منور رانا:ہم بھی کسی سے کم نہیں ـ پروفیسر عبدالحلیم قاسمی

گزشتہ کئی سالوں سےمنور رانا صاحب ٹی وی ڈیبیٹ میں اپنے اختلافی بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں،اِدھر گزشتہ دنوں ایک چینل کو انٹرویو دیتے وقت علما اور مولویوں پر بد قسمتی سے طبع آزمائی کر بیٹھے،پھر کیا ہوا سبھی کے سامنے ہے،ہم مولوی بھی کسی سے کم نہیں چونکہ ہم مولویوں کی یہ روایت رہی ہے کہ ہم دوسرے مکتبِ فکر کو تو چھوڑیے ہم ایک مدرسہ اور ادارہ کے مولوی دوسرے مدرسہ اور ادارہ کے مولویوں کو خاطر میں نہیں لاتےـ
منور رانا صاحب کی شامت اعمال کہ بلاوجہ مولویوں پر تنقید کر بیٹھے،منور رانا صاحب کا اشارہ جن مولویوں کی جانب تھا وہ مولوی تو ابھی تک خاموش ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے چونکہ مولویوں کی یہ قسم اپنے کام سے کام رکھتی ہے،جبکہ دوسری طرف چُھُٹ بَھئّیے مولوی نہ صرف اپنا آپا کھو بیٹھے بلکہ معیاری اور غیر معیاری دونوں قسم کے طوفان بدتمیزی پر نہ صرف آمادہ بلکہ بعض تو شرعی پاجامہ اور لنگی اتارنے تک پر بھی اتر آئے،خدا خیر کرے!
دو دنوں سے تمام مولوی ہر گروپ میں مختلف اقسام کے مروّجہ و غیر مُرَوّجہ غیر مہذب نا زیبا الفاظ سے ڈاکٹر منور رانا صاحب کو نواز رہے ہیں ـ دراصل اس قسم کے ناعاقبت اندیش مولوی لاشعوری طور پر نہ صرف جہالت کو پرموٹ کر رہے ہیں بلکہ کہیں نہ کہیں بالواسطہ طور پر منور رانا صاحب کی ہی زبان اور مشن کو تقویت پہنچا رہے ہیں ـ
دراصل ہم مولویوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی سَر پِھرے اور منچلے کے کچھ بھی کہہ دینے سے ہم لوگوں کو اپنی مولویت، مدارس، اسلام سب پر خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے، بالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں ہم مولوی بھی بیٹھے بٹھائے پنگہ لینے میں نہ صرف ماہر بلکہ بعض مولوی تو شرعی دلائل کی تحقیق اور ریسرچ میں محو ہوکر تجدید ایمان اور کفر کے فتوے جاری کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہو جاتے ہیں ـ
ایک غیر عالم اور غیر مولوی سے غلطیاں سرزد ہونا نہ صرف ممکن بلکہ امر واقع ہے لیکن ایک عالم اور مولوی کا انتقام اور بدلہ پر آمادہ ہوکر اُسی غیر عالم اور غیر مولوی کی بھاشا میں مقابلہ آرائی کرنا باعثِ فخر و ثواب سمجھتے ہوئے دیگر مولویوں کو اس کے لیے آمادہ کرنا کہاں تک درست ہے؟ ہر گروپ میں واٹس ایپ پرمنور رانا کے رابطہ نمبر شئیر کرکے بذریعہ ٹیلی فون مغلظات بکنے پر لوگوں کو آمادہ کرنا بھی اچھے لوگوں کا شیوہ نہیں ـ یہ وہی منور رانا ہیں جنھوں نے اخلاق مرحوم اور این آر سی و بابری مسجد کے معاملہ میں آواز اٹھائی تھی ـ
منور رانا نے علما اور مولویوں پر جو تبصرہ کیا وہ انتہائی غلط اور قابلِ مذمت ہے لیکن اس کے بدلے میں مولویوں نے جو طوفان بدتمیزی مچایا، مغلظات لکھے اور بولے،شرع میں ان کے جواز کی بھی گنجائش نہیں ملتی ـ
سوال یہ ہے کہ منور رانا کے تبصرے پر کسی بڑے خالص عالم دین یا سیاسی عالم دین نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ سوال یہ بھی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے غیر معیاری مولوی جن کے پاس ادب، ثقافت، کلچر، تہذیب، اخلاق کیریکٹر دور دور تک نہیں،جو مخاطب جاہل سے دو ہاتھ آگےبڑھ کر جہالت پر آمادہ ہوجاتے ہیں ایسا کرنا کہاں تک درست اور جائز ہے؟
میری اپنی ناقص رائے اور فہم کے مطابق لوگوں کے عمومی تبصرے اور تنقیدوں پر بلاوجہ کان دھرنے اور جوابی کارروائی و حملہ آور ہونے سے گریز کرنا چاہئےـ چونکہ ایسا کرنے سے کہیں نہ کہیں آپ دوسروں کی نہ صرف تشہیر میں بالواسطہ طور پر معاون ثابت ہوں گے بلکہ ان کے مشن کو بھی پرموٹ کرنے کے مرتکب ہوں گے ـ
اللہ تعالیٰ ہم تمام مولویوں کو تنقید کی برداشت کا مادہ اور توفیق عطا فرمائے ـ احساس کمتری و برتری و شیطانی خصلتوں سے مکمل حفاظت فرمائےـ آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*