مسلمان ، کسان اور شاہ دولے کے چوہے-مشرف عالم ذوقی

 

میں مسلمانوں کو الگ کر کے کسانوں کے بارے میں نہیں سوچ سکتا ۔ بیس کروڑ سے زاید مسلمانوں کی آبادی اگر اس تحریک کا حصّہ بنتی ہے تو انقلاب کی آندھی کو فسطائی طاقتیں روکنے میں ناکام ثابت ہوں گی۔ ایک میڈیا والے نے ایک کسان سے پوچھا کہ میاں ، لنگر کب تک چلے گا ؟ کسان نے جواب دیا ٥٥٠ برس ہو گئے لنگر چل رہا ہے۔ جب تک گرو کی مرضی ہوگی۔ اب کسانوں نے حکمران طبقے کی بے حسی دیکھ لی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فسطائیت کی جڑوں کو اس ملک سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ کسان جب بھی ایسا کہتے ہیں ، ان کا اشارہ اس بات پر ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے ساری طاقت ہندو مسلمانوں پر خرچ کی ۔نفرت تقسیم کی اور انگریزوں کی طرح یہ کالے انگریز تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب بھی نشے میں ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہندو راشٹر کا خواب اپنا کام کرتا رہے گا۔ وہ ہندوستان گم ہے جس کو چےگویرا نے دیکھا تھا ، مارٹن لوتھر کنگ نے دیکھا تھا ،گاندھی کی آنکھوں سے اوباما نے دیکھا تھا ، گاندھی کے کسان سڑکوں پر ہیں، گاندھی نے کہا تھا۔ہندو مسلمان میری دو آنکھیں ہیں۔ گاندھی کا ملک تبدیل ہوا ، گوڈسے کی آنکھیں حکمران طبقے کی آنکھیں بن گئیں۔

شاہ دولہ کے چوہے – ان چوہوں کی کتنی ہی کہانیاں میں نے بچپن میں سن رکھی تھیں۔ شاہ دولہ کے چوہوں کے سر چھوٹے ہوئے اور منہ بڑے۔ شاہ دولہ کے نام پر یہ گلی بازاروں اور دردر بھیک مانگتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ یہ بیشتر چوغے میں ہوتے ہیں۔ ایک ملکہ شاہ دولہ سے ملنے پہنچی اور کہا کہ میری کوئی اولاد نہیں ہے، خدا مجھ پر رحم فرمائے۔ شاہ دولہ کی دعا قبول ہوئی۔ ملکہ کو اولاد پیدا ہوئی مگر بچے کا سر عام بچوں سے قدرے چھوٹا تھا۔ شاہ دولہ کے چوہوں کے بارے میں ایک خیال یہ تھا کہ ان کے سروں کو مخصوص شکل میں ڈھالنے کے لیے ان پر لوہے کے کنٹوپ چڑھا دیے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ چوہے دماغی طورپر معذور ہوجاتے ہیں۔ میرے آس پاس جو چوہے اچھل رہے ہیں ، ان سب کے سروں پر کنٹوپ چڑھے ہوئے ہیں اور ایسا ہی ایک کنٹوپ میں اس چہرے پر بھی دیکھ رہا ہوں جو ملک کو فروخت کرنے کے بعد مکیش امبانی کے پوتے سے ملنے کے لئے اسپتال تو جاتا ہے لیکن کسانوں کی عرضی سننے کے لئے اس نے اپنے کان بند رکھے ہیں۔ جس نے سات برس مسلم مخالف اکثریتی معاشرہ قائم کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ کسانوں کی تحریک اور مسلمانوں پر زیادتی کی کہانیوں کو لے کر مجھے اس وقت وہ چہرے یاد آ رہے ہیں ، جو انقلاب کی قندیل ثابت ہوئے اور آج بھی ہمیں راستہ دکھا رہے ہیں۔

چے گویرا نے ہندوستان کا سفر کیا۔ اس وقت وہ کیوبا حکومت میں وزیر تھا۔ گویرا نے 1959 میں ہندوستان کے دورے کے بعد ایک رپورٹ لکھی تھی جو انہوں نے فیڈل کاسترو کو پیش کی تھی۔اس رپورٹ میں لکھاکہ نہرو نے ہمیں قیمتی مشورے دیے ۔ ہندوستان کے سفر سے ہمیں سیکھنے کے لئے بہت کچھ ملا۔ ہم نے جمہوریت کی طاقت کو پہچانا اور یہ بھی جانا کہ معاشی ترقی کا انحصار اس کی تکنیکی ترقی پر ہے اور اس کے لئے زراعت کے شعبوں کی تشکیل بہت ضروری ہے ۔چے گویرا نے آگے یہ بھی لکھا کہ ‘عوامی عدم اطمینان کے زبردست پرامن مظاہروں نے انگریزی استعمار کو آخرکار ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا ۔ ڈیئر چےگویرا! عدم اطمینان کے مظاہرے اب بھی ہو رہے ہیں ،انگریزوں کی جگہ کالے انگریز آ گئے ،اب تم آتے تو تمہیں جمہوریت کی لاش سے گزرنا ہوتا، زراعت کے شعبوں کو امبانی کے حوالے کر دیا گیا اور مسلمانوں کو کو ہندو راشٹر سے باہر۔

چے نے یہ بھی کہاتھا کہ کوئی پیدائشی انقلابی نہیں ہوتا ،انقلابی صورتحال کو بدلنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے ، سب کو متحد کرتا ہے اور اس عمل میں ، خود کو بھی تبدیل کرتا ہے۔ جدوجہد کی تپش اس کو جھنجھوڑ دیتی ہے اور اسے ایسی چیز سے بھر دیتی ہے جو پہلے نہیں تھی، کیا بیس کروڑ کی آبادی یہ نہیں کر سکتی ؟

مارٹن لوتھر کنگ جونئر امریکہ میں شہری حقوق کی ایک بڑی تحریک سے وابستہ ہوا ۔ 28 مارچ 1963کواس نے ابراہم لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکرایک تقریر کی ، جس کا عنوان تھا ” میں نے ایک خواب دیکھا ہے’’ یہ تقریر امریکی شہری حقوق کی تحریک کےلئے معجزہ ثابت ہوئی ۔ اس تقریر اور مارچ کی وجہ سے کنگ اسی سال ٹائم پرسن آف دی ایئر بن گئے۔ وہ سن 1964 میں نوبل انعام جیتنے والے کم عمر شخص بھی بن گئے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنے دورہ ہند کے بعد لکھا "اگر ہم ہندوستان کی روح کو بچانے میں ان کی مدد کرسکتے ہیں تو ہم اپنی جان کو بھی بچانے کے قابل ہوجائیں گے۔.میں عدم تشدد کے ذریعہ اپنے لوگوں کو آزادی دلانے کے عزم کے ساتھ امریکہ واپس آیا ہوں۔ ہندوستان کے دورے کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ عدم تشدد کے بارے میں میری تفہیم میں اضافہ ہوا اور اس سے میری وابستگی مزید گہری ہوگئی۔گاندھی کے عدم تشدد کا فلسفہ کھو گیا، تشدد عام، ملک فروخت، حل یہ کہ ہم کسانوں کی تحریک سے وابستہ ہوں۔

پرانے ہندوستان سے سیکھنے والے ، سبق لینے والے ، نئے ہندوستان کے نقشے سے خوف زدہ ہیں۔ اس نئے ہندوستان کو کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے ؟ ملی تنظیمیں سوئی ہیں۔ حزب مخالف کے پاس کمزور چہرے ہیں،لیکن کسان تحریک میں طاقت ہے۔ یہ آندھی اسی طرح قائم رہی تو بنیاد پرستوں کی بنیادیں ہل جائیں گی ۔