مشفق و مربی حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوریؒ:نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا-ڈاکٹر منور حسن کمال

 

Mob.: 9873819521
Email.: mh2kamal@gmail.com

رنج و غم اور حزن و ملال کا یہ طوفان بلا رکنے میں نہیں آرہا ہے۔ قافلہ اہلِ علم کے سالار یکے بعد دیگرے رخصت ہورہے ہیں۔ ابھی ایک غم نہیں چھوٹتا کہ دوسرا غم آکھڑا ہوتا ہے۔ اب دیکھیے کہ حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری داغ مفارقت دے گئے۔
میرا ان سے تعلق چار دہائیوں سے بھی زیادہ کو محیط ہے۔ شاید 1975-76 کی بات ہے کہ مدرسہ مرادیہ مظفرنگر کے بعد میں دارالعلوم دیوبند میں زیرتعلیم تھا۔ سال پنجم میں تھا کہ اس دوران شاید نصاب میں کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں، جس کی وجہ سے میرا تعلیمی سال لوٹ رہا تھا۔ تعلیمی سلسلے کا ایک سال بچانے کی غرض سے میرے ایک استاد مولانا عبدالحفیظ رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم مدرسہ مرادیہ مظفرنگر (یوپی) میرے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مجھے جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ (یوپی) میں داخلے کے لیے لے گئے۔ وہاں قاری فضل الرحمن مرحوم ناظم مدرسہ، مولانا اعجاز حسین مرحوم مہتمم مدرسہ کے ساتھ ساتھ مولانا قاری محمد عثمانؒ سے ملاقات ہوئی۔ داخلے وغیرہ کے التزامات سے فراغت کے بعد راقم کو مہمان خانے میں قیام کے لیے کہا گیا۔ اس کے بعد طعام وغیرہ کا انتظام ہوناتھا۔ اسی دوران حضرت قاری عثمان صاحب نوراللہ مرقدہ نے کھانے سے متعلق استفسار کیا اور مجھے اپنے ساتھ اپنے دولت خانے پر لے گئے۔ یاد پڑتا ہے کہ ساتھ میں برادر عزیز مفتی محمد سلمان اور مفتی محمد عفان کے ہمراہ شاید مولانا محمود مدنی اور برادر عزیز مولانا محمد ازہد بھی تھے۔ حضرت مولانا قاری صاحب نے بڑی محبت کے ساتھ ہم سب کے ساتھ کھانا تناول فرمایا اور بڑی آہستگی کے ساتھ آداب و تعظیم کے لیے کیا کچھ فرمایا یہ تو یاد نہیں، لیکن محبت و اپنائیت کا ایسا نمونہ اپنی خوشگوار یادوں کے ساتھ آج بھی مجھے تر و تازہ ہی لگتا ہے۔ پھر میرے کھانے کا انتظام ہونے تک میں حضرت قاری صاحب کا مہمان رہا۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں حضرت قاری صاحب قدس سرہ کو ظاہری حسن و جمال عطا کیا تھا، وہیں باطنی طور پر نہایت پاکیزہ حسن و صفات کے حامل تھے۔ ان کی گفتگو میں جو متانت و سنجیدگی تھی وہ بلندیِ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ دورانِ سبق بھی نہایت باوقار انداز میں نفس متن پر گفتگو فرماتے۔ جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ میں ان سے راقم نے جلالین شریف اور مشکوٰۃ شریف پڑھیں۔ عبارت پڑھنے کی ذمہ داری عموماً راقم کے ہی سپرد تھی۔ یہ حضرت قاری صاحب کی مجھ سے نہایت محبت و مودت تھی کہ مجھے اس لائق سمجھا، ورنہ عام طلبہ کی طرح میں بھی بہت زیادہ کتابوں میں گم ہونے والا طالب علم کبھی نہیں رہا۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ دوران سبق میں عبارت پڑھ رہا تھا اور لگاتار کئی صفحے جب پڑھ چکا تو اچانک حضرت قاری صاحب نے فرمایا ’’اسکت سکوتاً فی وقت ما‘‘ میں کب سے منتظر تھا کہ حضرت قاری صاحب کچھ اشارہ فرمائیں۔ پھر نہایت فصیح و بلیغ انداز میں حضرت قاری صاحب نے متن پر گفتگو کی۔ایسا سہل انداز کہ پوری عبارت ذہن نشیں ہوتی جاتی تھی۔
جامعہ اسلامیہ جامعہ مسجد امروہہ کے دو سالہ زمانۂ طالب علمی کو یاد کرتا ہوں تو قدم قدم پر حضرت قاری صاحب کی مشفقانہ اور مد برانہ نصیحتیں یاد آتی ہیں۔ وہ ایسے انتہائی مشفق و مربی استاذ تھے کہ کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ دورانِ سبق کے علاوہ بھی حضرت قاری صاحب سے جب بھی سامنا ہوتا، نہایت سادگی اور متانت کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ہر ممکن طور پر اسباق میں دل لگانے اور فاضل وقت میں مطالعے کی ترغیب دیتے۔ یوں تو امروہہ میں تمام اساتذہ کرام ہی بہت اچھے تھے، لیکن حضرت قاری صاحب اور مولانا طاہر حسینؒ شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امروہہ کا اس ناچیز کے ساتھ خصوصیت سے تعلق تھا۔ یہ انہی اساتذہ گرامی کی تربیت و اصلاح کا اثر تھا کہ اس دوران میں نے ساتھیوں کو تکرار کرانا بھی شروع کردیا تھا جس کا اسباق کے دوران خاطر خواہ فائدہ ہوا، جو چیزیں سمجھ میں نہ آتیں ان کو اساتذہ سے سمجھ لیا جاتا۔
حضرت قاری صاحب کی قدم قدم پر تربیت و اصلاح اور نصیحتیں آج بھی یاد آتی ہیں تو سوچتا ہوں کہ اگر میں نے ان پر پورے طور پر عمل کیا ہوتا تو زندگی کتنی سنور گئی ہوتی۔ تربیت و اصلاح کا ایک نمونہ سپرد قلم کرنے سے خود کو روک نہیں پارہا ہوں۔ میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے یہ کہہ رہا ہوں کہ میں طالب علمی کے زمانے میں بہت کھلنڈرا اور سیر و تفریح کا دلدادہ رہا ہوں، لیکن امروہہ کی حد تک اسباق نہایت پابندی سے پڑھنے جاتا تھا۔ امروہہ میں قوالیوں کے سلسلے خوب رہتے ہیں۔ شاید آج بھی، لیکن اس زمانے میں بہت ہوتے تھے۔ میں ایک ساتھی کے ہمراہ ایک جگہ قوالی کے پروگرام میں شرکت کے لیے چلا گیا۔ شام سے ہی پروگرام تھا اور شاید عشا کا وقت تھا۔ مدرسہ کے ایک استاذ قاری مرغوب صاحب جو بہرحال طلبا کی اصلاح چاہتے تھے، انھیں ہمارے جانے کی خبر لگ گئی۔ انھوں نے اس کا تذکرہ حضرت قاری صاحب سے کیا ہوگا….. وہ انھیں لے کر وہاں پہنچ گئے….. قاری مرغوب صاحب راقم کو ڈھونڈتے ہوئے قوالی کی جگہ پہنچ گئے اور مجھے وہاں سے اٹھا لائے….. غصہ شدید تھا….. کہ آج قاری مرغوب سے بات ہی کرلیتا ہوں….. لیکن وہاں سے تھوڑی دور چلے ہوں گے کہ کیا دیکھتا ہوں ایک کونے میں حضرت قاری صاحبؒ کھڑے ہوئے ہیں۔ مجھے کاٹو تو خون نہیں، پاؤں من من بھر کے ہوگئے۔ کسی حال قدم نہیں اٹھ رہے تھے۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، گلا خشک ہوگیا….. ہائے یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ اپنی اس ناگفتہ بہ حالت کے موقعے پر حضرت قاری صاحبؒ کے میں سامنے تھا۔ قاری مرغوب صاحب مجھے ان کے ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ شاید کچھ دیر میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں رکھا اور نصیحتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ مدرسہ کے دروازے تک جاری رہا….. تمام باتیں تو ذہن کے پردوں میں کھوگئیں۔ اتنا یاد ہے کہ میں رو رہا تھا اور یہی سوچ رہا تھا کہ کاش ایسا نہ ہوتا….. ایک جملہ دماغ کے کسی گوشے میں محفوظ ہے کہ آپ کو والدین پیسہ خرچ کرکے پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ یقینا انھوں نے کہا ہوگا تاکہ آپ ایک اچھے انسان بنیں۔ مہذب اور تعیم یافتہ کہلائیں گے اور آپ کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔
اسے میری نااہلی سمجھئے کہ میں اتنے مشفق و مربی اور اصلاح و تربیت کرنے والے استاذ گرامی سے چاہ کر بھی بار بار ملاقات نہ کرسکا۔ ’’نمک تیل لکڑی‘‘ کی تگ و دو نے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ ان سے برابر ملتا اور دعائیں لیتا۔ لیکن اتنا تو یقینی ہے کہ میرے تمام اساتذہ کرام اور والدین کی دعائیں بہرحال شاملِ حال رہیں کہ تلاشِ معاش میں کوئی بڑی پریشانی سامنے نہیں آئی اور اللہ کا فضل و احسان ہے کہ بہت خوش ہوں…
تین چار برس قبل دیوبند جانا ہوا تو برادر عزیز مولانا اشرف عثمانی کے ہمراہ حضرت قاری صاحبؒ سے ملاقات کی غرض سے مسجد چھتہ کے متصل قیام گاہ پر حاضری ہوئی۔ حضرت قاری صاحب علیہ الرحمہ نے بڑے شائستہ انداز میں اپنے ہاتھوں سے چائے سے تواضع فرمائی۔ بہت خوش ہوئے… میں نے اپنی کتاب ’تحریک خلافت اور جدوجہد آزادی‘ کا تذکرہ کیا تو نہایت مسرو رہوئے….. کتاب کا نسخہ میرے پاس نہیں تھا، لیکن حضرت قاری صاحبؒ نے نہایت مسرت کا اظہار کیا اور بہت سی دعائیں دیں۔ (کتاب کا نسخہ جمعیۃ کے دفتر میں دیا گیا تھا)
ان سے آخری ملاقات جمعیۃ علماء ہند کے سمینار مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور مولانا احمد سعید دہلوی کی خدمات پر مشتمل تھا، اس موقع پر ہوئی۔ حضرت قاری صاحب نے اس وقت بھی بہت سی دعاؤں سے نوازا۔ پہلی نشست میں میرا مقالہ تقریباً آخر میں تھا، نہایت توجہ سے سنا۔ اس موقعے پر اپنے صدارتی خطاب میں حضرت علیہ الرحمہ جہاں تمام مقالہ نگاروں کی تعریف فرمائی اور دعائیں دی وہیں ایسے سمیناروں کی اہمیت و افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔
مشفق خواجہ کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں:
نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا
مڑ کے دیکھوں تو نظر آتے ہیں منظر کیا کیا