مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضے اور ہماری ترجیحات!-پروفیسر مشتاق احمد

یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ حالیہ دہائی دور میں یہ روش عام ہوئی ہے کہ جب کبھی کسی ریاستی مقابلہ جاتی امتحانات یا قومی مقابلہ جاتی امتحانات کے نتائج شائع ہوتے ہیں تو ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں اس نتیجے پر تبصرہ و تذکرہ ہوتا رہتا ہے ۔ امتحان میں کتنے مسلمان کامیاب ہوئے اور ان کا تعلق کس ریاست سے ہے اس کی تفصیلات بھی اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں اور جب سے سوشل میڈیا کا زور بڑھا ہے تو اس پر بھی کامیاب امید واروں کی تصاویر گردش کرتی رہتی ہیں اور ان خوش قسمت امیدواروں کی تفصیل بھی پیش کی جاتی ہے۔ اس تبصرے میں اظہار مسرت کے ساتھ ساتھ بعض حضرات اپنی فکر مندی بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کی تعداد کے تناسب میں رزلٹ خاطر خواہ نہیں ہے۔ اکثر محفلوں میں یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ بچارے مسلم امیدواروں کے تئیں تعصبات و تحفظات برتا جاتا ہے۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ ریاستی یا قومی مقابلہ جاتی امتحانات کے کئی مرحلے ہیں اور ان تمام مرحلوں سے گزر کر ہی کوئی امیدوار کامیاب امیدوار وں کی فہرست میں اپنی جگہ بنا پاتا ہے ۔ خصوصی طور پر یونین پبلک سروس کمیشن کے نتائج پر کچھ زیادہ ہی تبصرہ ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان میںانتظامی امور کے تمام اعلیٰ افسران اسی امتحان کے ذریعہ منتخب کئے جاتے ہیں ۔ اس لیے اس امتحان کو ملک میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور یہ آج نہیں بلکہ انگریزی حکومت کے دور میں بھی آئی سی ایس امتحان میں کامیا ب ہونے والے امیدواروں کی ایک منفرد شناخت تھی جیسے آج آئی اے ایس ، آئی ایف ایس ، آئی پی ایس اور پھر قومی سطح کے دیگر محکموں کے لیے منتخب الائڈ افسران کی ہے ۔ اسی طرح مختلف ریاستوں میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ انتظامی امور کے اعلیٰ عہدیداروں کا انتخاب ہوتا ہے ۔ چونکہ قومی اور ریاستی مقابلہ جاتی امتحانات میں لاکھوں امیدوار شامل ہوتے ہیں اور ان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست بہت مختصر ہوتی ہے کہ کبھی پانچ سو تو کبھی سات سو امیدواروں کا انتخاب مختلف زمروں کی خدمات کے لئے کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مسلم امیدواروں کی تعداد انگلیوں پرگنی جا سکتی ہے لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلم امیدوار کسی طرح کے تعصب کے شکار ہوتے ہیں ۔ سچائی تو یہ ہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے والے مسلم امیدواروں کا ڈاٹا سامنے رکھیں تو خود بخود یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ مسلم امیدواروں کا رزلٹ حوصلہ بخش ہے کہ قومی یا ریاستی مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے والے مسلم امیدواروں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے اور تناسب میں نتیجہ بھی سامنے آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے امتحانات بہت معیاری اور سخت ہوتے ہیں اور ہزاروں میں ایک امیدوار کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔ ایسی صورت میں اگر قومی سطح پر ہمارے دس بیس ہزار امیدوار شامل ہوتے ہیں تو فطری طور پر نتیجہ بھی اسی تناسب میں سامنے آئے گا اور ایک جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں اب بھی مقابلہ جاتی امتحانات کے تئیں سنجیدگی پیدا نہیں ہوئی ہے۔
سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عام زمرے کی ملازمت کے امتحانات اور یوپی ایس سی اور دیگر ریاستی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں نمایاں فرق ہے کہ قومی سطح کے امتحانات کے لیے اسکولی سطح سے ذہن سازی ضروری ہوتی ہے ۔ جبکہ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتاہوں کہ مسلم امید وار مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے بہت تاخیر سے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں اور ان میںبھی پچاس فیصد اس ذہن کے ساتھ شامل ہوتے ہیں کہ اگر اللہ نے چاہا تو کامیاب ہو جائیں گے۔ بے شک ہر کامیابی میں اللہ کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی قبول کرنا چاہیے کہ اللہ اسی کی مدد کرتا ہے جو عملی طور پر اپنی کامیابی کے لیے جدو جہد کرتا ہے ۔جو عیش و آرام اور تنِ آسانی کی زندگی چھوڑ کر اپنے مقاصد کی طلب میں مضطرب اور سر گرداں رہتا ہے وہی اپنی منزل کو پہنچتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرے میں مقابلہ جاتی امتحانات کے تئیں سنجیدہ ماحول سازی کی مہم چلائی جانی چاہیے ۔گرد و نواح کے ایسے ذہین طلبہ کی تلاش کی جانی چاہیے جنھیں کسی وجہ سے آگے پڑھنے کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ یا پھر وہ چاہتے ہوئے بھی مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے سے قاصر ہے ۔ ایسے ذہین وفطین طلبہ کی شناخت کرکے انھیں اجتماعی تعاون فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہر کر سکے۔ بالخصوص معاشرے کے تعلیم یافتہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں معیاری تعلیم کا رجحان پیدا کریں اور عصری تقاضوں کے مد نظر نئی نسل کی رہنمائی کریں۔ اگرچہ اب ریاستی اور قومی حکومت کی جانب سے بھی مفت کوچنگ برائے مقابلہ جاتی امتحانات کا انتظام ہے۔مثلاً مرکزی حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے زیر اہتمام ملک کے کئی شہروں میں یوپی ایس سی ، بینکنگ ، ریلوے وغیرہ کے مفت کوچنگ مراکز قائم ہیں۔ ملک کی کئی یونیورسٹیوں میں بھی سول سروسز اکیڈمیز قائم ہیں جہاں اقلیت طبقے کے طلبہ کو مفت کوچنگ کرائی جاتی ہے۔ ریاستی سطح پر بھی اس طرح کی سہولیات میسر ہیں ۔ ریاست ِ بہار میں محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے ذریعہ گذشتہ ایک دہائی سے حج بھون پٹنہ میں مختلف قومی اور ریاستی مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے قیام و طعام کے ساتھ مفت کوچنگ کا انتظام ہے۔ مسلم اقلیتی طلبہ کی یہ خوش بختی ہے کہ یوپی ایس سی امتحان کے ٹاپر جناب عامر سبحانی ، ایڈیشنل چیف سکریٹری وترقیاتی کمشنر کی نگرانی میں حج بھون کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں مفت کوچنگ چلائے جارہے ہیں اور ان مراکز کے نتائج بھی حوصلہ بخش ہیں۔ ساتھ ہی کئی رضا کار نتظیمیں بھی اس زمرے کے امتحانات کے لئے مفت کوچنگ اور کائونسلنگ کا اہتمام کرتی ہیںبالخصوص زکوٰۃ فاوئنڈیشن ، دہلی اور جامعہ ہمدرد اسٹڈی سرکل کی کوشش بھی قابل تحسین ہے۔ ممبئی حج بھون اور جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی کئی تنظیموں کے ذریعہ مفت کوچنگ کا اہتمام ہے۔ لیکن باوجود اس کے مسلم معاشرے میں مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے والے امیدواروں کی تعداد قابل اطمینان نہیں ہے ۔
اگر آبادی کے لحاظ سے محاسبہ کریں تو خود بخود یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ مسلم طلبہ کے اندر مقابلہ جاتی امتحانات کے تئیں جتنی سنجیدگی ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ یہاں میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر بھی یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے طلبہ مقابلہ جاتی امتحانات میں اگر شامل بھی ہوتے ہیں تو وہ دیگر طبقے کے طلبہ کی طرح جانفشانی اور لگن کا مظاہر ہ نہیں کرتے ۔ جبکہ وہ ہر سال کامیاب ہونے والے طلبہ کے سوانحی کوائف اور انٹر ویوز وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہیں اور ہر کامیاب امیدوار اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اس نے اپنی کامیابی کے لئے یومیہ کتنے گھنٹے مطالعے کے لئے مخصوص کیا اور کس سنجیدگی سے اس کی تیاری میں منہمک رہے۔مثلاً اس سال یو پی ایس سی میں اول مقام حاصل کرنے والے شبھم کمار نے اپنے انٹر ویو میں ایک بڑے پتے کی بات بتائی کہ وہ گذشتہ ۶؍ ماہ سے سوشل میڈیا سے دور رہے کہ سوشل میڈیا پر کنفیوزنگ مٹیریل کی بہتات ہوتی ہے ۔ جبکہ سول سروسز امتحان کے تقاضے کچھ اور ہیں اور حقیقت پر مبنی نظریہ ہی مفید ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں یوپی ایس سی یا ریاستی پبلک سروس کمیشن میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں مسلم امیدواروں کی تعدادکم دیکھ کر کسی غلط فہمی کو فروغ دینا حقیقت سے منہ پھیرنے جیسا ہے۔ کیوں کہ یوپی ایس سی اور ریاستی پبلک سروس کمیشنوں کے امتحانات اب بھی صاف و شفاف ہوتے ہیں اور یہاں صلاحیت ہی انتخاب کی کسوٹی ہوتی ہے۔ اس لیے اپنے معاشرے میں معیاری تعلیم کو فروغ دینے اور مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کو ترجیحات میں شامل کرنا لازمی ہے اور کسی طرح کی منفی فکر و گمرہی سے دور رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)