مسلمانوں کے ذریعے غیر مسلموں کا ‘انتم سنسکار’؟-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال :
کورونا وبا میں بہت زیادہ اموات ہورہی ہیں _ کئی مقامات سے ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ مسلمان ہندوؤں کا انتم سنسکار کر رہے ہیں – وہ ان کی نعشوں کو شمشان گھاٹ لے جاکر ہندو ریتی رواجوں کے مطابق انہیں جلا رہے ہیں-کیا دینی نقطۂ نظر سے ان کا یہ عمل درست ہے؟

جواب :
جیسا کہ ہم سب کے علم میں ہے ، کورونا کی وبا بہت بُری طرح پھیلی ہوئی ہے اور روزانہ بہت بڑی تعداد میں اموات ہورہی ہیں _ مرنے والوں میں تمام مذاہب کے لوگ ہیں۔
یہ بھی مشاہدہ میں آرہا ہے کہ کورونا کی خطرناکی کو دیکھتے ہوئے مرنے کے بعد نعشوں کی تکفین و تدفین اور ان کے آخری مراسم انجام دینے میں جو جوش و جذبہ ہونا چاہیے اس میں بہت کمی آگئی ہے _ اس اندیشے سے کہ کہیں کورونا کا انفیکشن ہمیں نہ لگ جائے ، لوگ نعشوں کے قریب نہیں جا رہے ہیں ، یہاں تک کہ قریبی رشتے دار بھی دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔
اس صورت حال میں یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ مسلمان اس وبا میں دوسروں کو مدد پہنچانے میں جی جان سے لگے ہوئے ہیں _ وہ اپنے رشتے داروں ، پڑوسیوں ، دوست احباب اور کاروباری متعلقین سے آگے بڑھ کر نہ صرف عام مسلمانوں کی بھر پور مدد کررہے ہیں ، بلکہ عام غیر مسلموں کا بھی ہر طرح کا تعاون کرنے میں پیش پیش ہیں۔
اس درمیان میں ایسے بعض واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ جب غیر مسلموں کا انتم سنسکار کرنے کے لیے خود غیر مسلم سامنے نہیں آئے تو مسلمانوں نے آگے بڑھ کر ان کی آخری رسوم انجام دیں اور ہندو ریتی و رواج کے مطابق انہیں شمشان گھاٹ لے جاکر جلایا _ مسلمانوں کے اس عمل کو میڈیا میں بھی سراہا جارہا ہے اور اسے فرقہ ہم آہنگی اور خیر سگالی سے تعبیر کیا جارہا ہے ، جب کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور اسے غیر شرعی کہا جارہا ہے۔
ایک مسلمان پابند ہے کہ اس کی زندگی کا ہر کام اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق گزرے اور اس کی ذات سے کسی بھی لمحے میں کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جو اس کی ناراضی اور غضب کو بھڑکانے والا ہو۔
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کے ماننے والے شعائرِ اسلام پر عمل کریں اور جن کاموں کو دیگر مذاہب کی نمایاں ترین علامتیں سمجھا جاتا ہے ان سے دور رہیں۔
نعشوں کو ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں مختلف اہلِ مذاہب میں مختلف طریقے رائج ہیں ۔ بعض انہیں دفن کرتے ہیں تو بعض جلاتے ہیں _ اسلام میں نعشوں کو دفن کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تکفین و تدفین پر عمل کیا ہے اور اپنی امت کو بھی اسی کی تعلیم دی ہے۔
اس کا تقاضا ہے کہ مسلمان نہ صرف اپنی میّتوں کو دفن کریں ، بلکہ اگر کبھی انہیں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی نعشوں کی آخری رسوم ادا کرنی پڑیں تو انہیں جلانے سے بچیں۔
موجودہ صورت حال میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غیر مسلموں کو علاج معالجہ فراہم کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں ، ان کا انتقال ہوجائے تو جو بھی اخلاقی اور مالی مدد کرسکتے ہوں ، کریں ، دوسری طرح کے سپورٹ فراہم کریں ، لیکن ایسے کاموں سے بچیں جو شرعی طور پر جائز نہ ہوں _ انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ غیر مسلموں کی نعشوں کو شمشان گھاٹ لے جانے کا کام وہ خود نہ کریں ، بلکہ برادرانِ وطن کو ہی استعمال کریں ، یا حکومتی عملے کو اطلاع کریں اور اس کے ذریعے یہ کام کرائیں۔
اگر کسی غیر مسلم کی نعش پڑی ہو اور کوئی ہاتھ لگانے والا نہ ہو تو مسلمان اس کی آخری رسوم انجام دے سکتے ہیں ، لیکن اس صورت میں انہیں اتنا اختیار حاصل کرلینا چاہیے کہ وہ اسے جلانے کے بجائے دفنائیں گے _ ہنگامی حالات میں انہیں ضرور یہ اختیار مل جائے گا۔ یہ اختیار نہ ملے تو انہیں نعش کو شمشان گھاٹ لے جانے اور جلانے کی ذمے داری نہیں قبول کرنی چاہیے ۔ اس لیے کہ مسلمان صرف ان کاموں کے پابند ہیں جو ان کے مذہب سے نہ ٹکراتے ہوں۔