منور رانا کے نام ایک خط – تابش سحر

محترم و مکرّم رانا صاحب!

اللہ کے فضل سے زندگی گلزار ہے، عطا کی بارش ہے اور عافیت کا سایہ، امید کہ آپ بھی نعمِ خداوندی سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے۔ ان دنوں آپ کا ایک متنازعہ مکالمہ خوب گردش کررہا ہے جس میں آنجناب ایک مؤقر سیاست داں کو ماں کی گالی دے رہے ہیں۔ اسی ماں کو جسے آپ نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا، نام کمایا، شہرت کی بلندی پر پہنچے۔ ایک گالی نے آپ کی تمام تر شاعری کو مشکوک کردیا، لفظ بودے ہوگئے، ردیف اداکار نظر آنے لگے اور قافیے بےجان مجسمّے محسوس ہوئے۔ ماں کی عظمت اور ممتا کا تذکرہ کرنے والے انسان کا کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے دشمن کی ماں کا بھی احترام کریں؛ کیوں کہ ماں، ماں ہوتی ہے۔ اشتعال کا لاوا پھوٹ پڑے تب بھی کسی شریف انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مقدّس رشتے کا حوالہ دے کر گالم گلوچ کرے۔ "نیم کے پھول” میں آپ کا لہجہ شہد سے زیادہ شیریں ہے، یوں لگتا ہے جیسے شہد کا چشمہ جاری و ساری ہے، مگر اس متنازعہ مکالمہ کے دو بول نے اس پورے چشمے کو کڑوا کردیا ہے۔ لکھنو کی تہذیب، عمر کا پڑاؤ، مذہب کی تعلیم اور خاندان کی شرافت کا تقاضہ ہے کہ سرِعام معافی مانگی جائے۔ اختلاف ہو مگر سب و شتم سے گریز کیا جائے۔ تلخ کلامی ہو مگر بدگوئی نہ ہو۔ ناراضی ہو مگر تعصب نہ ہو۔ آپ کسی پر تنقید کریں گے تو لازماً وہ یا اس کے عقیدت مند آپ سے بازپرس کریں گے، کوئی سرپِھرا اشتعال بھی دلاسکتا ہے اس پر مشتعل ہوجانا موقف کی کمزوری یا بےظرفی کی علامت ہے۔ تنقید کے خبط میں راقم بھی مبتلا ہے اور اکثر تلخ لکھتا بھی ہے جس پر تنقید کی بھینٹ چڑھے ہوئے بزرگ کے عقیدت مند کال بھی کرتے ہیں مگر الحمد للہ اس نوعیت کے مکالمے وقوع پذیر نہیں ہوتے کیوں کہ یا تو خاموش رہتا ہوں یا کال ہی ریسیو نہیں کرتا۔

رانا صاحب! یہ” کال سسٹم” بڑی خطرناک چیز ہے۔ چند دنوں پہلے ہمارے یہاں ایک نوجوان نے جناب اویسی کی پارٹی ہی کے ایک ممبر آف پارلیمنٹ کی نیند حرام کردی تھی لہذا خاموش رہیں، شخصیت کا بھرم باقی رہتا ہے، منافقت پر پردہ پڑا رہتا ہے، جھوٹا کردار چھپا رہتا ہے اور شرافت کا مصنوعی دیا بدستور جلتا ہے۔ مجلس پر تنقید کریں اور ضرور کریں مگر سماج وادی پارٹی کا مکروہ چہرہ بھی لوگوں کو دکھائیں اور  کانگریس کی مکاری اور عیاری کو بھی عیاں کریں کیوں کہ ان دونوں نے مجلس سے زیادہ امت کا استحصال کیا ہے۔ حالیہ تناظر میں کوئی پارٹی یا سیاست داں مسیحا نہیں لہذا عوام کو فقط یہ مشورہ دیجیے کہ اپنے علاقے کے لیے موزوں ترین امیدوار کا انتخاب کریں۔ بی جے پی سے بھارت کو چھٹکارہ دلانا ہمارا مقصد نہیں، ہمارا مقصد اپنے مطالبات منوانا ہے۔ دل تو چاہتا ہے آپ سے اور بھی موضوعات پر گفتگو کی جائے مگر پھر آپ کا غضبناک چہرہ اور تھرتھراتے ہونٹوں سے نکلنے والی گالی یاد آجاتی ہے اس لیے یہیں پر اپنی بات ختم کررہا ہوں۔

ہاں! ایک التجا ضرور ہےکہ علماے امّت پر تنقید نہایت حسّاس موضوع ہے، یہاں آئینہ دکھانے والا کفر و فسق تک پہنچتا ہے، اب آپ ان کی جھوٹی اور بدنما تصویر بنائیں گے تو خود ہی اندازہ لگالیجیے کیا حشر ہوسکتا ہے؟ یہ سیاست داں نہیں جو جان لے کر پیچھا چھوڑ دیں یہ لوگ جہنّم تک دوڑاتے ہیں سو بچ کر رہیں!

فقط والسلام

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*