مصیبت کی گھڑی میں جمعیۃ علماے ہند بلاتفریق مذہب و ملت سیلاب متاثرین کے ساتھ ہے:مولانا ارشد مدنی

 

نئی دہلی(پریس ریلیز):مہاراشٹرمیں مسلسل طوفانی بارش سے سیلاب کی تباہ کاری بھیانک شکل اختیار کر گئی ہے۔ لاتعداد جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ گاؤں کے گاؤں بستی کی بستی پانی میں ڈوب چکی ہے، مکانوں کے ساتھ ساتھ دیگر املاک خاص طورپر فصلوں کو سیلاب کا پانی نگل چکاہے۔ رتنا گیری اور رائے گڑھ کے علاوہ مہاڈ،چپلون اور اس کے مضافاتی علاقے بھی بری طرح متاثر ہیں۔ ان تمام متاثرہ علاقوں میں جمعیۃعلماء مہاراشٹرکی جانب سے ریلیف کا کام جنگی پیمانہ پر جاری ہے۔ جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے تعاون سے گیارہ بستیوں، لاڈولی، برواڈیہہ، برواڈیہہ واڑی،ساتھری گیتا، کس گاؤں، سواد، وادے، کاملا، ادلے گاؤں اور مہاڈشہر کے محلوں، پانساری محلہ، دیسمکھ محلہ، کناتاری محلہ، کارکھنڈ،کاکرتلہ، کوٹ علی، سریکرعلی، کاجل پورہ، د نگر، سالی واڑہ ناکا، نوانگر، ویلکم علی کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی بلاتفریق مذہب وملت تمام متاثرین کو ریلیف پہنچائی جا رہی ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں طرح طرح کی بیماریاں بھی پھوٹ پڑی ہیں، چنانچہ جمعیۃعلماء کی طرف سے ڈاکٹروں کی تین ٹیمیں مختلف مقامات کے لئے الگ الگ تشکیل دی گئی ہیں۔یہ ساری ٹیمیں پانچ رکنی ہیں اور بنیادی ضرورتوں کی دوائیں بھی ان کومہیاکرائی گئی ہے۔پہلی ٹیم کی قیادت ڈاکٹر شیخ فیضان زاہد، دوسری ٹیم کی قیادت ڈاکٹر جلیل احمد، تیسری ٹیم کی قیادت ڈاکٹر ثناء اللہ کررہے ہیں۔اس طرح کل15/ ڈاکٹر ہیں جو لوگوں کو طبی امدادپہنچارہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی پانی میں غرق ہونے کی وجہ سے آٹو رکشا اور موٹر گاڑیاں ناقابل استعمال ہو گئی ہیں۔چنانچہ ان کی مرمت اور قابل استعمال بنانے کے لئے موٹر میکینوں کا مع سامان پندرہ نفری وفد صوفی مشتاق احمد دھولیہ کی سربراہی میں مہاڈ علاقہ میں پہنچ چکا ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داران اور رضاکار شب و روز متاثرہ علاقوں میں ریلیف وامدادکے کاموں میں مصروف ہیں۔ جہاں جس چیز کی ضرورت ہے وہ انھیں پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔

مہاراشٹرمیں سیلاب سے آئی زبردست تباہی پر اپنے رنج و غم کااظہارکرتے ہوئے صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے اس مرتبہ مہاراشٹرکے بعض علاقوں میں جو سیلاب آیا ہے وہ انتہائی تباہ کن ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں اوریہ یقین دلاتے ہیں کہ جمعیۃعلماء ہند متاثرین کی ہر سطح پر مددکرے گی نیز انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند برس قبل کیرالہ میں بھی ایک بھیانک سیلاب آیاتھا، لیکن مہاراشٹراور بطور خاص کوکن کے علاقہ میں یہ جو سیلاب آیا ہے وہ ان سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے۔لوگوں کے مکان اور دیگر املاک تباہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ایک بڑی آبادی سیلاب میں پھنسی ہوئی ہے۔ بیشترلوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں بچاہے، جمعیۃعلماء مہاراشٹر، جمعیۃعلماء ہندکے مقامی ذمہ داروں اور رضاکاروں کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں امداداور ریلیف کا کام بڑے پیمانے پر کر رہی ہے۔چونکہ حکومت اور لوگ اس وقت امدادپر لگے ہوئے ہیں، اس لئے اب آنے والے دنوں میں اس بات کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہوچکے ہیں، ان کی بازآبادکاری کی فکر کی جائے کیونکہ یہ لوگ اپنا تمام اثاثہ سیلاب میں کھوچکے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ریلیف کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں سروے کراکر مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف انسانیت کی بنیاد پر بازآباکاری کا بھی کام کرے گی انشاء اللہ اور ریلیف کو آخری ضرورت مند تک پہنچانے کی حتی الامکان کوشش کرے گی۔ خدا کی ذات سے توقع ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی اس خدمت کو انجام تک پہنچانے میں مدد کرے گا۔

اخیر میں مولانا مدنی نے جمعیۃ علما ہند کے تمام ذمہ داران و کارکنان کو ہدایت دی کہ امداد و بازآبادکاری کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کر کیاجائے۔ ہندو ہو یا عیسائی یا مسلمان تمام لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ جمعیۃ علما ہند اس طرح کے رفاہی اور امدادی کاموں میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتی اور مصیبت کی گھڑی میں وہ تمام ہندوستانیوں کے ساتھ کا ندھے سے کا ندھا ملاکر کھڑی رہتی ہے۔ جمعیۃ علما ہند ایک غیر سیاسی دینی جماعت ہے اور انسانی خدمت اس کا ابتدا سے طرہ امتیاز رہا ہے۔ ہمارے اکابرین نے جو اصول و اہداف مقرر کئے ہیں جمعیۃ علما ہند ان پر بدستور عمل پیرا ہے۔