Home تجزیہ مسلمانو! آخر کب تک سیاست میں بھیڑ کا حصہ بنو گے !-محمد خورشیدعالم

مسلمانو! آخر کب تک سیاست میں بھیڑ کا حصہ بنو گے !-محمد خورشیدعالم

by قندیل

 

مسلمان سے مراد وہ شخص ہے جو دینِ اسلام پر یقین رکھتا ہو۔ایک اللہ کو مانتا ہو اوراخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو باتیں بتاٸی اس پر عمل پیرا ہوتا ہومطلب کہ جو لوگ اللہ کے دین پر عمل کرتے ہے وہ مسلمان ہیں۔ یوں تو مسلمانوں کی تعریف میں بہت ساری باتیں کی جاسکتی ہے مگر کل ملاکرہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ایک خداپر ایمان لانا اور رسول کی باتوں پر عمل کرتے ہوے دین اور شریعیت کومان لینا مسلمان ہونے کی دلیل ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمانوں کی تاریخ بہادری سے بھری پڑی ہوٸی ہیں مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ہے یہ نماز کا پابند ہوکر ایسی کوٸی کام نہیں کرتا جس سےکسی کا بھی دل أزاری ہو ارے یہ تویہاں پر وقتی زندگی گزار کر اخرت کی تیاری کرنے لے ایا ہے اس لے ایک سچااور پکا مسلمان کو ہمیشہ دنیا سے زیادہ اخرت کی فکر ہوتی ہے اور وہ اپنے معبود حقیقی کو راضی کرنے کے لے کوٸی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔مگران دنوں ہندوستانی مسلمان مساٸل سے دوچار ہیں انکے دکتی رگ پرہاتھ رکھنے والا کوٸی نہیں ہے انہیں سیاست میں بھیڑکا ایک حصہ بنادیا گیا ہر سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا منگل کو آسنسول کے پولومیدان میں ممتابنرجی ایک سیاسی جلسہ کو خطاب کر آسنسول پہنچی تو اسٹیج پر دوردورتک کوٸی بھی مسلمان نہیں دیکھاٸی دیا ایک کو شامل بھی کیا گیا تو اسے بولنے کی اجازت نہیں ملی منصوبہ بندطریقے سے مسلمانوں کے لیڈران کو بس بھرنے اوربھیڑاکٹھا کرنے کے کاموں میں لگادیا گیا تھا اور ادھر اسٹیج پر ہمارے ترنمول کے دیگرمذاہب کے لیڈران جلوہ افروز ہوکر ممتا بنرجی سے قربت حاصل کرنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی ترنمول کرنے والے مسلمانوں کے لے اس سے بڑی اور شرم کی بات کیا ہوگی کہ پچھم بردوان میں ان دنوں ایک بھی مسلمان رہنما ایسا نہی ہے جو ممتابنرجی سے بات کرتا ہواخر یہاں کے مسلمان کب تک بھیڑکا حصہ بنتے رہے گے اس بابت ترنمول کرنے والے مسلمان لیڈران کو سوچنے کی ضرورت ہے۔
سیاست کے بارے میں یہ تصورکیا جاتا ہے کہ سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے۔ جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔ سیاست کی کٸی اقسام ہوسکتے ہیں جیسے حقوق اوراقتدار کے حصول کے لیے مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی قیادت کو منوانے کے لے وغیروغیرہ۔ہم کہ سکتے ہے کہ سیاست وہ راستہ ہے جس پر چل کر ملک و ملت کی بڑی خدمت کی جاسکتی ہے. کیونکہ اقتدرا کی باگ ڈور حکومت کے ہاتھ میں ہوتی اور ترقی کرنے کے لے حکومت تک پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کے اندرجب تک سیاسی شعور پیدا نہیں ہوگااس وقت تک مسلمانوں کا سیاست میں بھلا ہونے والا نہیں ہے ہمیں سیاست کرنے سے پہلے سیاسی شعور حاصل کرنا ہوگا ورنہ ہم قیامت تک سیاست میں صرف بھیڑ کا حصہ بنتے رہے گےسیاسی قوت بنانے کیلئے متحد ہونا ضروری ہے. منتشر افراد کا کوئی وزن نہیں ہوتا اور مسلمان تو ہر جگہ منتسر ہے ان دنوں ہماری قوم کی سب بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم بولتے زیادہ اور سنتے کم ہے ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جو ہماری سوچ اور سمجھ ہے وہ سب سے بالاتر ہے ان سب چیزوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے خدا نے ہر انسان کو سوچنے اور سمجھنے کا صلاحیت دیا ہے اور سب کے پاس کچھ نا کچھ خوبی ہوتی ہے اس لے سب کو اہمیت دینی چاہیے ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی بےوزنی کی وجہ انتشار اور اپسی رنجش ہیں یاد رکھیے مسلمان جس دن سیاسی میدان میں متحد ہوجائیں گےان کو نظر انداز کرنا اتنا اسان نہیں ہوگا۔پارٹی کا جھنڈا ڈھونے اور بریانی یا پیشہ لیکر سیاسی جلسوں میں جانے کے لے بسیں بھرنےسے اپ کے مسائل کبھی حل نہیں ہوگے ۔سیاسی بصیرت قوت اور اپنی طاقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مجبوری ختم کرنا ہے تو مضبوطی پیدا کرنی ہوگی سیاسی قیادت کے بغیر مضبوطی پیدا نہیں ہوسکتی زندہ رہنا ہے تو میر کارواں بن کر رہوسیاست کے میدان میں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عزم و ہمت اور حکمت و دانائی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے. اقتدار کی کنجی اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس پر پورا بھروسہ اور کامل یقین ہونا چاہیے. اسباب کو اختیار کرنا اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا یہ مومن کی صفت ہوتی ہے دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے ہمیں خواہش سے پہلے قابلیت پیدا کرنی ہوگی اور ہم بھیڑ کا حصہ بن کر قابلیت پیدا نہیں کرسکتے ہیں۔اس لے اگر سیاست میں شناخت بنانی ہے تو سیاست کرنے کا انداز بدلنا ہوگا اور بھیڑکا حصہ بننے سے بھی گریز کرنا ہوگا تب ہی ہم کچھ بن باے گے۔

You may also like

Leave a Comment