مشرف کے ناول’نالۂ شب گیر‘ کا تنقیدی جائزہ-ڈاکٹرپرویز شہریار

ایڈیٹر،اردو پبلی کیشنز،این سی ای آر ٹی،نئی دہلی

مشرف عالم ذوقی کے بیشتر ناولوں کی طرح اُن کے تازہ ترین ناول ”نالۂ شب گیر“ کا موضوع بھی انتہائی شعلہ بار اوراچھوتا ہے۔نئی صدی کے آغاز سے ہی مشرف نے یکے بعد دیگرے کئی اہم ناول دے کراردو فکشن کی دُنیا میں گران قدر اضافہ کیا ہے اور اپنی تحریرو ں سے اردو زبان و ادب کے اثاثے کو مزیدثروت مند بنایاہے۔بلا شبہ، انھوں نے اپنی صحافیانہ ادراک اور سیاسی بصیرت کو بروئے کار لاکر نئے نئے معاشرتی مسائل کو اپنے ضبط ِ قلم میں لاکر ادبی قافلہ سالار کا فریضہ بھی بدرجہ احسن نبھایا ہے۔ اِ س بار تو انھوں نےWomen Empowerment کے موضوع پر اتنے بڑے کینوس کا ناول لکھ کر سبھوں کو بالکل چونکا دیا ہے۔ ”نالۂ شب گیر“ خالصتاً خواتین کو با اختیار بنانے کے ارادے سے لکھا گیا ناول ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج ساری دنیا میں عورتوں کے استحصال کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور احتجاج میں مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں۔ ہم سبھی لوگوں کو بہت اچھے سے یاد ہوگا کہ حالیہ چند برسوں میں دہلی کے انڈیا گیٹ پر بھی جیوتی/نر بھیا اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن میں دہلی کے قرب و جوار سے خواتین کے ساتھ ساتھ روشن خیال مردوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ یہ اتنی بڑی تبدیلی سوشل میڈیا اور آئی ٹی سیکٹر میں آئے انقلا ب کی وجہ سے ہی ممکن ہو پائی تھی۔ یہ سب سائبر اسپیس اور الیکٹرنک نیٹ ورکنگ کا ہی کرشمہ ہے کہ بہت قلیل مدت میں ہندوستان اتنی تیز رفتاری کے ساتھ سے ایک نئی سماجی بیداری کی طرف گامز ن ہو پایا ہے۔ ”نالۂ شب گیر“ کے ذریعے مشرف عالم ذوقی ہندوستان کی مسلم عورتوں میں بھی اس تبدیلی کی برکات دیکھنا چاہتے ہیں۔
کیونکہ ہندوستانی سماج کے متوسط طبقے میں آج بھی عورت اپنے منھ میں زبان نہیں رکھتی ہے۔شادی بیاہ کے موقعوں پر والدین اپنی مرضی کی حمایت میں جبراً لڑکی سے ’ہاں‘ کرواتے ہیں۔اُس پر اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں اور لڑکی کی سعادت مندی اسی میں سمجھی جاتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کا لاج رکھ لے۔ اگر لڑکی خدا نخواستہ ’ناں‘ کہہ دے تو گھر کے بزرگ اپنی پگڑی اُتار کر اس کے پیروں میں رکھ دیتے ہیں اور اس دقیانوسی طرز خیال کے زیر اثر انمیل اور بے جوڑ شادیاں آج بھی ہوجاتی ہیں۔اس کے بعد لڑکیاں تمام عمر نرک کی آگ میں جلتی رہتی ہیں۔ لیکن، اپنے خاندان کی عزت پر کوئی حرف آنے نہیں دیتی ہیں۔ دوسری طرف، لڑکے خاندان کی عزت و ناموس کی کھلے عام دھجیاں اُڑاتے پھرتے ہیں۔ اس کے باوجود سماج میں خاندان کی ناک نہیں کٹتی ہے۔ یہ دوغلہ پن ہے۔ ہندوستانی سماج میں صدیوں سے چلے آرہے،اسی دوغلے پن کے خلاف یہ ”نالہ ئ شب گیر“منظر عام پر آیا ہے۔ یہ ناول نہیں ہے عورتوں پر صدیوں سے ہونے والے استحصال کے خلاف نعرہئ احتجاج ہے جس میں لغت کے الفاظ تک بدلنے کی بات بڑی استدال کے ساتھ کہی گئی ہے۔آج الفاظ اپنے سیاق کے تغیرکی وجہ سے اپنے معنی کھو نے لگے ہیں۔ دنیا بدل گئی ہے۔ چنانچہ عورت کو بھی بالقصد بدلنا ہوگا۔ یہی اس ناول کا مقصد ہے۔
اس ناول نے دو تین بہت اہم سوالات کھڑے کیے ہیں، مثلاً———
1۔ جونا گڑھ کی مسلم آبادی کے زوال کے اسباب کیا تھے۔ کیا وہ جونا گڑھ کے ہجڑے تھے؟جنسی کھیل جن کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا۔ وہ سب کے سب تیزی سے بدلتی ہوئی باہری دُنیا سے بے نیاز اپنی حویلی کے اندر خاندان کی نابالغ بچیوں کے ساتھ راس لیلا میں مست رہنے لگے تھے، جہاں عورتوں کے اذہان کا کوئی استعمال نہیں تھا۔انھیں تو محض نرم گرم گوشت کا بدن بھر وجود تصور کیا جاتا تھا اوران کی مرضی کی پرواہ کیے بغیر انھیں روزمرہ کے جنسی کھیل میں زبردستی گھسیٹ لیا جاتا تھا۔
سوال یہ ہے کہ جونا گڑھ کی مسلم آبادی کو جنسی فعل کی وجہ سے زوال سے دوچار ہونا پڑا یا زوال آمادہ کمیونٹی نے جنسی فعل میں راہِ فرار ڈھونڈلی تھی؟
2۔ دہلی جیسے بڑے شہر میں بھی عورت محفوظ نہیں کہی جاسکتی ہے۔ وہ کسی سے آزادانہ محبت نہیں کر سکتی ہے۔دہلی ہندوستان کی راجدھانی ہونے کے باوجود جب کبھی بات عورت کی عصمت و عفت کی آتی ہے تو غنڈہ عناصر کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں۔جیوتی ا جتماعی عصمت دری کا معاملہ صدیوں سے دبی کچلی ہوئی عورت کے اندر فکری انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے اورناہید ناز —— اس ناول کی مرکزی کردار——- اسی مظلوم قوم کی نمائندہ بن کر ابھرتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر عورت کہاں محفوظ ہے؟
3۔ عورت نے بہت ظلم سہا ہے، استحصال کی چکی میں پسی ہے، اب وہ پلٹ وار کرنا چاہتی ہے۔ ہاتھی کے سونڈ اور گھوڑے کے چوہے اب صنف ِ نازک ہر غالب آکر انھیں مزید خوف زدہ نہیں کر سکتے۔
عورت اب غراتی بلی بن کر ان بزدل چوہوں کا شکار کرنا چاہتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا عورت اور مرد کے فطری تقاضے کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟
مشرف عالم زوقی نے عورتوں کے تحفظ اور بقا کو لے کر مذکورہ تین اہم سوال کھڑے کیے ہیں جن کا مرد اساس سماج کو جواب دینا پڑے گا۔
شمالی ہندوستان کے چار شہرجونا گڑھ، بلند شہر، دہلی اور نینی تال کے جغرافیائی حدود میں عورت اپنے تمامتر جلوہ سامانیوں کے ساتھ کہیں خوف زدہ تو کہیں دلیر، کہیں محبت کی مورتی تو کہیں نفرت اور انتقام کی دیوی بن کر قصے میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔
فن کار معاشرے کا نبض شناس ہوتا ہے۔مشرف عالم ذوقی نے اس ناول میں بحیثیت ایک کردار کے عورت کی تیزی سے تغیر پذیر ہوتی ہوئی دُنیا کی چشم دید گواہی پیش کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی من و عن عکاسی بھی کر دی ہے۔ اس ناول میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ مصنف نے بحیثیت ایک کردار کے اپنی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔تبصرے کا پورا پورا حق انھوں نے مرد اساس معاشرے پر چھوڑ دیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ نئی صدی کے ابتدائی دس بارہ برسوں میں ہندوستان کی سیاست میں کافی اتھل پتھل دیکھنے کو ملا۔ ہمارامعاشرہ ان تبدیلیوں کے ساتھ خود بھی تبدیل ہوا ہے۔ عصمت دری کے مسلسل کئی واقعات نے دلّی کو ہندوستان کا ریپ کیپیٹل بنا دیا اور اس کا نقطہئ منتہا نربھیا ریپ کانڈ تھا جس نے نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھااور لاکھوں انسان اپنی روزمرہ کی مصروفیات کو تج کر سڑکوں پر اُتر آئے اور نئی دہلی کے انڈیا گیٹ پر جمع ہوکر احتجاج کے نعرے بلند کرنے لگے اور پوری پوری رات جاگ کے حکومت کے خلاف تقریریں کرتے رہے اور اپنے غم و غصے کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اس وقت دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی تھی۔ دنیا کے اور بھی کئی ممالک میں بالخصوص ایشیائی ممالک میں عوام حکومت کے خلاف سڑک پر اتر آئے تھے۔ایسے میں اس ناول کا کردار ایک بیدار ذہن مصنف مشرف عالم ذوقی بھی احتجاجیوں کے درمیان اپنی کہانیوں کے تجسس اور تلاش میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کا ولڈ ویژن ہے کہ اب دنیا کوآنے والے انقلاب سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ اسی اثنا سوئے اتفاق سے مصنف ایک ایسے نو بیاہتہ جوڑے سے جا ملتا ہے جو اس پرزور احتجاج میں شامل ہوکر اس تاریخی انقلاب کا حصہ بننا چاہتا ہے۔اس کی حیرانی اور تجسس کی اُس وقت کوئی انتہا نہیں رہتی ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوبیاہتہ جوڑے کا تعلق اسلام سے ہے اور عقیدے سے وہ بھی مسلمان ہیں۔
اس ناول میں مصنف یا رائٹر کا بحیثیت ایک کردار کے بہت اہم رول ہے۔ وہ اپنے اردگرد موجود افرادِ قصہ کو کریدتا رہتا ہے۔ اُس کے اندر ایک کبھی نہ ختم ہونے والا تجسس ہے جو اسے سوال اُٹھا نے پر ہردم آمادہ رکھتا ہے۔فن کے رو سے کسی ناول میں مصنف کا بار بار نمودار ہوکر قصے کو آگے بڑھانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن فاضل ناول نگار نے یہاں اس کا ناقابل تردید جواز پیدا کیا ہے اور ماجرے کی ہر کڑی مصنف کے ذریعے ایک دوسری سے اتنی چابک دستی سے مربوط اور پیوستہ ہوگئی ہے کہ اس کی وجہ سے متوقعہ جھول کی کہیں گنجائش ناول نگار نے نہیں چھوڑی ہے۔ یہ ایک بلا شبہ قابل تعریف ہنر ہے جس کی وجہ سے ناول میں رونما ہونے والے واقعات کی روانی میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا اور قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔
اس ناول میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ ناول نگار یا مصنف نے خود کو کہیں راوی توکہیں کردار کے طور پر واحد متکلم حاضر کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ جوگیندرپال نے کہا تھا کہ جس طرح خدا اپنی تخلیق کردہ کائنات میں ہر جگہ موجود ہوتا ہے لیکن کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ٹھیک اسی طرح فنکار اپنی تخلیق میں موجود ہو نے کے باوجود دکھائی نہیں دینا چاہئے۔ لیکن اس کلیے کے بر خلاف مشرف عالم ذوقی نے اس ناول میں بڑے زور شور سے مصنف کی موجودگی درج کرائی ہے اور ناول میں پیش کردہ حالات کے تقاضے کے مطابق مصنف کو ایک مسخرے (Joker) کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ جوکر جو بظاہر لوگوں کو اپنی اُلٹی سیدھی حرکتوں سے ہنساتا رہتا ہے لیکن اس کے باطن میں ایک ایسا حساس دل انسان موجود ہوتا ہے جو سماج کے بد سے بدتر ہوتے ہوئے حالات کو دیکھ کے اندر سے کڑھتا اور رنجیدہ رہتا ہے۔ ٹھیک یہی کیفیت اس ملک میں عورتوں کی پے در پے جنسی، جذناتی اور نفسیاتی استحصال کے سبب پیدا ہوئی حالت ِ زار کو لے کر ”نالہ ئ شب گیر“ کے ناول کے مصنف کی بھی ہو رہی ہے۔
مشرف کے ناولوں میں روایتی انداز کے ناولوں کے بر خلاف ناول کا ہیرو یا ویلن فردِ واحد نہیں ہوتا بلکہ مکمل معاشرہ ہوتا ہے۔ وہ پورے معاشرہ کو کٹہرہ پر کھڑا کر دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ناولوں اُٹھائے گئے سوالوں کا جواب وہ پورے معاشرہ سے مانگتے ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات کا ذمے دار کون ہے؟ اس ملک میں مسلمانوں کی پستی کے اسباب کیا ہیں؟ عورتوں کی خانگی زندگی کے بد سے بدتر ہوتے ہوئے حالات کے ذمے دار کوں ہیں؟عورتوں کو اپنے حالات خود سدھارنے کے لیے ان کے دماغ میں مہیج پیدا کرنے کی ذمے داری کس کی ہے؟ ایسے کئی سوال ہیں جو اس ناول کے عقبی زمین سے ابھر تے ہیں۔
موضوعات نئے ہیں تو اسلوب بھی نیا ہونا چاہئے تھا۔ لہٰذا، کردار نگاری میں مصوری کے جدید اصول کے سہارے برش کے محض آڑے ترچھے اسٹراک سے کام لیا گیا ہے۔ لیکن رنگوں کی اشتعال انگیزی جابجااپنے پورے شباب پر ہے۔ایسے ایسے چونکادینے والے کرادر وں سے مشرف عالم ذوقی کا صنم خانہ آباد ہے کہ قاری خود کو rollercoaster پر سوار محسوس کرتا ہے یعنی اپنی اکھڑتی ہوئی سانس کو درست بھی نہیں کرپاتا ہے کہ دوسرا کراراجھٹکا لگتا ہے اور واقعات کا سیل رواں جذبات و احساسات کے کسی جہاں ِ دگر میں بہا لے جاتا ہے۔ مشرف بیدی اور عصمت کی طرح جزئیات میں نہیں جاتے بلکہ ان کے کردار اپنے حرکات و سکنات سے اپنی سیرت اور نفسیاتی کوائف کی نشاندہی کرتے ہیں، مثلاً تن سے کپڑا اُتار پھینکا کسی بھی عورت یا مرد کی جنسی نفسیات کو اجاگر کر جاتا ہے۔ باقی ماندہ کام اچھے برے سیاق کرجاتے ہیں۔جونا گڑھ کے جنسی کھیل کے دلدل میں دھنسے ہوئے ماحول کو اشاروں اور استعاروں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔کھنڈر میں تبدیل ہوتی ہوئی حویلی کے اندرکے ماحول کو پرچھاؤں اور اندھیروں سے نمایا کیا گیا ہے۔
کہتے ہیں کہ عورت نے ہی مرد کو محبت کرنا سیکھایا ہے۔ لیکن تاریخِ عمرانیات میں عورت سے کہاں چوٗک ہوگئی کہ مرد اُس پر حاوی ہوگیا اور اس کی وحشت نے اسے اپنا غلام بنالیا۔وہ ظالم ہوگیا اور عورت جو اس کی جننی ہے وہ مظلوم ہوگئی۔اُس کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی اس کی ٹھوکروں پر پلنے پر مجبور ہوگئی۔ ناول نگار چاہتا ہے کہ عورت کو اپنا احتساب کرنا ہوگا تاکہ اپنی جنت گم گشتہ وہ دوبارہ حاصل کر سکے۔اس ناول میں مصنف کی تمامتر ہمدردی عورت کے ساتھ میں ہے، اس کی حریت کی حمایت میں ہے۔
فنکارمعاشرے کا نبض شناس اس لیے ہوتا ہے کہ وہ مرض کو پہچانتا ہے اور اس کا دائمی علاج کرنا چاہتا ہے۔اس ناول کا فنکار بھی اپنے سبجیکٹ کو بہت آگے تک دیکھتا ہے۔ جیوتی اجتماعی زنا باالجبر معاملے میں ناول نگار نے اس کی تہہ تک پہنچنے کی کامیاب سعی کی ہے اور اسے سمجھ میں آگیا ہے کہ اس معاشرہ میں جنسی توازن لانے کے لیے صوفیہ مشتاق احمد جیسی کمزور عورت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے لیے شیر دل عورت ناہید ناز کی قربانیاں درکار ہیں، جو نفرت کی انتہائی بلند سُر کے ساتھ مردوں کی صلابت کو چیلنج کرنے کی جرأت کرے۔ جب ناہید ناز جیسی عورت جوناگڑھ کے استحصالی معاشرے سے نکل کے ایک آزاد غراتی ہوئی بلّی بن کر جنسی اعتبار سے مریض معاشرے کے بزدل چوہوں کا شکار کرتی ہے تو فنکار کو اس عمل میں معاشرے کا کتھارسس نظر آتا ہے۔وہ اپنے نسوانی کردارسے ایسا دانستہ طور پر کرواتا ہے تاکہ صدیوں سے چلے آرہے معاشرتی نظام کے زنگ آلود آلات کا صیقل ہوسکے اوراس کے فرسودہ آلہ کار کی تطہیرکا سامان بہم پہنچایا جاسکے۔ اس ناول میں ناول نگار کا اپنا نظریہ ہے کہ جبر کو جبر سے ہی متوازن کیا جاسکتا ہے۔ذرا سوچئے ایک ایسی لغت جس میں رنڈی اور فاحشہ کے معنی بدکردار مرد لکھا گیا ہو، مرد اساس معاشرے پر اس سے زیادہ قاری ضرب کیا ہوسکتی ہے۔
اپنی انتہائی وحشت کو پہنچے ہوئے زنا با الجبر کے واقعات نے زود حس مصنف اور ناول نگار کو اس حد تک رنجیدہ کر دیا ہے کہ وہ ”نالہئ شب گیر“ میں اپنے جیسے حساس افراد کو جھنجھوڑکر جگانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔
کوئی تو نالہئ شب گیر پر باہر نکلے
کوئی تو جاگ رہا ہوگا دیوانے کے سوا
(نعمان شوق)
دُنیا میں مردوں کے جبر اور استحصال کے خلاف بغاوت کی زیریں لہر تیزی سے چل رہی ہے۔ مغرب ہو کہ مشر ق عورتیں بیدار ہو رہی ہیں۔وہ اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتی ہیں۔ ایک ایسی زندگی جس میں مردوں کا بے جا دخل نہ ہو۔ اس کے لیے وہ رات دن کام کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور انفارمیشن تیکنالوجی کی برکات نے اس کام میں بڑی آسانی فراہم کردی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مردوں کے ظلم و ستم کے چراغ اب ٹمٹمانے لگے ہیں۔اس کے ثبوت کے طور پر مشرف عالم ذوقی نے ناہید ناز کو پیش کردیا ہے اور وہ دنیا کی ایسی اکیلی عورت نہیں ہے جو اس مہم میں تن من دھن سے جڑگئی ہے۔بلکہ کئی اور بھی ممالک سے لڑکیاں اور عورتیں اس مشن پر مستعدی سے سرگرم عمل ہو چکی ہیں۔
ناہید ناز کے خودکشی کرلینے کی خبر کے چھ مہینے بعد اچانک ایک دن بڑے ڈرامائی انداز سے مصنف کی ملاقات ناہیدناز ہوتی ہے۔ جب وہ کسی نئی کہانی کی تلاش کے دوران نئی دہلی کے ایک پاش علاقے ساؤتھ ایکسٹینشن میں اسے دیکھتا ہے تو وہ ایک دم بھونچکا رہ جاتا ہے۔اس نے ایک نیا جہان بسا لیا تھا جس میں مردوں کا گذربالکل بھی ممکن نہیں تھا، وہ ایک بنگلہ میں رہتی تھی اور لندن کے رائیل پبلشنگ ہاؤس کی میڈم رونا ٹیلرنے دو کروڈ روپئے میں اس کی وہ لغت خرید لی تھی جسے نرمل اساس نے دو کوڑی کی بتا کر کبھی دیوار پر دے ماری تھی۔
”تین مہینے جنیفر کے ساتھ میں نے اس پروجیکٹ پر کام کیا ہے۔مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ اس سطح پر سوچنے والی اکیلی میں نہیں ہوں۔ ایک دنیا تمہارے پاگل پن اور کارناموں سے گھبرا چکی ہے۔ بلکہ کہنا چاہئے، تمہاری مردہ مردانگی سے۔اور اسی لیے تیز رفتاری سے اسی نئی دنیا میں ایک نیا معاشرہ تیار ہو رہا ہے۔اور تم سوچ بھی نہیں سکتے، بہت حد تک یہ نیا معاشرہ وجود میں آچکا ہے۔ جنیفر اور دیگر کئی ممالک کی لڑکیاں، عورتیں ہمارے ساتھ ہیں۔اور اس لیے اس سسٹم تک پہنچنا ضروری تھا جو تمہارے صدیوں سے ہتھیار رہے ہیں۔‘ ناہید مسکرائی…..لفظ….. شبد….. ورڈس….. ہم سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعہ بھی بلاسٹ کریں گے اورتمہاری مردانگی کے چتھڑے اڑادیں گے….. وہ ہنس رہی تھی….. اور تمہارا وہ منحوس کینچوا….. کیا نام تھااس کا….. نرمل اساس….. وہ کسی حد تک اس تبدیلی کو سمجھ چکا تھا۔ مگر بیچارہ….. کچھ لوگ خوفزدہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور خوف زدہ ہوکر مر جاتے ہیں…..‘ وہ ایک بار پھر زہر بھری کڑواہٹ کے ساتھ مسکرائی —–“ (صفحہ 391)
مشرف عالم ذوقی نے اپنے گذشتہ ناولوں کی طرح اس ناول کے ذریعے بھی ایک غیر معمولی اور زبردست کردار سے اردو فکشن کے اثاثے میں اضافہ کیا ہے۔ ایک جاندار کردار وہ ہوتا ہے جس میں وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نامیاتی بالیدگی ہوتی رہتی ہے اور اچھے برے حالات کے تحت ادراکی سطح پر فکری تغیر بھی نموپذیر ہوتا رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو فسانہئ آزاد کے کلاسک کردار خوجی کی طرح وہ کردار بھی اسٹیریو ٹائپ کردار تسلیم کیا جائے گا۔ مشرف نے ناہید ناز کے روپ میں جس کردار سے ہمارا تعارف کرایا ہے، وہ ایک ڈائنامایٹ کردار ان معنوں میں ہے کہ اس کی زندگی کسی سونامی سے کم نہیں۔عصمت چغتائی کی کردار کی طرح یہ کردار بھی باغی اور ضدّی ہے۔جونا گڑھ کے بڑے ابو، عظیم مامو، تایا، چاچا خلیرے ممیرے بھائیوں کی ہوسناک پیش رفت کے گھیرے کو توڑنے والی وہ پہلی لڑکی ہے جس نے انھیں جونا گرھ کے ہجڑے کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جہاں کنواری لڑکیاں ہوس کا شکار بنا کر موت کے گھاٹ اتار دی جاتی تھیں۔ناہید ناز پہلی بہادر لڑکی تھی جس نے خاندان کے نام و ناموس کی پرواہ کیے بغیراپنوں کے جنسی استحصال کے خلاف نہ صرف یہ کہ علمِ بغاوت بلند کیا بلکہ اپنی ماں مہر سلطانہ کو بھی حوصلہ دیا کہ وہ اس گھٹن بھرے ماحول کو بدلنے کے لیے کھل کر سامنے آئے۔مہر سلطانہ کی سیرت میں کایا کلپ تبدیلی آتی ہے اور وہ حویلی کی ذمے داری اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہے۔
کسی بھی کردار میں بڑی تبدیلی تب آتی ہے جب وہ نئے ماحول میں داخل ہوتا ہے۔پریم چند کے ناول گؤ دان کا کردار گوبر بھاگ کر جب لکھنؤ جاتا ہے اور شہر کی زندگی سے روشناس ہوتا ہے تو اس میں بھی اتنی جرأت آجاتی ہے کہ ہولی کے دن شراب کے نشے میں گاؤں کے ٹھاکر کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتا ہے کہیہ ایک روپیہ بری ٹھکرائن کا، اور یہ ایک روپیہ چھوٹی ٹھکرائن کا…..وغیرہ وغیرہ۔ ناہید ناز نے بھی گھر چھوڑ دیا تھا اور اس کا exposure دہلی جیسے میٹرپولی میں صدی کے ایک انتہائی درد ناک ریپ کے واقعی سے ہوتا ہے جہاں لاکھوں لاکھ انسانوں نے سخت سے سخت الفاظ میں نربھیا کی اجتماعی زنا بالجبر کی مذمت کی تھی اور نتیجے کے طور پر حکومت کوجھکنا پڑا تھا۔ کیونکہ پبلک کی مانگ میں صداقت تھی۔ناہید ناز کی زندگی بھی اسی طرح کے واقعات سے نبرد آزما ہوتی آئی تھی۔ اس کے اندر انتقام کا لاوہ کسی جوالا مکھی کی طرح پک رہا تھا اور کمال یوسف کی سردمہری نے اسے دن بہ دن اُبل کر پھٹنے کے لیے ہوا دے رہی تھی۔ڈکشنری کے پروجیکٹ نے اس کے خوابیدہ احساس کو چنگاری دیکھا دی، بس پھر کیا تھا نرمل اساس کے بیہودہ برتاؤ نے اسے اس حد تک جوالا مکھی بنا دیاکہ اس کا پہلا شکار کمال یوسف ہی ہونے والا تھا۔قسمت نے یاوری کی ورنہ ناہید نے اس کی castration میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔اس رات کا ایک ایک پل کمال یوسف کی ازدواجی زندگی میں قیامت ِصغریٰ بن کر ٹوٹا۔کمال جانتا تھا کہ وہ حد درجہ ضدی ہے اور اپنی بات منوانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور بالا ٓخر، وہی ہوا، نینی تال کی ہزاروں فٹ گہری کھائیوں والی گھپ اندھیری سڑک نے نہ جانے کب ناہید ناز کو نگل لیا کسی کو اس بات کا ہوش نہیں تھا۔وہ پُر اسرار طریقے سے غائب ہو چکی تھی۔ ایک کہانی ختم ہوجاتی ہے۔
لیکن اچانک چھ مہینے بعد نئی دہلی کے ایک پوش ایریا میں کسی بنگلہ کی مالکن کے روپ میں مصنف سے ٹکرا جاتی ہے۔
”قید کو توڑ دے اور آزاد ہو جا۔“
”میں ایسا راز ہوں جسے پانے میں صدیاں لگتی ہیں۔“
مصنف اس کے شاندار بنگلہ کے حسین ڈرائنگ روم کو حیرت سے دیکھتا ہے تو اسے یقین نہیں آتا کہ یہ وہی ناہید ناز ہے جسے اس نے انڈیا گیٹ پر یا پھر کمال یوسف کے گھر میں دیکھا تھا کیونکہ وہ ایک نئی ناہید تھی۔ اس ناہید میں کسی ملکہ جیسی خصوصیات کے ساتھ زبردست خود اعتمادی بھی شامل ہوگئی تھی اور اس وقت اس کے چہرے پر ایک ایسی مغرور ملکہ کی چمک تھی، جو اپنی سلطنت میں کسی کا دخل نہیں برداشت کرتی۔مصنف کی حیرانی دور کرنے کے لیے ناہید زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہے:
”اس گھر میں مرد نہیں آتے۔ ماریا کو اسی لیے حیرت ہو رہی ہے۔ آپ مصنف ہیں اس لیے مجھے کوئی پریشانی نہیں….“
”مجھے وہ تصویر مل گئی تھی…..“ میں (مصنف) نے آہستہ سے کہا….
ناہیدچونک گئی۔ میری طرف دیکھا…. ’وہ بلّی چوہے والی…..؟‘ وہ شک سے میری طرف دیکھ رہی تھی…..
ہاں۔ اس لیے قیاس لگانا مشکل تھا کہ چوہے کو کھانے کے بعد بلّی آزاد ہے۔ اور بلیاں خودکشی کا راستہ نہیں اختیار کرتیں….‘
’گڈ وہ شادی بھی نہیں کرتیں —–‘ اس کے ہونٹ پر زہر بھری مسکراہٹ تھی۔ ’چوہے کچلنے کے لیے ہوتے ہیں….‘
اتنا کہہ کر وہ ایک بار پھر خاموش ہوگئی تھی۔ (صفحہ390)
راقم الحروف نے مشرف عالم ذوقی کا یہ ناول بہت ہی شوق اور جاذبیت کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے پہلے بھی مشرف کے ناول ”آتشِ رفتہ کا سراغ“ اور ”لے سانس بھی آہستہ“ اتنے ہی انہماک اور دلچسپی سے پڑھ چکاہوں اور اس بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ مشرف عالم ذوقی کے ناولوں کا ویلن پورا معاشرہ ہوتاہے اور بالخصوص وہ حالات جو انسان کو جانور سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ حالات خواہ سیاسی ہوں، سماجی ہوں یا نام نہاد مذہبی ہوں —– اس کی کمزوریوں کے خلاف وہ ہردم آمادہ ئ پیکار نظر آتے ہیں اور مسلسل اپنی تحریروں سے ایک نئے انقلاب کا خواب بنتے رہتے ہیں ——خواب ضروری ہیں زندگی کے لیے کیونکہ مردہ دل کبھی خواب نہیں دیکھا کرتے —— ان کے اندر ایک تڑپ ہے، ایک آگ ہے جو انھیں ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھنے پر مجبور کرتی ہے جہاں مساوات ہو، جہاں برابری ہو،جہاں طبقاتی کشمکش سے پرے ایک ایسا سماج ہو جس پر انسانیت کا راج ہو۔وہ اپنے معاصرین میں کسی بھی انقلاب کی آہٹ کو سب سے پہلے محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا انھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے بارہا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔وہ ظالموں کو للکارنے میں بھی سب سے آگے رہتے ہیں۔ان کے اندر ایک بے خوف اور جیالے صحافی کی روح موجود ہے۔وہ معاشرے پر طاری جمود کے بت کو اپنی تحریروں کی متواترضربِ کلیمی سے توڑنا چاہتے ہیں۔
مشرف عالم ذوقی کی ناولوں کے مطالعے سے ایک بات بڑے واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ وہ بحیثیت ِمجموعی عورت کی آزادی کے قائل ہیں۔ وہ انھیں سماج میں زیر استحصال نہیں بلکہ بر سر اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔”نالۂ شب گیر“ میں مشرف نے پہلی بار اتنا پُر زور طریقے سے اپنے اس موقف کی حمایت کی ہے۔ میری نظر میں ان کی یہ پیش رفت ا ور پیش کش دونوں ہی ا نتہائی قابل ِ صدتحسین امر ہے۔