مشرف عالم ذوقی:یادوں سے کچھ باتوں تک ـ ذاکر انور

مشرف عالم ذوقی کا یہ وہ کمرہ ہے جس میں بیٹھ کر وہ لکھا کرتے تھے – جو کرسی نظر آ رہی ہے ٹھیک اس کے سامنے ایک کھڑکی ہے جہاں سے آسمان بالکل صاف نظر آتا ہے اگر چاندنی رات ہو تو صاف آسمان پر چاند یوں چمکتا ہے جیسے کوئی دودھیا بلب جل رہا ہو –
گیارہ فروری 2021 کو جب ان سے آخری ملاقات ہوئی تھی تو اسی کرسی پر بیٹھ کر ہاتھ کے اشاروں سے انہوں نے کہا تھا کہ "دیکھو یہاں سے آسمان بالکل صاف نظر آتا ہے اور جب میں رات کو لکھتا ہوں تو چاند کو دیکھتا رہتا ہوں اور میں نے اپنے اکثر ناول یہیں اسی کرسی پر بیٹھ کر رات کی تنہائی میں لکھے ہیں ” –
وہ کہا کرتے تھے کہ "ذہن میں کچھ آ رہا ہو تو اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کہ لکھ نہ لوں” – یہ بھی کہتے تھے کہ” تین چار بجے اٹھ جاتا ہوں اور لکھنے لگتا ہوں کیوں کہ لکھنا زندگی ہے اور پڑھنا زندگی ہے، نہ لکھوں تو چین نہیں ملتا ایک وحشت طاری رہتی ہے ” –
کبھی یہ کہتے تھے کہ "تم گیارہ بجے فون کرو کیوں کہ میں چار بجے تک لکھتا ہوں اور اس کے بعد گیارہ بجے صبح تمام ضروریات سے فارغ ہو کر پھر لکھنے بیٹھتا ہوں اور پھر غالباً وہ دو یا تین بجے تک لکھتے پڑھتے؛ پھر اٹھتے اور تھوڑا آرام کرتے تھے” – مگر آرام کہاں کیوں کہ ایک حساس انسان پل پل موت سے ہمکلام ہوتا رہتا ہے اور خصوصاً اس وقت جب حالات بالکل غیر خوشنما ہوں –
مشرف عالم ذوقی بھی موجودہ ہندوستانی حالات اور بدلتے رویوں کے تناظر سے یوں کبیدہ خاطر تھے کہ وہ لوگوں کو جگانا چاہتے تھے کہ نئے نسل کو بتاؤ کہ تم سے تمہارا بہت کچھ چھینا جا رہا ہے – تمہاری تہذیب، تمہارا سرمایہ اور تمہارا ملک زعفرانی ہاتھوں میں جا رہا ہے –
ان سب امور پر انہوں نے بے باک لکھا، دل کھول کر لکھا اور اس حد تک لکھا کہ کچھ مہینے پہلے ایک صاحب نے یہاں تک کہ دیا کہ مشرف عالم ذوقی ” ادب نہیں، سیاست بگھارتے ہیں ” –
اور جہاں تک مجھے محسوس ہوا یہ بات بگھارنے والے صاحب نہ سیاست سے واقف تھے اور نہ ادب سے جس کے نتیجے میں وہ بے ادب ٹھہرا دیے گئے –
بات اس کمرے کی ہو رہی تھی جس کے داہنے طرف ایک میز ہے جس پر لیپ ٹاپ رکھا ہوا ہے جس کے بارے میں میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا تھا کہ اسی لیپ ٹاپ پر لکھتا ہوں اور فیسبک پر پوسٹ بھی کرتا ہوں – وہ خود ٹائپ کرتے اور خود تمام باتوں کا جواب تیزی سے دیا کرتے تھے –
کرسی کے سامنے والی کھڑکی کے بائیں جانب ریک نما ایک الماری ہے جس میں انہیں عطا کیے گئے وہ عطیات اور ایوارڈ رکھے ہوئے تھے جو مختلف مواقع سے انہیں ملے تھے – اسی کرسی کے سامنے لگی کھڑکی کی بائیں جانب بھی کچھ عطیات رکھے ہوئے تھے اور ساتھ میں ان کے نام سے منسوب کچھ کتابیں، رسالے، میگزین، اور خود ان کے ذریعے تخلیق کردہ کتابیں غیر ترتیب وار انداز میں رکھی ہوئی تھیں –
اور اسی کھڑکی کے اوپر ایک لمبی پتلی سی الماری بنی ہوئی تھی جس میں ان کے ناول، ان کی شریک حیات تسبم فاطمہ کے مجموعہء کلام اور اس کے علاوہ کچھ کتابیں تھیں جن کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ "یہاں اوپر کتابیں رکھی ہوئی ہیں تم دیکھ لو، جو تمہارے پاس نہ ہوں وہ لے لو” –
کرسی کے بائیں جانب میز اور صوفے لگے ہوئے ہیں جس روز میں گیا تھا میز پر کچھ رسالے اور کتابیں پڑی ہوئی تھیں – پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ” تبسم کی ہے وہ کچھ لکھ رہی تھی ” –
واضح رہے کہ اس دن ان کی شریک حیات تبسم فاطمہ کی طبیعت بالکل اچھی نہیں تھی (شاید شوگر حد درجہ بڑھا ہوا تھا) جس کی وجہ سے بار بار ان پر غشی طاری ہو رہی تھی اور دماغ ماؤف ہوتا جا رہا تھا جس کی وجہ سے مشرف عالم ذوقی حد درجہ پریشان تھے اور انہوں نے اسی درمیان یہ بات کہی تھی کہ ” تبسم اچھی نہ ہو تو میں کیسے اچھا رہ سکتا ہوں ” –
واقعی وہ بہت پریشان تھے کبھی ڈاکٹر کو فون کرتے، کبھی گھر میں جاتے تو کبھی کمرے میں آتے اور جب کال کرنے پر فیملی ڈاکٹر آ گئے تو مجھ سے کہا کہ "تم آرام سے بیٹھے رہو، میں ابھی آتا ہوں ” –
جب وہ کرسی پر آکر بیٹھ گئے تو مختلف باتیں ہوئیں، اسی درمیان انہوں نے اپنا ناول "پو کے مان کی دنیا، لے سانس بھی آہستہ، پروفیسر ایس کی عجیب داستان ” کرسی کے بائیں جانب سے نکالا اور کہا ” یہ دیکھو!!!! تم نے پڑھا نہیں ہے ابھی… ؟ انہوں نے ان تینوں ناولوں میں سے کسی ( شاید لے سانس بھی آہستہ) کے بارے میں کہا کہ یہ میرا پسندیدہ ہے اور اس ناول کے بارے میں میں نے کچھ لکھا بھی ہے ” – مزید کہا کہ ان شاءاللہ جلد ہی یہ تینوں ناول اور بیان، مرگ انبوہ ” مَیٹر لنک سے دوبارہ شایع ہو رہے ہیں اور "صحرائے لا یعنیت” کے بارے میں کہا کہ مکمل ہوچکا ہے – اس ناول کے کردار، پلاٹ وغیرہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ ناول کشمیر کے حالات پر لکھا گیا ہے – یہاں ایک اور ناول یاد آ رہا ہے جس کو شاید وہ ابھی لکھ رہے تھے؛ سچ کہوں تو اس ناول کا میں اتنا متنی تھا کہ اب دل کرچی کرچی ہو کر بکھر رہا ہے کہ یہ ناول نہ جانے پورا ہوا تھا یا نہیں – یہ ناول جس کا نام وہ "اردو” رکھنے والے تھے ان کے بقول ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہوگا جس میں اردو ادب کی تاریخ کو حیطۂ تحریر میں لایا جائے گا – مجھے لگتا ہے کہ اردو شاعروں اور اردو ادب کے حالات کو وہ ابتدا تا موجودہ دور ناول کی شکل میں بیان کرنے والے تھے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ –
وہ پڑھنے لکھنے میں اتنے مصروف رہا کرتے تھے کہ ناول لکھتے تو درمیان درمیان میں دوسرے مضامین بھی لکھنا شروع کر دیتے تھے کیوں کہ حالات کی نزاکت اور خصوصاً پچھلے کچھ سالوں سے پیدا ہوئے ملکی ماحول نے انہیں ذہنی طور پر الجھن میں مبتلا کر دیا تھا جس کے نتیجے میں انہوں نے "مرگ انبوہ، مردہ خانہ میں عورت” اور پھر "صحرائے لا یعنیت” وغیرہ جیسے ناول اور مضامین لکھے –
"مرگ انبوہ ” کے دوسرے حصے کا ذکر جب انہوں نے کیا تو میرے منھ سے برجستہ نکل گیا کہ مرگ انبوہ کے بعد والے حصے میں بھی زیادہ تر دیس کا حال رہے گا اور ساری کہانی ہندوستان کے ارد گرد گھومے گی تو کیوں نہ ناول کا نام "نغمہء نا شنیدہ” رکھ لیا جائے – یعنی ایسا نغمہ جسے کوئی سننا نہیں چاہتا – اس نغمے میں ایک کراہیت ہے کیوں کہ ہمارے ملک کا حال ایسا ہوچکا ہے کہ وہ نغمہء نا شنیدہ بن گیا ہے –
یہ سن کر انہوں نے کہا کہ
"خوب، مجھے یہ نام پسند آیا… بہت خوب…نام پسند آیا…. مودی کی باتیں، ملک کے حالات مجھے لایعنیت کی طرف لے گئے – میں نے نام مردہ خانے میں عورت رکھا تھا لیکن اب لگتا ہے یہ نام تبدیل کرنا ہوگا” –
لیکن اگلے روز انہوں نے کہا کہ میں نے ہندوستانی پس منظر میں بہت غور و فکر کے بعد نام "مردہ خانے میں عورت” ہی تجویز کیا ہے –
اس نام کے پیچھے کیا مصلحت شاملِ حال رہی اس کا تذکرہ ادھورا ہی رہ گیا ہے کیوں کہ اس ناول کے نام کو لے کر؛ مشرف عالم ذوقی کے ہاتھوں سے ناول حاصل کرنے تک "مردہ خانہ میں عورت” پر طبیعت مطمئن نہیں ہو سکی – یہاں یہ بھی واضح رہے کہ انہوں نے پہلے نام "مردہ خانے میں عورت” لکھا تھا – ایک دن کہا کہ اہل زبان سے بات ہوئی ہے اور” مردہ خانہ میں عورت” ترکیب درست ہے –
جیسا کہ یہ کہا گیا کہ وہ لکھنے پڑھنے میں اتنا مشغول رہا کرتے تھے کہ انہیں کتابوں سے بھرے ریک اور کمرے میں ادھر ادھر رکھی کتابوں کو درست جگہ پر رکھنے کے مواقع میسر نہیں آیا کرتے تھے جس کو دیکھ کر ایک دن میں نے کہا تھا کہ کسی دن صبح آکر ساری کتابیں ترتیب وار سجا دوں گا اور آپ کا کمرہ ٹھیک کرتا ہوں، تو یہ سن کر وہ مسکرا دیے اور کہا کہ "آؤ تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر کھلاتا ہوں ” – اس کے جواب میں یہ کہا کہ ” میں بناؤں گا آپ میرے ہاتھوں کا کھانا کھائیے گا تو وہ سراپا تبسم زار ہوگئے اور مسکرانے لگے –
مشرف عالم ذوقی کے مسکرانے کی کیفیت اور بات کرنے بعد قطع کلام کے طور پر” خوش رہیے” کے جملے اب یوں یاد آ رہے ہیں کہ دل امڈا آتا ہے اور کیوں نہ امڈے؛ کیوں کہ بہت ساری ملاقاتیں، باتیں اور بہت سارے خواب ادھورے رہ گئے ہیں اور ساتھ ساتھ میرے تئیں ان کی وہ امیدیں بھی رخصت ہوگئی ہیں جس میں وہ مجھے اپنے آپ سے بڑا بنتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے – شاید یہی وجہ ہے کہ جب "حبس نامہ” پر تبصرہ کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ” تم نے واقعی مجھ سے اچھا لکھا ” – یہ ان کا خلوص تھا کہ انہوں نے ہر وقت اور ہر تحریر پر حوصلہ افزائی کی اور یہ بات کہی کہ تم میں آگ ہے، تم اس آگ کو زندہ رکھو” –
غالباً وہ مجھ سے وہی بات کہا کرتے تھے جو محمد حسن نے ان کے بارے میں کہی تھی کہ "تم میں ایک آگ ہے، اس آگ کو بجھنے نہ دو” –
دھوئیں اور آگ کے سلسلے میں اس بات کا ذکر روایت بالمعنىٰ کے طور پر کرتا چلوں کہ اس دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ خیالات کی مہمیز کو روانی دینے کے لیے غیر اسلامی دھوئیں کا کش بھی ضروری ہے کیوں کہ اس کے بنا خیالات و تصورات میں چنگاری نہیں بھرتی –
آج یعنی 19 اپریل 2021 بروز سوموار دن کے ساڑھے گیارہ بجے انسٹھ سال چوبیس دن کی عمر پاکر جب مشرف عالم ذوقی مکر ہاسپٹل (makkar hospital) میں وفات پا چکے ہیں تو” بیان کردہ اور نہ بیان کی ہوئیں” بہت سی باتیں حاشیۂ خیال میں آتی جا رہی ہیں اور ایک بے یقینی کی کیفیت طاری ہوتی جا رہی ہے اور اب یہ مضمون لکھتے وقت (ساڑھے سات بجے) وہ آسودہء لحد کیے جا رہے ہوں گے – ایسے عالم میں ہم بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ :
اللہ تعالیٰ آپ کی بشری لغزشوں کو در گزر کرے اور آپ کے سيئات کو حسنات میں بدل کر آپ کو کروٹ کروٹ سکون دے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے –