چترا مدگل : حکایت ، بانسری اور زمینی حقیقت – مشرف عالم ذوقی

” الف لیلہ ” اور ” امیر حمزہ ” کی داستانیں اور قصص نے کیا محض عیش و عشرت کی پناہ گاہوں سے دوستی کی تھی یا ان کی جڑیں تصوف کے اندر باہر اور ہماری زندگی کے ظاہر و باطن سے بھی ہو کر گزرتی ہیں ؟ مولانا رومی کی مثنوی پہلے ہی شعر سے ہجر ، اداسی ، محبت ، تصوف سب کے دروازے کھولتی ہے:
بشنو ازنے چوں حکایت می کند
وز جدائیھا شکایت می کند
بانسری میں عشق ، عشق میں انا الحق ، بانسری کے سر میں ہجر و فراق کی درد بھری موسیقی،موسیقی میں عشق کا دریا،گھوم پھر کے وہی عشق جو سات افلاک ، سات سمندر ، سات دریاؤں کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ اس نے عشق کی آواز سنی۔ یہ آوازداستانوں سے گونجی تھی، اس نے کتابوں سے عشق کیا، اس کا عشق انسانی دردمندی کا وہ صفحہ ہے ، جو ہاتھ میں آیا ، تو وہ لکھتی چلی گئی۔ اس نے زمینی حقیقت کو آواز دی اور ان پر بھی لکھا ، جو انسان ہوتے ہوئے بھی انسانی برادری سے علیحدہ کر دیے گئے تھے ۔ ممبئی کی ایک بستی ، جہاں تھرڈ جینڈر رہتے تھے، لکھنے سے قبل بھی اس نے ان کی زندگی اور زندگی سے عشق کی داستوں کو قریب سے سنا، وہ خلا میں نہیں لکھتیں، وہ زمین کے اندر تک جانے کا حوصلہ رکھتی ہیں، ان دنوں وہ بہت تنہا ہیں،مگر یہ سچ نہیں .ہزاروں کتابیں ہیں ، جو ان کی دوست ہیں، جب کتابوں کا ساتھ ہو تو انسان تنہا کیسے ہو سکتا ہے ؟
اس نے تنہائی کو اپنے بے پناہ ناول کا حصّہ بنا ڈالا،تنہایی کیا ہوتی ہے یہ بزرگوں سے پوچھیے ،خاموشی کا عذاب کیا ہوتا ہے، موت کا انتظار کیسا ہوتا ہے ؟ چترا مدگل کا مشہور ناول ہے گلی گڈو، گلی گڈو تمل زبان میں پرندوں کو کہتے ہیں، بزرگی کے خواب کیسے ہوتے ہیں؟اس ناول میں دو مرکزی کردار ہیں، کرنل سوامی اور دوسرا بابو جسونت سنگھ،بابو جسونت سنگھ کانپور سے نکلے اور زبردستی بیٹے بہو کے پاس پہنچ گئے،بیوی کا حال میں ہی انتقال ہوا تھا اور اب دلی والے گھر میں ان کی موجودگی وہی تھی جو کسی خادم کی ہوتی ہے، صبح کی سیر میں دو اجنبی ملتے ہیں اور ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں، بابو جسونت سنگھ اپنے بیٹے اور بہو سے نالاں رہتے ہیں، وہیں جسونت سنگھ بیٹے بہو کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔
’گِلی جانتے ہیں کسے کہتے ہیں؟‘
اُن کے من میں کوندا، کرنل سوامی کا مطلب گِلی ڈنڈے سے تو نہیں۔مگر ظاہری طور پر سرہلاکر انجان پن ظاہر کیا ۔
گِلی معنی چڑیاں۔ گِلی گڈو معنی چڑیائیں۔
زندگی کی لہروں پر صرف گھر کی داستان رہ گئی ہے،ایک خوش ہے،ایک خوش نہیں ہے، پھر یہ ہوتا ہے کہ کرنل سوامی پارک میں نظر نہیں آتے ، جب پورا ہفتہ گزر جاتا ہے تو بابو جسونت سنگھ کرنل سوامی کی تلاش میں نکلتے ہیں اور یہ ناول کا کلائمکس ہے۔ اقتباس طویل ہے لیکن پڑھنا چاہیے۔
اُسی میوروہار والی پُلیا پر بیٹھے ہوئے اُن کا انتظار کررہے تھے۔ آنکھیں بھر آئیں اُن کی۔ ایسے بھی موت آتی ہے! اِس شکل میں۔ سیڑھیوں پر۔ اُنہیں سیڑھیوں کو پار کر وہ آئے ہیں اوپر۔
’گھر پر……بہوئیں، بچے سب کہاں گئے ہوئے تھے۔‘
’کون سے بہو بچے۔‘ مسز شریواستو کو بابوجسونت سنگھ کیسوال نے بھونچک کردیا۔
’مادھوی، انوشری، گلی گڈو…… بیٹا شری نارائن……‘
’پچھلے آٹھ برسوں سے ہم نے بھائی صاحب کو اکیلے ہی رہتے دیکھا ہے۔‘
بابوجسونت سنگھ کو لگا کہ کسی نے اُنہیں تیسری منزل سے اُٹھا کر نیچے پھینک دیا ہے……
حیرت زدہ سے وہ مسز شیواستو کے ہونٹوں کا کھلنا اور بند ہونا دیکھتے رہے۔ کیا کہہ رہی ہیں محترمہ! چکمک کا روگ اُنہیں ابھی سے تو نہیں شروع ہوگیا۔
مسز سریواستو بتا رہی تھیں اور جیسے دھواں پھیلنے لگا اور وہ دھواں بابوجسونت سنگھ کو سرپیلی کنڈلیوں جیسا جکڑنے لگا۔
94ء کی بات ہوگی۔ بیوی کی موت کے بعد کرنل سوامی بالکل اکیلے ہوگئے تھے۔ تینوں بیٹوں نے تب تک نئی نوکریاں پکڑ کر نئے مستقبل کی تلاش میں نئے شہروں کو اپنا ڈیرا بنالیا تھا۔ خالی وعدوں کے انبار پر اُنہیں بٹھائے ہوئے کہ بہت جلد اُن لوگوں کے لئے ممکن ہو پائے گا کہ اُن کے اپوّ پن اُن کے ساتھ ہی رہ سکیں۔ بنگلور، حیدرآباد میں کچھ ہی وقت میں اُن کے اپنے چھوٹے موٹے فلیٹ بھی ہوگئے۔ پچھلی گرمیوں میں منجھلا شری نارائن آیا تھا حیدرآباد سے۔آیا وہ خاص منصوبے سے ہی تھا کہ اُن کے اپوّ نوئیڈا والا چار کمروں والا فلیٹ بے وجہ رکھے ہوئے ہیں۔ فلیٹ فروخت کرکے کیوں نہیں اپوّ اُس سے ملنے والی رقم تینوں بھائیوں میں تقسیم کردیں؟ اُن کے تنگ فلیٹ اب اُنہیں پریشان کررہے ہیں۔
خواب، خواب کی منزلیں اس کے باوجود قائم رہتی ہیں، بابو جسونت سنگھ کانپور رہنے والی اپنی خادمہ سے شادی کا فیصلہ کرتے ہیں اور دلی چھوڑ دیتے ہیں۔

دنیاکے چند مشہور ادبی کرداروں میں سے ایک ہے ا یما،جین آسٹن کے اس ناول کی مقبولیت اور اس کا جادو پوری دنیا میں اب بھی برقرار ہے۔ پرائیڈ اینڈ پراجیڈیس ، ‘سینس اینڈ سینسیبلٹی’ اور ‘مینس فیلڈ پارک’ جیسے عالمی شہرت یافتہ ناولوں کے ذریعے جین آسٹن کے ناول ‘ا یما’ کی ہیروئن ‘ایما’ کو ایسی شہرت ملے گی ، شاید اس کے بارے میں آسٹن نے بھی کبھی سوچا نہیں تھا۔ بابو جسونت سنگھ یا کرنل سوامی ایسا ہی ناقابل فراموش کردار ہے .ایما ایک کلاسیکی ناول ہے جس میں نہ تو اسرار ہے اور نہ ہی جنسی تعلقات اور نہ ہی کہانی کے تعاقب میں کوئی معجزہ ہے۔ یہ زندگی کے پیچیدہ حالات کی ایک سادہ کہانی ہے جو ایمانداری اور ویژن کے ساتھ کہی گئی ہے۔ جین آسٹن کا ذکر اس لئے آیا کہ چترا مدگل کی دنیا بہت کچھ جین آسٹن جیسی ہے ، ان کے کردار حیرت میں ڈال دیتے ہیں . وہ ہندوستانی عورتوں کی اسی طرح نمائندگی کرتی ہیں جیسے اسٹن انگلینڈ کے شہر ، گاؤں ،قصبوں میں رہنے والی عورتوں کی ، مجھے چترا مدگل کی ایک کہانی یاد آ رہی ہے،بھوک .بچے کی بھوک کی وجہ سے ماں اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہوتی ہے۔
یہ کہانی مجھے کچھ کچھ ابھی بھی یاد ہے، شوہر بیوی اپنے ننھے بچے کو خادمہ کے حوالے کر کے آفس چلے جاتے ہیں،اس درمیان خادمہ ایک بھکاری عورت سے ڈیل کرتی ہے، شوہر بیوی کے جاتے ہی خادمہ بچے کو بھکارن کے حوالہ کر دیتی ہے،وہ بچے کو گندہ کپڑا پہناتی ہے .رلاتی ہے تاکہ بچے کے نام پر اچھی بھیک مل سکے ،یہ کہانی ہندی کے کلاسک میں شمار ہوتی ہے،چترا مدگل ایک فعال سماجی کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے براہ راست تجربات پر مبنی بہت سی کہانیاں لکھی ہیں ، جن میں سے ‘بھوک’ بھی ایک ہے ہے۔
چترا مدگل کا ایک بڑا ناول ہے ‘آواں’ یہ ناول مزدور عورتوں کی زندگی پر مبنی ہے . کہانی ١٩٦٠ کے اس پاس کی ہے، لیکن جو مسائل اس ناول میں اٹھائے گئے ہیں ، میں نے اس سطح کا کوئی دوسرا ناول اردو زبان میں نہیں دیکھا، یہ المیہ ہے کہ ہمارا ادب آج بھی ڈرائنگ روم کا حصّہ ہے اور اسی لئے ہم جدیدیت یا جدید ادب کی جتنی بھی وکالت کر لیں ، ہمارا فکشن محدود دائرے سے باہر نہیں نکلتا، ڈرائنگ روم کلچر تک محدود فکشن میں مزدور ہوں ، کسان ہوں ، سب تخیل کی سطح تک محدود جبکہ چترا جی محنت کرتی ہیں،برسوں ان کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کا جائزہ لیتی ہیں، نوٹس لیتی ہیں پھر لکھنا شروع کرتی ہیں۔ اس ناول کا ایک حصّہ ممبئی ، دوسرا کولکاتا تیسرا حیدرآباد ہے، مزدور سیاست کے جتنے بھی رنگ ممکن ہیں ، وہ سب اس ناول کا حصّہ ہیں ۔ دلت زندگی پر بہت سی کہانیاں اردو میں بھی لکھی گئیں لیکن آواں ایک چیلنج ہے ، اور چیلنج اس لئے ہے کہ یہ ناول دلت سماج ، مزدور معاشرہ اور پورے ہندوستان کی نمائندگی کرتا ہے۔
چترا جی کا ایک ناول ہے، نالہ سوپارا۔ یہ بستی ممبئی میں ہے .یہ ناول تھرڈ جنڈر کی زندگی سے تمام پردے اٹھاتا ہے ،اردو میں خواجہ سراؤں کی زندگی پر جو بھی ناول لکھے گئے ، ایسے تمام ناول کی بنیاد خلا میں رکھی گئی ہے،مگر یہ ناول اس لئے بھی اہم ہے کہ ہم قریب سے کسی خواجہ سرا کی زندگی میں جھانک کر دیکھ سکتے ہیں، ناول پڑھنے کے بعد ، مجھے معلوم ہوا کہ خواجہ سرا اپنے گھر کیسے رہتے ہیں، خواجہ سرا اپنے قبیل کے بچوں کو کیسے اٹھا کر لے جاتے ہیں ۔ ان کی سیاست میں دلچسپی کیوں ہے ؟ ‘نالاسوپارا’ ، اسٹیبلشمنٹ کی جنگ اور خواجہ سرا کی زندگی کے اندر عملی طور پر دیکھنے کی کوشش کا نام ہے۔
چترا مدگل یعنی تبسم اور میری چترا آپا، ممتا کا خزانہ جو میں نے چترا آپا کے اندر دیکھا ، اس کی نظیر دور دور تک نہیں ملتی، چترا آپا ابھی حیات سے ہیں۔ ابھی حال میں ہی ان کا ناول شایع ہوا ہے،جس کے بارے میں میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسا ناول چترا مدگل ہی لکھ سکتی ہیں ، کوئی اور نہیں لکھ سکتا . چترا مدگل میرے لئے ورجینیا وولف یا جان اسٹن سے کم نہیں ہیں، موازنہ بہتر چیز نہیں ہے، دو بڑے لوگوں کا موازنہ ہونا بھی نہیں چاہیے، مگر گلی گڈو ، آواں ، نالہ سوپارا جیسے ناول کی خالق چترا مدگل کے بارے میں مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی جھجھک نہیں کہ جو وہ لکھتی ہیں ، وہ مغرب کے کسی شاہکار سے کم نہیں ہوتا، ان کا ویژن ، ان کی نظر ، ان کی زبان ، ان کا تخیل جہاں غوطہ لگاتا ہے ، وہاں سے بیش قیمت موتی ہی برآمد ہوتے ہیں۔ دلتوں کی جنگ ہو ، مزدوروں کی لیبارٹری ہو ، عورتوں کا مسلہ ہو ، تھرڈ جینڈر کے مسائل ہوں ، وہ ڈرائنگ روم میں بند ہو کر ناول کی تخلیق نہیں کرتیں،وہ برسوں تجسس کے موتی چنتی ہیں ، دھوپ کا شکار ہوتی ہیں . نوٹس لیتی ہیں اور جب لکھتی ہیں تو ہندی ادب میں زلزلہ آ جاتا ہے، میں نے ورجینیاوولف سے ان کا موازنہ کیوں کیا ، بتاتا ہوں۔
ورجینیا کے والد یہودی تھے ، اور جب ورجینیا نے خودکشی کی تھی ، اس وقت یہودیوں کو انتہائی مظالم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ ہٹلر اور اس کی نازی فوج ظلم کر رہی تھی۔ لاکھوں یہودی قوم پرستی کے نام پر مارے جارہے تھے۔ ورجینیا ، جو پہلے ہی افسردگی کا شکار تھی ، ان سب کا مقابلہ نہیں کر سکی اور اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ چترا مدگل کو زندگی کا خاتمہ منظور نہیں ۔ مدگل صاحب ان کے شوہر تھے ،ایک ایسا وقت آیا جب ان کی بیٹی داماد گاڑی سے کہیں جا رہے تھے،حادثہ ہوا اور دونوں ہلاک ہو گئے، مدگل صاحب زندہ تو رہے لیکن خوشی ان سے روٹھ گئی، وہ بستر سے لگے تو پھر اٹھ نہیں پاے اور وہ وقت آیا جب موت ان کو اپنے ساتھ لے گئی، سارا گھر چترا آپا نے سنبھالا، ادب رزق ثابت ہوا ، ہم اور تبسم پہلی بار ملے تو تبسم میں چترا آپا نے اپنی بیٹی کا عکس دیکھا اور بیس برسوں میں چترا آپا کا ہر وہ چہرہ ہم نے دیکھا ہے ، جہاں محبت کے ساتھ ادب کی دہلیز بھی ہے اور ہر دہلیز پر ان کی کامیابی کی کہانی بھی لکھی ہوئی ہے ،ورجینیا کے بغیر خواتین پر گفتگو کا معاملہ اسی طرح نامکمل ہے جیسے چترا مدگل کے بغیر نسائی ادب پر کوئی گفتگو مکمل نہیں ہو سکتی۔
1941 کو ورجینیا ندی میں کود گئی اور خودکشی کرلی۔ لیکن خودکشی کرنے سے پہلے اس نے ایک خودکش نوٹ لکھا تھا۔ اپنے کے لئے۔ جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں سوسائیڈ نوٹ بھی ٹھیک سے نہیں لکھ سکتی، ورجینیا نے لکھا ،میں ایک بار پھر پاگل ہو ررہی ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اس بار صحت مند ہو سکوں گی ۔ میں نے طرح طرح کی آوازیں سننا شروع کردی ہیں اور میں کسی چیز پر توجہ دینے کے قابل نہیں ہوں۔ شکست کی یہ آواز میں نے چترا آپا کی زبان سے کبھی نہیں سنی، ان پر فسطائی طاقتوں کی حمایت کا الزام بھی لگا، باجپئی کے دور اقتدار میں چترا مدگل کو پرسار بھارتی میں اہم عھدے سے بھی نوازا گیا، مگر یہ حقیقت میں جانتا ہوں کہ وہ ایسی نہیں ہیں، ایک گھر کو سہارا دینے کے لئے انہوں نے بے دلی سے سب کچھ قبول کیا، وہ ایک دردمند دل رکھتی ہیں جو ہجر کی موسیقی پر آج بھی دھڑکتا رہتا ہے۔
مولانا رومی کی حکایتوں میں زندگی کو سمجھنے جاننے کا نسخہ بھی پوشیدہ ہے، ایک حکایت ہے کہ ایک لڑکے نے ایک دانا بزرگ کا امتحاں لیا ، اس نے ہاتھ میں کبوتر لیا اور اس طرح رکھا کہ دانا بزرگ سے اصلیت پوشیدہ رہے،پھر اس نے سوال کیا:
اے بزرگ ، یہ کبوتر ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻣﺮﺩﮦ ؟ﺩﺍﻧﺎ بزرگ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
’’ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ﺟﯿﺴﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮﻭ ‘‘ ۔
چترا آپا نے یہی کیا ۔ زندگی کے ساتھ ایک بہتر سلوک۔ افسانوں کو گھٹن سے نکالا،زندگی کے حوالے کیا . وہ آج بھی فعال ہیں، پہاڑ اپنی عظمت سے آگاہ نہیں ہوتے،قدموں کے نشان مگر پہاڑوں پر محفوظ رہ جاتے ہیں، وہ جو کچھ بھی لکھ رہی ہیں ، وہ سب ایک خزانہ ہے . ہندی کے تمام بڑے انعام وا عزاز ان کے حصّے میں آ چکے ہیں، مگر وہ ان حقیقتوں سے بے نیاز ، لکھتی چلی جا رہی ہیں، وہ ہر بار زمینی حقیقتوں کے پہاڑ سے نئے موضوع کا انتخاب کر لیتی ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*