مسلمانوں کو جمعہ کی نماز سے روکنا حکومت ہریانہ کا ناجائز، ظالمانہ اور ناقابل قبول عمل:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

نئی دہلی:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ گڑگاؤں میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے، اور اس صنعتی شہر میں مسلمان ملازمین کی اچھی خاصی تعداد ہے، حکومت کی طرف سے تعمیر مسجد کی اجازت نہیں ملنے کی وجہ سے مسلمان کھلی جگہوں میں نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں؛ حالاں کہ ایسی جگہوں میں نماز کی ادائیگی میں مشقت ہوتی ہے، اور ان کو دھوپ اور بارش برداشت کرنی پڑتی ہے؛ لیکن مساجد کی کمی کی وجہ سے مسلمان مجبوراََ ایسے مقامات پر نماز ادا کر رہے ہیں، پھر بھی حکومت کا مسلمانوں کو جمعہ کی ادائیگی سے روکنا بہت ہی قابل ا فسوس اور ناقابل قبول عمل ہے، مزید ستم یہ ہے کہ اوقاف کی بہت ساری زمینیں حکومت کے زیر قبضہ ہیں، حکومت ان زمینوں کو تو واپس نہیں کر رہی ہے؛ لیکن مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک رہی ہے؛ حالاں کہ جمعہ کی ادائیگی میں بہ مشکل ایک گھنٹہ کا وقت لگتا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس طرز عمل کی مذمت کرتا ہے اور حکومت ہریانہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جلد سے جلد مسلمانوں کے نماز جمعہ کی ادائیگی کے مسئلہ کو حل کرے، نیز آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے دہشت گردوں نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے، ان کو قرار واقعی سزادے اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے۔