مسلمانوں کی توقیر کے نام پر مذہب اور جرائم کا سیاسی استعمال-پروفیسرمحمد سجاد

(دیہی علاقہ کے ایک مجرم کا خاکہ)

یہ کہانی ایک ایسے مسلمان قانون شکن شخص کے سیاسی قوت حاصل کرنے کی ہے جس کو اس کے گائوں کے لوگوں کی مکمل حمایت حاصل تھی (شاید اس لیے کہ وہ اسے مسلمانوں کی توقیر کی براری کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ایسا معاملہ بہار یا ملک کے کسی بھی خطے میں رونما ہو سکتا ہے لیکن اس معاملے میں جس نوع کی مجرمانہ سرگرمیوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں ان کا تعلق شمالی بہار کے مظفر پور ضلع کے معاشی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ موضع تُرک اولیا (پارو- سریا تھانہ علاقوں)سے ہے ۔
یہ کہانی آج اس لیے بیان کی جا رہی ہے تاکہ معاشرے کے ایک طبقہ یا پورے سماج کو یہ سوچنے کی تحریک دی جائے کہ کیا کوئی پسماندہ طبقہ کسی بااثر مجرمانہ شبیہ کے شخص کو صرف اس امید پر برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی مدد سے متعلقہ بے اختیار یا کم اختیار طبقہ کسی صورت بااختیار بن سکتا ہے؟
جرائم کے گندے میلان نے مذکورہ گائوں کے لوگوں کو طرح طرح سے اپنی گرفت میں لیا۔ گاؤں کی یادوں میں بسی تاریخ (اجتماعی یادداشت)میں کوئی بھی نوجوان لمپٹ گری یا جرائم کا سہارا نہیں لیا، یعنی کہ ’’مسلسل طور پر ‘‘ روزی یا ذاتی فوائد پانے کے لیے تشدد پر تکیہ نہیں کیاتھا۔ لیکن 1995-96 کے دوران دونوں جوانوں نے موٹر بائک چھیننے والے گروہوں سے تعلقات پیدا کرلیے تھے۔ ان میں سے ایک تو گاؤں چھوڑ کر بھاگ گیا مگر دوسرا، گاؤں میں ہی جما رہا اور پہلے سے بھی بڑا مجرم بنا۔ گاؤں کے کچھ سرکردہ لوگوں نے ہر قیمت پر ’’مسلمانوں کا وقار‘‘ قائم رکھنے کے لیے مبینہ طور پر اسے اپنی اخلاقی حمایت دی۔ اس مجرم کے خاکہ پر ذرا اور تفصیل سے نظر ڈالنا مناسب ہی ہوگا۔
مذکورہ گائوں میں 1971 میں پیدا ہونے والے اور 2013 میں وفات پانے والے محفوظ (بدلا ہوا نام) کا تعلق معمولی جوت والے ایک غریب شیخ مسلم کنبہ سے تھا۔ اس کی یہ مفلسی کسی بات کی وضاحت نہیں کرتی کیونکہ ویسے ہی پس منظر والے، بستی کے دیگر لڑکے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی روزی کی تلاش میں باہر جاتے ہیں۔ محفوظ اس ڈھرّے سے میل نہیں کھاتا تھا، کیونکہ برائے نام ہندی اور اردوکی خواندگی سے آگے کی تعلیم پانے کی اس نے کبھی فکر ہی نہیں کی۔ 1990 کی دہائی کے دوران وہ اپنے والد کے پاس چلا گیا(جو کلکتہ کے پاس شری رام پور نام کے ایک چھوٹے سے قصبہ میں کام کرتا تھا۔) مبینہ طور پر اس نے یہ کام گھر چلانے کے لیے کنبہ کی معمولی سی آمدنی میں قدرے اضافہ کرنے کے لیے کیا۔ لیکن جلد ہی وہ کچھ ہزار روپیہ کے لیے اپنے پہلے شکار، ایک بیوہ ، کو لوٹ کر، اور ہلاک کرکے، واپس اپنے گائوں آگیا۔ اس مالِ غنیمت سے حوصلہ پاکر وہ تب سے ’’جرائم پیشہ‘‘ کی زندگی بسر کرتے ہوئے گاؤں میں ہی رہ رہا تھا!
1990سے 2005 کے دوران، لالو – رابڑی کی قیادت والی بہار حکومت نے، دیہاتوں میں مجرمانہ کاروبار کی ایک قسم کو، یعنی کہ گاڑیاں چھیننے اور لوگوں کو پھروتی کے لیے اغوا کرنے کے عمل کو، ابھرتے ہوئے دیکھا۔ ٹھیک یہی وقت تھا جب سیوان کے بدنامِ زمانہ غنڈہ محمد شہاب الدین نے لالو – رابڑی کی سرگرم سیاسی سرپرستی کے طفیل خود کو ایک قانون ساز بنا لیا۔ اس طرح محمد شہاب الدین بہار کے بہت سے گمراہ یا لمپٹ بن چکے مسلمانوں کے لیے ایک مثال یا ترغیب کا ماخذ بن گیا1۔ ذہین اور اب تک تربیت پاچکا یہ شخص، محفوظ، مشرقی چمپارن میں چکیا نام کے ایک چھوٹے سے بازاری قصبہ میں اسی طرح کا حوصلہ مند ’’کاروباری‘‘ بن بیٹھا۔ یہ جگہ موتی ہاری، مظفرپور شاہراہ پر واقع ہے جوکہ اس علاقہ کی ایک اہم جیون ریکھا ہے۔ جانکار لوگ بتلاتے ہیں کہ اس کے گروہ نے ہیروہونڈا بائیکوں سے لدا ایک پورا ٹرک ہی لوٹ لیا اور لوٹ کا مال پاس پڑوس کے علاقوں میں کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا۔ اس گروپ کی حوصلہ مندی اور اس کی وسائل کی کثرت اسی امر سے ظاہر ہے کہ چرائی گئی چیزوں کی جعلی دستاویزیں بنوا لینا اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ خبروں کے مطابق وہ ضروری سرکاری حاکموں کا رضامندانہ تعاون حاصل کرسکتا ہے۔ تمام کامیاب کاروباریوں کی طرح لگتا تھا کہ محفوظ میں بھی جوکھم میں نرمی پیدا کرکے اپنی جرأت مندی کو متوازن کرنے کی ایک پیدائشی قابلیت تھی۔ اس نے مہسی– چکیا(پوربی چمپارن) کی پولیس کے تعاقب سے بچنے کے علاوہ، لوٹ کے مال کو ’’محفوظ اور مفید‘‘ ڈھنگ سے ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے اڈے کو واپس اپنے گاؤں میں لانے کا فیصلہ کیا۔
گاؤں کے جانکار لوگ بتاتے ہیں کہ اس کے پہلے دو ’’گاہک‘‘ سرکاری اسکولوں کے دو ٹیچر تھے، جو گاؤں کے اشراف میں گنے جاتے تھے۔ ان دو شرفا میں ایک کوئی خوش قسمت نہیں ثابت ہوا کہ پیشگی کے طور پر 15,000 روپیہ دے چکنے کے بعد نہ تو اسے وہ پیسہ واپس ملا اور نہ ہی کوئی دو پہیہ ملا جوکہ اس کا دل چاہتا تھا۔ دوسرے شریف بندہ عظیم الدین (بدلا ہوا نام) کی قسمت قدرے بہتر رہی کیونکہ اسے ایک دوپہیہ گاڑی ضرور ملی جو پھر بطور جہیز اس کے داماد کو چلی گئی2 ۔اس سودہ نے گاؤں برادری کا دھیان اپنی طرف کھینچا۔ کیونکہ بائک پانے میں کامیاب رہنے والا یہ شخص ایک طرح کا رول ماڈل تھا اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ملازم کی تھی جو تنخواہ کے علاوہ نجی ٹیوشن پڑھا کر اپنی آمدنی میں اضافہ کرتا تھا۔ اس کی تھوڑی بہت دولت مندی نے اور ساتھ میں اس کی سماجی عزت نے، جو اندرونِ دیہات آج بھی گرو یا استاد سے وابستہ ہوتی ہے، واپس لوٹ آنے والے اس گھر کے مجرم کا دھیان اپنی طرف کھینچا۔
اس طرح سے ’’ترغیب یافتہ‘‘ محفوظ نے پھر گاؤں میں ہی بسنے کا فیصلہ کیا تاکہ ایک ایسے مقامی کاروبار کی بنیاد رکھ سکے، جس کا تب تک گاؤں والوں کو علم بھی نہیں تھا— پھروتی کے لیے گاڑیاں چھیننے اور لوگوں کا اغوا کرنے کے کاروبار کی۔ اس نے آس پاس کے گاؤں کے، تھوڑے کم ہوشیار سہی، مگر تجربہ کار اور اپنی جیسی سوچ والے نوجوانوں کا تعاون بھی حاصل کیا۔ عین شاہراہ پر اور مسجد سے لگا ہوا اس کے گھر کی کلیدی وقوعت اس کے ’’کاروبار‘‘ کے لیے وردان ثابت ہوئی کیونکہ اس کے رفیقوں کے لیے، اور ’’کاروبار کے سازوسامان‘‘ یعنی غیر قانونی ہتھیار کے لیے، ایک خفیہ ٹھکانہ کا کام کرنے لگا۔ یہ اہتمام پوری طرح پوشیدہ بھی نہیں تھا، اس کا پتہ اس امر سے چلتا ہے کہ پولیس نے اس کے مکان پر ایک سے زیادہ دفعہ چھاپا مارا اور ایک بائک برآمدی کی جوکہ بائک سوار یا مالک کا قتل کرکے حاصل کی گئی تھی۔ (کہتے ہیں کہ پولیس کے ایسے ہی ایک چھاپے کے دوران اس نے غیرقانوی (AK-47) ہتھیار اس بستر کے نیچے چھپا دیے جس پر اس کی بہن زچگی کی تکلیف میں مبتلا پڑی ہوئی تھی اور اس طرح وہ پولیس کو چکما دینے میں کامیاب رہا۔ پولیس نے تب اس کی بہن سے بدتمیزی کی جس کے بعد اس نے متنفر ہوکر مائیکے میں پھر کبھی نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی چالاکی کی قصیدہ خوانی کے طور پر یہ کہانی گاؤں کے شرفا کی فالتو گپ شپ کے ذریعہ آج بھی جاری ہے۔) ان معمولی پریشانیوں کو جانے دیں تو 2007 میں ایک مقدمہ کے دوران اس کی قلیل مدتی گرفتاری چھوڑ اسے کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔
اس درمیان پاس کے گاؤں کا ایک راجپوت مجرم (محفوظ جس کا چمچا تھا) ایک ’’مڈبھیڑ‘‘ (2006) کے دوران، پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (STF) کے ہاتھوں مارا گیا۔ یہ ’’مڈبھیڑ‘‘ شاہراہ پر بسے گاؤں کے بیچوں بیچ دن دہاڑے ہوئی اور عام لوگوں کو بھاری راحت پہنچا گئی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ ہلاکت محفوظ نام کے اس مجرم کی بدنامی (اور اس کے اعلیٰ مقام) میں اضافہ کا سبب بن گئی جس نے مڈبھیڑ کے لیے دوسرے مجرم کو پھنسانے میں STF کی مدد کی تھی۔ کیوں؟ اس لیے کہ جرائم پیشہ لوگ عوام میں ڈر پیدا کرکے ہی قائم رہتے ہیں اور محفوظ یہی کام کرنے میں کامیاب رہا۔ اس واقعہ نے نہ صرف ایک ساتھ مجرم کو ختم کرانے کی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ پولیس کے ساتھ، بہ طور مخبر، اس کی سانٹھ گانٹھ کا بھی سب کو علم ہوگیا۔ وسیع پیمانہ پر یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ محفوظ اپنے دوست کے ساتھ اس اغوا میں ملوث تھا، اس کو پھر پولیس نے دھردبوچا اور پوچھ تاچھ کے دوران اس نے نہ صرف اپنا جرم قبول کیا بلکہ: (1) اپنے شکار کو بھی برآمد کرایا، اور (2) اپنے راجپوت ساتھی کو بھی مڈبھیڑ میں مروایا۔ تب سے وہ ایک خوفناک مجرم کی شبیہ کے مزے اٹھاتا رہا۔ تاہم اس واقعہ نے ایک پیچیدہ اور بے چین کن سماجی رشتے کو بھی جنم دیا کیونکہ مقتول کے خاندان کے لوگ اس ’غدار‘‘ کے دشمن بن گئے۔
تین سطحی مقامی اداروں (پنچایتی راج اداروں) اور آئین ساز اداروں کے چناؤوں میں سیاست داں امیدوار، اس مجرم نوجوان کو، کارآمد شخص کے روپ میں دیکھنے لگے۔ لہٰذا 2001 اور 2006 کے پنچایت چناؤ میں اس مجرم کو کافی شہرت حاصل ہوئی۔ سیاست داں ’’بوتھ کے انتظام‘‘ (بمعنی ووٹوں کی دھاندلی) کے لیے اس کی خدمات لینے لگے۔
سرکار کی فلاحی اسکیمیں، مثلاً اِندرا آواس یوجنا کے تحت غربا کو گھر دینے یا لال کارڈ اسکیم کے تحت غریبوں میں بھی غریب ترین لوگوں کو ازحد سستے اناج دینے، وغیرہ، جیسی اسکیمیں اَن پڑھ غریبوں کو تب ہی کچھ فائد پہنچا پاتی تھیں جب کہ ہم جس شخص کے بارے میں لکھ رہے ہیں اس کے ذریعہ اسکیم کا ایک حصہ گاؤں کے چنے ہوئے مکھیا تک پہنچتا تھا۔ مثلاً اندرا آواس یوجنا ایک شخص کو 45,000روپیہ دیتی ہے۔ لیکن عام قاعدہ یہ ہے کہ اس میں سے دس سے پندرہ ہزار تک کی رقم مکھیا اور دلال (اس معاملے میں مذکورہ غنڈہ) کی جیب میں جاتی ہے۔ قومی بینکوں کے منیجر بھی اس میں حصہ دار ہوتے ہیں (ان بینکوں کی شاخیں 1980 کی دہائی کے اوائل میں کھلی تھیں)، ورنہ ایک بینک کھاتہ کھول پانا اَن پڑھ غربا کے لیے تقریباً ناممکن بنادیا جاتا ہے، خاص کر عورتوں کے لیے کیونکہ گھر کے مرد زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیوروں، بجلی سازوں، راج گیروں وغیرہ کے کام کرتے ہوئے بہت دور، دہلی، کلکتہ، بنگلور، ممبئی، پنجاب ، گجرات وغیرہ میں رہتے ہیں۔ اس طرح یہ مکھیا، مجرم عرف دلال، اور بینک منیجر کی گٹھ جوڑ کی داستان ہے۔
اس صورتِ حال کے عروج پر طرح طرح کے ردِ عمل سامنے آئے۔ کچھ لوگوں کو دھکّا لگا کہ ان کا گاؤں پہلے کی طرح غربت کا شکار مگر پُرسکون مقام نہ رہ کر جرم کا منحوس ٹھکانہ بن چکا تھا جب کہ بہت سے لوگوں نے عجیب و غریب جوازوں میں، راحت کا احساس کیا۔ زیادہ بڑے گروپ کو اس طرح کی وضاحتوں سے آرام پہنچا کہ ’’اب بھومی ہار، راجپوت، یادو غلبہ یا دبدبہ پسند اور سیاست داں، ہم مسلمانوں کو نظرانداز نہیں کرسکتے ، ان کو ہم سے بلکہ سودا بازی کرنی ہوگی اور اپنی لوٹ یاطاقت کو ایک مسلمان کے ساتھ بانٹنا ہوگا۔‘‘ ان جواز تراشوں کو محفوظ کی قصیدہ خوانی راس آئی کہ اس کے جیسے ایک وسیلہ ساز شخص نے ہی گاؤں کے مسلمانوں کو ایک سیاسی قوت بنایا ہے۔ اپنی اس نئی نئی ملی مقبولیت کے مدِ نظر اس شخص نے بھی اپنے مداحوں کی امیدوں پر کھرا اُترنے کا تہیہ کیا۔ اس نے ایک بارسوخ (بھومی ہار) شخص کے قتل کا منصوبہ بنایا اور (دسمبر2008 ) اس کے قتل کی سازش میں معاون بنا۔ یہ شخص مکھیا کے عہدہ کا ایک خواہش مند تھا۔ 2006 کے پنچایت چناؤ کے دوران اسی مقتول کی ناکام چناوی کوشش کے دوران اسی جرائم پیشہ محفوظ نے اسے اچھی خاصی چناوی مدد فراہم کی تھی۔ بدلے میں اس مقتول نے ہی پولیس کو رشوت دینے کے لیے پیسہ سے اس کی مدد کی تھی تاکہ اس کے پولیس ریکارڈ کو بے داغ بنایا جاسکے۔
بہت سے دھندا باز مجرموں کی طرح محفوظ نے بھی محسوس کیا کہ دوسروں کو پنچایت کی تاجداری پانے میں مدد دینے کے بجائے اگر وہ خود یہ تاج پہنے تو اسے کہیں زیادہ فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ رول کی اس تبدیلی کے پیچھے ایک اور سبب، قابلِ فہم طور پر، 2006 سے، نتیش کمار سرکار کے تحت، مجرموں کے خلاف پولیس کی کارروائی تھی۔ (نیتش کمار نے اپنے ووٹروں کو لالو – رابڑی کے ’’جنگل راج‘‘ کو ختم کرنے اور ایک عمدہ طرزِ حکومت یعنی کہ سوشاسن یا بہتر نظم و نسق دینے کا وعدہ کیا تھا۔) ایک قتل کی تفتیش کے دوران ایک مشکوک شخص کے روپ میں ایک مختصر سا عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ اس مقصد کے حصول کے لیے لگ گیا جو اس نے اپنے لیے طے کیا تھا۔ اس مرحلے میں ہمیں اپنی داستان میں گاؤں کے ان دو شرفا کے ذکر کوواپس لانا ہوگا۔ انہی دو استادوں کو جو تب اس کے پہلے دو گاہک تھے جب اس نے لوٹے ہوئے مال کو اور بھی کارگر ڈھنگ سے بیچنے کے لیے اپنی جڑوں کی طرف پلٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تعلیم فراہم کرنے والے ان لوگوں نے اپنی سمجھانے بجھانے کی مہارت کے ذریعہ گاؤں والوں کو پنچایت مکھیا کے چنے ہوئے عہدے کے لیے اپنے خود کے جانباز کی بھاری اہلیت کا احساس کرا دیا۔ عوام کی تعلیم کی اس مہم میں انھوں نے اچھی خاصی مقدار میں ہندو دشمن؍ مسلم نواز فرقہ پرستی کی خوراک کا استعمال کیا۔ بلاشک انھوں نے اپنے نام نہاد آدرش کا حوصلہ بڑھانے اور اس کی انا کو سہلانے کے لیے وہ سب کچھ کیا جوکہ ان کے بس میں تھا۔
اس درمیان اپنی سیاسی مہم کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے، اور 2011 کے پنچایت چناؤ پر نظر لگائے ہوئے، سال 2009 کے دوران، محفوظ نے گاؤں کے پانچ چھ نوجوانوں کو بھرتی کیا جن میں سے زیادہ تر 15 برس سے کم عمر کے تھے۔ ان لڑکوں کو جو اہم کام سونپے گئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ گاؤں کے تمام گھروں میں وہ جائیں اور ان چھوٹے چھوٹے تنازعوں اور مسئلوں کا پتہ لگائیں جن میں یہ ’’ابھرتا ہوا لیڈر‘‘ دخل دے سکتا تھا۔ چونکہ اس گاؤں کے زیادہ تر بالغ مرد باہر کام کررہے ہیں، لہٰذا غریب ان پڑھ یا معمولی تعلیم یافتہ عورتیں نہ صرف معمولی گھریلو جھگڑوں کے نبٹارے کے لیے، بلکہ بعض مسائل کے حل کے لیے بھی اس پر منحصر ہوگئیں، مثلاً مقامی نیم حکیموں سے رجوع کرنے، بینک کھاتے کھلوانے؍ استعمال کرنے کے لیے، کمیونٹی ڈیولپمینٹ بلاک اور پولیس تھانے سے کچھ کام کرانے کے لیے، وغیرہ۔ اس کے کچھ دوسرے ’’فائدے‘‘ بھی تھے۔ مثال کے لیے سستے راشن کی دُکان کا مالک (جو ’’ڈیلر‘‘ کہلاتا ہے) غریب عورتوں کو ’’مناسب مقدار میں‘‘مٹی کا تیل، شکر وغیرہ تب ہی دیتا تھا جب کہ غربا کا مسیحا بن جانے والا یہ غنڈہ مداخلت کرتاتھا۔ شادیوں کے بعد جہیز کے جھگڑے بھی اسی طرح نبٹائے جاتے تھے۔ ایسے موقعوں پر چھوٹی جوتوں والے کسان اونے پونے داموں پر اپنی فصل فروخت کرتے ہیں اور وہ ایسے سودے بھی کرایا کرتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان تمام خدمات کی ایک قیمت دینی ہوتی تھی۔ عورتیں یہ بات جانتی تھیں، پر یہ بھی جانتی تھیں کہ ان کے سامنے بہت محدود متبادل تھے۔ اس اہتمام نے، ایک سودمند کاروبار ہونے کے علاوہ، اس کی ’’مقبولیت‘‘ ’’اثر و رسوخ‘‘ یا ’’کرشمہ‘‘ اور دبدبہ میں اضافہ کیا۔
لیکن جب اپریل 2011 کے پنچایت کے چناؤ اور قریب آئے تو چناوی انتظام کے کچھ اور اقدام کرنے پڑے۔ مسلمانوں کی باہمی سماجی تنوع پر دھیان دینا ضروری تھا۔ مسلمانوں کے مقاصد کے اس نئے نئے خود ساختہ طرفدار کے حق میں راعین اور دُھنیا برادری کے لوگوں کو، یعنی کہ مستعار لی گئی درجہ بندی کے سب سے نیچے کے پائیدان پر موجود مسلمانوں کو لام بند کرنا ضروری تھا۔ مذہبی جذبات کو ابھارنا ہی ان دو استادوں کی نظر میں سب سے اچھا کارگر طریقہ تھا۔ گاؤں کی مسجد کی زمین کا معاملہ ڈھونڈکر نکالا گیا تاکہ ووٹ کی مشین کے روپ میں اس کا استعمال کیا جاسکے۔ اللہ سے ڈرنے والے ان دو مصلحوں نے یہ ڈھونڈ نکالا کہ مسجد کے لیے جو زمین دی گئی تھی، اس کے صرف آدھے حصہ پر وہ عبادت گاہ بنی تھی اور آدھی زمین تو ابھی بھی وقف کار کے خاندان والوں کے قبضہ میں تھی۔ جو کچھ اللہ کا تھا اس کو پانا ضروری تھا تاکہ ایک شاندار عمارت بنائی جاسکے، جوکہ ان کی مذہبی اور سیاسی پہچان کا اعلان کرسکے۔ کاغذات کی مدد سے وقف کار کے خلف نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ وقف کار نے جتنی زمین دان میں دی تھی وہ پہلے سے ہی مسجد کے تحت تھی۔ لیکن ان سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ دونوں ہی استادوں نے اپنے مہم باز شاگرد کو پڑھا رکھا تھا کہ وہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور پوری طرح، غلط طریقوں سے، اس مدعا کو زندہ رکھے۔ رپورٹوں کے مطابق تین دنوں کی ایک مشاورتی میٹنگ 17 سے 19 جنوری 2011 تک اس (مجرم کے) گھر پر منعقد کی گئی جس کی ’’صدارت‘‘ ان دو شریف استادوں نے کی۔ ظاہر ہے کہ یہ مشورے اس شخص کے کانوں میں شہد کی طرح تھے جس کو تشدد اور قانون شکنی کی عمدہ تربیت حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد جو طوفانِ بدتمیزی اٹھا اس میں ایک غیرمتوقع رخنہ بھی پڑگیا۔ گاؤں کا ایک بھولا بھالا باشندہ، جس کی نجی حیثیت بہت معمولی تھی مگر جو گاؤں کے ایک سرکردہ شیخ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، دونوں معلموں اور اس قانون شکن کے گٹھ جوڑ کو بھانپ گیا اور تکلیف دہ سوالات اٹھانے لگا۔ اس سے بھی بدتر بات یہ تھی کہ اس شخص کے شبہات لوگوں کی سمجھ میں آنے لگے جس سے سازش کرنے والوں میں کافی بے چینی پیدا ہوئی۔
مذکورہ میٹنگ (17 تا 19؍جنوری 2011) کے کچھ ہفتہ قبل ایک دن جمعہ کے روز مسجد کے اندر جمعہ کی نماز کے بعد مذکورہ بھولے بھالے شخص کے ساتھ بھیانک تکرار ہوئی جس کا تعلق مسجد کے رکھ رکھاؤ اور باز تعمیر کے لیے جمع کیے گئے چندے سے تھا۔ اس تکرار میں دو ’’شریف‘ استادوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے 25,000 سے 30,000 روپیہ تک کی رقم غصب کی ہے۔ یہ رقم مذکورہ مجرم نے جمع کی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ اسے اس نے ان استادوں کے حوالے کردیا تھا، مگر دونوں استاد اس سے انکار کررہے تھے۔ بہتوں کا قیاس تھا کہ برسوں پہلے اس مجرم نے لوٹی ہوئی موٹر سائیکل کے بدلے ان استادوں سے جو رقم وصول کی تھی اسے وہ استاد واپس پانا چاہتے تھے اور انھوں نے اس ڈھنگ سے وہ رقم واپس لی۔ ظاہر تھا کہ یہ بھانڈا پھوڑ ان استادوں اور گاؤں کا مکھیا بننے کے لیے کوشاں اس مجرم، دونوں، کے لیے بھاری فکر کا سبب بن گیا۔
ظاہر تھا کہ اس گندے سیاسی کھیل کا بھانڈاپھوڑ اس مجرم کے چناوی امکانات کو پلٹ سکتا تھا اور اس لیے اس بھولے بھالے شخص کا، جو بصورتِ دیگر ایک دم بے ضرر تھا، فوری صفایا بھانڈا پھوڑ کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔ لہٰذا (19؍جنوری 2011 کے روز) اسے ہلاک کردیا گیا۔ لیکن اس قتل کو راز کے پردے میں رکھنا بھی ضروری تھا۔ چشم دید لوگوں نے (جن میں اس مجرم کے کنبہ کے کچھ لوگ بھی شامل تھے) بعد میں چپکے چپکے یہ بات کہی کہ جب وہ شخص مغرب کی نماز کے لیے مسجد کے اندر قدم رکھنے ہی والا تھا کہ اس مجرم سمیت دو لوگوں نے اسے دبوچ لیا، کسی قسم کا ’’جان لیوا‘‘ یا بے ہوش کرنے والا انجکشن اسے جبراً لگایا گیا اور اسے اس غنڈہ کے گھر کے باہری کمرے میں لے جایا گیا جو مسجد کے دروازہ سے بمشکل دس فٹ دوری پر تھا اور وہاں اس کا سر لکڑی کی ایک کھڑکی سے ٹکرایا گیا۔ وہاں اس کے جسم پر دارو انڈیلی گئی اور جاڑے کی ایک خاموش کپکپانے والی شام (19 جنوری 2011) کو اس بے ہوش شخص کو اس کے گھر پہنچا دیا گیا جہاں اس کی اہلیہ سے کہا گیا کہ جی بھر کر وہ کچی غیرقانونی شراب پینے کے بعد ہوش کھو بیٹھا تھا اور یہ کہ رات بھر اچھی نیند لے لینے کے بعد وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ اگلی صبح تڑکے (20 جنوری 2011) وہ مرا ہوا پایا گیا۔
موت کی خبر پھیلانے کے لیے پورے گاؤں کو دھمکایا گیا: کہ وہ کچھ زیادہ ہی دارو پینے سے مرا ہے۔ وہ بارسوخ اور ’’شریف‘‘ ماسٹر ان سازش کاروں میں شامل تھے اور آخر کار وہ اس کی پردہ پوشی میں کامیاب رہے۔ وہ توجائے انتقال —غنڈہ کا گھر — کی سچائی کو چھپانے میں بھی کامیاب رہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مرنے والا تو سڑک پر بے ہوش پڑا پایا گیا تھا جہاں سے اچھے شہریوں کی طرح اٹھاکر وہ اسے اس کے گھر پہنچا آئے تھے۔ مرحوم کے گاؤں یا ملک سے باہر رہ رہے لواحقین کے سامنے، جب تک موت کا بھید کھلتا، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ آخری مسکان وہ اس غنڈہ محفوظ (جس میں ایک ذہنی مریض صفت قاتل کے کچھ آثار نظر آتے رہتے تھے) اور گاؤں کے ان شرفا کے ہی ہونٹوں پر کھلی جو اس کے یارو مددگار تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس بے ضرر شخص کے قتل کی سازش میں ان ’’شرفا‘‘ کے شریک ہونے کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ وہ تعلیم میں اس کے کنبہ کی کامیابیوں اور ان کی کامیاب پیشہ ورانہ زندگی سے جلتے تھے کہ ان کے ہی سہارے اس کا خاندان ایک عرصہ سے اس علاقہ کاایک عزت دار اور بارسوخ خاندان سمجھا جاتا تھا اور یہ بات گاؤں کے کچھ لوگوں کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی۔ دیہی زندگی کی اس مخصوص صفت کو ایک اور مطالعہ میں یوں پیش کیا گیا ہے: ’’غربت، حسد، ذات پات کا ظلم، جنسی تفرقات، ختم نہ ہونے والے جھگڑے اور دیہی زندگی کی عام بیوقوفی نے دلربا گاؤں کی سطح کے نیچے ایک اور مسکن تلاش کرلیا ہے۔ عقل کا جمود اور تہذیب کی اس سے پیدا شدہ سڑاند اس کے بدترین پہلو تھے3۔‘‘آگے چل کر اس قتل کے مقصد کی سچائی کی ایک اور تہہ سامنے آنے لگی۔ اپنے مکانوں کی کھڑکیوں سے کچھ عورتوں نے واقعی دیکھا تھا کہ وہ شخص جب مغرب کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ محفوظ اور اس کے ساتھیوں نے اسے دبوچ لیا تھا، پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر اس کا منھ بند کردیا تھا، اس کی گردن میں کسی دوا کا انجکشن لگایا تھا جو دوا کی مقامی دکان سے حاصل کی گئی تھی (اسے شایدFortwin کہتے ہیں اور اس کا استعمال اغوا کرنے والے اپنے شکار کو بے ہوش کرنے کے لیے کرتے ہیں، اسے اس غنڈہ کے کمرے میں کھینچ لے گئے تھے جو مسجد کے دروازے سے بمشکل دس قدم دور تھا اور پھر اسے مار ڈالا تھا۔ کچھ بیانات کے مطابق اس کا منصوبہ اسے پھروتی کے لیے اغوا کرنا تھا تاکہ آئندہ انتخابات کے لیے پیسہ جمع کیا جاسکے۔ انھوں نے چمپارن سے بھی ایک مجرم کو بلایا تھا جو سمجھا جاتا ہے کہ اغوا کیے گئے بندے کو اپنے ساتھ لے جاتا۔ اس ’درآمد‘ کیے گئے مجرم نے ترکولیہ کی ہی ایک عورت سے شادی کی تھی4 ۔چونکہ یہ پورا کھیل وقت سے پہلے ہی بے نقاب ہوگیا، لہٰذا ان کو یہ منصوبہ ترک کرکے اس شخص کا قتل کرنا پڑا۔ ان چشم دیدوں (عورتوں اور 90 برس کی عمر کے قریب پہنچ رہے ایک لاغر بوڑھے انسان) کو ازحد بھیانک دھمکیاں دی گئیں۔
قتل کے اس ’سیاسی‘ کھیل میں محفوظ کے معاونین میں اس کا ایک پڑوسی بھی شامل تھا جو کلکتہ میں آئس کریم بیچتا تھا۔ اس کا نام جمیل تھا۔(نام بدلا ہوا ہے اور یہ شخص چمپارن سے آئے غنڈہ کا قریبی رشتہ دار تھا۔) اس نے اردو کی معمولی تعلیم پائی تھی اور وہ داؤد ابراہیم ، اُسامہ بن لادن اور سیوان کے محمد شہاب الدین جیسی خوفناک ہستیوں کا ایک بڑا مداح تھا۔ اس شخص نے کلکتہ چھوڑ کر گاؤں آنے کا ارادہ کیا اور معاش کے لیے وہ اپنے پنچایت پرمکھ بننے کے متمنی پڑوسی کے ساتھ پنچایت کی لوٹ میں شامل ہوگیا۔ خود کو سیاسی عقل و فہم سے آراستہ شخص ماننے اور کلکتہ کے اردو اخباروں سے علم کشید کرنے والے اس جمیل نے گاؤں والوں کو یہ پڑھانا شروع کردیا کہ جمعہ، 12 مارچ 1993 کے روز داؤد ابراہیم نے بمبئی میں جو بم دھماکے کرائے تھے ان کے ہی طفیل مظلوم مسلم اقلیت اپنے آپ کو محفوظ محسوس کررہی تھی، خاص کر 6 دسمبر1992 کو بابری مسجد کے انہدام کے بعد۔ لہٰذا داؤد کو اس کے مطابق مسلمانوں کا مسیحا سمجھا جانا چاہیے۔ وہ اپنے گاؤں کے ہم مذہب لوگوں کو یہ بات ذہن نشیں کرنے کی ترغیب دے رہا تھا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی حملہ آوری کے مدِ نظر اُسامہ بن لادن کو امتِ اسلام کا محافظ سمجھا جانا چاہیے۔ جو لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے تھے ان کو یا تو عقل سے کھوٹا یا پھر کھوٹا مسلمان قرار دیا جارہا تھا۔ تب وہ ان اختلاف کرنے والے دیہاتیوں کا چبھتا ہوا مذاق اُڑایا کرتا تھا۔ یہ آئس کریم والا، جو ایک شرابی اور جواری ہوا کرتا تھا، اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے گاؤں والوں سے جھگڑا مول لینے اور ان کو دھمکانے کے لیے بدنام تھا۔ اس کی سرگرمیاں ایک لمپٹ جیسی تھیں مگر ان عادتوں کو جاری رکھتے ہوئے اس نے خود کی ایک دیندار والی شبیہ بنا لی۔ ٹھڈّی پر ایک لہراتی ہوئی داڑھی اُگالی (جسمانی سبب سے اس کے گالوں پر کوئی داڑھی نہیں اُگی) اور وہ روزانہ نماز پڑھنے لگا۔ تاہم عام دیہاتی اسے کوئی شریف بندہ نہیں سمجھتے۔ اس طرح جمیل کی ’’قلبِ ماہیت‘‘ کوئی ضمیر کی تبدیلی نہ ہوکر دِکھاوے کی دینداری کی گندی سیاست تھی۔ یہ ہمیں ایک ایسے واقعہ کی یاد دلاتا ہے ہے جس کے بارے میں مغربی بنگال میں بایاں محاذ کی سرکار کے آں وقتی وزیر انیس الرحمن نے (گن شکتی میں 29 جنوری 2002 کے روز ’’لادینیر روزہ‘‘ کے عنوان سے) لکھا تھا کہ مغربی بنگال کے ایک مسلم گاؤں کے لوگوں نے کس طرح روزہ رکھ کر امریکہ کی تلاش سے اُسامہ بن لادن کی حفاظت کی دعا مانگی تھی جب کہ رمضان کا ماہِ مبارک ابھی دور تھا۔ معروف سیاسی مبصر پارتھ چٹرجی نے بھی مسلمانوں کے اس طرح کے سماجی عمل پر ایک لمبا مضمون لکھ کر اس پہلو کو اُجاگر کیا تھا کہ عام مسلمانوں پر ’’گرم دماغ اور بے عقل لوگوں‘‘کا کتنا گہرا اثر پڑرہا ہے5۔
اس سے کوئی خاص پہلے کی بات نہیں ہے کہ اسی پنچایت کے تحت پاس کے ایک گاؤں کی ایک لڑکی کو اسی غنڈہ نے اس کے گھروالوں کی رضامندی سے قتل کرکے اس کی لاش کو ریوامیں گنڈک دریا میں پھینک دیاتھا۔ اس کا ’’جرم‘‘ یہ تھا کہ بھومی ہاروں کی اونچی ذات کی یہ لڑکی ایک نیچی (کہار) ذات کے لڑکے سے پیار کرتی تھی۔ ’’قتل برائے ناموس‘‘ کی اس مہربانی کے بدلے اس غنڈہ کو آئندہ، اپریل 2011 کے پنچایت چناؤ میں کچھ بھومی ہار ووٹ دلانے کا وعدہ کیاگیا تھا۔
جرائم کی اس تاریخ کے مدِ نظر پولیس نے ہماری داستان کے اس کردار کو 3مارچ 2011 کے روز پوچھ تاچھ کے لیے گرفتار کیا6 جس کے بعد سردی کی رات میں بھی پولیس کو گاؤں والوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مزاحمت کرنے والوں میں وہ دو ’’نامور‘‘ اساتذہ بھی شامل تھے۔ درحقیقت ان دو ماسٹروں میں جو عمر میں چھوٹا تھا اور جسم کا تگڑا تھا، گاؤں میں ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہچکنے والے نوجوانوں اور مردوں کو دھمکی دی کہ پولیس تھانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کے لیے اگر وہ گھر سے نہیں نکلتے تو ان پر بہت برے حملے کیے جائیںگے۔ اپنے اس نئے پیدا ہوئے ہیرو کے حق میں جو بھیڑ جمع ہوئی اس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، وہ بھی جو عمر یا بیماری کی وجہ سے لاغر اور نحیف تھے۔ وہ پولیس کے خلاف چیخ رہے تھے کہ ایک مسلمان کو لیڈر کے طور پر اُبھرنے سے روکا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس کے خلاف ایسا کوئی احتجاج تب نہیں ہوا جب پولیس نے اسی مجرم کے گھر پر چھاپہ مارا (یا اسے تھانے میں بند کیا یا سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا)اور اس کے پاس سے وہ موٹر سائیکل برآمد کی جو بائک کے مالک کو مار کر لوٹی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ تب اپنے ہی گاؤں کے ایک باشندے کے قتل کی سازش رچنے والوں کے روپ میں دونوں اساتذہ کے بے نقاب ہونے کا کوئی جوکھم نہیں تھا۔ مارے گئے مسلمان کے رشتہ داروں کی مذمت کی گئی کہ انھوں نے پولیس سے رجوع کرکے مسلم امیدوار کے سیاسی امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس طرح اس مارے گئے مسلمان کے وارث کو سخت ترین ماتم کا شکار ہونا پڑا۔ غالباً ان شرفا کی نگاہ میں ایک مسلم غنڈہ کے سیاسی عروج میں معاون بننا ضروری تھا، بھلے ہی اس نے اپنے ہی گاؤں کے ایک مسلمان کو بھی نہ بخشا ہو۔ یعنی بلاشبہ جرائم کی کوئی ذاتی؍مذہبی پہچان نہیں ہوتی۔ مسجد کی زمین واپس پانے کی ان ’’قابلِ ستائش‘‘ کاوشوں کے باوجود اور ایک نہ ایک ڈھنگ سے جائز ٹھہرائے جارہے اتنے سارے قتل کے باوجود ،’’چرب زبان‘‘ گاؤں والے، اس غنڈہ کی حمایت میں، جم کر کھڑے رہے اور اس کے حق میں جوش و خروش کے ساتھ کھل کر ووٹ ڈالے۔ ووٹ مانگنے کی مہم میں گائوں کی مسجد کے پیش امام بھی شامل تھے۔ (امیدوار درحقیقت اس کی بیوی تھی کیونکہ یہ پنچایت خواتین کے لیے مختص تھی۔) یہ پنچایت چناؤ 27؍اپریل 2011 کے روز ہوئے۔ بہرکیف اگر مقامی سیاست کی سیڑھی پر ایک مسلم غنڈہ کے اوپر چڑھنے میں مدد مل رہی ہو تو ایک معصوم انسان کی زندگی کی بھلا قیمت ہی کیا؟ مختصر یہ کہ، غالباً ہر قیمت پر، ’’مسلمانوں کا وقار‘‘ قائم رکھنے کے لیے ہی اس مجرم کو اس طرح کی سماجی حمایت عطا کی گئی۔
زمینی سطح کی جمہوریت اور مقامی عوام کو اختیارات کی سُپردگی اور سیاسی عمل میں حاشیہ کی طرف دھکیل دی گئی ایک مذہبی اقلیت کی خواہش، یہ چیزیں سچ مچ ایک عجیب و غریب قیمت وصول کرتی ہیں۔خصوصاً بہار جیسی ریاست میں! لیکن یہ منحوس میلان اس مخصوص گاؤں تک ہی محدود نہیں ہے۔ ’’رسمی جمہوریت کے ساتھ مقامی اقتدار کا گٹھ جوڑ (اکثر) جرائم کے توسط سے پروان چڑھتا ہے7۔‘‘
حوالہ جات
1 – 1980 کی دہائی کے دوران سیوان کے ایک گاؤں کے عامر سبحانی نے آئی اے ایس وغیرہ کے مقابلہ جاتی امتحانوں میں پورے ہندوستان میں اول مقام حاصل کیا اور وہ ذیلی درمیانی طبقہ کے، بلکہ معمولی خاندانی پسِ منظر والے بہاری طلبا کے لیے ایک مثل بن گیا۔ اب ان کو یہ بھروسہ ہوگیا کہ دیہی بہار کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم پانا اولاً سرکاری نوکریوں کو پانے کی راہ میں کوئی حائل نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد سے سِول سروس میں بہاری طلبا کی کامیابی کی شرح بڑھنے لگی۔
2 – یہاں اس سرکاری اسکول کے ماسٹر عظیم الدین کے بارے میں کچھ اور جان لینا مناسب ہی ہوگا۔ ان کے پانچ یا چھ بیٹیاں تھیں اور اپنے گاؤں کے بہت سے لوگوں کے برعکس ایک بیٹے کی چاہت میں انھوں نے خاندان کی منصوبہ بندی کا راستہ نہیں لیا۔ چونکہ ان کی بیوی نے بہت دنوں تک کوئی بیٹا نہیں جنا، لہٰذا وہ اپنی بیوی کے، یہاں تک کہ اپنی بیٹیوں کے خلاف بھی سختی کا رویہ بلکہ کبھی کبھی تو بے رحمی کا رویہ بھی اپنانے لگتے تھے۔ آخرکار ان کے یہاں کچھ بیٹے پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے مابین کھل کر تفریق کرنے لگے۔ دودھ، انڈے اور زیادہ مہنگی سبزیاں صرف بیٹوں کے کھانے کے لیے ہوا کرتی تھیں۔ یہ بات گاؤں والوں کے سامنے بخوبی ظاہر تھی کیونکہ گاؤں کی ہاٹ میں وہ دو تھیلے لے کر جایا کرتے تھے۔ ان میں ایک جھولے میں وہ عمدہ ، یعنی کہ زیادہ قیمتی سبزیاں اپنے بیٹوں کے لیے رکھا کرتے تھے اور دوسرے تھیلے کی گھٹیا درجہ کی سبزیاں ان کی بیٹیوں کے لیے ہوا کرتی تھیں۔ اپنی بخیلی کے لیے پوری طرح بدنام یہ شخص جنسی تفریق کے رویہ پر کبھی شرمندہ بھی نہیں ہوا۔
3 – اِروند داس، Changel: The Biography of a Village ، دہلی، 1996 ، ص: 182-83 دیکھیں۔
4 – غور طلب ہے کہ پھروتی کے لیے اغوا کا یہ مجرمانہ کاروبار چمپارن سے پیدا ہوا اور وہیں اس کی جڑیں جمیں۔ یہاں جنگل میں مجرموں کے لیے چھپنے کی عمدہ جگہیں ہیں اور بھاگ کر نیپال جانے کا راستہ بھی ہے۔ یہی حقیقت ہے جس کے سبب پرکاش جھا نے اپنی فلم اپہرن (2005) بنائی۔ آگے یہ بات بھی کہی جانی چاہیے کہ حال میں شمالی بہار کے کچھ مشکوک ’’اسلامی دہشت گردوں‘‘ نے، جو مبینہ طور پر دہلی، ممبئی، بنگلور اور دوسرے مقامات پر بم دھماکوں میں ملوث تھے، میڈیا کے کچھ حصوں کی خبروں کے مطابق (نیپال کی دھرتی پر) ہتھیار اور تربیت حاصل کی ہے۔ یہ بھی کچھ کم نہیں ہوا کہ اس کہانی کا مجرم ہیرو محفوظ اکثر کچھ ہفتوں کے لیے غائب ہوجاتا تھا اور پھر سامنے آتا تھا اور تب گاؤں والے چہ میگوئیاں کیا کرتے تھے کہ ’’محفوظ اپنی جان پہچان کے انتہاپسندوں کے ہتھیار اور دھماکہ خیز سامان لانے کے لیے نیپال چلا گیا ہے۔‘‘تاہم کوئی یہ نہیں جانتا کہ سرکار کی سراغ رساں ایجنسیوں کو ان باتوں کا علم ہے بھی کہ نہیں ہے۔
5 – پارتھ چٹرجی، Politics of The Governed، ص: 123 ۔
6 – ہندی روزنامہ ’دینک جاگرن‘ مظفرپور، 4 مارچ 2011 ۔
7 – اروند این داس، The Republic of Bihar ، ص:60 ۔

نوٹ: یہ مضمون پروفیسر محمد سجاد کی کتاب ، ’’نوآبادیات اور علیحدگی پسندی کی مزاحمت: مظفرپور کے مسلمان (1857تا حال)، مطبوعہ:قومی اردو کونسل، دہلی 2018 کا اقتباس ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)