مسلمانوں کے نام-خلیل جبران

ترجمہ:نایاب حسن
میں لبنانی ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے،میں عثمانی نہیں ہوں اور مجھے اس پر بھی فخر ہے،میں اپنے وطن کے محاسن پر فخر محسوس کرتا ہوں اور اپنی قوم کی حصولیابیوں سے خوش ہوتا ہوں۔ میں عیسائی ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے؛لیکن میں نبی عربیﷺسے محبت کرتا ہوں،آپ کی تعظیم کرتاہوں،مجھے اسلام کی عظمت سے محبت ہے اور اس کے زوال سے ڈرتاہوں۔ میں دنیاے مشرق کا باسی ہوں اور یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ زمانے کے انقلابات چاہے مجھے اپنے ملک سے کتنی ہی دور پہنچادیں،مگر میں اپنے اخلاق میں مشرقی،نظریات و افکار میں شامی اور جذبات و احساسات میں لبنانی ہی رہوں گا۔
میں مشرق کا رہنے والاہوں اور مشرق میں ایسے بہت سے قدیم شہر ہیں،جو مسحورکن عظمتوں کے حامل ہیں،جن کی خوشبو میرے دل دماغ کو معطر کیے رہتی ہے۔ میں مغرب کی ترقی اوران کے علوم کو چاہے جتنا پسند کروں،مگر میرے خوابوں ،آرزووں اور امنگوں کی دنیا مشرق ہی میں ہے۔ وہ ممالک جو ہندوستان سے جزائرِ عرب اور خلیجِ عربی سے قوقاز کی پہاڑیوں تک پھیلے ہوئے ہیں،یہ وہ ممالک ہیں ،جہاں بڑے بڑے بادشاہ، انبیا، بہادر سپہ سالار اور شعرا و ادبا نے جنم لیا ہے۔ میری روح مشرق و مغرب کے چکر لگاتی رہتی ہے،جنوب و شمال میں گھومتی رہتی ہے،عظمتِ پارینہ کے نغمے گاتی رہتی ہےاور نئی عظمتوں کی تلاش میں دور افق میں جھانکتی رہتی ہے۔ اے لوگو! آپ میں سے کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ’’یہ شخص مملکتِ عثمانیہ کو پسند نہیں کرتا اور اس کے زوال کا خواہاں ہے‘‘۔بخدا وہ سچ کہتے ہیں۔ میں عثمانی مملکت کو اس لیے ناپسند کرتاہوں کہ مجھے عثمانیوں سے محبت ہے،مجھے عثمانی حکومت اس لیے پسند نہیں کہ عثمانی علَم تلے سوتی ہوئی قوم میرا دل جلاتی ہے،میں عثمانی حکومت کو اس لیے پسند نہیں کرتا کہ مجھے اسلام سے محبت ہے،اسلام کی عظمت سے محبت ہے ،مجھے عظمتِ اسلام کی واپسی کی تمنا ہے۔
میں بیماری کو ناپسند کرتاہوں،مگر مجھے بیمار سے محبت ہے،مجھے فالج سے نفرت ہے،مگر فالج زدہ اعضا سے محبت ہے۔ میں قرآن کی تعظیم کرتا ہوں،مگر ان لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو اس کتاب کو مسلمانوں کی ناکامی کے وسیلے کے طورپر استعمال کرتے ہیں،اسی طرح میں ان لوگوں کو بھی ذلیل سمجھتا ہوں ،جو انجیل کو عیسائیوں کی تذلیل کا وسیلہ بناتے ہیں۔
اے لوگو!آپ میں سے وہ کون ہوگا،جو تخریب کاروں کو ناپسند نہیں کرے گا اور تعمیرکرنے والے بازووں سے محبت نہیں کرے گا؟کون ہے جو عزمِ خفتہ کو بیدار نہیں کرنا چاہے گا؟کون ایسا نوجوان ہے،جو اپنی عظمت کے زوال و گم شدگی پر افسوس نہیں کرے گا؟
اے مسلمانو!ایک ایسے عیسائی کی بات یاد رکھنا،جس کی آخری سانس کے ایک گوشے میں عیسیؑ بستے ہیں،تو دوسرے میں محمدﷺجلوہ فگن ہیں۔ اگر کھوکھلی حکومت وسیاست پر اسلام کو غلبہ حاصل نہ ہوا،تو عن قریب انگریز مسلمانوں پر غالب آجائیں گے۔ اگر تم میں کوئی ایسا شخص پیدا نہ ہوا،جو اسلام کو اس کے داخلی دشمنوں سے بچائے،تو اس نسل کے ختم ہونے سے پہلے پہلے سارا مشرق بدبودار چہروں اور نیلی آنکھوں والوں کے قبضے میں ہوگا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*