مسلمانانِ ہند کرو یا مرو کی حالت میں- فضیل احمد ناصری

 مسلمانانِ ہند کرو یا مرو کی حالت میں- فضیل احمد ناصری

آج کل سی اے اے کے خلاف زبردست مظاہرے جاری ہیں۔ ملک ہی میں نہیں، بلکہ بیرونِ ملک میں بھی۔ ہر روشن دماغ اور محبِ وطن ہندوستانی بے چین ہے اور مظاہرے کے ذریعے شدت سے اس کا اظہار کر رہا ہے۔ سی اے اے: سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ کا مخفف ہے۔ دونوں ایک ہی معنیٰ کی دو مختلف تعبیرات ہیں۔ سی اے بی کو بہت سے افراد کیب بھی کہتے ہیں۔ اسی کو اردو میں شہریت ترمیمی قانون بھی کہا جاتا ہے۔ دونوں ایوانوں سے منظوری اور صدر جمہوریہ کے دستخط سے پہلے یہ سی اے بی تھا، ان مراحل سے گزرنے کے بعد یہی سی اے بی اب سی اے اے ہو چکا ہے۔ یہ حکومتِ ہند کا نیا تیار کردہ قانون ہے، جو اسی ماہ کی 11 تاریخ کو دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور پھر صدر جمہوریہ کے بلا تاخیر دستخط کے بعد باقاعدہ قانونی شکل بھی اختیار کر گیا۔ اس بل کی منشا یہ ہے کہ افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آ کر جو بھی غیر مسلم 2014 سے پہلے سے یہاں پناہ گزیں ہوا، حکومت اسے شہریت دے گی۔ اس قانون کی رو سے ان ممالک سے آئے ہوئے ہندو، جین، بدھ، سکھ، عیسائی اور ہر وہ شخص ہندوستانی شہریت پا سکے گا، جس کا کلمۂ طیبہ سے کسی بھی طرح کا تعلق نہیں۔ اس کا سادہ اور واضح مطلب یہ کہ اس قانون کی زد میں وہ سارے لوگ آئیں گے جن کا اسلام سے کسی بھی طرح کا کوئی رابطہ ہے۔ عربی فارسی ناموں والے بھی اس بل کے شکار بنیں گے، چناں چہ فقط مسلمان ہی نہیں، قادیانی، مہدوی، شکیلی، شیعہ پر بھی اس قانون کا ہتھوڑا چلے گا۔ یہ خالص متعصبانہ بل ہے اور ہندوستانی روح کے قطعی مغائر۔
سی اے بی یا سی اے اے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سیاہ قانون کی آخر ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ تو اس کا جواب سیدھا سا ہے: آسام این آر سی کی ناکامی کو چھپانا ۔ یاد ہوگا کہ اپنی فطرت کے مطابق بھاجپا ہمیشہ یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ بنگلہ دیشی سرحد سے اتصال کے باعث آسام میں گھس پیٹھیوں کی بڑی تعداد پناہ گزیں ہے۔ انہیں اس کی سزا دی جانی چاہیے۔ گھس پیٹھیے یعنی مسلمان۔ اظہارِ نفرت کا یہ بھی ایک استعارہ ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر این آر سی کا عمل جاری کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق وہ سارے آسامی ہندوستانی شہری ہوں گے جو 24 مارچ 1971 سے پہلے سے آسام میں رہائش پذیر ہیں، مگر جب قومی رجسٹر میں اندراج شروع ہوا تو خلافِ قیاس 1951 تک کے کاغذات مانگے گئے۔ ساتھ ہی آبا و اجداد کی تفصیلات بھی۔ کم علم اور جاہل عوام کے لیے یہ صورتِ حال شورشِ محشر سے کم نہ تھی۔
این آر سی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کا مخفف ہے، جس کا معنیٰ ہے: قومی شہری رجسٹر ۔ یہ عمل صوبۂ آسام میں 2015 میں شروع ہوا اور کئی مرحلوں میں اختتام کو پہونچا۔ رجسٹر کی آخری فہرست بھی جب برآمد ہو گئی تو پتہ چلا کہ اس ریاست میں غیر ہندوستانی مقیمین کی تعداد 19 لاکھ کو پہونچ رہی ہے۔ ان میں سے 12 لاکھ تو صرف ہندو ہی نکلے، جب کہ مسلمانوں کی تعداد 7 لاکھ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ مضحکہ خیز بات یہ کہ ہندوستان کے سابق صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کی اولاد بھی اپنی شہریت ثابت نہ کر سکی۔ کئی سابق فوجی بھی غیر ہندوستانی قرار پائے۔ اس فہرست نے ان لوگوں کو چونکا کر رکھ دیا جو یہ کہا کرتے تھے کہ یہاں مسلم گھس پیٹھیے بڑی تعداد میں ہیں۔ وہ لوگ بوکھلا کر چارہ جوئی کرنے لگے۔ انہوں نے سوچا کہ اس طرح تو مسلمان سے زیادہ غیر مسلمین ہی زد میں آئیں گے، اس لیے سی اے بی کا جن تخلیق کیا گیا اور وہ عمل جو صرف آسام ہی کے لیے جاری کیا گیا تھا، اب پورے ہندوستان میں اس کے نفاذ کی باتیں کی جانے لگیں۔
سی اے اے کیا ہے؟
رواں سال ہوئے لوک سبھا انتخابات کے موقعے پر امت شاہ کئی مرتبہ سی اے بی کی بات کر چکے ہیں اور صاف صاف کہا ہے کہ این آر سی سے قبل اسے لایا جائے گا۔ ان تین ممالک سے آنے والے جتنے بھی غیر قانونی پناہ گزیں (شرنارتھی) غیر مسلم ہوں گے، پہلے انہیں سی اے بی کے ذریعے ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔ اس کے بعد این آر سی نافذ العمل ہوگا۔ جس کے کاغذات مطلوبہ معیار تک نہیں پہونچ سکیں گے، اسے گھس پیٹھیا یعنی غیر قانونی رہائشی مان کر ڈٹینشن سینٹر میں ڈال دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ سینٹر صرف مسلمانوں کے لیے ہوگا، کیوں کہ غیر مسلموں کو شہریت پہلے ہی دے دی جا چکی ہوگی، جب کہ مسلمان امت شاہ کے بیان اور منظور شدہ قانون کے مطابق ایسی کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
این آر سی کیا ہے؟
این آر سی اور سی اے بی میں چولی دامن اور گھر دروازے کا تعلق ہے۔ سی اے بی لایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ غیر مسلموں پر کوئی آنچ نہ آنے پائے اور وہ این آر سی کے مراحل سے بآسانی گزر جائیں، جب کہ نامکمل کاغذات والے یا دستاویز سے محروم مسلمانوں کے پاس ڈٹینشن سینٹر کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
این آر سی کا مطلب ہے قومی شہری رجسٹر۔ ہندوستان میں قیام پذیر سارے ہی اقوام سے کاغذات مانگے جائیں گے۔ غیر مسلموں سے صرف دستاویز، خواہ وہ نئی ہو یا پرانی، مگر مسلمانوں سے درج ذیل دستاویزات ضرور طلب کیے جائیں گے:
زمین کی ملکیت کے کاغذات
پیدائش کا سرٹیفکیٹ
گورنمنٹ اسکول سرٹیفکیٹ
بینک اکاؤنٹ
ملازمت کے کاغذات
شادی کے سرٹیفکیٹ
پرانی ووٹر لسٹ وغیرہ
این آر سی سے پیش آنے والے نقصانات
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے این آر سی اس لیے ناقابلِ قبول ہے کیوں کہ یہ ان کے حق میں تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت یہ کاغذات کہاں سے لائے گی؟ جب ایک دو ماہ کی دستاویز بڑی مشکل سے مل پاتی ہے تو 1951 تک کے کاغذات اسے کیسے مل سکیں گے؟ آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی این آر سی میں نہیں چلے گی۔ پین کارڈ بھی نہیں چلے گا۔ پھر ایک بڑا مسئلہ یہ سرکاری کاغذات میں اندراجات بھی خامیوں سے خالی نہیں۔ کسی کاغذ میں ایک املا ہے اور دوسرے میں اس سے مختلف۔ پھر وہ اس مشکل سے کیسے نجات پا سکے گی؟ رشوت کا بازار گرم ہوگا وہ الگ۔
ملک کو سی اے بی اور این آر سی سے جو نقصانات ہوں گے ان کا اندازہ لگانا بھی قطعی مشکل ہے۔ آسام کے تین کروڑ تیس لاکھ افراد کی این آر سی میں ہی دو ہزار کروڑ روپے صرف ہوئے تھے۔ پورے ملک میں این آر سی اگر نافذ ہوئی تو ایک ارب تیس کروڑ افراد کے پیچھے معاشی تنگی سے پریشان ملک پھر اس طرح گرے گا کہ اٹھنا محال ہو جائے گا۔ رہے مسلمانوں کے خصوصی نقصانات، تو ان کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ خدا نخواستہ بے شمار افراد ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ وہ جب دیکھیں گے کہ مطلوبہ کاغذات ان کے ہاتھوں میں نہیں ہیں تو سی اے اے میں شمولیت کے لیے خود کو غیر مسلم ظاہر کریں گے۔ اس طرح ارتداد کی بھیانک وبا ملک بھر میں پھیل پڑے گی۔ جن اصحابِ عزیمت کو اپنے ایمان کی پڑی ہوگی انہیں ڈٹینشن سینٹر جانا پڑے گا۔ یہ ڈٹینشن سینٹر کیا بلا ہے! ایک جیل ہے۔ جی ہاں! جیل۔ مشکلات اور عقوبتوں سے بھرپور۔ جانوروں سی زندگی ہوگی۔ کسمپرسی کا عالم ہوگا۔ ہر شخص موت کا تمنائی ہوگا۔ اسے نہ تو ووٹ کا حق حاصل ہوگا۔ نہ کسی طرح کی شہری مراعات۔ اس کی ساری جائیداد حکومت ضبط کر لے گی۔ حج عمرے کے دروازے اس پر بند ہو جائیں گے۔ سفر پر مکمل پابندی لگ جائے گی۔ انسانی حقوق کا کوئی حبہ بھی اس کے تصرف میں نہ ہوگا۔ غرض یہ ڈٹینشن جیل ٹینشن سے بھر پور اور تناؤ سے معمور ہوگی۔
سی اے اے سیاہ قانون ہے
اس لیے ہر روشن نظر ہندوستانی کی نظر میں سی اے بی یا سی اے اے سیاہ قانون ہے۔ اس کے نقصانات دور رس اور بڑے تباہ کن ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر اگرچہ مسلمانوں پر ہی پڑے گا، مگر دوسری غیر مسلم اقوام بھی اس سے اچھوتی نہیں رہیں گی۔ آگے چل کر سکھوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ پھر ان کے بعد عیسائیوں کو۔ پھر دلتوں کو۔ باری باری ان آفات سے سبھی گزریں گے۔ اگر کوئی غیر مسلم یہ سمجھتا ہے کہ صرف مسلمان ہی اس کے شکار ہوں گے تو وہ ہوشیار ہو جائیں۔ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے یہ لوگ ساری حدوں سے گزریں گے۔ اس لیے براہِ کرم اس قانون کی سنگینی کو سمجھیں۔ موت تو ڈٹنیشن سینٹر میں بھی آئے گی، کیوں نہ احتجاج کرتے کرتے ہی عزت کی موت مر جائیں!!
اس قانون کی انہیں ہمت کیسے ہوئی؟
بھاجپائی حکومت آتے ہی اسلام پر حملے لگاتار شروع ہو گئے۔ سب سے پہلے ہجومی تشدد آیا۔ مسلمان سڑکوں اور چوراہوں پر غیر محفوظ ہو گئے۔ ان کی جانیں گاجر مولی کی طرح ضائع کی جاتی رہیں۔ یہ کارروائی عوامی سطح پر چلی۔ مسلمان خاموش رہے۔ اس کا سلسلہ رکا تو حکومت نے مسئلۂ طلاق کو اپنے نشانے پر لیا۔ لوک سبھا میں کامیابی اور راجیہ سبھا میں شکست کے بعد آر ڈی نینس لایا گیا۔ مسلمان یہاں بھی خاموش ہی رہے۔ کشمیر کی دفعہ 370 ختم کر دی گئی، جس کے نتیجے میں کشمیریوں کا جینا عذاب بن گیا۔ ایمان والے پھر بھی مہر بلب رہے۔ حوصلہ بڑھا تو بابری مسجد کا نامعقول فیصلہ بھی آیا اور ساری ناقابلِ شکست دلائل کے باوجود مسجد ہمارے ہاتھوں سے جاتی رہی۔ مسلمان اس پر بھی بیدار نہ ہوئے، بلکہ ان سارے امور پر ہمارے بعض بڑوں نے کھل کر حکومت کی تائید بھی کی۔ جب لگاتار یہ سارے امور انجام پا رہے ہوں اور مسلمان بے حس و حرکت پڑے ہوں تو دشمنانِ اسلام کے بڑھتے قدم کیوں پیچھے ہٹیں گے۔ نتیجہ یہ کہ جب انہوں نے اچھی طرح تول لیا کہ اسلام کی نام لیوا یہ جماعت جھاگ بن چکی ہے اور اس میں روح نام کی چیز نہیں تو سب سے آخری کام یعنی اس کا صفایا کرنے کا بند و بست بھی کر لیا۔ اس پورے عرصے میں ہماری حالت فارمی مرغوں جیسی رہی، جو کسی بھی موقعے پر آواز نہیں نکالتے۔ ان کی حلق سے کوئی صدا اسی وقت نکلتی ہے جب ان پر چھریاں پھیری جا رہی ہوں۔ اب جب کہ ہمارے ہاتھ پاؤں اچھی طرح بندھ چکے ہیں اور این آر سی نامی چھری ہمارے گلے کے قریب ہے تو چیخ رہے ہیں۔ مسلم قوم کی نیند اور ایسی بے ہوشی کی!!!
یہ جنگ کا آخری محاذ ہے
مسلمانانِ ہند کے خلاف اسلام دشمن عناصر کی تحریکیں چلتے چلتے اب آخری دور میں ہیں۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے جنگ کا آخری محاذ ہے۔ ہم کرو یا مرو کی حالت میں ہیں۔ آج اگر اس محاذ پر اہلِ ایمان نے زورِ بازو اور شجاعت و سرفروشی سے کام نہیں لیا تو ان کا نام و نشان اس ملک کے صفحات سے مٹا دیا جائے گا۔ مقامِ شکر ہے کہ اہلِ اسلام کا ایک بڑا طبقہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو چکا ہے۔ یہ احتجاجات جو اب پورے ملک میں ہو رہے ہیں، مسلمانوں کی اسی بیداری کی مثال ہیں۔ احتجاج کی یہ چنگاری طلبۂ دیوبند سے شروع ہوئی، پھر جامعہ ملیہ دہلی میں اس نے شعلے کی شکل اپنا لی۔ یہی شعلہ جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ پہونچا تو اس نے آتش فشاں کا روپ دھار لیا۔ اب یہ جنگل کی آگ بن کر کشمیر سے کنیا کماری تک پھیل چکا ہے۔ پورا ملک سراپا احتجاج ہے اور سی اے بی و این آر سی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار۔
فارسی کا مقولہ ہے: عدو شرے بر انگیزد کہ خیرے مادراں باشد، دشمن کبھی کبھار کوئی ایسا شر ابھار دیتا ہے جس میں فریقِ مخالف کے لیے ماؤں جیسی خیر پوشیدہ ہوتی ہے۔ اللہ کا ہزارہا شکر کہ یہاں بھی وہی ہوا۔ وہ کلمہ گو جو کل تک ٹکڑوں میں تقسیم تھے، کوئی بریلوی تھا، تو کوئی دیوبندی۔ کوئی مودودی تھا، تو کوئی غیر مقلد۔ سب فرقے اپنی اپنی ڈفلی بجانا بھول چکے۔ اب سارے کلمہ خواں فقط مسلمان ہیں اور سب باہم شیر و شک۔ اختلافات بھلا دیے گئے۔ نفرت انگیز تقریروں کا دور ختم ہوا۔ فرقہ بندی کی دیوارِ چین ڈھا دی گئی۔ سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے۔ ماضی میں ایسی ہزار کوششیں کی گئی تھیں، مگر ثمر آور نہ ہو سکیں۔ وقت آیا تو سارے مسلم فرقے بغیر کسی کاوش کے ہی ایک جھنڈے تلے آ گئے۔
ان احتجاجات کا ایک بڑا شان دار پہلو یہ بھی رہا کہ مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ غیر مسلم بھی کھڑے ہو گئے۔ حالانکہ امت شاہ کی تقریریں ان کے حق میں تھیں، مگر غیر مسلموں کا ایک بڑا حصہ شاہ کے جھانسے میں نہیں آیا۔ وہ جانتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں جمہوریت کے خلاف ہیں۔ ملکی آئین سے ٹکرا رہی ہیں۔ ہندوستان کی خوب صورتی متاثر ہو رہی ہے۔ محبت و ہم آہنگی کی جگہ نفرت و تعصب کے ببول اگیں گے۔ اس لیے احتجاج کے لیے میدان میں وہ بھی کود پڑے اور پورے کر و فر کے ساتھ۔ بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اور راجستھان کے وزیرِ اعلیٰ اشوگ گہلوت بھی ریلیاں کر رہے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتیں بھی بر سرِ پیکار ہیں۔ حکومت نے ہر ممکن کوشش کہ اسے ہندو بنام مسلم کا مسئلہ بنا کر مسلمانوں کو تنہا کر دے، مگر وہ اس مہم میں ابھی تک ناکام ہے۔ بھاجپا کی چال سے پریشان ساری جماعتیں دل جمعی کے ساتھ سی اے بی اینڈ کمپنی کے خلاف پوری قوت سے نبرد آزما ہیں۔ پولیس کی لاٹھیاں اور ڈنڈے کھا رہی ہیں، مگر ٹس سے مس نہیں ہو رہیں۔ اگر چہ ملک بھر میں 20 مظاہرین کی جانیں جا چکیں۔ سیکڑوں زخمی ہیں۔ ہزاروں پر مقدمے بھی درج ہو چکے، مگر مظاہروں کی یہ آگ مزید شدت پکڑ رہی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ مسئلہ قومی سے گزر کر اب بین الاقوامی بھی ہو چکا۔ چناں چہ مظاہرے صرف خاکِ ہند تک ہی محدود نہیں، عالمی سطح پر جاری ہیں۔ امید یہی ہے کہ یہ سلسلہ گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتا جائے گا، تا آں کہ یہ سیاہ بل اپنے بل میں نہ گھس جائے۔
اور قائدین دیر سے جاگے
اس قضیے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ رہا کہ بل آیا تو مسلم قائدین یہ کہہ کر خاموش ہو گئے کہ اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ یعنی وہی افیون زدہ فکر و خیال۔ وہی فرسودہ اور گھسی پٹی باتیں۔ بعض قائدین تو صاف صاف کہہ بیٹھے کہ اس بل کا ان کی تنظیم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ بڑے بڑے حلقوں اور لمبے چوڑے القاب و خطابات والی شخصیات مصلحت کے لحاف اوڑھ کر سو گئیں۔ المیہ یہ کہ یا تو قائدین اتنے زیادہ تھے کہ شمار سے باہر۔ یا پھر ایسے گم ہوئے کہ گویا کبھی رہے ہی نہیں۔ اکابرِ امت کی یہ مصلحت بردار بز دلی جوانوں کو سمجھ میں آ گئی اور عین ایسے وقت، جب انہیں لگا کہ بڑے بڑے مہرے حجرہ نشیں ہو چکے ہیں اور ان کے جوش پر اوس پڑ چکی ہے، نوجوان اپنے پنجوں پر کھڑے ہوئے اور انقلاب کا بگل پھونک دیا۔ اس انقلابی اقدام نے انہیں نقصان بھی کافی پہونچایا، مگر وہ اپنی حکمت و شانِ مومنانہ سے ایسے تاریخی موڑ پر لے آئے کہ لوگ جاگ گئے۔ ہندوستان جاگ گیا۔ اکابر بھی حامی بن گئے۔ کاش کہ امت کے بڑے نوجوانوں سے پہلے اٹھتے تو ان کے جبہ و دستار داغ دھبوں سے پاک رہتے۔ اس احتجاج کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی قائدین کی تقدیس کا ضرور مذاق اڑایا جائے گا۔ خدا کرے کہ ایسی بز دلی اگلی نسل کبھی نہ دیکھے۔
تضاد سے بھرپور صفائی
احتجاج اور لگاتار مظاہروں کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی اب وضاحت دیتے پھر رہے ہیں کہ این آر سی کا ہوا اپوزیشن کا کھڑا کیا ہوا ہے۔ حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، جب کہ امت شاہ پارلیمنٹ میں صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ سی اے بی اور این آر سی آسام کے بعد پورے ملک کے لیے ہوگی۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار دونوں ایوانوں میں بل کی حمایت میں کودے اور جب دیکھا کہ پورا بہار ان کے خلاف جا چکا ہے تو اب کہہ رہے ہیں کہ این آر سی بہار میں نہیں آئے گی۔ یہ محض ابلہ فریبی ہے۔ نتیش کمار ہوں یا کسی بھی صوبے کا کوئی وزیرِ اعلیٰ، اس کے دعوے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی حکومت آج ہے، کل نہیں رہے گی۔ لازماً پھر وہی ہوگا جو شدت پسند چاہ رہے ہیں۔ اس لیے احتجاج جاری رہنا چاہیے، پوری طاقت اور مکمل امن کے ساتھ۔ یہ مظاہرے امن کے ساتھ دیر تک جاری رہے تو رات کی زبردست تاریکی ضرور چاک ہوگی اور طلوعِ صبح کی نوید جلد ہی سنائی دے گی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*