مسلمان ہوش سے کام لیں کہ ابھی وقت ہے! – رشید ودود

1857 کے بعد مسلمان دو گروپوں میں بٹ چکے تھے، پہلا گروپ حکومت وقت سے متصادم تھا تو دوسرا گروپ متعاون، متصادم گروپ، اس کے ارکان اور اس کے کارناموں سے ہم حتی المقدور واقف ہیں لیکن متعاون گروپ کے تعلق سے ہماری اکثریت ناواقف ہے، اگر تھوڑی بہت واقفیت ہے بھی تو زیادہ سے زیادہ یہ کہ متعاون گروپ انگریزوں کا ایجنٹ تھا اور بس، جبکہ یہ گروپ بھی جامع الحیثیات تھا اور اس گروپ کے فکر و نظر کے بھی مختلف گوشے ہیں، ان گوشوں سے اگر ہماری واقفیت ہو جائے تو ہم بھی جلد کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں-

متعاون گروپ کے سب سے اہم نمائندے سر سید احمد خاں تھے، سر سید احمد خاں کو اُس تدبر کا بچا کھچا حصہ ملا تھا جس کی بدولت ہندوستان میں مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی تھی، سر سید نے حالات کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ بازی پلٹ چکی ہے، اب ہم اس پوزیشن میں بھی نہیں ہیں کہ حکومت سے متصادم ہو سکیں، اسباب بغاوت ہند لکھ کر انہوں نے برسر اقتدار طبقے کی غلط پالیسیوں پر تنقید کیا، اس کے علاوہ وہ مسلمانوں کو بھی تصادم سے تعاون کی طرف لے آئے، ایسے میں جب کانگریس کی تشکیل ہوئی تو سر سید چونک اٹھے، انہوں نے پوری شدت سے کانگریس کی مخالفت کی اور مخالفت میں جو دلائل دیئے، بعد میں یہی دلائل مسلم لیگ کے کام آئے، سر سید غلط نہیں تھے، سر سید نے اس وقت جو کیا وہی صحیح تھا اور وہی وقت کا تقاضا تھا، سر سید کی رائے یہ تھی کہ ہندوستانی ابھی اتنے باشعور نہیں ہوئے ہیں کہ انہیں سیاست کی سنگلاخ وادیوں میں گھسیٹا جا سکے اور ان ہندوستانیوں میں بھی سب سے قابل رحم حالت مسلمانوں کی تھی، مسلمان انگریزوں کی مخالفت کرتے کرتے انگریزی کی بھی مخالفت کر بیٹھے جبکہ ان کے ہم وطن انگریزی پڑھ پڑھ کر کے پچاس سال مسلمانوں سے آگے ہو چکے تھے، کانگریس اپنے آپ کو ہندوستانیوں کا نمائندہ کھ رہی تھی جبکہ سر سید کانگریس کو بنگالی بابوؤں کا نمائندہ سمجھ رہے تھے، سر سید کانگریس کی مخالفت کرتے رہے، کانگریس بڑھتی رہی، سر سید کا جب انتقال ہوا تو کانگریس کی مسیں بھیگ رہی تھیں لیکن ان کے انتقال کے آٹھ سال بعد ڈھاکے میں جب مسلم لیگ بنی تو ردعمل میں یہ بھی مسلم اشرافیہ کا نمائندہ بن بیٹھی، بہت اچھا ہوا کہ سر سید اپنی سیاسی پالیسی کا یہ نتیجہ دیکھنے سے پہلے ہی چل بسے، سر سید یہ نہیں چاہتے تھے لیکن سر سید جس راہ پر چلے تھے تو اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا، مسلمان بنگالی بابوؤں کے آسمان سے گرے تو مسلم اشرافیہ کے کھجور میں اٹک گئے، 1885 سے لے 1906 تک کی یہ تاریخ بہت اہم ہے، اتنی اہم کہ اسی دور میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ پرست بنے اور پھر دونوں کی اسی فرقہ پرستی نے 1937 سے لے کر 1947 تک اتنے انڈے بچے دیئے کہ 1947 میں ایک چوزہ مسلمانوں کو بھی مل گیا-

سر سید کی انگریز دوستی ایک دانا و بینا انسان کی دوستی تھی، وہ خذ ما صفا ودع ما كدر کے اصول پر عمل پیرا تھے، بعد والے اس قدر انتہا پسندی کے شکار ہو گئے کہ چاپلوسی کی ہر حد سے گزر گئے، حال یہ ہو چکا تھا کہ حریت پسندوں نے مسلمانوں کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا تھا، تقسیم بنگال کے موقعے پر مسلمانوں نے اس شک کو یقین میں بدل دیا تھا، ایسے میں مولانا آزاد جب میدان عمل میں اترے تو اس نتیجے پر پہنچے کہ اب خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں ہے، مسلمان گوشۂ عافیت میں تھے جبکہ یہ وقت موجوں سے کھیلنے کا تھا، آزاد آگے بڑھے لیکن سر سید کی قومی پالیسی آزاد کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی، سر سید کی قومی پالیسی یہ تھی کہ مسلمان پہلے تعلیم یافتہ ہو جایئں، پھر میدان عمل میں اتریں، نہیں تو اپنے ہم وطنوں سے پیچھے رہ جایئں گے، جبکہ اب آزاد کا خیال یہ تھا کہ اب میدان عمل میں نہ اترے تو ضرور پیچھے رہ جایئں گے، اس لئے آزاد نے مسلمانوں کو جھنجھوڑا، جگایا اور مسلمان آنکھ مَلتے ہوئے جب میدان عمل میں اترے تو دیکھا کہ اپنے ہم وطنوں سے واقعی بہت پیچھے ہو چکے ہیں، مسلمان دوڑے، بہت تیز دوڑے، اس قدر دوڑے کہ ہم وطنوں کے ہم قدم ہو گئے، انڈیا ونس فریڈم نے آزاد نے مختلف شعبوں کا جو جائزہ پیش کیا ہے، اس سے یہ حقیقت آج بھی آشکارا ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کو حصے سے زیادہ ملنے لگا تھا، مسلمان تقریباً اب ہر شعبے میں تھے لیکن تقسیم کے بعد یہ شعبے بھی اس طرح سے خالی ہوئے کہ آج تک پر نہ ہو سکے اور الزام ہم ہندوؤں کے تعصب کو دیتے ہیں، اس تعصب کے وجود سے انکار نہیں ہے لیکن ہماری اپنی بھی نااہلی ہے کہ آج تک ہم ان شعبوں کو پر کر نہیں سکے-

آزادی ملی تو ہم تقسیم سے بھی دوچار ہوئے، اس تقسیم نے ہمارے وجود پر سوالیہ نشان لگا دیا، آزادی کے پہلے والے آزاد سے تو ہم خاطر خواہ واقف ہیں لیکن آزادی کے بعد والے آزاد سے کچھ خاص واقف نہیں ہیں اور اگر کچھ واقفیت بھی ہے تو وہ یہ کہ آزاد نے ہمیں کانگریس کا بندھوا غلام بنا دیا، آزاد کے  جس خطبے سے بندھوا غلامی والا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں آزاد کے اس خطبے کو از سر نو ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری غلط فہمی ختم ہو سکے، ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اجتماعی غلطیوں کا ٹھیکرا ایک فرد کے سر پر پھوڑ کر اپنی ہمالیائی غلطیوں سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں-

آزادی کے بعد ہم نے تو یہ سمجھ لیا کہ آزاد ہمیں کانگریس کا بندھوا غلام بنانا چاہتے ہیں، اس لئے ہم بھی کانگریس کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھتے رہے، یہ شبہ یقین میں اس وقت بدل گیا، جب بابری مسجد کی شہادت ہوئی، اب آنے والا دور ہندو فرقہ پرستوں کا تھا تو فرقہ پرستی کے درعمل میں ہمیشہ فرقہ پرستی ہی جنم لیتی ہے، جو کانگریس آزادی سے پہلے ‘ہندو کانگریس، تھی، آزادی کے بعد وہی کانگریس اینٹی ہندو کانگریس ہو گئی، اب ہندو کانگریس کی جگہ بی جے پی نے لی اور مسلم لیگ کی جگہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے، حالانکہ مجلس اس سے پہلے کانگریس ہی کی اتحادی تھی، ابھی یو پی اے کے دونوں ٹرم میں اس نے باہر سے کانگریس کو حمایت دی ہے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، اس لئے کل کے اتحادی آج دشمن ہیں-

آزاد کے انتقال کے بعد حفظ الرحمان سیوہاروی نے ہندوستانی مسلمانوں کی راہنمائی کا کام انجام دیا، سیوہاروی عالم دین تھے، کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا کیلئے منتخب ہوتے رہے، آزادی کے فوراً بعد آزاد کے اشارے پر لکھنؤ میں جو مسلم کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس کے کامیاب انعقاد کا سہرا بھی سیوہاروی ہی کے سر پر باندھا جائے گا، سیوہاروی بھی جب چل بسے تو قیادت کا خلا نہیں پیدا ہوا بلکہ سیوہاروی سے بھی زیادہ قابل شخصیت مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے موجود تھی اور یہ تھے ڈاکٹر سید محمود، سید صاحب نے مسلم مجلس مشاورت کا ڈول ڈالا، آج اپنی پارٹی، اپنی قیادت اور اپنی لیڈر شپ کی آواز بلند کرنے والے کیا جانیں کہ مسلم مجلس مشاورت کیا چیز تھی؟ مشاورت آج بھی ہے لیکن بس کاغذ پر، سید محمود کی مجلس مشاورت اسی دن ختم ہو گئی تھی جس دن ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے یوپی میں مسلم مجلس بنائی تھی، آج کے پرجوش مجلسیوں کو ان دونوں مجلسوں کے بارے میں ضرور جاننا چاہیے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ مسلم مجلس کے اپنے لیڈر کیسے پرائی پارٹیوں میں چلے گئے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ اس وقت یوپی میں اپنی دو پارٹیوں (مسلم لیگ اور مسلم مجلس) میں کس طرح سے سر پھٹول ہوئی تھی، تب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بس نام کی آل انڈیا تھی، ہوتی تو یوپی میں بھی موجود رہتی لیکن وہ تب اپنی پارٹیوں کے ساتھ نہیں تھی، کانگریس کی اتحادی تھی لیکن آج کے نوخیز اذہان کو کون یہ سب بتائے؟ نوخیز اذہان اور علما کی اکثریت دونوں مطالعے سے کوسوں دور ہیں، اس لئے یہ لوگ حقائق سے بھی دور ہیں-

مسلم مجلس مشاورت کے بانی ڈاکٹر سید محمود سیاسی پارٹی بنانے کے حق میں نہیں تھے، اسی لئے ڈاکٹر صاحب اور فریدی صاحب میں بہت لے دے ہوئی، علی میاں ندوی نے ڈاکٹر صاحب کو مَنا لیا، ڈاکٹر صاحب طوعا و کرہا مان گئے لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ ڈاکٹر صاحب کا فیصلہ ہی درست تھا اور رہے اپنی پارٹی کا دم بھرنے والے تو انہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ مذکورہ عالم دین نے کس طرح سے فریدی صاحب کو بائی پاس کر کے ہیم وتی نندن بہوگنا سے ساز باز کر لیا تھا، یہاں تو ایک سڑک ملنے پر اپنے لوگ اپنا موقف بدل لیتے ہیں لیکن مسلمانوں کو یاد ہے تو بس اتنا کہ غیروں نے ہمیں ٹھگا ہے لیکن اپنوں نے کتنا ٹھگا ہے؟ اس کا حساب کوئی نہیں رکھنا چاہتا، اپنی قیادت نے کتنی بار اپنا سودا کیا ہے؟ اپنی قیادت ہندوستانی مسلمانوں کو بیچ بھنور میں چھوڑ کر بھاگ گئی اور آج پھر اسی قیادت سے ہمیں توقع ہے کہ یہ مشکل وقت میں ہماری داد رسی کرے گی، ہمیں ان سے وفا کی امید ہے جنہوں نے کبھی بھی ہم سے وفا نہیں کیا، ہمیشہ دغا کیا ہے-

مسلم مجلس مشاورت کو ناکام نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن بد قسمتی سے یہ تجربہ ناکام ہوا، تجربہ ناکام ہوا ہے، ڈھانچہ نہیں گرا ہے، اس ڈھانچے پر ابھی بھی شاندار عمارت بنائی جا سکتی ہے، مشاورت ایک طرح کا پریشر گروپ تھا اور اسی کے ساتھ اس کا نصب العین یہ تھا کہ سیاست کے میدان میں مسلمانوں کی رہنمائی کی جائے، آج جبکہ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا کیا کردار ہونا چاہئے تو سوال یہ ہے کہ صرف سیاست ہی میں کیوں؟ زندگی کے اور شعبوں میں کیوں نہیں؟ آج ہمیں آزاد کی بھی ضرورت نہیں ہے، آج ہمیں ضرورت ہے تو سر سید کی، سر سید نے جس طرح سے مسلمانوں کا رخ تصادم سے تعاون کی طرف موڑا تھا، بالکل اسی طرح سے آج مسلمانوں کو سیاست کے بجائے تعلیم و تربیت اور رفاہ عامہ پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر لینی چاہئے لیکن لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ پھر سیاست کون کرے؟ مسلمان سیاست کریں نہ، سیاست کرایئں ،الیکشن لڑیں نہ، لڑوائیں، ہم کنگ نہیں بن سکتے لیکن کنگ میکر ضرور بن سکتے ہیں، پھر جب حالات سازگار ہو جایئں تو خود بخود پھر کوئی آزاد پیدا ہوگا اور مسلمانوں کو سیاست کے بھنور میں کھینچ لے گا، تو ابھی سیاست میں نمائندگی کی ہم کم فکر کریں، زندگی کے دوسرے شعبوں کی فکر زیادہ کریں، پولیس کے محکمے میں، بندوبست کے محکمے میں، عدلیہ کے محکموں میں ہماری نمائندگی ہونی چاہئے، رہی سیاست تو اگر ہمارے پاس فراست اور دولت ہو تو ہم اپنا کام دوسروں سے بھی نکلوا سکتے ہیں، اسی فراست اور دولت کا استعمال کر کے امریکی یہودیوں نے پورے امریکہ کو اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے اور ہم اپنی بے بصیرتی کی وجہ سے خود شکنجے میں ہیں-

ایک بار پھر کہوں گا کہ ہم سیاست ہی میں نہیں زندگی کے ہر میدان میں پیچھے ہیں لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم سیاست ہی کو اپنے ہر درد کا درماں سمجھ رہے ہیں اور سیاست بھی ہم وہ کر رہے ہیں جو ہم سے کرایا جا رہا ہے، ہم صرف ایکٹر ہیں، ڈائریکٹر ناگ پور میں بیٹھا ہوا ہے، اگر ہم ڈائریکٹر ہوتے تو ہماری سیاست میں مذہب کی ملاوٹ نہیں رہتی، ہماری سیاست سے نفرت کی کھیتی نہیں ہوتی، ہماری سیاست سے ملک تقسیم اور انتشار کے دہانے پر نہیں پہنچتا، اگر ہم صرف خاموش تماشائی بن جایئں تو آنے والا وقت ہمارا ہے، اس لئے کہ دیر سویر سب کے سمجھ میں آ ہی جائے گا کہ بی جے پی کر کیا رہی ہے تو ہم بی جے پی کی وجہ سے ہم اپنی امیج کیوں برباد کریں؟

میرے عزیزو! ابھی وقت ہے، کل شاید نہ رہے، ہم جسے اپنا سمجھ رہے ہیں، وہی ہمیں دھوکہ دے گا، آزادی کے وقت ہم دھوکہ کھا چکے ہیں، آزادی کے بعد بھی ہم دھوکہ کھا رہے ہیں، ہم لوگ ایک ہی بل سے بار بار ڈسے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں ہوش نہیں آ رہا، آخر کب تک؟ سیاست ہی نہیں زندگی کے ہر شعبے میں ہماری نمائندگی ہونی چاہئے لیکن ہمارا سارا فوکس صرف سیاست ہی پر ہے، ایسے میں کیوں نہ مجھے ڈر لگے؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*