مُردوں کے شہر میں

خلیل جبران
ترجمہ:احمد سعید قادری بدایونی

کل شہر کی افراتفری، شور و غل سے تنگ آ کر میں سکون کی تلاش میں جنگلات و باغات کی طرف نکل کھڑا ہوا اور چلتے چلتے ایک ایسے ٹیلے پر جا پہنچا جسے قدرت نے ہریالی کے زیور سے ایسا آراستہ کیا تھا جس کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون مل جائے، جہاں نہ بلند و بالا گھمنڈی عمارتیں کِسی نظّارہ کے بیچ حائل ہو سکتی تھیں نہ محلات کی اونچائی نظر کے آڑے آ سکتی تھی گویا ایک ایسا ٹھکانہ جس کے سامنے پورا شہر کارخانوں، فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں کی کثیف پرت میں ایسے چھپا ہوا نظر آرہا تھا جیسے گھنگھور گھٹا میں سورج بادلوں کے پیچھے روپوش ہو جاتا ہے۔

میں دور بیٹھا کُچھ دیر تک لوگوں کے کاموں اور رویّوں کے بارے میں سوچتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اکثر و بیشتر لوگوں سے صرف تکلیف کی ہی اُمید کی جا سکتی ہے پھر دل میں خیال آیا چھوڑو لوگوں کے رویّوں کے بارے میں سوچنا ہی کیوں؟ یہ کہہ کر میں نے اپنی نظر باغوں کں طرف گھمالی جہاں قدرت کے حسین مناظر اپنی تمام تر خوبصورتی و رعنائی کے ساتھ ہر ایک کو دعوتِ نظّارہ دے رہے تھے کہ یکایک میری نظر باغ کے بیچوں بیچ واقع ایک مقبرے پر پڑی جس میں بعض بوسیدہ لاشیں صنوبر کے درختوں کے بیچ پڑی تھیں.

یہاں مُردوں اور زندوں کے شہر کے بیچ بیٹھا میں سوچ رہا تھا کہ ایک طرف نہ ختم ہونے والی لڑائیاں، چپقلشیں اور مستقل حرکتیں ہیں تو دوسری طرف دائمی سکون و اطمینان اور دل خراش سکوت ہے۔ ایک طرف امید، نا اُمیدی، محبت و بغض، امیری و فقیری اور اعتقاد و الحاد ہے تو دوسری طرف ایک مٹی دوسری مٹی میں اس طرح پیوست ہوگئی ہیں کہ اُس کی طبیعت نے باطن کو اس طرح ظاہر میں تبدیل کردیا ہے کہ کبھی اس سے کوئی پودا اُگتا ہے تو کبھی اُس کی کوکھ سے کوئی جاندار جنم لیتا ہے اور یہ ساری چیزیں رات کے سنّاٹے میں بڑی خاموشی سے وقوع پذیر ہو جاتی ہیں۔

ابھی میں ان خیالات میں گُم ہی تھا کہ میری نظر سامنے سے آنے والے مجمع پر گئی جو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ آگے بڑھا چلا آرہا تھا،جس کے آگے آگے موسیقار اپنی دل سوز آواز سے فضا میں غم و اندوہ گھول رہا تھا۔
عظمت و رفعت اور ہزاروں انسانی شکلوں کے بیچ موجود ایک سواری۔
طاقتور اور پیسے والے کا جنازہ۔
ایک مرا ہوا بوسیدہ وجود جس کے پیچھے روتے بلکتے واویلا مچاتے زندے چلے آرہے تھے۔
جوں ہی یہ سواری گرجا گھر کے احاطے میں موجود قبرستان میں پہنچی، پادری دعا کرنے اور نعش کو بخور لگانے لگے، موسیقاروں نے ڈھول پیٹنا شروع کردیا۔
کُچھ وقت گزرا کہ خطیبوں نے میدان سنبھالا اور متوفی کے فضائل و کمالات میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگے پھر شاعروں نے الفاظ کی بازیگری کرتے ہوئے مرثیہ پڑھنا شروع کردیا۔ ان ساری رسومات کی ادائیگی میں اتنا وقت لگایا گیا کہ اچھے بھلے انسان کا غم کوفت میں تبدیل ہوجائے۔

خیر خدا خدا کرکے مجمع کُچھ ہٹا تو قبر کی رونمائی ہوئی، جس کو ماہرین نے انتہائی جاں فشانی اور مہارت سے تیار کیا تھا اور اس کے چاروں کونوں کو ہاتھوں سے تیار کردہ تاج نما پھولوں کی چادر سے سجایا تھا۔

سواری واپس شہر کی جانب چل پڑی تھی اور میں دور بیٹھا اپنی سوچوں میں مگن اُس کو جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔

سورج بھی ڈھلنے کو تھا، پیڑوں، چٹانوں کے سایے بھی درازہونے لگے تھے اور کائنات بھی اب روشنی کے پردوں کو چاک کررہی تھی۔

خیال و فکر کی اسی گہماگہمی میں مجھے ایک لکڑی کا تابوت اٹھائے دو لوگ آتے ہوئے دکھے، جن کے پیچھے ایک عورت بوسیدہ کپڑوں میں اپنے کندھوں پر دودھ پیتے بچے کو اٹھائے ساتھ ساتھ چل رہی تھی اور اُس کی بغل میں ایک کتا چل رہا تھاجو کبھی اُس عورت کو دیکھتا اور کبھی تابوت کو۔

ایک نادار فقیر کا جنازہ، جس کے پیچھے اُس کی بیوہ رنج وغم میں ڈوبی خون کے آنسو بہا رہی تھی، ایک بچّہ جو اپنی ماں کو روتا دیکھ خود بھی بلکنے لگا اور ایک وفادار کتا جس کی چال سے ہی تکلیف، رنج و غم جھلک رہا تھا۔

یہ لوگ مقبرے کے قریب پہنچے اور بوسیدہ لاشوں سے کچھ دور ایک قبر میں ہمیشہ کے لئے اپنے عزیز کو وداع کرکے، لُٹے ہوئے مسافر کی طرح خاموش شہر کی طرف چل دیے۔ جاتے ہوئے بھی وہ کتا مسلسل اپنے دوست کے آخری ٹھکانے کو بار بار پلٹ کر دیکھتا رہا اور رفتہ رفتہ یہ سب میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔

اس منظر نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ دیا، یکایک میں زندوں کے شہر کی طرف متوجہ ہوا اور دل میں کہا، "یہ تو مالدار اور طاقتوروں کے لئے ہے”۔ پھر مُردوں کے شہر کی طرف رُخ کیا اور خود سے کہا، "یہ بھی مالدار اور طاقتوروں کا ٹھکانہ ہے، اے میرے مالک، پھر کمرزر و نا تواں غریب کا ٹھکانہ کہاں ہے؟

یہ کہہ کر جب میں نے سورج کی شعاعوں سے سنہرے رنگ میں رنگے خوبصورت بادلوں کی طرف دیکھا تو دل سے آواز آئی:
وہاں!

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*