مشرف عالم ذوقی :میری تمام سر گزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو – ڈاکٹر غلام شبیر رانا 

 

اُردو زبان و ادب کے مطالعہ اور تخلیق ادب سے جینے کا قرینہ سیکھنے والاجری تخلیق کار اور عالمی شہرت کے حامل ممتاز بھارتی فکشن نگارمشرف عالم ذوقی نے ترک ِ رفاقت کی ۔عالمی وبا کورونا کی زد میں آنے کے بعد وہ دونوںمیا ںبیوی گزشتہ چند روزسے دہلی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔اپنی تسبیح روزو شب کا دانہ دانہ شمار کرتے وقت مشرف عالم ذوقی اس بات پر اصرار کرتا کہ اُس نے گرد بادِ زیست میں اپنی عملی زندگی کا ہر لمحہ اَدب کی آغوش میں پناہ لے کر بسر کیا ہے ۔چودہ ناول اور آٹھ افسانوی مجموعے لکھ کر ارد و زبان و ادب کی ثروت میں اضافہ کرنے والا یگانۂ روزگارادیب چل بسا۔24نو مبر 1963ء کو بہار کے ضلع آرہ کے افق سے طلوع ہونے والا اردو زبان کا یہ آفتاب 19پریل 2021ء کو غروب ہو گیا اگلے روز جونڈس اور جگر کے عارضے میںمبتلاان کی اہلیہ ممتاز بھارتی شاعر ،نقاد ،ناول نگار ،مترجم اور فلم ساز تبسم فاطمہ ذوقی نے بھی اس جان لیوا صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے عدم کی بے کراں وادیوں میںاپنے شوہر کی بسائی ہوئی نئی بستی میں قیام کا فیصلہ کر لیا اور عدم کے کُوچ کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ اُن کے پس ماندگان میںایک بیٹا ساشاشامل ہے ۔ تبسم فاطمہ نے فلسفہ میں ایم ۔اے کی ڈگر ی حاصل کی اور دونوں میاں بیوی دہلی میںفنون لطیفہ سے وابستگی اختیار کر لی ۔دونوں نے اردو او رہندی زبان میں اپنے اشہبِ قلم کی جولانیاں دکھائیں ۔ زندگی اور اس کی حقیقی معنویت کو زاد راہ بنانے والا فلسفی اب کہاں ملے گا۔مشرف عالم ذوقی اور تبسم فاطمہ دونوں کا آبائی وطن آرہ ہی تھا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد دونوںاپنی جنم بھومی میں انجمن آرا تھے اور وادی ٔ خیال میں افسانوی ماحول میں مستانہ وار گھومتے تھے ۔دونوں افسانے لکھتے اور تزکیہ نفس کی صورت تلاش کرتے تھے ۔دونوں کو اس بات کا اعتراف تھا کہ اردو افسانے کے ہمالہ کی سر بہ فلک چوٹی سعادت حسن منٹو ہی ہے جس کے اسلوب کا جائزہ لینے کے لیے بڑے بڑے ادیبوں کو کلاہ کج کرنا پڑتا ہے اور ادبی کہکشاں کے تابندہ ستارے بھی بامِ فلک سے اُتر کر سعادت حسن منٹوکے ہمہ گیر اسلوب کی ضیاپاشیوں کا نظارہ کرتے ہیں ۔ ایک روزتبسم فاطمہ اپنا نیا افسانہ لے کر مشرف عالم ذوقی کے پاس پہنچی اور اُسے اپنا افسانہ سنایا۔دِل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے ،تبسم فاطمہ کی نگاہ مشرف عالم ذوقی کے قلب سے ہوتی ہوئی جگر تک جاپہنچی اور دونوں سوچنے لگے کہ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے ۔ جلد ہی تبسم فاطمہ اور مشرف عالم ذوقی کی یہ ملاقات ایک نگاہ میں دونوں کو پیمان ِ وفا باندھنے پر رضامند کر گئی اور محبت کی شادی پر منتج ہوئی ۔حیف صد حیف قزاقِ اجل کے ہاتھوں محبت کی یہ شادی اپنے انجام کو پہنچی اور ان کے مداحوں کے دِل کے سب ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے اور وہ باکمال افسانہ نگار جو بے مثال افسانے لکھتے تھے اس دنیا کے آئینہ خانے میں خودافسانہ بن گئے ۔

سرابوں کے عذابوں کا شکوہ کرنے کے بجائے مشرف عالم ذوقی نے نشانِ راہ کو منزلوں کی نوید پر محمول کیا اور اپنی ہر تخلیقی تحریرکو منزلوںکی جستجو کی ایک نئی سعی پر محمول کیا۔ انسانیت کے ساتھ بے لوث محبت اور حریت فکر و عمل اس کے ریشے ریشے میں سما گئی تھی۔ اپنی تحریروں میںمشرف عالم ذوقی نے خود غرض سیاست دانوں کی موقع پرستی اور مکر کی چالوں کے بخیے اُدھیڑ کررکھ دئیے ۔

۔https://www.punjnud.com/authors/musharraf-alam-zauqiویب سائٹ پر مشرف عالم ذوقی کی ایک سو اسی (180)برقی کتب موجود ہیں ۔اس کے علاوہ مایہ ناز محقق ،ادیب اور دانش ور اعجاز عبید نے ’’ مفت کتب ‘‘ کے عنوان سے ویب سائٹ پر مشرف عالم ذوقی کی اکثر کتابیں برقی کتب کی صورت میں پوسٹ کی ہیں ۔ان برقی کتب سے پوری دنیا میں لاکھوں لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں ۔پس نو آبادیاتی دور میں تیزی سے بدلتی ہو ئی سیاست کے تناظر اور موضوعاتی تنوع میں مشر ف عالم ذوقی نے بڑی ذہانت اور جرأت سے قلم اُٹھایا ہے ۔ مشرف عالم ذوقی نے جدیدیت کے پیروکاروں کے اسلوب کو لائق اعتنا نہ سمجھا اور اپنے لیے ایک منفرد اسلوب منتخب کیا۔ مشرف عالم ذوقی نے ادب میں سیاسی موضوعات پر جو طرزِ فغاں ایجاد کی اسے بعد میں طرزِ ادا قرار دیا گیا۔

اُنیس اپریل 2021ء کو اجل کے ہاتھ میں جو پروانہ تھا اُس میں مشرف عالم ذوقی کا نام بھی رقم تھا۔علم وادب کی وہ شمع فرزاں جِس نے آرہ بہار سے کے ایک نسبتاً کم معروف اور چھوٹے سے قصبے سے روشنی کے سفر کا آغاز کیا تھا،موت کے بے رحم ہاتھوں نے اُسے ہمیشہ کے لیے گُل کر دیا۔دہلی کے شہرِ خموشاں کی زمین نے عالمی ادبیات کے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چُھپا لیااردو زبان و ادب میں فکشن کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی سیلِ زماں کے تھپیڑوں اور صر صر ِ اجل کے بگولوں سے زمیں بوس ہو گئی۔ پُوری دُنیا میں مشرف عالم ذوقی کے کروڑوں مداح فرطِ غم سے نڈھال ہیں اور اُس کی دائمی مفارقت پر اپنے جذباتِ حزیں کا اظہار کر رہے ہیں۔اپنی مسحورکُن شخصیت اور منفرد اسلوب سے اشہبِ قلم کی جولانیاں دکھاتے ہوئے حقیقت نگاری کی طلسماتی کیفیات سے ید بیضا کا معجزہ دکھانے والے اس ابد آ شناتخلیق کار نے اپنی تخلیقات کی قلب اور روح کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر جانے والی اثر آفرینی سے دُنیابھر میں اپنے کروڑوں مداحوں کے دلوں کو مسخر کر لیا۔ مشرف عالم ذوقی کی وفات سے اکیسویں صدی میں اُردو فکشن اور فری لانس صحافت کے ایک درخشاں عہد کا اختتام ہو گیا۔ایک رجحان سازادیب،جری صحافی ،حقیقت پسندافسانہ نگار اور با کمال ناول نگار کی حیثیت سے اُس نے پُوری اُردو دُنیا میں اپنے مسحورکُن اسلوب کی دھاک بٹھا دی ۔بہارکی سر زمین سے آج تک اس قدر وسیع النظر اور جامع صفات ادیب نے جنم نہیں لیا۔ مشرف عالم ذوقی کا اسلوب پتھروں سے بھی اپنی تاثیر کا لو ہا منوا لیتا ہے ۔عملی زندگی میں اس نے اپنے متنوع تجربات و مشاہدات اور انسانیت کو درپیش حالات وواقعات کو نہایت بے باکی اور تفصیل کے ساتھ حقیقت پسندانہ انداز میں زیبِ قرطاس کیا۔اپنے عہد کے مقبول ترین ادیب کی حیثیت سے اُس کانام تاریخ ِ ادب میں آبِ زر سے لکھا جائے گا۔مصنف نے حُسن و رومان کی دلکش داستان کو اپنی گُل افشانیء گفتار سے اس قدر شگفتہ بیانیہ انداز میںنثر کے قالب میں ڈھالا ہے کہ قاری کے دِل کی کلی کِھل اُٹھتی ہے۔ ایک زیرک ،فعال اور مستعد تخلیق کار کی حیثیت اُس نے مطالعہ ء ادب اور تخلیق ادب ہی کو اپنا نصب العین بنا رکھا تھا ۔روزانہ آٹھ گھنٹے ادب کے لیے مختص کر کے اُس نے تخلیقی عمل کو مقاصد کی رفعت کے اعتبار سے ہم دوشِ ثریا کر نے کی سعی کی۔ایسے ادیب اپنے ابد آشنا اسلوب کی بنا پر نایاب سمجھے جاتے ہیں اور تاریخ ہر دور میں اُن کے فقید المثال ادبی کام اور عظیم نام کی تعظیم کرتی ہے ۔اُس نے اپنی لائق صد رشک و تحسین ادبی کامرانیوں سے وطن اور اہلِ وطن کو پُوری دنیا میں معزز و مفتخر کر دیا۔ عالمی ادبیات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار وںکے مطابق یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ بیسویں صدی میں جن ناول نگاروںنے مقبولیت ،اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے کام یابی کے نئے باب رقم کیے مشرف عالم ذوقی اُن میں سے ایک تھا ۔اُس کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے شہرہء آفاق ناول ’’One Hundred Years of Solitude‘‘کا دُنیا کی تیس سے زیادہ زبانوں میںترجمہ ہوا۔ مشرف عالم ذوقی نے نہایت کٹھن حالات میں تخلیقی سفر جاری رکھا۔اس کی زندگی میں کئی سخت مقام آئے لیکن اس نے حوصلے اور اُمید کا دامن تھا م کر منزلوں کی جستجو میں انہماک کا مظاہرہ کیا۔شامِ الم ڈھلی تو درد کی ایسی مسموم ہوا چلی جس نے اُس کے دل میں نمو پانے والی اُمید کی کلی کو جُھلسا دیا ۔وہ اُمیدوں کی فصل کو غارت ہوتے نہیں دیکھ سکتا ور نہ ہی اپنی محنت کا اکارت جانا اسے منظور تھا۔وہ تنہا راتوں کے پچھلے پہر تک مطالعہ اور تخلیقِ ادب میں مصرو ف رہتا اور اپنا ادبی و تخلیقی کام جاری رکھتا۔ ہر لحظہ نیا طور نئی برقِ تجلی کی کیفیت اورطلسمِ ہوش رُبا کی فسوں کاری ادب کے قاری کو مسحور کرکے اُس پر ہیبت طاری کر دیتی ہے ۔تخلیق کار نے طلسماتی اثر آفرینی کو ایسے دلکش انداز میں رو بہ عمل لانے کی سعی کی ہے کہ بیانیہ قاری کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں اُتر جاتا ہے ۔طلسماتی کیفیات کی یہ فضاکئی کرداروں کو سامنے لاتی ہے جن میں رمّال ،نجومی ،ستارہ شناس ،فال نکالنے والے ،قسمت کا حال بتانے والے ا ور مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرنے والے اہم کردار بہت نمایاں ہیں ۔ اُس کے ناول معاشرے کی اجتماعی زندگی کے نشیب و فراز کے گرد گھو متا ہے ۔ ایک نسل کا دوسری نسل کے ساتھ تعلق اور اُن کے مابین پائے جانے والے فکری فاصلے قابلِ توجہ ہیں۔ستارے جو کہ خود فراخیء افلاک میں خوار و زبوں ہیں اُنھیں انسانی تقدیر کے ساتھ وابستہ سمجھنے کے حیران کُن واقعات سامنے آتے ہیں یہاں طلسمِ ہوش رُبا کی جو صد رنگ کیفیت جلوہ گر ہے اُسے دیکھ کر قاری ششدر رہ جاتاہے ۔کئی عامل ہیں جو طلسمی عمل کے زیرِ اثر آ جانے والے افراد کے ذریعے نہ ہونے کی ہونی کے کھیل کے بارے میں چونکا دینے والے واقعات کو بیان کرتے چلے جاتے ہیں ۔گیبریل گارسیا مارکیز نے اپنے تخیل کی جو لانیوں سے اس پُر اسرار قصبے کے بارے میں جو سماں باندھا ہے وہ قاری کو ایک ایسی موہوم طلسماتی فضا میں لے جاتا ہے جہاں ہر طرف تنہائی کے باعث ہو کا عالم ہے۔اس شہرِ ناپُرساں میںکوئی کسی کا پُرسانِ حال نہیں ۔اگر یہاں کوئی شخص بیمار پڑ جائے تو اُن کی تیمارداری اور علاج پر توجہ دینے والا کوئی نہیں ہوتا ۔اس سے بڑھ کر المیّہ کیا ہو گا کہ قسمت سے محروم شخص کی موت کی صورت میں بھی کوئی نوحہ خواں نہیں ہوتا جو اپنے جذباتِ حزیں کا اظہار کر کے تزکیہء نفس کی صورت پید ا کرے ۔معاشرتی زندگی میں جب احساسِ زیاں عنقا ہو جائے تو مسلسل شکستِ دل کے باعث وہ بے حسی پیدا ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی بچھڑ کے چلا جائے گریہ و زاری کی نوبت ہی نہیں آتی ۔دُنیا کے اکثر ممالک میںدیہی زندگی کے مسائل اسی نوعیت کے ہیں کہ وہاں کا ماحول پتھر کے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔گرد و غُبار سے اٹا ہوا ماحول ، توہم پرستی ،بے عملی، یاسیت ،صحت و صفائی کی غیر اطمینان بخش صُورتِ حال اور مواصلات کی ناکافی سہولیات نے دُور دراز کے قصبات کے مکینوں کو کنویں کے مینڈک کے مانند بنا دیا ہے۔ان لوگوں کی زندگی صرف ایک ڈگر پر چلتی رہتی ہے اور زندگی کے بدلتے ہوئے موسموں ے اُنھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔اُن کی زندگی کا سفر تو جیسے تیسے کٹ ہی جاتا ہے لیکن وہ جن صبر آزما حالات سے گُزرتے ہیں اُن کے باعث اُن کا پُورا وجود کِرچیوں میں بٹ جاتا ہے ۔جب اُن کی مسافت کٹ جاتی ہے تو سفر کی دُھول ہی اُن کا پیرہن بنتا ہے ۔ جب مصنف کو اپنے آبائی قصبے کے وہ اُداس بام اور کُھلے در یاد آتے ہیں جہاں مایوسی ،محرومی ،بے بسی اور اُداسی بال کھولے آہ و فغاں میں مصروف ہے تو وہ تنہائیوںکی مسموم فضامیں اس موہوم قصبے اور اپنے آبائی گھر کو یاد کرتا ہے تواُس کی ذہنی کیفیت کچھ اس طرح ہوتی ہے :

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کودیکھ کے گھر یاد آیا

مشرف عالم ذوقینے ہر قسم کے ظلم ،استحصال اور جبر کے خلاف کُھل کر لکھااور کبھی کسی مصلحت کی پروا نہ کی ۔اُس کی حقیقت نگاری بعض اوقات سراغ رسانی کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تجسس سے لبریز اُس کی تحریروں کی مقبولیت بہت زیادہ ہے ۔ اُس کی تصانیف کو دنیا میں بہت زیادہ پڑھی جانے والی کتب میں شمارکیا جاتا ہے ۔عالمی ادبیات بالخصوص فکشن میں یہ وہ عدیم النظیرکام یابی ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ گبریل گارسیا مارکیز نے ستاروں پر کمند ڈالی ہے ۔اپنے اسلوب میںاُس نے جو طرزِ اد ایجاد کی وہ اوروں سے تقلیداًبھی ممکن نہیں ۔اختر الایمان نے کہا تھا :

کون ستارے چھو سکتا ہے

راہ میں سانس اُکھڑ جاتی ہے

مشرف عالم ذوقی کو اس بات کا شدت سے احسا س تھاکہ قحط الرجال کے موجودہ دور میںبے کمال لوگوں کی پانچوں گھی میں ہیں اور اہلِ کمال کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ مختلف قسم کی عصبیتوں نے انسانیت پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا ہے ۔اپنی تحریروں میں مشرف عالم ذوقی نے معاشرے کے پس ماندہ طبقے بالخصوص خواتین کی حالتِ زار کو موضوع بنایا ہے ۔طالع آزما ،مہم جو عناصر ، فصلی بٹیروں ،بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے و الوں اورمرغانِ باد نما کی ریاکاری اور منافقت سے انھیں شدید نفرت تھی ۔ اس عہدِ نا پرساں میں وقت کے اس سانحہ کو کس نام سے تعبیر کیا جائے کہ یہاںجاہل اپنی جہالت کا انعام ہتھیانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ پس نو آبادیاتی دور میںاس خطے کے حالات میں ناانصافیوں کا زہر سرایت کر گیا ہے ۔جس معاشرے میں ساغر صدیقی، ماسٹر عاشق حسین،رام ریاض ،اطہر ناسک ، ضمیر نیازی( صحافی) ،اسحاق ساقی،فضل بانو،خادم مگھیانوی، نعیم آروی ( افسانہ نگار) اور امیر اختر بھٹی جیسے عجز و انکسار کے پیکر تخلیق کار بے بسی کے عالم میںزینۂ ہستی سے اتر جائیں،ا س معاشر ے کی بے حسی کے بارے میںدو رائیں نہیں ہو سکتیں ۔جب کوئی معاشرہ کسی مصلحت کے تحت شقاوت آمیز نا انصافیوں اور جبر و استبداد کو سہہ کر بھی چپ سادھ لے اورٹس سے مس نہ ہو،اسے تقدیر کی منشااور قسمت کی تحریر سمجھے تو اسے ایک المیہ سمجھنا چاہیے ۔ جب معاشرہ مظلوم کی حمایت میں تامل کرے اور ظالم کے ہاتھ مضبوط کرے تو یہ بات اس معاشرے کی بے حسی کی علامت ہے ۔اس قسم کی اجتماعی بے حسی کسی بھی قوم کی بقا کے لیے انتہائی بُرا شگون ہے ۔منیر نیازی ( منیر احمد: 1928-2006)نے معاشرتی زندگی میں راہ پاجانے والی اس بے حسی کے بارے میں کہا تھا :

وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دِل سے منیر ؔ

کوئی بچھڑ کے چلا جائے غم نہیں ہوتا

مشرف عالم ذوقی کو تنہائی کا نوحہ گر اور معاشرتی زندگی کے نباض کی حقیقی معنویت کے با کمال صورت گر کی حیثیت سے دنیا بھر میں عزت و احترام کا اعلا مقام اصل تھا۔ اس کی وفات سے وفا کے سارے ہنگامے ہی عنقا ہو گئے ہیں ۔اس کے زینہء ہستی سے اُترتے ہی ہر طرف ہو کا عالم دکھائی دیتا ہے ۔اب تو فروغِ گلشن و صوت ِ ہزار کا موسم خیال و خواب بن گیا ہے ۔وطن ،اہل وطن اور انسانیت کے ساتھ قلبی وابستگی اور والہانہ محبت اس کا بہت بڑا اعزاز و امتیاز سمجھا جاتا ہے ۔اس نے تخلیق کاروں کو اس جانب متوجہ کیا کہ تیشہء حرف سے فصیلِ جبر کو منہدم کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔اپنے منفرد اسلوب سے اُس نے تخلیقِ ادب اور تنقید کے تمام معائر کو اسی نئی جہت عطا کی جواقتضائے وقت کے عین مطابق تھی ۔ وہ ایک وسیع المطالعہ ادیب تھا معاصر ادب اور عالمی ادب پر اس کی گہری نظر تھی۔ ارون دھتی راؤ ،فرانسیسی ادیب ،شاعر ،ناول نگار وکٹر ہیوگو(1802-1885 :Victor Hugo )، نوبل انعام یافتہ کو لمبین ناول نگارگبریل گارسیا مارکیز ( 1927-2014: Gabriel García Márquez )،حان پاموک ، نوبل انعام یافتہ مصری ادیب نجیب محفوظ (1911-2006 : Naguib Mahfouz (اور چیکو سلو ویکیا کے ادیب میلان کنڈیرا (Milan Kundera)کا بہت بڑا مدا ح تھا جنھوں نے حرف صداقت لکھنا شعار بنایا۔ اپنے افکار کی جولانیوں ،بصیرت افروز خیالات اور ذہن و ذکاوت سے اُس نے قارئین ِ ادب کے اذہان کی تطہیر و تنویر کی ،تخلیقی استعداد کو صیقل کیا اور فکر و نظر کو اس طرح مہمیز کیاکہ قارئینِ ادب ہر لحظہ نیا طُور نئی برقِ تجلی کی کیفیت سے آشنا ہوتے چلے گئے ۔ مشرف عالم ذوقی کے فکر پرور خیالات اور دل کش انداز ِ بیان نے جمود کا خاتمہ کر دیا اور فکر و نظر کی کایا پلٹ دی ۔ وہ قطرے میں دجلہ اور جُزو میں کُل کی کیفیت دکھا کر قاری کو اپنی طلسماتی حقیقت نگاری سے حیرت زدہ کر دیتا ہے ۔زندگی کی برق رفتاریوں میں اُس کا اسلوب دما دم رواں رہنے کی نوید سناتا ہے اور حیات ِجاوداں کا راز ستیزمیں نہاں ہونے کے بارے میں حقائق کی گرہ کشائی کرتا ہے ۔ادب کا قاری اس انہماک کے ساتھ اُس کی تخلیقات کا مطالعہ کرتا ہے کہ اُس کا مرحلہء شوق کبھی طے ہی نہیں ہوتا۔آزادیء اظہار ،حریتِ فکر و عمل اور انسانیت کے وقار اور سر بُلندی کے لیے اُس کی خدمات کا ایک عالم معترف ہے ۔اس نے جس جامعیت اور ثقاہت کے ساتھ معاشرتی زندگی کے ارتعاشات اور نشیب و فراز بیان کیے ہیںوہ اُس کی انفر ادیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔قومی اور معاشرتی زندگی کے واقعات ،سماجی زندگی کی اقدار و روایات ،انسانیت کو درپیش مسائل و مشکلات اور اقوام ِعالم کے مناقشات و سانحات پر وہ حریتِ ضمیر کا علم بلند رکھتا ہے ۔اس کے اسلوب میں تاریخ کے مسلسل عمل ،تہذیبی و ثقافتی اقدار کے معاملات اور عصری آگہی کے بارے میں ایک واضح اندازِ فکر پایا جاتاہے۔انسان زندگی کی رعنائیوں میں کھو جاتا ہے اور اپنے انجام سے بے خبر ہو جاتاہے۔کارِ جہاں کے بے ثبات ہونے کا یقین ہونے کے باوجود فرصت ِ زندگی کا اسراف ایک بو العجبی کے سوا کچھ بھی تو نہیں ۔آج کے دور کا سانحہ یہ ہے کہ انسان آب و گِل کے کھیل میں اُلجھ کر رہ گیا ہے اور یہ تماشا شب و روز جاری ہے ۔ سسکتی انسانیت کے لرزہ خیز مسائل جامد و ساکت پتھروں اور سنگلاخ چٹانوں کے رو بہ رو بیان کرنا پڑتے ہیں ۔دیکھنے والے محوِ حیرت ہیں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی ۔مشرف عالم ذوقینے تخلیق ِ فن کے لمحوں میں خون بن کر رگِ سنگ میں اُترنے کی جو سعی کی ہے وہ اُس کے ذہن و ذکاوت اور ذوق سلیم کی دلیل ہے ۔اُس نے کبھی درِ کسریٰ پر صدا نہ کی ،اُسے معلوم تھا کہ ان کھنڈرات میں موجود حنوط شدہ لاشیں درد سے عاری ہیں ۔اپنے منفرد اسلوب میں اُس نے افکار ِ تازہ کی مشعل تھام کر جہانِ تازہ کی جُستجُو کی جو راہ دِکھائی ہے،اُس سے قاری کے دل میں ایک ولولہ ء تازہ پیدا ہوتا ہے اور وہ بیزار کُن جامد و ساکت ماحول سے گلو خلاصی حاصل کر کے نئے زمانے نئے صبح و شام پیدا کرنے کی دُھن میں مگن ہو جاتا ہے ۔ بے یقینی اور بے عملی کے تارِ عنکبوت ہٹا کر یقین و اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا جو انداز اُس کی اسلوب میںنمایاں ہے وہ قارئینِ ادب کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند ہے ۔اپنی تخلیقی تحریروں کے اعجاز سے اُس نے تخلیقِ ادب کے لاشعوری محرکات کو تنوع عطا کیا ،خیالات ،مشاہدات اور تجربات کی نُدرت سے تخلیق ِادب میںدھنک رنگ منظر نامہ سامنے آیا ۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اُس کی تحریریں ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہیںجس کے معیارپر ہر دور میں ادب پاروں کو پرکھا جاسکے گا۔ مستقبل کے تخلیق کاراس لافانی ادیب کے اسلوب کو پیشِ نظر رکھ کر تخلیقِ ادب میں اپنی سمت کا تعین کریں گے۔

گردباد زیست میں وفا کا علم لہرا نے والا اور پھیکوقماش کے مسخروں کے خلاف کُھل کر لکھنے ولا حریت فکر کا مجاہد مشرف عالم ذوقی رخصت ہوگیا ۔ وہ ادیب جس نے پس نو آبادیاتی دور میں ذوق سلیم کو مہمیز کیا۔ معاشرتی زندگی کے تضادات اور گھوٹالے دیکھ کر تڑپ اُٹھنے والا حساس تخلیق کار کیااُٹھا کہ دِل ہی بیٹھ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بزم ادب سے رخصت ہوا اور دنیا دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی ۔اگلے روز اس کی اہلیہ تبسم فاطمہ ذوقی بھی اپنے شوہر کے پاس پہنچ گئی ۔ ان کے اٹھ جانے کی خبر سن کر دل بیٹھ گیا ۔اب اس دنیا میں ایسی ہستیاں کہاںجو خون جگر سے گلشن ادب کو سیراب کریں۔مشرف علم ذوقی نے جس بے لوث انداز میں ادب شناس حلقو ں کو مشرف بہ اردو کیا اس کا ایک عالم معترف ہے ۔ اس کے نہ ہونے کی ہونی دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار اورہر حساس دل سوگوارہے ۔گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی میںمشرف عالم ذوقی نے اپنے ناول ’ ’ بیان ‘‘بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر نہایت بے باکی سے لکھا ہے ۔بابری مسجدکے تنازع اور بھارت میں مسلمانوں اور ہندووں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے موضوع پر یہ ناول اس خطے کے باشندوںکے سولہ سال( 1986-1992)کے طویل ،اعصاب شکن اور صبر آزماحالات کے بارے میں حقائق کی بے باکانہ مرقع نگاری پر مبنی ہے ۔

تصانیف :

آبِ روان کبیر،آتش رفتہ کا سرا غ،ایک ان جانے خوف کی ریہیرسل ،بیان،بُھوکا ایتھوپیا،پروفیسر ایس کی عجیب داستان،ذبح ،سلسلۂ روزو شب ،شہر چُپ ہے ،صدی کو الوداع کہتے ہوئے ،غلام بخش اوردیگر کہانیاں ،لیپروسی کیمپ( طویل نثری نظم ) ،نیلا م گھر ،عقاب کی آنکھیں،مر گ انبوہ،مردہ خانے میں عورت، ادبی اسکرپٹ،نیلام گھر،لے سانس بھی آہستہ،مسلمان،پانی کی سطح، ہائی وے پر کھڑا آدمی۔

مشر ف عالم ذوقی نے دیارِ مغرب کے مکینوں اور،کالی بھیڑوں ،سفید کووں ،گندی مچھلیوںاور لکڑ بگھوں کی مشرق دشمنی کے خلاف نہایت بے باکی سے اظہار ِ خیال کیا ۔اس نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ مطالعۂ ادب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہومر کے زمانے ہی سے یورپی فکر پرجورو ستم اور جبر و استبداد کا عنصر حاوی رہا ہے ۔بادی النظر میں یہ تاثر عام ہے کہ ہر یورپی باشندے کا مزاج جابرانہ اور آمرانہ ہے اور نسل پرستی،سامراج کی حمایت اورمریضانہ قبیلہ پرستی اہلِ یورپ کی جبلت اور سرشت میں شامل ہے۔ ہو گی۔مشر ف عالم ذوقی کی زندگی شمع کے مانند گزری اس نے خبردار کیا کہ کوئی دیوتا،کسی قسم کے حالات،کوئی من گھڑت تجریدی تصوریا ضابطہ بے بس و لاچار اور بے گناہ انسانیت کے چام کے دام چلانے اور ان پر کوہِ ستم توڑنے اور مظلوم انسانوں کی زندگی کی شمع گُل کرنے کا جواز پیش نہیں کرتا ۔اُسے یقین تھا کہ ظلم کا پرچم بالآ خر سر نگوں ہو گا اور حریتِ ضمیر سے جینے والے عملی زندگی میں کامیاب و کامران ہوں گے۔مشر ف عالم ذوقی ان مظلوم انسانوں کا حقیقی ترجمان تھا جن کی زندگی جبر مسلسل برداشت کرتے کرتے کٹ جاتی ہے۔اس عالم ِ آب و گِل میں انسان کی طبعی موت کو اس نے محض ایک ماندگی کے وقفے سے تعبیر کیا اور دم لینے کے بعدیہ سفر جاری رہنے کے بارے میں متنبہ کیا۔ اس نے اس جانب متوجہ کیا کہ اقوام کی تاریخ اور تقدیر در اصل افراد ہی کی مرہونِ منت ہے ۔یہ افراد ہی ہیں جو جو کسی قوم کی تاریخ کے مخصوص عہد کے واقعات کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور ابہام کو دُور کر کے اِسے از سرِ نو مرتب کرتے ہیں۔افراد کی خاموشی کو تکلم اور بے زبانی کو بھی زبان کا درجہ حاصل ہے ۔ حریتِ فکر کی پیکار اور جبر کے خلاف ضمیر کی للکار سے تاریخ کا رُخ بدل جاتا ہے ۔حریتِ فکر کے مجاہد تاریخ کے اوراق سے فرسودہ تصورات اور مسخ شدہ واقعات کو حذف کر کے اپنے خونِ جگر سے نئی خود نوشت تحریر کرتے ہیں۔ جب جو ر و جفا کا بُر اوقت ٹل جاتا ہے توتاریخ میں مذکور ماضی کی بے ہنگم اور بد وضع قباحتیں جنھیں ابن الوقت مسخروں نے نظر انداز کر دیا ان پر گرفت کی جاتی ہے ۔افراد پر یہ ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے کہ ایام ِگزشتہ کی کتاب کے اوراق میں مذکور تمام بے سرو پا واقعات کو لائق استردا دٹھہراتے ہوئے انھیں تاریخ کے طوماروں میں دبا دیں۔

پس ماندہ اور نو آبادیاتی نظام کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ممالک کے مظلوم باشندوں کا لہو سوز ،یقیں سے گرمانے میںمشر ف عالم ذوقینے نہایت خلوص اور دردمندی سے کام لیا ۔ وہ ایک دردِ دِل رکھنے والااور درد آشنا مسیحا تھا جس نے نہایت خلوص سے دُکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی۔ سال 1992ء میں جب اس کا پہلا ناول ’’ نیلام گھر ‘‘منظر عام پر آ یا تو تو اس کی بہتر پذیرائی ہوئی ۔یہ امر کس قدر لرزہ خیز اور اعصاب شکن ہے کہ کہ بے گناہ افراد کو اس شک کی بنا پر جبر کے پاٹوں میں پِیس دیا جائے کہ ان کے آبا و اجداد نے ماضی میں شقاوت آمیز نا انصافیوں کا ارتکاب کیا تھا اور موجودہ دور کے ظالم ان کا نشانہ بنتے رہے ۔اپنے بلاجواز انتقام کے لیے یہ دلیل دی جائے کہ چونکہ ان کے خاندان نے ماضی میں ظلم سہے ہیں اس لیے اب وہ نسل در نسل ان مظالم کا انتقام لیں گے اور اپنے آبا و اجداد کے دشمنوں کی زندگی اجیرن کر کے انھیں ماضی کے تلخ سمے کے سم کا ثمر کھانے پر مجبور کر دیں گے۔اس نے سادیت پسندوں پر واضح کردیاکہ کسی کو اذیت و عقوبت میں مبتلا رکھنے کی بھی حد ہونی چاہیے۔اس سے پہلے کہ مظلوموں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے فسطائی جبر کو اپنے انتہا پسندانہ روّیے پر غور کرنا چاہیے۔زندگی کا ساز بھی ایک عجیب اور منفرد آ ہنگ کا حامل ساز ہے جو پیہم بج رہا ہے مگر کوئی اس کی صدا پر کان نہیں دھرتا۔کُوڑے کے ڈھیر سے جاہ و منصب کے استخواں نو چنے اور بھنبھوڑنے والے خارش زدہ سگانِ راہ نے تو لُٹیاہی ڈبو دی ہے ۔اس قماش کا جو بھی مسخرہ درِ کسریٰ میں داخل ہوتا ہے طلوعِ صبح ِ بہاراں کی نوید عشرت آگیں لے کرغراتا ہے کہ ماضی کے فراعنہ کے برعکس اس کا مقصدلُوٹ مار،غارت گری،انسان دشمنی،اقربا پروری اور قومی وسائل پر غاصبانہ تسلط نہیں بل کہ وہ افراد کی آزادی،تعلیم،صحت اور خوش حالی پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتاہے۔ یہ ایک طرفہ تماشا ہے کہ فقیروں کے حال جُوں کے تُوں رہتے ہیں مگربے ضمیروں کے سدا وارے نیارے رہتے ہیں۔سادہ لوح عوام کو سبز باغ اور حسین خواب دکھانے والے بھی ماضی کی طرح حقائق کو سرابوں کی بھینٹ چڑھا کر اپنی اپنی راہ لیتے ہیں ۔اپنے مطالعات میںمشرف عالم ذوقی نے تاریخ کے مسلسل عمل،ریاستوں اور سامراجی تناظر کو ہمیشہ پیش ِ نظر رکھنے پر زور دیا۔ پس نو آبادیاتی دور میںاس نے بر صغیرکے سیاسی اور سماجی پس منظر میں جو ناول لکھے ان میں ’’ مرگِ انبوہ‘‘ اور ’’ مردہ خانے میں عورت‘‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی ۔تیشۂ حرف سے فصیل ِ جبر کو منہدم کرنا اس فطین تخلیق کار کا مطمح نظر تھا۔معاشرتی زندگی کے بے رحمانہ استحصال ،امتیازا ت اور شقاوت آمیز نا انصافیوں کے خلاف اس کے ایک قلم بہ کف مجاہد کا کرداراداکیااور حریتِ ضمیر سے جینے کی رہا اپنائی۔چند برس پہلے مشرف عالم ذوقی کے اسلوب کے بارے میں شور کوٹ کی ایک ادبی نشست میں بعض سامعین اور نقادوں نیمشر ف عالم ذوقی کے اسلوب میں بعض علمی و ادبی شخصیات کے بارے میں اُن کے تاثرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان پر گرفت کی ۔اکثریت کو یہ شکوہ تھا کہ مظلوموں کے لیے انصاف کی جستجو میں مشر ف عالم ذوقی نے اپنے عہد کی بعض ممتاز شخصیات کے ساتھ بالعموم انصاف نہیں کیا۔ مشرف عالم ذوقی کے ممتاز مداح اور عالمی کلاسیک کے نباض احمد بخش ناصر نے ادبی نشست میں موجود دانش وروں کی باتیں نہایت تحمل سے سنیں ۔جب اُنھیں اظہار خیال کا موقع ملا تو اُنھوں نے معترضین سے مخاطب ہوکر کہا:

’’ذو ق َ سلیم سے سرشار جری اور بے باک تخلیق کاروں کی اس محفل میںتکلم کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے میں یہا ںکرائسٹ کی ایک قدیم تمثیل آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں ۔تاریخ کی بعض کتب میںمذکور ہے کہ جیسس کرائسٹ اپنے کچھ معتمد ساتھیوں کے ہمراہ کسی گھنے جنگل میںسے گز ر رہے تھے۔سفر کے دوران میں اُن سب نے دیکھا کہ ایک مردہ کُتا سرِ راہ پڑا ہے۔ مردہ کتے کے ڈھانچے سے عفونت و سڑاند کے بھبھوکے اس قدر اُٹھ رہے تھے کہ وہاں سے گزرنا محال تھا۔ایک حواری نے بیزار ی سے کہا اس مردہ کتے کی کھال تو بالکل اُدھڑچُکی ہے ۔دوسرے حواری نے ناگواری سے کہا اس مردہ کتے کی کی آنکھیں اُبل پڑ ی ہیں ۔تیسرے حواری نے ناک لپیٹ کر کہااس کتے کی کھال میں تو کیڑے پڑ گئے ہیں۔یہ سب باتیں تحمل سے سننے کے بعد کرائسٹ نے جواب میں صرف ایک مختصر جملہ کہا :تم اس بات پر تو غور کرو کہ مردہ کتے کے سفید دانت مرنے کے بعد بھی چمک رہے ہیں ۔ نقد و نظر کے سارے اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے تو آپ حرف صداقت کی تفہیم پر قادر وہ چشمِ بینا پیدا کریںجس سے کرائسٹ متمتع تھے ۔ خامیاں تو تنکو ںکے مانند سطح آب پر تیرتی نظر آتی ہیں مگر گوہر ِ نایاب کی جستجو کرنے والوں کے لیے گہرے پانی کی غواصی نا گزیرہے ۔‘‘

یہ سبق آموز تمثیل سُن کر سب سامعین اش اش کر اُٹھے اور ہر شخص نے شفیع ہمدم کی اس بات سے اتفاق کیا کہ مشرف عالم ذوقی کا منفرد اسلوب اُس کی ذات ہے ۔ ہر قسم کی مصلحت سے بالاتر رہتے ہوئے جبر کا ہر اندازمسترد کرتے ہوئے حریت فکر اور حریت ِ ضمیر سے جینے کا جو انداز مشرف عالم ذوقی نے اپنایاوہ اوروں سے تقلیداً بھی ممکن نہیں۔

اپنی زندگی میں انسانیت کے وقار اورسر بلندی کو احمد ہمیش نے بہت اہمیت دی ۔اپنے کئی افسانوں میں احمد ہمیش نے اپنے منفرد تجربات سے اپنی تخلیقی فعالیت کا لوہا منوایا ۔اپنے تجربات ،مشاہدات اور جذبات و احساسات کو تجریدی تکنیک سے علامتی تکنیک تک لے جانے کے سفر میں اس کی محنت قابل توجہ ہے وہ زندگی بھر پرورش لو ح و قلم میں مصروف رہا اور کبھی ستائش اور صلے کی تمنا نہ کی ۔اس نے جہاں بھی تجریدیت پر انحصار کیاہے وہاں ترتیب عنقا ہوتی چلی گئی ہے اور ایک انوکھی کیفیت سامنے آتی ہے جس میں بکھرے ہوئے مظاہر اپنا ایک الگ اور منفر رنگ پیش کرتے ہیں۔احمد ہمیش نے لفظ کی حرمت کو بہت اہمیت دی اور حریت ضمیر سے جینے کی راہ اپنائی ۔کسی سے مرعوب ہونا اس کے مزاج کے خلاف تھا ۔اس نے افکار تازہ کی مشعل تھام کر سفاک ظلمتوں کو کافور کرنے کے لیے جد جہد کو اپنا شعاربنایا۔اس نے لفظوں کو تمام رویوں اور تعلقات کا ایک معتبر حوالہ قرار دیا۔اس کے قلب و روح ، فکر و خیال اور ذہن و ذکاوت کے ارتقا ئی مدارج کو سمجھنے کے لیے اسلوب اور الفاظ کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

جہاں تک ساخت ،موضوع ،ہئیت اور تکنیک کا تعلق ہے مشر ف عالم ذوقی کی تمام تخلیقات اپنے اپنے موضوعات کا بھر پور احاطہ کرتی ہیں۔ان کے مطالعہ سے ایام گزشتہ کی تاریخ کے ساتھ ساتھ لمحہ ٔموجود اور زمانہ آئندہ کے بارے میں مثبت شعور و آ گہی نصیب ہوتی ہے ۔مشر ف عالم ذوقی کی تخلیقی فعالیت ندرت تنوع اور تجسس سے عبارت ہے ۔مثال کے طور پر ’’ مرگَ انبوہ ‘‘ ہی کو لے لیں جس میں مانوس سا ماحول بھی عجیب نا مانوسصورت میں سامنے آ تاہے ۔اندیشہ ہائے دُوردراز کے غیر مختتم سلسلے قاری کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ان حالات میں قاری سیہ سوچنے پر مجبور ہو جاتاہے کہ سیکٹروں دورِ فلک اور بھی ہیں جو ابھی راہ میںہیں۔ مافوق الفطرت عناصر کااپنا الگ مزاج ہے قاری چشم تصور سے قلعۂ فراموشی ،عوج بن عنق اور تیامت اور طلسمِ ہو ش رُبا کے قصوں کو سمجھ لیتاہے ۔اس ناول میں مسحورکن طلسم کی صلاحیت سے متتمع کردار کی فعالیت طلسمی حقیق نگاری کی جانب متوجہ کرتی ہے ۔جبر کے سامنے سپر انداز ہونے کو مشرف عالم ذوقی نے ہمیشہ ایک اہانت آ میز فعل سے تعبیر کیا ۔اس ناول کا ایک کردار پاشا مرزا یہ واضح کرتاہے کہ حیات جا واں کا راز ستیز میں پنہاں ہے ۔مہیب سناٹوں ،سفاک ظلمتوں اور جانگسل تنہائیوں میں پاشا مرزا ایک ایسے کردار کی صورت میں سامنے آتاہے جو حوصلے اور اُمیدکی شمع فروزاں کر کے ہوائے جور و ستم میں رُخِ وفا کو تابانی عطاکرتاہے ۔اپنے والد کی خو نوشت پڑھنے کے بعد پاشا مراز پر تمام حقائق منکشف ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے والد کے بارے میں ہر قسم کے تحفظات سے نجات ھاصل کر لیتاہے ۔

جذبۂ انسانیت نوازی مشر ف عالم ذوقی کے مزاج کا اہم وصف تھا۔ معاشرتی زندگی میںحرص اور ہوسکے بڑھتے ہوئے رجحان نے بے حسی کو ہوادی ہے ۔اپنی تعمیری اور مقصدی سوچ کو روہ بہ عمل لاتے ہوئے مشر ف عالم ذوقی تنگ نظری ،تشدد ،عدم برداشت ،انتشار ،دہشت گردیاور دیگر معاشرتی قباحتوں کے خلاف جرأت مندانہ انداز اپنایا ۔ اس کے نزدیک انسانیت نوازی کاارفع معیار یہ تھا کہ جبر و استبداد کے خلاف بھر پور مزاحمت کی جائے اور مرگ آفریں استحصالی قوتوں کے مذموم ہتھکنڈوں اور بے رحمانہ انتقامی کارروائیوںکو ناکام بنانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ہر ظالم سے اسے شدید نفرت تھی اور وہ چاہتا تھا کہ معاشرتی زندگی سے ان تمام شقاوت آمیز ناانصافیوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے جن کے باعث تاریخ ِ انسانی کا سارا منظر نامہ ہی گہنا گیا ہے ۔تاریخ اور اس کے پیہم رواں عمل پر اس کا پختہ یقین تھا لیکن اس بات پر وہ ملول اور آزردہ تھا کہ تاریخ کے اس پیہم رواں عمل کو فاتح ،غالب،غاصب اور جارحیت کی مرتکب طاقتوں نے من مانے انداز میں مسخ کر کے اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے اور اس کے متعدد واقعات محض پشتارۂ اغلاط بن کر رہ گئے ہیں۔اس نے ذوقِ سلیم سے متمتع اپنے قارئین کی ذہنی بیداری کااس طرح اہتمام کیا کہ وہ اپنے حقو ق کے حصول کے لیے جہد و عمل پر مائل ہوگئے ۔ اس نے واضح کر دیا کہ قارئین کے دلوں کی بیداری اور فکر و نظر کو مہمیز کرنا وقت کا اہم ترین تقاضاہے ۔ سفاک ظلمتوں میں ستارۂ سحر دیکھنے کی تمنا کرنے والے اس رجائیت پسند ادیب نے اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ یاس و ہراس کا شکار ہونے والے دراصل شکست خوردہ ذہنیت کے مالک ہیں۔ سعیٔ پیہم ، عزم صمیم اور امید کا دامن تھام کر نا ممکن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے وہم و گمان کو صداقت میں بدلا جاسکتا ہے اور خواب کو حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے ۔ کاروانِ ہستی کے تیز گام رہرو اپنی راہ میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو ضربِ کلیمی سے کچلتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ یگانۂ روزگار فضلا کی زندگی کے مطالعہ سے اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ سیلِ زماں کے تھپیڑے اس عالمِ آب گِل کی ہر چیز کو تہس نہس کر دیتے ہیں مگر اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریگِ ساحل پرنوشتہ وقت کی کچھ تحریریںلوحِ جہاں پر انمٹ نقوش ثبت کر کے اپنا دوام ثبت کر دیتی ہیں۔ایسے انسان نایاب ہوتے ہیں جن کی انسانیت سے قلبی وابستگی اور والہانہ محبت انھیں اہلِ عالم کی نظروں میں معزز و مفتخر کر دیتی ہے ۔ دُکھی انسانیت کے ساتھ بے لوث محبت دردمند اور درد آشنا انسان کو بے خوف و خطرنارِ نمرودمیں جست لگانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مرگِ نا گہانی کے اندیشوں ،وسوسوں اور خوف کے سوتے زندگی کی ڈر سے پھوٹتے ہیں لیکن بھر پور زندگی بسر کرنے والے الوالعز م انسان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مو ت پر ی کے منگیتر ہیں اور اجل کو چوڑیاں پہنانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ زینہ

ٔ ہستی سے اُتر کر عدم کی بے کر اں وادیوں کی جانب کسی کا سدھار جانا اتنا بڑا سانحہ نہیں بل کہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری زندگی میں جس وقت درخشاں اقدار و روایات نے دم توڑ ا تویہ سانحہ دیکھنے کے بعد

ہم کیسے زندہ رہ گئے ۔ مشر ف عالم ذوقی نے زندگی کی حیات آفریں اقدار و روایات کے تحفظ کو اپنا نصب العین بنا رکھا تھا ۔ موت ایسے لوگوں کی زندگی کی شمع گُل نہیں کرسکتی بل کہ ان کے لیے تو موت ایک ماندگی کا وقفہ ہے جس کے بعد ان کے افکار کی تابانیوں کا ایک غیر مختتم سلسلہ شروع ہوتا ہے جو جریدۂ عالم پر ان کی بقائے دوام کو یقینی بنا دیتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس طرح پرتوِ خور سے شبنم کے قطرے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں مگر اگلی صبح لالہ و گُل کی پنکھڑیوں پر پھر شبنم کے قطرے موجود ہوتے ہیں ۔ اسی طرح طلوع صبح کے وقت شمع بالعموم گل کر دی جاتی ہے اور دن بھر کے سفر کے بعد شام ہو تے ہی پھر فروزاں کر دی جاتی ہے ۔ اُسی طرح مشر ف عالم ذوقیکے خیالات کی شمع ہمیشہ فروزاں رہے گی اور اس کی شخصیت کی عنبر فشانی سے قریۂ جاں سدا معطر رہے گا ۔ نا انصافیوں کے خلا ف اس کی آواز ،غلاموں کے حق میں اس کا نعرۂ مستانہ اور اقلیتوں کی حمایت میں اس کے افکار کی باز گشت لمحات کے بجائے صدیوں پر محیط ہو گی۔ ہر قسم کی انتہا پسندی اور عصبیت کے خلاف مشرف عالم ذوقی نے جس خلوص سے آوا ز بلند کی اُس کی باز گشت ہمیشہ فکر و نظر کو مہمیز کرتی رہے گی ۔