مشترکہ خاندانی نظام :فوائد و مشکلات ۔ مفتی محمدخالد حسین نیموی قاسمی

 

انسان اشرف المخلوقات ہے۔اس کا مقصد حیات بھی عظیم ہے اور اس کی طبعیت، تقاضے اور ضروریات بھی دیگر تمام مخلوقات سے مختلف ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو روئے زمین کا خلیفہ بنایا۔ ان کے آپس میں رشتے ناطے قائم کیے، ایک دوسرے کے ساتھ ضرورتیں وابستہ کیں، باہم تعارف کے لیے خاندانوں اور قبیلوں کا سلسلہ جاری کیا، اور حقوق وفرائض کاایک کامل نظام عطا فرمایا، یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ انسان باہم مربوط بھی ہے اور ان کے درمیان کچھ فاصلے بھی ہیں، انسان بہت سے سماجی اقدار وروایات کا پابند بھی ہے اور اپنی نجی زندگی میں ایک حد تک آزاد بھی، لیکن یہ آزادی لامحدود نہیں ہے. یہ دونوں چیزیں توازن کے ساتھ ہوں تو گھر خاندان اور معاشرہ جنت نظیر بن جاتاہے اور توازن بگڑ جائے تو وہی گھر اور سماج جہنم کا نمونہ بن جاتاہے۔
انسان کی ایک اہم خصوصیت اجتماعیت ہے۔ اس کے لیے خاندان، معاشرہ اور سماج سے کٹ کر تنہا زندگی گزار نا مشکل ہے… وہ قدم قدم پر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا محتاج ہے۔ آپسی تعاون انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے ۔ خونی اعتبار سے جس شخص سے جتنا گہرا تعلق ہوتا ہے؛ انسان اس کا اتناہی زیادہ محتاج ہوتا ہے۔ خاندان سے وابستگی انسان کی ایک فطری ضرورت ہے۔
اسلام خاندانی استحکام ، رشتوں کے لحاظ اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیتا ہے ۔
قرآن کریم میں والدین کے حقوق کی ادائیگی اور قرابت داری کا پاس و لحاظ کرنے کی خاص طورپر تاکید کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا و بالوالدین احسانا و بذی القربی والیتامی و المساکین (النساء: 36)
اور اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا ؤاور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور قرابت داروں،یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ اور قرابت دار ہم سایہ اور اجنبی ہمسایہ کے ساتھ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ :جس کی خواہش ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور موت کو موخر کیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ رشتوں اور قربتوں کو جوڑے (بخاری و مسلم)
خاندان کی قسمیں:
خاندانی نظام بالعموم دو طرح دو طرح کا ہوتا ہے:
۱۔ مختصر خاندان یا جسے Nuclear Family System کہا جاتا ہے ۔ یہ خاندان بیوی، بچوں اور ماں باپ پر مشتمل ہوتا ہے۔
۲۔ مشترکہ خاندان جو Joint Family System کے نام سے جانا جاتا ہے۔جس میں میاں بیوی والدین اور اولاد کے علاوہ بھائی، بہن، چچا،دادا، دادی پھوپھی وغیرہ کی بھی شمولیت ہوتی ہے.
ہرشخص کو جب خاندانی نظام سے جڑ کر زندگی گذارنی ہے. تو اسی پس منظر میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ سماجی اور شرعی نقطہ نظر سے کس انداز کا خاندانی نظام بہتر ہے؟ مشترکہ خاندانی نظام یا جدا گانہ خاندانی نظام؟ اس سوال کے جواب سے قبل ہم دونوں نظام کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزانہ لینا مناسب سمجھتے ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام: مشترکہ خاندانی نظام کی تشکیل متعدد افراد سے مل کر ہو تی ہےاور یہ افراد ایک ہی چھت تلے مل جل کر مختلف رشتوں میں جڑ کر اپنی اپنی زندگی گزار تے ہیں ۔ عموماً مشترکہ خاندانی نظام کسی ایک فرد کی سربراہی میں چلتا ہے. یہ سربراہ الگ الگ حالات میں الگ الگ افراد ہوتے ہیں کبھی شوہر کبھی والد اور کبھی چچا اور دادا کی سرپرستی میں خاندانی نظام پروان چڑھتا ہے ۔ہر شخص کی یہ کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنا گھر بنائے ، جس میں ان کے بچے محفوظ اور آرام دہ زندگی بسر کریں ۔ اس جذبے کے تحت وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور جہد ومسلل کے بعد اسے کامیابی بھی ملتی ہے اور ایک خوشحال گھرانے کی تعمیر ممکن ہوتی ہے۔
شاعر کے بقول :
جلیل آسان نہیں تعمیر کرنا گھر محبت کا
یہ ان کا کام ہے جو زندگی برباد کرتے ہیں.
مطلب بڑی محنت ومشقت کے بعد محبت کے گھر و گھرانے کی تعمیر ہوتی ہے ۔اگر زیر کفالت افراد بھی سرپرستوں سے مخلصانہ تعاون کریں تو یہ خاندانی نظام مزید مستحکم ہوتا ہے۔
خاندانی نظام کے استحکام کی بنیاد اخلاص اور محبت ہے:
خاندانی نظام کے استحکام کی بنیاد اخلاص اور محبت ہے. مشترکہ خاندانی نظام اُسی وقت تک مضبوط رہتا ہے، جب تک اس میں رہنے والے افراد خلوص اور اپنائیت کے ساتھ رہتے ہیں ۔مشترکہ خاندانی نظام میں گھر کے بزرگ ،بچے ،نوجوان سب مل جل کر رہتے ہیں۔ سب کا اپنا مقام و مرتبہ ہوتا ہے اور اپنی اپنی حدود و قیود میں وہ آزاد بھی ہوتے ہیں مقید بھی۔قرون ماضیہ میں مشترکہ خاندانی نظام تقریبا ہر گھر میں رائج تھا۔ جہاں ڈھیروں افراد ایک خاندان کی طرح ایک چھت کے نیچے سکون اور مزے سے زندگی بسر کرتے تھے۔ان کی خوشی وغم ہر عمل اپنائیت بھری ہوا کرتی تھیں۔ ایک کو چوٹ لگتی تو پورے گھر میں فکر اور درد کی لہر دوڑ جاتی۔ اگر ایک فرد خوش ہوتا تو پورا گھر اس کی خوشیوں میں شریک ہونا اپنا فرض سمجھتا۔ ہر فیصلے میں چھوٹے بڑے بزرگوں کی رائے کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ مشترکہ نظام میں گھر ایک مرکز ہوتا تھا اور پورا خاندان چھوٹے بچوں سے لے کر بڑے افراد تک سب اس مرکز کی مختلف یونٹ کی حیثیت رکھتے تھے۔گذشتہ عہد کی طرح آج بھی گھروں میں بچوں کو بہلانے، لوریاں سنانے، کلمے یاد کرنے اور انہیں اخلاق آموز قصے کہانیاں سنانے اور دینی تربیت سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے لیے بڑے بوڑھے اور دادا دادی اور نانا نانی کی اتنی ہی ضرورت ہیں ۔
زندگی کے راستے پر بچوں کا پہلا قدم اٹھوانے کے لیے بوڑھے دادا کی انگلی آج بھی انہیں جذبوں کے ساتھ سرشار ہے۔ محبت سے گندھے ان رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی جو اپنے محبت بھرے لمس سے ننھے منے دلوں کو مسرت بخشتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی انگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر زندگی کے راستے پر اعتماد سے قدم اٹھانا سکھاتے ہیں۔ دادا، دادی، پھوپھی،خالا چچا؛ یہ وہ رشتے ہیں جو خونی رشتے ہونے کے ساتھ ساتھ مخلص اور اپنائیت بھرے ہوتے ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام ہماری ثقافت ہی نہیں ہماری مجبوری بھی ہے:
مشترکہ خاندانی نظام صرف ہماری ثقافت ہی نہیں ہماری مجبوری بھی ہے۔ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ دو کمروں کے چھوٹے سے مکان میں ایک درجن سے ڈیڑھ درجن تک لوگ رہتے ہیں۔اور مشکلات بھری زندگی گذارتے ہیں تمام مشکلات اور مسائل کے باوجود مشترکہ خاندانی نظام کو اپنائے رکھنا ان کی مجبوری بھی ہے۔
اس صنعتی دور میں جبکہ سماج میں مرد وعورت میں سے ہر ایک کے کسب معاش کی غرض سے گھر سے باہر نکلنے کی ہوڑ مچی ہوئی ہے تو مشترکہ خاندانی نظام معاشرتی مسائل کا ایک بہترین حل ہے۔والدین کی عدم موجودگی میں دیگر رشتہ داروں کی شکل میں سرپرست میسر آجاتے ہیں.
لیکن ایک خاندان میں تمام افراد کے درمیان اتحاد اور اتفاق کی فضا قائم کرنے کے لیے والدین کا کردار بہت اہم ہے۔اکثر اوقات والدین کا دو اولادوں کے ساتھ امتیازی سلوک بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے. کبھی اولاد کے شادی شدہ ہو جانے کے باوجود والدین کا نہایت آمرانہ رویہ گھر کی فضا میں کشیدگی کے اضافے کا باعث ہو تا ہے۔ اس کے علاوہ معاشی ناہمواریاں بھی احساس محرومی کو جنم دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہر شخص اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ کرنے پر تل جاتا ہے۔
جداگانہ خاندانی نظام میں کسب معاش کی وجہ سے بسا اوقات بچوں کی تربیت کے لیے والدین کے پاس وقت نہیں ہوتا ۔ بسا اوقات دادا دادی بھی موجود نہیں ہوتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے بچوں کی تفریح اور تربیت کا کام اسکرین سے لیا جاتا ہے، جس کے غلط اور خطرناک نتائج سامنے آتے رہتے ہیں۔ بچوں کے بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ مشترکہ خاندانی نظام کو فروغ دیا جائے۔
مل جل کر رہنے میں برکت سمیت دیگر بہت سے فائدے پنہاہیں۔ یہ وہ بے لوث رشتوں سے بندھا خاندانی نظام ہوتا ہے کہ جو ہماری زندگی کی رفتار کو سہل بناتا ہے۔ہمارے غموں اور پریشانیوں کو بانٹ کر ہمیں مایوسی جیسے ماحول میں جانے سے بچاتا ہے۔ اس خاندانی نظام سے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہوتی ہے۔ ۔ بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے اگر ان کو مناسب محبت اور توجہ نہ ملے تو بچے دوسری غیر اخلاقی سرگرمیوں میں پڑ جاتے ہیں۔ یہ خاندانی نظام بچوں کے لئے بہترین تربیت گاہ اور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔. اس نظام میں چوں کہ متعدد مشکلات اور خرابیاں بھی ہیں.
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کر لیا جائے۔ ایک دوسرے کے لیے دل میں وسعت پیدا کی جائے۔ والدین گھر بناتے ہوئے نقشے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ بعد میں ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی علیحدہ رہائش اختیار کی جاسکے۔بڑے بچوں کو شروع سے ہی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے۔ اپنے حقوق کے ادراک کے ساتھ ساتھ فرائض کی ادائیگی کا احساس بھی ان کے دلوں میں ہو۔ گھر کے اصول اور قوانین تمام فیملی ممبران پر یکساں لاگو ہونے چاہئیں۔یہ بھی واضح رہے کہ مشترکہ خاندانی نظام کوئی آئیڈیل نظام تو نہیں لیکن موجودہ معاشی حالات دیکھتے ہوئے ہمارے سماجی نظام زندگی سے کافی ہم آہنگ ہے۔
مشترکہ خاندان کے فوائد:
گذشتہ سطور میں مشترکہ خاندانی نظام کی خوبیوں کا بھر پور جائزہ لیا گیا ہے ذیل کی سطور میں ترتیب وار اس کی نمایاں خوبیوں اور فوائدکے خلاصہ کو بیان کیا جاتا ہے ۔
1. اتحاد و اجتماعیت۔ اسلام میں اتحاد و اجتماعیت کی جو اہمیت ہے وہ اظہر من الشمش ہے خود ارکان اسلام جس پر اسلام کی عمارت قائم ہے،وہ اتحاد کا مظہر ہیں۔۔ جس طرح اسلام پوری ملت کے اتحاد پر زور دیتا ہے ، اسی طرح ایک خاندان کے افراد کو بھی مل جل کر رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ چنانچہ خاندانی استحکام و اتحاد کے لیے مشترکہ خاندان موزوں تر ہے۔ ایک ہی ساتھ رہنے، سہنے ، کھانے پینے اور دکھ سکھ بانٹنے سے یہ تعلق اور مستحکم ہو جاتا ہے۔خاندان کا یہ اتفاق مخالفین کے لیے رعب و دبدبے کا باعث ہوگا۔
2. مالی استحکام۔ مشترکہ خاندانی نظام کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایک ساتھ کاروبار کرنے سے آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور دولت کا ارتکاز ہوتا ہے، خاص طور پر زراعت پیشہ اور کاروباری خاندان میں زمین و جائداد بٹوارے سے بچ جاتی ہیں۔
3. بوڑھے والدین اور خاندان کے کمزور افراد کی نگہداشت۔ اسلام میں والدین کی خدمت کی جو اہمیت ہے وہ اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ قرآن میں بارہ مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید وارد ہوئی ہے، حدیث میں بھی والدین کی نگہداشت کرنے کا حکم ملتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں ماں باپ کی دیکھ بھال اور نگہداشت بہت اچھے سے ہو جاتی ہے کیونکہ ساری اولاد ایک ہی چھت کے نیچے ہوتے ہیں اور والدین بھی سارے بچوں کے ساتھ رہنے سے سکون محسوس کرتے ہیں۔
اسلام یتیم، بیوہ اور خاندان و سماج کے کمزور لوگوں کی دیکھ بھال کا حکم دیتا ہے اور اسے اجر و ثواب کا باعث بتاتا ہے۔ مشترکہ خاندان میں یہ دیکھ بھال بہت اچھے سے ہو جاتی ہے اور جو لوگ معاشی اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں ان کی بھی گزر بسربہ آسانی ہو جاتی ہے۔
4. بچوں کی تعلیم و تربیت: مشترکہ خاندان میں چھوٹے بچوں کی تربیت دادا،دادی اپنی کہانیوں اور دوسرے طریقوں سے کردیتے ہیں،جس سے بچے اپنے خاندان کی روایت،بڑوںچھوٹوں کا احترام کرنا سیکھ لیتے، ساتھ ہی بچوں کو پالنے میں بھی آسانی رہتی اور ماں باپ بہت سی ذمہ داریوں سے بچے رہتے۔
5. مشترکہ خاندان نظام میں مل بیٹھنے کے بہت سے مواقع میسر آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے گھر کے افراد میں آپس میں تعلق اور محبت کا رشتہ پھلتا پھولتا ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اس کے علاوہ خوشیوں کے موقعوں پر بھی بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ خصوصاً تہوار کے دن میں رونق دوبالا ہوجاتی ہے۔ سب لوگ تیاریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ان تیاریوں کا بھی اپنا ہی ایک الگ مزہ ہوتا ہے۔ مل جل کر تہوار منانے سے بچے اپنی روایات قدروں اور ثقافت سے روشناس ہوتے ہیں۔
مشترکہ نظام میں پلنے والے بچوں کی طبیعت میں ٹھہراؤہوتا ہے: حقیقت یہی ہے کہ اتفاق و اتحاد میں برکت ہے ، اور اکٹھے رہنے کی طاقت الگ الگ رہنے سے کئی گنا زیادہ ہے. جو بچے مشترکہ خاندانی نظام میں پل کر جوان ہوتے ہیں ان کی طبیعت میں ٹھہراؤ ، صبر ، برداشت اور ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کی صلاحیت علیحدہ رہنے والے بچوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کا بچپن اس قسم کے حالات کا سامنا کرتے ہوئے یا مشاہدہ کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ خا ص طور پر لڑکیاں۔ آگے چل کر جب ان کی شادی ہوتی ہے تو انھیں سسرال میں رہنے والے مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ گزارا کرنے میں اتنی مشکل نہیں پیش آتی جتنی علیحدہ رہ کر جوان ہونے والی بچیوں کو ہوتی ہے کیونکہ وہ اس کی عادی نہیں ہوتیں۔ شخصیت سازی میں بچپن کا دور ، حالات اور واقعات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
مشترکہ خاندان کے نقصانات:
یہ تو وہ فوائد ہیں جو مشترکہ خاندانی نظام میں عام طورپر پائے جاتے ہیں لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ مشترکہ خاندان کی ناہمواریاں اور نقصانات اور اس کی مشکلات بھی کچھ کم نہیں ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام میں مختلف اسباب کی وجہ سے دشواریاں اور مشکلات بھی کا فی ہیں۔جن کے سبب گھریلو جھگڑوں، سسرالی رشتوں میں چپقلش، غیبت، طلاق، استہزاء اور عدمِ تعاون جیسی شکایات بھی تسلسل کے ساتھ پیش آتی رہتی ہیں، چوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف طبیعتوں اور متنوع فکر وخیال کا بنایا ہے۔اس لیے طبیعت کے خلاف چیزوں کا پیش آنا بدیہی امر ہے
احترام باہمی کے فقدان اور دوسروں کے حقوق کے تئیں حساس نہ ہونے کی وجہ سے جتنے زیادہ لوگ ہوتے ہیں اتنی ہی پرائیویسی کم ہوتی ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص کی پسند ناپسند کا دائرہ کار مختلف ہوتا ہے۔ سب کی زندگی کے مقاصد بھی مختلف ہوتے ہیں ۔ بسا اوقات والدین کا اولاد کے درمیان عدم مساوات کا نتیجہ اولاد کی کی نافرمانی کی شکل میں ظاہر ہو تا ہے۔ بسا اوقات دلوں میں کینہ و بغض بھر جاتا ہے پھر ایک دوسرے پر اعتراضات، طعن و تشنیع سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے ہے۔ بالآخر گھر کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ خاندان کے افراد کے مابین بظاہر اتفاق تو نظر آتا ہے مگراندر ہی اندر حسد و کینہ کی سازشیں پلتی ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں بالآخر یہ ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹتی ہے۔ نیز ایسے مشترکہ خاندانی سسٹم میں جو نقصانات اور مشکلات ہیں۔ ان کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے :
(1) ساس و سسر کی خدمت کا مسئلہ
(2) ساس وبہو کے تنازعات
(3) سماج پہ برے اثرات(طلاق،غیبت،بے پردگی،خیانت،تنازع،استہزاء،عدم تعاون وغیرہ
(4) غیرمحرم سے بے پردگی
(5)افراد خانہ اور رشتہ داروں کے درمیان ناچاقی
(6) مالی نظام کی گربڑی
(7)والدین کا اولاد کے درمیان عدم مساوات(نتیجہ میں اولاد کی نافرمانی ملتی ہے)(8) اولاد کی ترقی میں رکاوٹ
(9) صالح معاشرہ کی تشکیل میں رخنہ۔
جھگڑوں کا بچوں پر بھی منفی اثر پڑتا ہے ان کی تربیت ڈھنگ سے نہیں ہو پاتی کیونکہ جب ایک ہی گھر میں مختلف سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں تو بچے کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کس کی بات صحیح ہے اور کس کی غلط؟؟؟ جس سے بچوں کی خود اعتمادی کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو ان مستقبل کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
ایک الگ زاویہ سے دیکھیں توشرعی نقطہ نظر سے بھی موجودہ وقت میں مشترکہ نظام میں بڑی بے اعتدالیاں پائی جاتی ہیں، ساتھ ہی اس میں بہت سے نفسیاتی، معاشرتی، جنسی اور معاشی مفاسد بھی شامل ہیں۔
نفسیاتی نقصان :
مشترکہ خاندانی نظام میں عموما بڑے بھائی کی حکمرانی ہوتی ہے ، بڑے بھائی کی حکمرانی کی وجہ سے اس کی بیوی اور بچوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے دوسرے بھایئوں اور دیورانی جٹھانی کے درمیان نفرت پیدا ہونے لگتی ؛جو بہت سے نفسیاتی نقصانات کا سبب بننے لگتی ہے۔ اس نظام خاندان کے نفسیاتی نقصان کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ نجی زندگی کا تحفظ اور پرائیویسی نہ ہونے کی وجہ سے افراد بے اطمینانی کی کیفیت سے دوچار ہو جاتے کیونکہ انسان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی جگہ ہو جہاں وہ آزادی سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ سکے۔اس کے ساتھ ہی مشترکہ خاندانی نظام عدم تسکین کے اعتبار سے بھی نفسیاتی نقصان کا باعث ہو تا ہے۔ بہت سارے لوگوں کے ہر وقت آمد و رفت سے میاں بیوی کو ساتھ رہنے کے مواقع کم ہی مل پاتے. جس سے رشتوں میں گرم جوشی نہیں پیدا ہو پاتی ہے
معاشرتی نقصان:
معاشرتی اعتبار سے مشترکہ خاندان اپنے اندر بڑی نا ہمواریاں رکھتا ہے۔ کھانے پینے کے معاملات میں اپنی پسند اور ترجیحات سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، مائیں اپنے بچوں کی پسندیدہ چیزیں نہیں بنا سکتیں، افراد خانہ کے درمیان تعلقات کے خراب ہونے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے۔ ان سب کے ساتھ جھوٹ، فریب، چوری، غیبت، تجسس وغیرہ کے لیے یہاں فضا زیادہ سازگار ہوتی۔کیونکہ اکیلے سامان منگوا کر کھانا اس نظام میں سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے چوری چھپے اس کا انتظام کیا جاتا. جس سے افراد کے درمیان عجیب طرح کی خودغرضی کی فضا قائم ہونے لگتی ہے ۔ عورتیں ایک دوسرے کی برائیوں اور شکایتوں میں لگی رہتیں۔ کام کاج کو لے کر کوئی ذمہ داری محسوس نہیں کرتا، کوئی دن بھر کام کرتا رہتا اور کوئی فرصت میں رہتا ہے۔
معاشی نقصان :
اگرچہ مشترک خاندان میں میں کمزور افراد کی بھی پرورش ہوجاتی لیکن اس نظام میں گھر کے بہت سارے لوگ نااہل اور کاہل بھی بن جاتے کیونکہ ان کی ضروریات زندگی کی تکمیل ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ ایسے گھروں میں کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ سچائی ہے کہ کمزوروں اور مجبوروں کے ساتھ تعاون کرنے کو اسلام مستحن قرار دیتا ہے؛ لیکن اگر یہ صحت مند اور ہٹے کٹے لوگوں کو نااہل بنا دے تو یہ اسلام کے رویے کے منافی ہے۔ اس کے علاوہ مشترک خاندان میں چونکہ مال کو مشترکہ طور پر خرچ کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہر شخص اسے غیر کا مال تصور کرکے بے دردی سے استعما ل کرتا ہے۔ چنانچہ سامان کے ضیاع کا زیادہ امکان ہوتا ہے
دینی نقصان:
مشترکہ خاندانی نظام سے مربوط افراد کے لئے بعض دینی تقاضوں کی تکمیل مشکل ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پردہ کے احکام پر عمل آوری ممکن نہیں ہو پاتی کیونکہ بہت سے غیر محرموں کا ہر وقت گھر میں آنا جانا رہتا. جو بہت سے مفاسد کی وجہ بن سکتا ہے ۔خاص طور پر نوجوان غیر محرموں کی ایک دوسرے سے بے تکلفی برائی کا باعث بن سکتی ہے۔
مشترکہ خاندان کے دینی نقصان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف افراد کی کمائی کا معیار الگ الگ ہوتا ہے. لیکن مشترکہ کمائی سے جب کوئی جائداد لی جاتی ہے ؛تو بعد میں تقسیم جائداد کے وقت سب کو برابر ملتی۔ جس میں ممکن ہے کہ زیادہ کمائی والے کو کم ملے اور کم کمائی والے کو زیادہ جو انصاف کے خلاف ہے اور ناحق طریقے سے غیر کا مال کھانے کے مترادف ہے۔
تربیتی نقصان:
اپنے گھر میں والدین اپنے طریقے سے بچے کی تربیت کرنا چاہتے ہیں ان کے کھانے پینے، سونے، پڑھنے ، لکھنے اور کھیلنے کا وقت متعین کرنا چاہتے ہیں جو مشترکہ خاندان میں ممکن نہیں ہو پاتا ہے. خاص طور پر تعلیم یافتہ والدین کے لیے کوفت کا باعث ہوتا۔
جداگانہ نظام پردلائل : مشترکہ خاندانی نظام کے مخالفین یہ دلیل کےطورپر کہتے ہیں کہ : قرآن و سنت اور عمل نبی اکرمﷺ سے جداگانہ خاندانی نظام کی تائید ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تمام بیویوں کے حجرات الگ الگ تھے۔ حضرت علیؓ کی شادی جب حضرت فاطمہؓ سے ہوئی تو وہ رخصت ہو کر الگ گھر میں گئیں حضرت علیؓ آپﷺ کی کفالت میں بچپن سے تھے اور فاطمہؓ آپﷺ کی چہیتی بیٹی تھیں لیکن ان کے رہنے کے لیے الگ رہائش کا انتظام کیا گیا۔
اسلام کا مطلوبہ پردہ جداگانہ خاندانی نظام میں ہی ممکن ہے۔ بیوی کے حق سکنی کے تعلق سے فقہاء نے جو وضاحتیں کی ہیں ان سے بھی جداگانہ خاندان کی تائید ہوتی ہے۔
انھیں اسباب کو دیکھ کر بعض اہل علم نے مشترکہ خاندانی نظام کو غیر اسلامی اور ہندوانہ تہذیب وسناتنی روایات سے متاثر نظام قرار دے کر اس کی مخالفت کی. لیکن ایسا کہنا زیادتی ہے۔
کس نظام کو اپنایا جائے؟
سوال یہ ہے کہ جب مشترکہ خاندانی نظام کے متعدد فوائد بھی ہیں اور متعدد مشاکل اور دشواریاں بھی ہیں؛ تو پھر کس نظام کو اپنایا جائے… مشترکہ نظام کو یا جداگانہ نظام ؟اس سلسلے میں شریعت کا اصول واضح ہے کہ” دفعِ مضرت جلبِ منفعت” سے اولی ہے؛ لہذا جس سسٹم میں دوسروں کی حق تلفی اور دوسروں پر ظلم کا غالب گمان ہو وہ سسٹم واجب الترک ہوگا. اسی طرح جس سسٹم میں نفع سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہو اسے بھی ترک کیا جائے گا.. تعامل ومعاشرت کی بنیاد تقویٰ اور خوف خدا پر ہے… اللہ کی پکڑ کا جتنا احساس اور استحضار ہوگا انسان دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے جس قدر سنجیدہ اور حساس ہوگا اتنا ہی خاندانی سسٹم بھی پر سکون ہوگا، آپس کی محبتیں بھی فروغ پائیں گی۔
اسی لیے خطبہ نکاح میں تین آیات کریمہ کی تلاوت کی جاتی ہے اور ان میں سے ہر آیت کی شروعات :”اتقوا "کے حکم سے ہے.. ساتھ میں” الارحام” کو بطور خاص ذکر کرکے رشتے ناطے اور قرابتوں کی اہمیت اور اس کی قدر دانی پر متوجہ کیا گیا۔
مشترکہ فیملی ہو یا جداگانہ بچوں کی تربیت اوراپنے گھر کی نگرانی کی ذمہ دار ی ہر شخص کو خود ادا کرنی ہے ۔ورنہ اس سے متعلق آخرت میں پوچھ ہوگی ۔اللہ تعالی کاارشادہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم :6)
ترجمہ: اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنی آل اولاد کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:ألا كُلّكُم راعٍ . وكلّكُم مسئولٌ عن رعيّتهِ .(صحيح مسلم:1829)ترجمہ: آگاہ رہو تم میں سے ہرایک ذمہ دار ہے اور ہرایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔
جہاں اسلامی اقداروروایات کو بروئے کار لاتے ہوئے مشترکہ نظام چل سکتا ہو؛ تو ایسے نظام اور سسٹم پہ کوئی اعتراض ممکن نہیں ہے لیکن جن مشترکہ خاندانوں میں ناچاقی کی انتہاہوگئی ہو. ایسے لوگوں کے لیے جداگانہ خاندانی نظام ہی بہتر ہے۔
فقہ اکیڈمی کافیصلہ :
اس سلسلہ میں اسلامی فقہ اکیڈمی نے اپنے بیسویں فقہی سیمینار میں مندرجہ ذیل فیصلے کیے :
مشترکہ اور جداگانہ خاندانی نظام سے متعلق مقالات، ان کی تلخیص اور عرض کو سامنےکر بحث ومباحثہ کے بعد درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں:
مشترکہ خاندانی نظام ہو یا جدا گانہ، دونوں کا ثبوت عہد رسالت اور عہد صحابہ سے ملتاہے، لہذا دونوں ہی نظام فی نفسہ جائز ودرست ہیں۔ جہاں جس نظام میں شریعت کے حدود و قوانین کی رعایت و پاسداری اور والدین و دیگر زیر کفالت افراد اور معذورین کے
حقوق کی حفاظت ہو سکے اور فتنہ ونزاع سے بچا جا سکے، اس نظام پرعمل کرنا بہتر ہوگا کسی ایک نظام کی تحدیدنہیں کی جاسکتی ہے؛ البتہ یہ اجلاس تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہے کہ مورث کے انتقال کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو ترکہ کی تقسیم کر کے تمام شرعی وارثین کو ان کا متعینہ حصہ دے دیں؛ تا کہ ایک دوسرے کے حقوق کا غلط استعمال نہ ہو اور یہ عمل، باہمی نزاع اور نفرت و عداوت کا سبب نہ بن جائے ۔
یہ اجلاس خاص طور سے عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف مسلمانوں کی توجہ کومبذول کرانا چاہتا ہے؛ کیونکہ اس میں بہت زیادہ کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام کی بنیاد ایثار و قربانی اور باہمی تعاون پر ہونی چاہیے ورنہ یہ نظام قائم نہیں رہ سکتا ہے، نیز عدل وانصاف کو قائم رکھنا بھی ضروری ہے، لہذا اگر خاندان کے بھی افراد صاحب استطاعت ہوں تو زیر کفالت افراد کی تعداد کے اعتبار سے اخراجات دیں گے۔ اور اگر کوئی مالی اعتبار سے کمزور ہو تو ہرشخص اپنی آمدنی کے تناسب سے اخراجات برداشت کرے گا؛ البتہ خاندان کے سبھی حضرات کو چاہئے کہ جائز ذریعہ سے زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کر یں؛ تا کہ کمانے والوں پر بوجھ نہ پڑے۔
جب آمد و خرچ دونوں مشترک ہوں تو اخراجات کے بعد بچی ہوئی رقم سے خریدی گئی چیز میں بھی افراد برابر کے حقدار ہوں گے۔ جب سبھی بھائیوں کا ذریعہ آمدنی الگ الگ ہو اور سبھوں نے برابر برابر رقم جمع کی اور ایک بھائی نے اپنی زائد آمدنی کو بچا کر اپنے پاس رکھا تو یہ بھائی اپنی زائد آمدنی کا خود مالک ہوگا، دوسرے بھائی اس کے حقدار نہیں ہوں گے۔”
مذکورہ بالا فیصلہ بہت جامع اور قابل عمل ہے ؛اس کی سفارشات کی روشنی میں دونوں نظام کی خوبیوںسے فائدہ اور مشکلات ونقصانات سے بچا جاسکتا ہے ۔
خلاصۂ کلام:
مشترکہ خاندانی نظام میں بنیادی طور پرخیرکاغلبہ ہے لیکن اس میں الجھاؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خاندان کے افراد میں گنجائش سے زیادہ اضافہ ہوجائے؛ کیونکہ افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ان کی ضروریات اور ترجیحات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ گھر میں جگہ کم پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے خاندان کے افراد کے درمیان ہر بات پر کھنچا تانی شروع ہوجاتی ہےہر ایک کو لگتا ہے اس کی حق تلفی ہورہی ہے۔اسی طرح حجاب کے احکامات اور دیگر شرعی حدود کی بھی خلاف ورزی ہونے لگتی ہے۔ اس لیے خاندان کے بزرگوں کو چاہیے کہ جب ایک ہی گھر میں ایک سے زیادہ خاندان بن جائیں؛ تو انہیں علیحدہ علیحدہ ذمے داریاں دیتے ہوئے کام کی تقسیم کریں اور اخراجات باہمی طور پر بانٹ لیں اور اگر ہوسکے تو گھر بھی الگ کردیں۔ گھر کے بزرگوں کا احترام سب پر لازم ہے۔ گھر کے معاملات میں ہر فرد کو اہمیت دیں۔ ان کی ضروریات اور خواہشات کا احترام کریں. مشترکہ خاندانی نظام میں فرد واحد کو فیصلے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ خاندان کے دیگر افراد کی رائے بھی لینی چاہیے تاکہ کسی بھی فرد کو اپنے غیراہم ہونے کا احساس نہ ہو۔گھر کے ہر فرد کے مابین اختیارات و فرائض برابری کی بنیاد پر تقسیم کی جائے؛ تاکہ گھر کے مکینوں میں اختیارات کی جنگ نہ چھڑ جائے ورنہ یہ تفریق مشترکہ خاندانی نظام کو منتشر کردے گی۔
یہ بھی واضح رہے کہ کوئی بھی نظام چاہے وہ مشترکہ ہو یا علیحدہ، اس وقت تک کامیاب یا سماج کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔ جب تک ہمارے اندر صبر ، ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت ، میانہ روی ، اچھے برے میں فرق کرنے کی تمیز اور دوسروں کے بارے میں بھی اپنی ذات کی طرح سوچنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہو گی؛ ان اوصاف کے بغیر ہم کسی بھی نظام میں رہتے ہوئے بھی خوش اور مطمئن نہیں رہ پائیں گے اور نہ ہی لوگ ہم سے خوش ہوں گے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ چاہے آپ مشترکہ خاندانی نظام میں رہیں یا علیحدہ اپنے دلوں کو اپنے خاندان کے افراد کی طرف سے صاف رکھیں۔ اچھی باتوں کو ہمیشہ یادرکھیں اور بری باتوں کو جلد از جلد بھول جائیں۔معروف کو فروغ دین اور منکرات کا سد باب کریں۔ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔حدیث نبوی ہے” جودوسروں کے ساتھ اختلاط رکھتاہے اوران سے پہنچنے والے آزارپرصبرکرتاہے یہ اس مسلمان سے بدرجہا بہتر ہے جونہ اوروں سے میل جول رکھتاہے نہ ان سے پہنچنے والی ایذاپر صبرکرتاہے“ (ترمذی:۲۵۰۷)
بزرگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں اور چھوٹوں کو تاکید کی گئی ہے کہ ہر حال میں حدادب کو ملحوظ رکھیں ،ارشاد نبوی ہے:
﴿لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا﴾ (ترمذی، )ترجمہ: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام (Combined family System ) اور جدا گانہ خاندانی نظام (Seprate family System) کے سلسلہ میں جو افراط و تفریط پائی جاتی ہے ، وہ عالم آشکارا ہے۔اسی طرح اخوت و صلہ رحمی اور محبت و جذبئہ تعاون سے عاری جداگانہ نظام بھی اسلام کا مطلوبہ خاندانی نظام نہیں۔
اسلامی نظام حیات میں دونوں کی گنجائش ہے۔ ہر دوصورت میں اسلام نے اس کے احکام وآداب سکھائے ہیں۔مشترکہ نظام زندگی کے اگرچہ بہت سے فوائد ہیں ؛لیکن اس میں صبروتحمل ،قوت برداشت ، عفوودرگزر، چشم پوشی اورسیر چشمی کی ضرورت ہوتی ہے،تربیت کے بغیر یہ اوصاف انسانوں میں بہت کم پیداہوتے ہیں،ان اوصاف کے ساتھ پیارومحبت ،اخوت والفت ،بڑوں کی تعظیم،چھوٹوں سے شفقت اس میں مزیدچارچاندلگاتے ہیں۔اگر یہ اوصاف پیدا ہوجائیں تو ہمارا خاندانی نظام رشک جناں بن جائے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*