مثبت سوچ

ڈاکٹر سید افضل حسین قاسمی بنگلور

مژدہ خوشی کا ایسا تونے ہمیں سنایا
اے عید تو نے ہم کو منظر نیا دکھایا

رمضاں تو جاچکا ہے لیکن ہمیں یقیں ہے
سایہ فگن رہے گا رحمت کا ہم پہ سایا

آزادئ چمن تو کل بھی تھی آج بھی ہے
لیکن وبا نے رہنا ، تنہا ہمیں سکھایا

خالی ہوئیں نہ ہرگز ، دنیا میں سجدہ گاہیں
گھر میں عبادتوں کا رستہ ہمیں سُجھایا

زردہ پلاو گھر گھر ، تیار ہیں سوئیاں
کہنا تو یہ غلط ہے ، کہ میہماں نہ آیا

روزے بھی خوب رکھے ، قرآں کی کی تلاوت
کر کے قیام شب کا ، اجر و ثواب پایا

گندم سے دے کے فطرہ ، پھولے نہیں سماتا
وہ سیٹھ جسنےگھرمیں، کشمش کابھات کھایا

آتے ہیں جس کے جوڑے ، تیار ہوکے گھر پہ
اس مولوی نے کپڑے ، لینا گنہ بتایا

اس بار عید ہم نے بچوں کو بھی پڑھائی
اس بار دل سے تیرے ، مشکور ہیں خدایا

عیدی تو اب کے ہم کو ، زیادہ ہی مل رہی ہے
خوش ہوکے دوستوں کو ، بچوں نے یوں سنایا

اس میں نہیں ہے شک کہ، دہشت ہے وائرس کی
لیکن ہر ایک بچّہ ، کھیلا بھی مسکرایا

مثبت ہو سوچ اپنی ، تو قاسمی یقیناً
ہوگا جہان بھر سے ، آفت کا بھی صفایا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*