظیم وشوہندو پریشد کی طرف سے آیا ہے۔ پریشد کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ریاست اور ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔ وی ایچ پی نے سب سے زیادہ تنقید ریاست کی ’ایک بچہ‘ پیدا کرنے کی پالیسی پر کی ہے۔اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے بعض ممبران پارلیمنٹ آنے والے مانسون اجلاس میں آبادی پر قابو پانے سے متعلق پرائیویٹ بل لانے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ ان لوگوں کی سرگرمیوں کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ اگلے چند مہینوں میں ملک کی آبادی پر قابو پالیا جائے گااورملک کو درپیش تمام سلگتے ہوئے مسائل حل ہوجائیں گے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ جب بھی ملک میں آبادی کو کنٹرول کرنے کی بحث شروع ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان ہوتے ہیں۔اس بحث کو شروع کرنے میں ہمیشہ سنگھ پریوار کے لوگ پیش پیش رہتے ہیں۔عوامی سطح پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک میں آبادی کا توازن بگاڑنے کے واحد ذمہ دار مسلمان ہیں۔ کیونکہ وہ چار چار شادیاں کرتے ہیں اور ہر بیوی سے پانچ پانچ بچے پیدا کرتے ہیں، جبکہ ہندو ؤں کی آبادی مسلسل گھٹ رہی ہے۔ اگر یہی رجحان باقی رہا تو مسلمان اکثریت میں اورہندو اقلیت میں آجائیں گے اور اس طرح ایک دن وہ اقتدار پر قبضہ کرلیں گے۔یہ دراصل سنگھ پریوار کا ایک فرسودہ پروپیگنڈہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دینا ہے۔جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پیدائش کی شرح میں کوئی فرق نہیں ہے،بلکہ ایک حالیہ رپورٹ میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں آبادی کی زرخیزی کی شرح گھٹ رہی ہے۔جن صوبوں میں مسلمانوں کی زیادہ آبادی ہے، وہاں ان کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے۔

آبادی کے عالمی دن کے موقع پر فیملی ہیلتھ سروے نمبر5 کی جو رپورٹ منظرعام پر آئی ہے،وہ ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی سے زیادہ ہے جو مسلمانوں کی آبادی میں بے تحاشہ اضافے کا جھوٹا پرپیگنڈہ کرتے ہیں۔ اس سروے کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کیرل، تمل ناڈو، جموں وکشمیرکی آبادی رواں دہائی میں مستحکم ہوجائے گی۔ اعداد وشمار کے مطابق زیادہ تر صوبوں میں آبادی کی شرح نمو (ٹی ایف آر) گرگئی ہے۔ جموں وکشمیر،کیرل، مغربی بنگال سمیت جن صوبوں میں مسلم آبادی 20فیصد سے زیادہ ہے، وہاں بھی شرح نموقومی اوسط (ایک اعشاریہ آٹھ)سے نیچے ہے، اس میں اترپردیش مستثنیٰ ہے جہاں شرح نمواب بھی دواعشاریہ چارہے۔پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے جوائنٹ ڈائریکٹرآلوک باجپئی کے مطابق شرح نمو کا براہ راست تعلق مذہب سے نہیں بلکہ تعلیم، سماجی اور معاشی حالت اور طبی سہولتوں سے ہے۔سب سے زیادہ 96فیصدمسلم آبادی والے لکش دیپ، 68 فیصد مسلم آبادی والے جموں وکشمیرمیں آبادی کی شرح نموایک اعشاریہ چارفیصد ہے۔34فیصد مسلم آبادی والے آسام میں یہ شرح ایک اعشاریہ سات فیصد،27فیصد مسلم آبادی والے مغربی بنگال میں ایک اعشاریہ چھ فیصد، 26فیصد مسلم آبادی والے کیرل میں ایک اعشاریہ آٹھ فیصداور 20 فیصد مسلم آبادی والے صوبے اترپردیش میں دواعشاریہ چار فیصد ہے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سخت قوانین بناکر آبادی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے یا پھر اس طرح نئے سماجی مسائل کو دعوت دی جارہی ہے۔ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔جس خاندان میں لگاتار دولڑکیاں ہوں گی وہاں لڑکے کی خواہش پوری کرنے کے لیے لوگ کون سے طریقے اختیار کریں گے۔ عام خیال یہ ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے رحم مادر میں لڑکیوں کو مارنے کے واقعات میں اضافہ ہوگااور نئی مشکلات پیدا ہوں گی۔ عوام کے اندر بیداری پیدا کرکے ہی اس مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے اور اس کا سب سے کارگر طریقہ تعلیم نسواں کا فروغ ہے، جس کی طرف بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بھی توجہ دلائی ہے۔ نتیش کمار نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ”قانون بناکر آبادی کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے کہا کہ آبادی کنٹرول کرنے کاکام تعلیم نسواں سے ہی ممکن ہے۔ خواتین جب تعلیم یافتہ ہوجاتی ہیں تو آبادی کنٹرول کرنے کے لیے ان کے ہاں بیداری آجاتی ہے اور شرح تولید میں اپنے آپ کمی آجاتی ہے۔“اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی قانونی نہیں بلکہ پوری طرح ایک سماجی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سماجی بیداری ہی واحد راستہ ہے۔جہاں تک قانون سازی کا سوال ہے تو ملک میں جرائم کو روکنے کے لیے سخت ترین قوانین کی موجودگی کے باوجود جرائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے، لہٰذا جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ سخت قوانین بناکر آبادی کو کنٹرول کرلیں گے، وہ دراصل احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔