Home ستاروں کےدرمیاں مصنّفوں کو ڈھالنے کا کارخانہ-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مصنّفوں کو ڈھالنے کا کارخانہ-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

by قندیل

 

مولانا سید جلال الدین عمری ( رحمه الله ) کی وفات پر ان کی ہمہ جہت خدمات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ وہ جماعت اسلامی ہند کے مختلف مناصب پر فائز رہے۔ 16 برس نائب امیر اور 12برس امیر رہے۔ اس کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے نائب صدر ، مسلم مجلس مشاورت کی سپریم کونسل کے چیرمین ، جامعۃ الفلاح کے شیخ الجامعۃ اور سراج العلوم نسواں کالج کے جنرل منیجر تھے ، غرض انھوں نے دینی ، دعوتی ، علمی ، تحریکی اور ملّی ، تمام میدانوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس تذکرے میں ان کی خدمات کا ایک پہلو کچھ دب سا گیا ہے۔ اس وقت اس پر کچھ روشنی ڈالنی مقصود ہے۔ وہ ہے ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کی سربراہی اور مجلہ تحقیقاتِ اسلامی کا اجرا۔

ادارۂ تحقیق کا نقشِ اوّل شعبۂ تصنیف جماعت اسلامی ہند ہے۔ جماعت نے 1948 میں اپنی تشکیل کے معاً بعد علمی و تصنیفی کاموں کی ضرورت محسوس کی اور اُس وقت جماعت کے مرکز رام پور میں چند باصلاحیت افراد کو اس کام کے لیے فارغ کیا۔ ان میں مولانا صدر الدین اصلاحی ، مولانا وحید الدین خاں ، مولانا محمد فاروق خاں ، مولانا محمد یوسف اصلاحی اور مولانا سید جلال الدین عمری خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ مرکزِ جماعت دہلی منتقل ہوگیا تو ذمے داران کی رائے ہوئی کہ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کی علمی مرکزیت اور وہاں دست یاب علمی سہولیات کی وجہ سے شعبۂ تصنیف کو علی گڑھ منتقل کیا جائے۔ 1970 میں اس فیصلے کی تعمیل میں صرف مولانا صدر الدین اصلاحی اور مولانا جلال الدین عمری نے رختِ سفر باندھا۔ 10 برس خدمت انجام دینے کے بعد جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق 1981 میں شعبۂ تصنیف کو ‘ ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی’ کے نام سے رجسٹرڈ کرایا گیا۔ مولانا صدر الدین اصلاحی کو صدر اور مولانا جلال الدین عمری کو سکریٹری منتخب کیا گیا۔ 1984 میں مولانا اصلاحی نے خرابئ صحت کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تو مولانا محمد فاروق خاں کو صدر بنایا گیا۔ مولانا جلال الدین عمری سکریٹری کی حیثیت سے کام کرتے رہے ، یہاں تک کہ جماعت کے نائب امیر ہوکر وہ دہلی منتقل ہوگئے اور ادارہ کی راست نگرانی ان کے لیے ممکن نہ رہی تو 2001 میں انہیں ادارہ کا صدر بنادیا گیا۔

مولانا عمری ادارۂ تحقیق کے سکریٹری رہے ہوں یا صدر ، انھوں نے اس کی نشوونما ، تعارف ، ترقی اور استحکام میں اپنی بہترین صلاحیتیں وقف کردیں ۔ انھوں نے اس پودے کو ایک تناور درخت بنادیا۔ اسلامی تاریخ میں علمی کام کرنے والے تو بے شمار لوگ ہیں۔ ہزاروں اصحابِ علم نے اسلامیات کے مختلف میدانوں میں انتہائی معیاری اور قابلِ قدر تصنیفات ، بلکہ ضخیم انسائیکلوپیڈیاز تیار کی ہیں ، لیکن ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں جنھوں نے اپنی ماتحتی اور نگرانی میں تصنیف و تالیف کا کام کرنے والوں کی ایک ٹیم تیار کردی ہو ۔ مولانا عمری کا شمار ایسے ہی معدودے چند لوگوں میں ہوتا ہے۔

ادارۂ تحقیق کے تحت تصنیفی تربیت کورس چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا صدر الدین اصلاحی اس کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت مشکل کام ہے۔ نو مشقوں کو اپنے پاس رکھنا ، ان کی تربیت کرنا اور انہیں لکھنا سکھانا دردِ سر ہے۔ لیکن مولانا عمری کے اصرار پر انھوں نے منظوری دے دی ۔ اب نصف صدی کا جائزہ بتاتا ہے کہ ادارہ کے تصنیفی تربیت کورس سے فائدہ اٹھانے والوں کی بڑی تعداد ہے جو ملک و بیرونِ میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں اور اہم علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صرف چند نام ذیل میں ذکر کیے جا رہے ہیں :
1 _ مولانا سلطان احمد اصلاحی (مرحوم ، سابق رکن ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی )
2 _ پروفیسر اسرار احمد خاں (ان دنوں ترکی میں تدریسی خدمت انجام دے رہے ہیں _)
3 _ پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی ( شعبۂ اسلامیات ، کشمیر یونی یورسٹی)
4 _ پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی ( ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی ، مسلم یونی علی گڑھ)
5 _ مولانا افتخار الحسن ( سابق استاذ تفسیر و حدیث ، جامعۃ الفلاح ، بلریا گنج ، اعظم گڑھ)
6 _ جناب نظام الدین ملا ( سابق پرنسپل مدرسہ ابن الہیثم ، بحرین)
7 _ جناب سید جاوید علی ( آل انڈیا ریڈیو نیوز ایڈیٹر دہلی )
8 _ جناب ارشد أجمل ( چیرمین الخیر ٹرسٹ ، پٹنہ ، بہار)
9 _ مولانا محمد جرجیس کریمی (رکن ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی )
10_ ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی ( اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اسلامیات ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی)
11_ مولانا محمد اسلام عمری (مرحوم _ کئی کتابوں کے مصنف _)
12 _ مولانا رفیق احمد سلفی ( پروفیسر خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن ، علی گڑھ)
13 _ مولانا حسن حبیب فلاحی (نیپال)
14_ مولانا محمد ادریس فلاحی (اسلامی سنگھ ، نیپال)
15 _ ڈاکٹر الطاف احمد مالانی (ان دنوں سعودی عرب میں ہیں _)
16 _ ڈاکٹر محمد شہاب الدین قاسمی ( شعبۂ اردو ، مسلم یونی ورسٹی ، علی گڑھ )
17_ جناب مجتبیٰ فاروق ( مولانا آزاد اردو یونی ورسٹی حیدر آباد میں ڈاکٹریٹ کررہے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں )
18 _ مولانا نصیرالدین عمری( سکریٹری ابوالکلام آزاد ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی (جھارکھنڈ)
19_ مولانا عبید الرحمٰن عمری اعظمی (سعودی عرب)
20 _ جناب محمد ثناء اللہ ایم، اے ( معروف ہندی اسکالر)
21 _ مولانا محمد انس فلاحی مدنی ( رکن ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی)
22 _ مولانا سراج احمد فلاحی (نیپال)
23 _ مولانا مجاہد شبیر فلاحی (کشمیر)
24 _ مولانا أختر الاسلام ندوی ( مہاراشٹر)
25 _ مولانا مزمل کریم قاسمی
26 _ مولانا شیخ شوکت ندوی (اورنگ آباد ، ان دنوں قطر میں ہیں)
27 _ مولانا عبد اللہ شمیم ندوی ( علی گڑھ، معروف داعی اور سماجی کارکن)
28 _ مولانا مقصود حسین عمری
29 _ مولانا سراج کریم سلفی
30 _ مولانا محمد شعیب ندوی ( طالب علم طبیہ کالج ، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ)

تصنیفی تربیت کورس سے فیض اٹھانے والے یہ صرف چند لوگوں کے نام ہیں ، ان کی فہرست طویل ہے ۔اس سے ہٹ کر بھی بہت سے لوگوں نے مولانا سے تحریر و تصنیف کی تربیت پائی ہے۔ مولانا کا ایک فیض یافتہ میں بھی ہوں۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے ، مولانا کی سرپرستی میں لکھا ہے۔ میں اسے اپنے لیے شرف سمجھتا ہوں کہ مولانا نے میری جملہ تحریروں کی نوک پلک درست کی ہے ، اس کے بعد ہی وہ اشاعت کے قابل ہوئی ہیں۔

مولانا عمری کی خدمات کا دوسرا اہم میدان سہ ماہی مجلہ ‘تحقیقات اسلامی’ کا اجرا ہے۔ جنوری 1982 سے اس کا آغاز ہوا ۔ مولانا صدر الدین اصلاحی ادارہ کے صدر تھے ، اس بنا پر ان کا نام بہ حیثیت سرپرست مجلہ میں طبع کیا گیا ، لیکن انھوں نے سختی سے منع کردیا کہ جب میں عملاً کچھ نہیں کرپارہا ہوں تو میرا نام نہ شامل کیا جائے۔ قریبی احباب نے بہت ڈرایا کہ پہلے ایک دو برس کے مضامین اکٹھا کرلیجیے ، تب مجلے کا آغاز کیجیے ، لیکن مولانا نہ مانے ۔ انھوں نے علی گڑھ کے اسلامی اور سماجی علوم میں لکھنے والوں کی فہرست بنائی ، ایک ایک کے گھر گئے ، علی گڑھ سے باہر کے لوگوں سے رابطہ کیا ، اس طرح تحقیقات اسلامی کے قلم کاروں کا ایک حلقہ بن گیا ، جو برابر وسیع ہوتا گیا۔ پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی ، پروفیسر کبیر احمد جائسی ، پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی ، پروفیسر مسعود احمد ، پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی ، پروفیسر اقتدار حسین صدیقی ، ڈاکٹر منوّر حسین فلاحی (مرحوم) اور دیگر بہت سے معروف مصنفین نے برملا اعتراف کیا ہے کہ مولانا عمری کی تحریکِ مسلسل کی بنا ہی وہ مصنّف بنے ہیں۔ آج تحقیقات اسلامی برِّ صغیر ہند و پاک کا ایک معروف مجلہ ہے ، جسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہند و پاک میں اس کے مختلف پہلوؤں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سطح کے 10 مقالات لکھے جا چکے ہیں _

مولانا عمری کی تعزیت میں ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی میں منعقدہ اجلاس میں سکریٹری ادارہ مولانا اشہد جمال ندوی نے بڑی پتے کی بات کہی ہے کہ مولانا نے علی گڑھ میں مصنفین کو ڈھالنے کا ایک کارخانہ لگایا تھا اور اسے ترقی دینے میں اپنی تمام صلاحیتیں وقف کردی تھیں۔ امید ہے کہ یہ کارخانہ آئندہ بھی اپنی خدمات انجام دیتا رہے گا اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا رہے گا۔

You may also like

Leave a Comment