مسلمان اور تعلیمی پسماندگی (معروف صحافی سوامی ناتھن ایئر مسٹر اویسی کوایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہیں)

 

ترجمہ:نایاب حسن
محترم اسدالدین اویسی!
حال ہی میں آپ نے مسلمانوں اور دیگر فرقوں کے درمیان خواندگی اور اسکولوں کی حاضری میں بڑھتے ہوئے فاصلے پراظہارِ افسوس کیا ہے۔ آپ نے این ایس ایس او کی 75 ویں راؤنڈ رپورٹ کا حوالہ دیاہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ 3 سے 35 سال کی عمر کی 22٪ مسلم لڑکیوں نے کبھی باضابطہ کسی تعلیمی کورس میں داخلہ نہیں لیا۔ نچلی سطح پر مسلمانوں ، خاص طور پر لڑکیوں کی حاضری کا فاصلہ تھوڑا کم ہے؛ لیکن اعلی تعلیم کی سطح پر اس میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔
آپ نے اس مسئلے کی توجیہ یہ بیان کی کہ ’’کیونکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں مسلمانوں کے لئے تعلیم میں سرمایہ کاری سے انکار کرنے کی روایت پر قائم رہیں۔‘‘ آپ کا تجویز کردہ حل یہ ہے کہ سب کے لئے سرکاری وظائف ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بیان کی گئی مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی پسماندگی کو دور کرنے میں تعلیم کی اہمیت کو تسلیم اور بیان کرتے ہیں۔ لیکن اسکالرشپ کی کمی کا اثر تمام فرقوں پر پڑتا ہے۔ مسیحی ، جو ایک اور ہندوستانی اقلیت ہیں ، ہندوؤں سمیت تمام برادریوں کے بالمقابل تعلیمی لحاظ سے بہت اچھی حالت میں ہیں اوراس کی وجہ سرکاری وظائف نہیں ہے۔
ریاست پر انحصار کرنے کی بجائے عیسائی مذہب کے لوگ طویل عرصے سے اپنے اعلی تعلیمی ادارے (جیسے سینٹ اسٹیفن کالج اور دہلی میں سینٹ کولمبا اسکول) چلا رہے ہیں۔ عیسائی اسکول اور کالج اتنے اچھے ہیں کہ ہندو اور مسلمان بھی ان میں داخلے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ایسا اس لئے نہیں ہے کہ عیسائیوں کے پاس زیادہ پیسہ ہے۔ مسلم وقف بورڈز کے پاس ہزاروں کروڑ کا اثاثہ ہے۔ زکوۃ کے ذریعے بھی مسلمان تعلیم سمیت دیگر اعمالِ خیر کے لیے بہت بڑی رقم اکٹھا کرتے ہیں ۔ مسلم کمیونٹی کے پاس عالمی معیار کے اسکول اور کالج بنانے کے وسائل موجود ہیں۔
انہی وسائل سے کچھ معقول اور معیاری یونیورسٹیاں قائم بھی کی گئی ہیں جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، عثمانیہ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ کیرالہ کی مسلم ایجوکیشن سوسائٹی جیسے جنوب کے مسلم اداروں نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ پھر بھی یہ استثنائی مثالیں ہیں اور مجموعی طورپر مسلمان تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہی رہنے پر مجبور ہیں ۔
مجموعی طور پر مسلم تعلیمی اداروں میں عیسائی اداروں سی خصوصیات نہیں پائی جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں نئے پرائیویٹ اسکول خود کو ہولی مدر یا سینٹ پیٹرس جیسے کانونٹ کا نام دیتے ہیں ، کیوں کہ کانونٹ اسکولوں میں اعلی معیار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مسلم اسکولوں میں ایسی تعلیم نہیں دی جاتی،بلکہ ہندواسکولوں میں بھی اس معیار کی تعلیم کا نظم نہیں ہے۔
مسیحی مشنریز نہ صرف ہندوستانیوں کو تعلیم دینے آئے تھے ، بلکہ ان کا ایک مذہبی ایجنڈا بھی تھا؛ چنانچہ اچھے اسکولوں نے لوگوں کو ممکنہ طورپر عیسائی مذہب کی طرف راغب کرنے میں بھی مدد کی۔ گرچہ مشنری اسکولوں نے کبھی بھی مذہبی علوم پر توجہ نہیں دی۔ ان کا اصل مقصد تعلیم کے ہر شعبے میں امتیاز پیدا کرنا ہے۔
مسلم حکمرانی کی ابتدائی صدیوں کے دوران ، ہندوستان تعلیم کے ایک عظیم مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا اور ابن بطوطہ جیسے سیاحوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ کچھ مسلم حکمرانوں کا مقصد تعلیم کی بہتری اور توسیع بھی تھا۔ لیکن من حیث المجموع افسوسناک کہانی یہ ہے کہ ہندوستان مسلم اور ہندو دونوں ریاستوں میں تعلیمی لحاظ سے مغرب سے بہت نیچے رہا۔ آکسفورڈ ، کیمبرج یا رائل سوسائٹی جیسا کوئی ادارہ سامنے نہیں آیا۔ 1870 کی دہائی میں خواندگی کی شرح صرف 3.2٪ تھی۔ برطانوی حکومت میں اس میں بہتری آئی؛ لیکن 1941 میں بھی یہ شرح محض 14.1 فیصد تھی۔ مدارس کی تعلیم و تدریس کے عظیم مراکزکی حیثیت ختم ہوگئی اور اوقاف نے ان کو بنیادی طور پر بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے تک محدود کردیا۔
بہت سارے ناقدین کا کہناہے کہ مسلمان اس لیے پسماندہ ہیں کہ وہ مدرسوں کی سطحی تعلیم پر تکیہ کیے ہوئے ہیں ؛ لہذا اس کا حل یہ ہے کہ مدارس کے نصابوں کی اصلاح کی جائے ،ان کی جدید کاری کی جائے۔ مگر معذرت کے ساتھ مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی؛ کیوں کہ سچر کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ صرف 4٪ مسلمان ہی مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پس مدارس ان کی تعلیمی پسماندگی کی جڑ نہیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ صدیوں سے مسلم اشرافیہ کی ایک روایت ہوسکتی ہے، جو تعلیم کے بجاے فوجی تربیت پر زور دیتی رہی ہے۔ ایم جے اکبر جیسے ممتاز مسلمانوں نے رنج و غم کا اظہار کیا تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے تئیں مسلمانوں کی ہچکچاہٹ نصف مسلم آبادی کو پسماندہ رکھے گی۔
لیکن یہ پوری کہانی نہیں ہوسکتی ۔ مسلمان ایک زمانے میں سائنس اور طب کے میدان میں پوری دنیا میں نمایاں تھے۔ مجھے ازبکستان کے دورے کے دوران یہ معلوم ہوا کہ قرون وسطی میں سمرقند ، بخارا اور خیوا کے مدرسے بہترین یونیورسٹیز تھے، جہاں دنیا کے عظیم سائنس دان اور ریاضی دان تعلیم دیتے تھے۔ تیمور لنگ کے پوتے الغ بیگ اپنے وقت کے بڑے ماہر فلکیات تھے۔ خیوا محمد الخوارزمی کی جائے پیدائش تھی ، جس نے الجبرا ، الگوریتھم اور اعشاریہ کے تصورات کو فروغ دینے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ ابن سینا (جسے مغرب میں ایویسینا کہا جاتا ہے) اپنے عہد کے سب سے ماہر طبیب تھے، بخارا اور خیوا میں پڑھاتے تھے۔ مگر ہندوستانی مدارس سے ایسا کوئی سائنس دان پیدا نہیں ہوا،جس کی عظمت کے چرچے دوردراز میں بھی ہوتے ہوں۔
مسٹر اویسی ! ہندوستان میں سرکاری اسکولوں کا معیار اتنا خراب ہے کہ اگر حکومت سرکاری وظائف میں اضافہ بھی کردے تو اس سے مسلمانوں یا کسی بھی دوسرے فرقے کا کم ہی فائدہ ہوگا۔ وقف بورڈز اورصاحبِ استطاعت ہندوستانی مسلمان عالمی سطح کے تعلیمی ادارے قائم کر سکتے ہیں۔ کیوں نہ ابتدا میں ایسے 200 اعلی درجے کے اسکول بنائے جائیں جو غیر ملکی طلبہ کو بھی اٹریکٹ کریں اور آہستہ آہستہ انھیں 2 ہزارکی تعداد تک لے جایا جائے؟ اگلا ہدف یہ ہوکہ کم سے کم تین عالمی سطح کی یونیورسٹیز قائم کی جائیں اور قدیم بخارا اور سمرقند کے تعلیمی اداروں کی یاد میں انہیں بھی ’’مدرسہ‘‘کا ہی نام دیا جائے۔ آپ ان کا نام الغ بیگ ، الخوارزمی اور ابن سینا کے ناموں پربھی رکھ سکتے ہیں۔ آج ہزاروں ہندواس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے سینٹ اسٹیفن کالج میں تعلیم حاصل کی ہے۔ براہِ کرم آپ ایسا ہندوستان بنانے کا عزم کیجیے، جہاں ایک دن ہزاروں ہندو’’الغ بیگ مدرسہ‘‘ میں تعلیم حاصل کرنے پر فخر کریں۔

 

(اوریجنل تحریر آج کے ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوئی ہے۔ یہاں پڑھی جا سکتی ہے)

 

  • zeenat
    31 اگست, 2020 at 8:20 شام

    ’The attendance gap for Muslims, especially girls, is low at the primary level but rises sharply for higher levels.
    نچلی سطح پر مسلمانوں ، خاص طور پر لڑکیوں کی حاضری کا فاصلہ تھوڑا کم ہے؛ لیکن اعلی تعلیم کی سطح پر اس میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے‘ــ
    ماشا اللہ آپ اچھی کوشش کرتے ہیں ۔ بس ترجمہ کرتے وقت سیاق وسباق کا خیال رکھیں تو مضمون کا صحیح مفہوم بیان کرپائیں گے۔ سوامی ناتھن کا یہ جملہ نقل کیا ہوں جس کا آپ نے ترجمہ کیا۔ اس میں وہ یہ کہنا چاہا رہا ہے کہ پرائمر ی یا ابتدائی تعلیم کے دوران مسلم لڑکیوں کی تعداد اور غیر مسلم لڑکیوں کی تعداد کے درمیان کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا ہے لیکن جوں جوں اسکولی تعلیم کے درجات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے یہ فرق تیزی سے بڑھتا ہے یعنی مسلم لڑکیا ں تعلیم ترک کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس مضمون میں اور بھی کئی جگہ پر صحیح مفہوم نہیں اداہوا۔ آئندہ اس کا خیال رکھیں۔ ترجمہ سے قبل تحریر کو دوچار پڑھنے سے مصنف کے ذہن تک پہنچا جاسکتا ہے ۔

  • نایاب حسن
    1 ستمبر, 2020 at 9:48 شام

    شکریہ
    مفہوم تو میں نے بھی وہی سمجھاجو آپ نے بتایا، مگر غالباترجمے میں اس کو کماحقہ ادانہیں کر پایاـ اور کون کونسی جگہیں ہیں، نشان دہی کردیں تو مہربانی ہوگی ـ

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*