مسلمان فرقہ وارانہ منافرت کا مقابلہ کیسے کریں؟ معصوم مرادآبادی

ہندوستانی مسلمانوں کو اس وقت وطن عزیز میں جن مسائل کا سامنا ہے،ان میں سب سے سنگین مسئلہ فرقہ وارانہ منافرت کے بڑھتے ہوئے طوفان کا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ طوفان مزید بلاخیز ہوتا چلاجارہا ہے۔ نفرت اور تعصب کی لہریں اتنی اونچی ہیں کہ مسلمان،ان کا مقابلہ نہیں کرپارہے ہیں۔فرقہ واریت کا یہ عفریت دن بہ دن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور مسلمان خود کو اس کے سامنے مجبور اور لاچارسمجھنے لگے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اس طوفان کا مقابلہ کیسے کریں اوراپنے خلاف فسطائی طاقتوں کے فاسد پروپیگنڈے کا جواب کس طرح دیں۔حالاں کہ فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کا یہ ماحول نیا نہیں ہے۔ ملک میں اس کی ایک پوری تاریخ موجود ہے۔آزادی کے ان73 برسوں میں مسلمانوں نے ملک میں بدترین فرقہ وارانہ فسادات کا مقابلہ کیا ہے اور انھیں زبردست جانی اور مالی نقصان سے بھی گزرنا پڑا ہے۔ مسلم کش فسادات کے لامتنا ہی سلسلے نے ان کی کمر توڑکر رکھ دی ہے، لیکن انھوں نے ہر بارحالات سے ابھرنے کی کوشش کی ہے اور اب یہ ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں جب سے فرقہ وارانہ منافرت کے اس رجحان کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی ہے،تب سے صورتحال خاصی سنگین ہوگئی ہے اور پانی سر سے اونچا بہہ رہا ہے۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ماضی قریب میں فرقہ واریت کے اس عفریت کو سب سے زیادہ ایودھیا تنازعہ نے پروان چڑھایا ہے۔اس انتہائی منافرانہ تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایودھیا تحریک جسے رام جنم بھومی کی بازیابی کی تحریک کا نام دیا گیا تھا، درحقیقت ایک سیاسی تحریک تھی جس کا مقصد ملک کے اقتدار پر بلا شرکت غیرے قبضہ کرنا تھا۔ اس تحریک کی غیر معمولی کامیابی کے نتیجے میں نہ صرف فسطائی طاقتوں کااقتدار پر مکمل قبضے کا خواب پورا ہوا بلکہ بابری مسجد کے مقام پر عالیشان مندر تعمیر کرنے کی تمنا بھی پوری ہوگئی، جس کا کام اس وقت ہنگامی پیمانے پر جاری ہے۔ یہ بات بھی سبھی کو معلوم ہے کہ ایک مذہب، ایک زبان اور ایک کلچر کے پیروکاروں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط ہونے کے بعداس ملک میں مسلمانوں کو دویم درجے کا شہری بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ حال ہی میں مودی سرکار کے دوسرے دور کے پہلے سال کی جوحصولیابیاں بیان کی گئی ہیں، ان میں طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینا، ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ عطا کرنے والی دستور کی دفعہ 370کا خاتمہ، رام مندر کی تعمیراور شہریت ترمیمی قانون جیسے موضوعات کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیاہے۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ تمام موضوعات ہندو راشٹر کے ایجنڈے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی ضرب صرف اور صرف مسلمانوں پر پڑی ہے۔ اس دوران سب سے زیاد خطرناک کام یہ ہوا ہے کہ ان فسطائی طاقتوں نے گودی میڈیا کے غیر معمولی تعاون سے پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلا ماحول تیار کردیا ہے، جس کا تازہ ترین ثبوت کورونا وائرس کے سلسلے میں مسلمانوں کے خلاف میڈیا کا انتہائی فاسد پروپیگنڈہ ہے۔ گودی میڈیانے تبلیغی مرکز کے واقعہ کی آڑ میں مسلمانوں کو ہی ’کورونا وائرس‘قرار دینے میں اپنی پوری توانائی خرچ کردی ہے۔ اس بے ہودہ اور مسلم دشمن پروپیگنڈے کے نتیجے میں مسلمانوں کو جا بجا تشدد اور نفرت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان نفرت اور فرقہ واریت کے اس انتہائی خطرناک اورموذی وائرس سے کیسے چھٹکارا پائیں اور برادران وطن کے ذہنوں میں اپنے تعلق سے پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو کیسے دور کریں تاکہ وہ سکون واطمینان کی زندگی جی کر اپنے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لے سکیں۔ اس کا ایک ہی علاج ہے کہ مسلمان خدمت خلق اور فلاح انسانیت کے راستے پر چل کر برادران وطن کے دلوں تک پہنچیں، جس کا مظاہرہ انھوں نے حال ہی میں لاک ڈاؤن کے دوران بھرپور انداز میں کیا ہے۔ پورے ملک سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مسلمانوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے ضرورت مند اور مصیبت زدہ ہندو بھائیوں کی والہانہ انداز میں مدد کی ہے۔ملک میں جابجا مسلم نوجوانوں نے مزدوروں کی ٹرینوں، بسوں اور ٹرکوں کو روک کر انھیں کھانا، پانی اورضرورت کی دیگر چیزیں مہیا کرائی ہیں۔یہاں تک کہ ملک میں کئی جگہ مسلم نوجوانو ں نے ایسے ہندو بھائیوں کی آخری رسومات بھی ادا کرنے سے گریز نہیں کیا جن کی کورونا سے موت ہوئی تھی اور ان کے عزیز و اقارب نے کورونا کے خوف سے ان کے جسد خاکی کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیا تھا۔ان واقعات پر مبنی خبروں کو میڈیا میں بھی جگہ ملی ہے اور مسلم نوجوانوں کے اس جذبے کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ مسلم تنظیموں نے بھی اس معاملے میں آگے بڑھ کر کام کیا ہے اور مسلم این جی اوز بھی خدمت خلق کے معاملے میں پیش پیش رہی ہیں۔ظاہر ہے ان واقعات کا برادران وطن کے ذہنوں پر اچھا اثر پڑاہے اور انھوں نے اس جذبہ خیرسگالی کی تعریف کی ہے۔
اس معاملے میں مسلمان اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لئے سکھوں سے بھی سبق حاصل کرسکتے ہیں، جو اس ملک میں خدمت خلق کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔حال ہی میں عید الفطرسے قبل سکھوں نے دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کو سینی ٹائز کرکے جذبہ خیر سگالی کی ایک مثال پیش کی ہے۔ یونائٹیڈسکھ آرگنائزیشن نامی ایک این جی اوکے بیس سکھوں نے عید سے دوروز پہلے جامع مسجد پہنچ کرمسجد کو پوری طرح سینی ٹائز کیا۔این جی او کے ڈائریکٹر پرمیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ”کووڈ19-کی وبا عام ہونے کے بعد ہم لوگ عبادت گاہوں کو سینی ٹائز کررہے ہیں۔ان عبادت گاہوں کو کھولنے کی اجازت ملنے سے قبل ہم انھیں پوری طرح سینی ٹائز کرناچاہتے ہیں تاکہ خدا کا کوئی بندہ اس بیماری کا شکار نہ ہو۔اس سے معاشرے میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور خیر سگالی کے جذبہ کو جلا ملے گی۔“
مجھے اس واقعہ کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے نزدیک واقع نئی دہلی کی جامع مسجد کابرسوں پرانا ایک واقعہ یاد آیا۔ لاکھوں روپوں کا بجلی بل بقایا ہونے کے سبب اس مسجد کی بجلی کاٹ دی گئی تھی۔ دہلی وقف بورڈ اپنی روایتی خستہ حالی کے سبب بجلی کا بل ادا نہیں کرپارہا تھا۔ مسجد مسلسل تاریکی میں تھی۔ ایک دن مغرب کی نماز کے بعد سکھوں کا ایک وفد کئی پیٹرومیکس لے کر وہاں آیا اور کہا کہ”خدا کے گھر میں اندھیرا مناسب نہیں ہے، لہٰذا ہماری طرف سے روشنی کا یہ عطیہ قبول کیجئے۔“
آپ کو یاد ہوگا کہ کئی سال پہلے جب بنگلہ دیش کی سرحد پر ہزاروں روہنگیا مسلمان بے یارو مددگار پڑے ہوئے تھے توان کی خبر گیری کرنے سب سے پہلے سکھوں کا ایک جتھہ ہی وہاں پہنچا تھا جس کے پاس کثیر تعداد میں کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیں موجود تھیں۔اپنے وطن سے بے وطن کردئیے جانے کے بعدان روہنگیا مسلمانوں کو نہ تو بنگلہ دیش اپنی سرحد میں داخل ہونے دے رہا تھا اور نہ ہی ہندوستان۔ ایسے میں کسی بھی مسلم تنظیم کے وہاں پہنچنے سے پہلے سکھوں نے ان کو مددفرہم کی۔ پچھلے دنوں جب دہلی کے شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف خواتین کا بے مثال دھرنا جاری تھا تو سکھ برادران وطن مسلسل اس دھرنے میں شریک لوگوں کے لئے لنگر تیار کررہے تھے اور ایک سکھ نوجوان نے تو اس کام کے لئے اپنا اکلوتا فلیٹ ہی فروخت کردیا تھا۔پنجاب سے کئی سکھوں کے جتھے ٹینکروں میں دودھ بھر کر یہاں لائے تھے۔
ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب دیگر مذاہب کے لوگ محض خدمت خلق کے جذبے سے آپ کے ساتھ اتنا کچھ کرسکتے ہیں تو آپ اس میں ان سے بھی بازی لے سکتے ہیں، کیونکہ آپ کے مذہب کی تعلیمات اس معاملے میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ اس سلسلے میں خدمت خلق کے راستے سے برادران وطن تک پہنچنے کے لئے ایک تنظیم کے خدوخال طے کرنے والے معروف دانشور اور ادیب پروفیسر محسن عثمانی ندوی کا کہنا ہے کہ”قرآن وحدیث میں خدمت خلق اور رفاہ عام کی فضیلت میں بہت ساری ہدایات موجود ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کی مشنریاں اس میدان میں بہت آگے ہیں اور مسلمان بہت پیچھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دین اسلام کا تقاضہ ہے کہ اس کام کو پوری طاقت اور دینی جذبے کے ساتھ شروع کیا جائے اور کروڑوں برادران وطن کے دروازوں پر دستک دی جائے۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کی کوشش کی جائے اور خدمت خلق کا کام بڑے پیمانے پر کیا جائے۔“اب جبکہ لاک ڈ اؤن میں مسلمانوں نے اس کام کا باقاعدہ بہترین انداز میں آغاز کردیا ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں تومسلمان اس کام کو پوری طرح ایک مشن کے طور پر اپنالیں اور اپنے خلاف منافرت پھیلانے کے منصوبوں کو ناکام کردیں۔یہی وقت کا سب سے بڑا امر ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)