مسلمانانِ ہند: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے- تولین سنگھ

ترجمہ:نایاب حسن

دہلی پولیس نے پچھلے ہفتے ان لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے جن پر اس سال فروری میں رونما ہونے والے  نارتھ ایسٹ دہلی کے فسادات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ مگر جتنے لوگوں کے خلاف بھی چارج شیٹ داخل کی گئی یا انھیں گرفتار کیا گیا ہے،تقریباً سارے ہی مسلمان ہیں۔ پولیس کا بیانیہ یہ ہے کہ کچھ جہادی تنظیموں نے مل کر اس فساد کا منصوبہ بنایا تھا ؛تاکہ ٹرمپ کے دہلی میں ورود کے دن یہ سب کرکے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ خراب کی جائے۔ پولیس کی چارج شیٹ کے مطابق اس کا پلاٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تیار کیا گیا تھا اور شاہین باغ میں خواتین کا اجتماع شہریت کے مسلوب ہونے کے خوف سے نہیں تھا؛بلکہ وہ بھی اس جہادی پلاٹ کا حصہ تھا؛لیکن اگر پولیس کی اس منطق کو مان لیں تو ہم اس فساد میں ۵۳مسلمانوں کے جاں بحق ہونے کی کیا توجیہ پیش کریں گے؟زیادہ تر مسلمانوں کی ہی پراپرٹی کیوں تباہ کی گئی؟ مسجدوں پر کیوں حملے کیے گئے، جبکہ ایک بھی مندر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا دہلی پولیس کو کورٹ آف لا میں جواب دینا ہوگا،مگر اس حیثیت سے کہ اُن دنوں میں دہلی میں تھی اور اس حیثیت سے کہ میں نے دوسرے بہت سے رپورٹرز سے زیادہ ہندو مسلم فسادات کو رپورٹ کیا ہے، میں بتاتی ہوں کہ  کیا ہوا تھا؟اور میں آپ پر چھوڑتی ہوں کہ آپ دیکھیں  کہ ہم مکمل فیصلہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں یا اسے توڑمروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میرا بیانیہ یہ ہے کہ پندرہ دسمبر ۲۰۱۹ کو جامعہ ملیہ سے جو احتجاج شروع ہوا اور سڑکوں ، گلیوں تک پہنچا اس کا ایک وسیع تر پس منظر تھا اور وہ یہ کہ مودی نے جوں ہی دوسری بار لوک سبھا الیکشن میں کامیابی حاصل کی،انھوں نے اس ایجنڈے پر عمل کرنا شروع کردیا جس کا واحد مقصد(عالمی سطح پر محسوس ہو یا نہ ہو)’نیو انڈیا‘میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری باور کروانا تھا۔

چنانچہ مودی کے پہلے دور حکومت میں جس لنچنگ کی شروعات ہوئی تھی اس کا دائرہ گئوکشی یا بیف تک محدود نہیں رہا۔ ان کا دوسرا دور حکومت شروع ہونے کے محض دوہفتے بعد تبریز انصاری نامی معمولی چور کو جھارکھنڈ کے ایک گاؤں میں پول میں باندھ کر پیٹا گیا،ایک بھیڑ اسے مارنے کے ساتھ  جے شری رام کے نعرے لگانے پر بھی مجبور کرتی رہی۔ پھر جب وہ پولیس کے ہاتھ لگا تو اسے ہسپتال پہنچانے کی بجاے اسی ناگفتہ بہ  حالت میں چوری کے الزام میں تھانے لے جایا گیااور بالآخر چار دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کے قاتلوں کو اپنی اس انسانیت سوز حرکت پر ذرہ برابر پشیمانی نہیں تھی،بلکہ انھوں نے فخریہ اپنی وحشت و بربریت کی ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کیا،مگر اس سب کے باوجود پولیس نے کسی کے خلاف بھی ایکشن نہیں لیا۔ انصاری کی لنچنگ اس حیوانیت کی یاددہانی کروانے والی تھی،جو موجودہ ہندوستان کے اندرون میں موجود تھی، اس قسم کے عوامی قتل کا سلسلہ اب عام ہے اور یہ اتنا زیادہ ہونے لگا ہے کہ اب نہ کسی کو اس پر حیرت ہوتی ہے ،نہ خوف محسوس ہوتا ہے۔

یہ سب چل ہی رہا تھا کہ پارلیمنٹ نےجدید قوم کی حیثیت سے ہمارے ملک کی تاریخ میں  پہلا تفریق کرنے والا قانون پاس کیا تو مسلمانوں نے نوٹس کیا کہ مودی کا دوسرا دورِ حکومت ان کے لیے تازہ خوفناک حقیقت لے کر آیا ہے ۔شہریت کو ان کے خلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے اور سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ این آرسی کی سمت میں پہلا قدم ہے۔ وزیر داخلہ نے بارہا کہا بھی کہ این آر سی ہر حال میں ہوگی ، مگر جب مسلمان سڑکوں اور گلیوں میں احتجاج کرنے نکلے تب وزیر اعظم کو یہ کہنا پڑا کہ فی الحال حکومت کا این آرسی لاگو کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ان کی بات پر یقین نہیں آیا ؛کیوں کہ اگلے ہی دن این پی آر کا اعلان کردیا گیا اور وہ بھی کئی تشویشناک پہلو لیے ہوئے تھا۔

ترنگا جھنڈا لہراتے ہوئے اور دستورِ ہند کی کاپی ہاتھوں میں لیے مسلمان ملک کے مختلف شہروں اور یونیورسٹیوں میں احتجاج کرتے رہے۔اس کی شروعات دسمبر دوہزار انیس میں اس وقت ہوئی تھی جب احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دہلی پولیس جامعہ ملیہ کے کیمپس میں جا گھسی،لائبریری اور ہاسٹل میں جا کر طلبہ و طالبات کو زدوکوب کیا ،اسی کے بعد شاہین باغ احتجاج کی بھی شروعات ہوئی تھی۔ موسمِ سرما کے یخ بستہ شب وروزدھرنے  پر بیٹھی خواتین کا یہ کہنا تھا کہ انھیں اپنی شہریت چھن جانے کا خدشہ ہے۔انھوں نے مجھ سے کہا کہ ایسے لاکھوں غریب مسلمان ہیں جن کے پاس ایسا کوئی دستاویز نہیں کہ وہ اپنی شہریت ثابت کر سکیں۔ سی اے اے ان کے لیے مسئلہ نہیں ہے،اصل مسئلہ متوقع این آر سی ہے۔

وہ چاہتی تھیں کہ وزیر داخلہ سے بات کرکے ان کے سامنے اپنے خدشات بیان کریں ۔مگر اسی زمانے میں دہلی میں الیکشن تھا؛چنانچہ وزیر داخلہ نے  مظاہرین سے بات کرنے کی بجاے شاہین باغ کو باغیوں اور جہادیوں کا گڑھ قرار دیا اور اپنی انتخابی تقریروں میں اس کے خلاف اور بھی بہت سی باتیں کیں۔اس سے دوسرے وزرا کو بھی حوصلہ ملا اور انوراگ ٹھاکر نے عوامی جلسے میں لوگوں سے’’گولی مارو سالوں کو”جیسے نعرے لگوائے۔ یہ سوال درست ہوسکتا ہے کہ کون یہ فیصلہ کرے گا کہ کون باغی ہے اور کون باغی نہیں ہے؟مگر مودی کے وزرا نے عملی طورپر یہ واضح  کر دیاکہ جو لوگ بھی سی اے اے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں وہ غدار ہیں ،ملک دشمن ہیں۔ فساد سے ایک دن پہلے ہی بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے احتجاجی مسلم خواتین کو دھمکی دی تھی کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں ،ورنہ ٹرمپ کے جانے کے بعد انھیں سخت ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ عین ممکن ہے کہ فساد شروع ہونے کے بعد اس میں شدت پسند مسلمان بھی شامل ہو گئے ہوں یا عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین کے گھر کی چھت پر فائر بم وغیرہ پائے گئے ہوں اور اس فساد میں بہت سے ہندو بھی مارے گئے ہوں ،مگر اس کا اصل نشانہ مسلمان تھے۔ دہلی کا ماحول ان کے خلاف اس حد تک نفرت آمیز ہوگیا کہ شروع میں کورونا پھیلنے کا سارا الزام تبلیغی جماعت کے سر تھوپنے کی کوشش کی گئی۔

کچھ دنوں سے  مسلمانوں کے خلاف چھیڑی گئی نفرت انگیز مہم میں گرچہ عارضی طورپر کورونا کی وجہ سے تھوڑی کمی ہوئی ہے،مگر ہمارے زہریلے نیوز چینلز پھر بھی وقتاً فوقتاً اس کے اظہار سے بازنہیں آرہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ بند نہیں ہوا تو دہلی جیسے واقعات دوسرے شہروں میں بھی رونما ہوسکتے ہیں۔

(اصل مضمون روزنامہ انڈین ایکسپریس میں ۲۰ ستمبر کو شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*