ممتازشاعر تسنیم انصاری مرحوم کی یاد میں بزمِ صدف کویت شاخ کا آن لائن بین الاقوامی جلسہ

 

علمی مراکز سے دوٗر کے شعرا و ادبا کی خدمات سے لوگوں کو واقف کرانا ہمارا فریضہ ہے: صفدرامام قادریڈ

کویت :(اکٹر عابدہ پروین)

اردو کی عالم گیٖر حیثیت حقیقتاً برِّصغیر اور دنیا کے چھوٹے چھوٹے مراکز میںخدمات انجام دینے والے ادبی جاں نثاروں کے ذریعہ قایم ہوئی جن میں سے سیکڑوں تاریخ کی گرد ہو کر رہ گئے مگر اپنی محنت و مشقّت سے انھوں نے ایک ایسا ماحول قایم کیا جس نے ہماری زبان کے لیے خوش گوارنتائج عطا کیے۔ بزمِ صدف انٹرنیشنل کویت شاخ کی جانب سے منعقد تسنیم انصاری یادگاری پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر صفدر امام قادری نے مذکورہ باتیں کہیں۔ کورونا وبا اور لاک ڈائون کے ابتدائی دور میں ہی ۳۰؍ اپریل ۲۰۲۰ء کو برہان پور میں تسنیم انصاری راہیِ ملکِ عدم ہوئے۔ پروفیسر قادری نے ان کی وفات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ اخبار یا کسی نشریے کو صبح سویرے دیکھنے سے اب ہمیںخوف آتا ہے۔ کیوںکہ کسی نہ کسی ادیب اور شاعر یا عزیز کے ارتحال کی خبر آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتی ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ آپ نہ تجہیز و تکفین میں شامل ہو پاتے ہیں اور نہ عزیز و اقارب کا غم بانٹ سکتے ہیں۔

معروف شاعر اور ادیب ڈاکٹر مجاز آشنا نے اس یاد گاری تقریب کا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ چھٹی جماعت سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوئے اور باون (۵۲) برس کی اس دوستی کا اختتا م تسنیم انصاری کی بے وقت موت سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اسکول میں بیت بازی کے دوران تسنیم انصاری فی البدیہہ اشعار کہہ کر رفتہ رفتہ یہ ثابت کر چکے تھے کہ ان میں شعر گوئی کے جراثیم موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تسنیم انصاری کے والد کا مریڈ حبیب اللہ ایک سُلجھے ہوئے کمیونسٹ لیڈر تھے جس کی وجہ سے تسنیم انصاری کی شخصیت پر ترقّی پسند ادب اور تصوّرِ حیات کی پرچھائیاں پڑیں۔ کیفی اعظمی، ساحر لدھیانوی اور دوسرے ترقی پسند شعرا کی مشہورنظموں کو وہ نِجی محفلوں میں پڑھتے رہتے تھے۔ مجاز آشنا نے ان کی شخصیت اور انسان دوستی کے بارے میں کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے بہ طور خاص ان کی شادی کا تذکرہ کیا کہ وہ مختلف رشتوں کو درکنا رکرتے ہوئے ایک پان￿وسے معذورخاتون سے شادی کے لیے بہ خوشی اس لیے تیّار ہو گئے کیوں کہ وہ ان کی برادری کی پہلی گریجویٹ خاتون تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہر چند ملازمت کے سلسلے سے وہ برہان پور کوکن کے علاقے میں مقیم ہو گئے مگر چھیٹوں میں برہان پور آتے اور اپنے پُرانے دوستوں اور ان کے اہلِ خاندان سے ملتے جلتے رہتے۔ بزرگ ادبا و شعرا انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور نوجوانوں کو وہ اپنے علم سے ہمیشہ فیض پہنچاتے رہتے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے وطن سے محبّت کا ثبوت انھوں نے اس طور پر دیا کہ لاک ڈائون سے ٹھیک پہلے اپنے وطن برہان پور پہنچے اور پھر ۳۰؍ اپریل کو وہیں کی خاک میں ہمیشہ کے لیے پیوست ہو گئے۔

کویت میں مقیم بزرگ شاعرہ و ادیبہ محترمہ شاہ جہاں جعفری حجاب نے اپنا مضمون ’دیا جلایا مگر روشنی میں آیا نہیں‘ عنوان سے پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ امانت حسین انصاری تسنیم شہرت سے بے نیاز شاعر تھے۔انھوں نے بتایا کہ وہ ایسے سنگ تراش تھے جن کے قدموں میں دنیا پڑی ہوئی تھی۔ شاعری کے فرسودہ اصول توڑ کر انھوں نے خود اپنی راہیں بنائیں۔ ان کی موت نے شاعری کے وہ دروازے بند کر دیے جس سے وہ نئے جہانِ معنیٰ پیدا کر رہے تھے۔ محترمہ شاہ جہاں جعفری نے ان کے متعدّد اشعاربہ طور مثال پیش کرتے ہوئے اپنے خیالات کے ثبوت فراہم کیے۔

تسنیم انصاری کے شاگردِ رشید جناب ظہیر راشد نے اپنے تاثّرات کے دوران بتایا کہ تسنیم انصاری ۱۹۸۱ء میںان کے گان￿و راج واڑی میں اسکول کے استاد کے طَورپر آئے۔ اس زمانے میں وہ اسکول کے طالبِ علم تھے۔ان کے والدسے تسنیم انصاری کی دوستی ہوئی اور پھر یہ سلسلہ آخرتک قایم رہا۔ اسکول میں تسنیم انصاری نے تمثیلی مشاعرہ منعقد کیااور ہم طلبا کو غالب، میر اور اقبال بنا کر پیش کرکے ادبی تربیت کا ایک ٹھوس سلسلہ قایم کردیا۔ انھوں نے کہا کہ رفتہ رفتہ استاد سے میرا ایک روٗحانی رشتہ قایم ہو گیا۔ یہ رشتہ ان کی موت کے بعد بھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹرعارف انصاری نے اپنے مضمون بہ عنوان ’میں لکھ رہا ہوں کہ تسنیم کون تھا، کیاتھا‘ میں ان کی زندگی کے نشیب و فراز واضح کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پندرہ سولہ برس کی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ پچیس برس میں تو انھیں سب شاعرکی حیثیت سے جاننے لگے تھے۔انھوںنے بتایا کہ طنزیہ عناصر اور عصری آگہی ان کی شاعری کا معیار متعیّن کرتے ہیں۔

جناب ابو شاہد نے اپنے تاثرات کے اظہار میں یہ واضح کیا کہ ان کی شاعری عصرِ نَو کا نوحہ ہے۔ جذبے کی صداقت اور دل کش طرزِ ادا نے انھیں مقبولیت عطا کی۔ انھوںنے اس بات پر بھی زور دیا کہ تسنیم انصاری صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ان کی نثر بھی لایقِ اعتنا ہے اور صحافت و ادب کے حوالے سے ان کے مضامین ہمارے لیے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر شبانہ نکہت نے اپنے مقالے میں اپنے والدین اور بزرگوں کے حوالے سے تسنیم انصاری کی شخصیت سے متعلّق معلومات کومختصر لفظوں میں پیش کیا۔ انھوںنے بتایا کہ برہان پور کی ادب پرور فضا میں ان کی تربیت ہوئی تھی اور ان کے اساتذہ نے اسکول کے زمانے میں ہی جو پیشین گوئی کی تھی ،اسے انھوں نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا۔ انھوں نے نئے شعرا و ادبا کی تربیت کرنے کی ان کی ادا کو قابلِ توجّہ امتیاز تسلیم کیا۔

کویت میں مقیم جناب نسیم زاہد نے تسنیم انصاری کی مختلف غزلوں کے منتخب اشعار کے فنّی اور ادبی محاسن پر روشنی ڈالی۔ تشبیہات اور پیکر تراشی کے نمونوں پر اپنے تاثّرات کا اظہار کرتے ہوئے انھوںبتایا کہ تسنیم انصاری ایک قادر الکلام اور پُرگوشاعر تھے۔ ڈاکٹر محمد دانش غنی نے علاقۂ کو کن میں ان کی ادبی سرگرمیوں کو بہ طَورخاص واضح کیا اور بتایا کہ تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ وہ ادبی صحافت اور کتب خانوں کے قیام اور ترقّی کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔ انھوں نے تسنیم انصاری کے سلسلے سے یادگاری لکچر منعقد کرنے کا مشورہ دیا۔

قطر میں مقیم ممتاز شاعر احمد اشفاق بہ طور مہمانِ خصوصی شریک ِ بزم تھے۔ انھوںنے بزمِ صدف کی کویت شاخ کو مبارک باد دی اور یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی کہ تسنیم انصاری جیسے سچّے انسان اور بہترین شاعر کو یاد کرنا کیوں ضروری تھا۔ حیدر آباد سے ڈاکٹر مختار احمد فردین نے مہمانِ اعزازی کے طَورپر تسنیم انصاری کو عقیدت کا خراج پیش کرتے ہوئے اس بات کا خاص طَور سے ذکرکیا کہ آج پوری ادبی دنیا اور دور دراز کے علاقوں میں ایک ربط پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ تسنیم انصاری کو شایانِ شان خراج ادا کرنے کے لیے ہمیں پورے ملک میں اردو کے نونہالوں کو بنانے اور سنوارنے کی ذمّہ داری ادا کرنی چاہیے۔ تنویر رضا برکاتی، اظہارالتسنیم اور کمال انصاری نے تسنیم انصاری کے منتخب کلام کو نشست میں مناسب مواقع سے پیش کیا۔ بزمِ صدف کویت شاخ کے صدر مسعود حسّاس نے اس مذاکرے کی بہترین نظامت کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ شُرکا ے محفل کا تعارف پیش کیا بلکہ گفتگوٗ کے دوران وہ تسنیم انصاری کے شاعرانہ مقام و مر تبے پر بھی حسبِ ضرورت روشنی ڈالتے رہے۔

اس بین الاقوامی مذاکرے کی صدارت بزمِ صدف انٹرنیشنل کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں تمام مقالہ خواں حضرات کے پیش کردہ اہم نکات کی وضاحت کی اور تسنیم انصاری مرحوم کے شاعرانہ خد و خال متعیّن کرنے کی کوشش کی۔ صفدرامام قادری نے انھیں مابعدِ جدیدعہد کے ایسے شاعر کے طَور پر پہچاننے کی سفارش کی جو ادبی رویّوں کے معاملے میں ایک حرکی تصوّر رکھتا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ تسنیم انصاری کبھی جمود کا شکار نہیں رہے۔ انھوں نے ترقی پسندوں سے بھی سیکھا اور جدیدیوں سے بھی۔ ان کے کلام کو پڑھتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کس طرح ایک امتزاجی راہ نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچہ تسنیم انصاری کی علاقائی پہچان ہی قایم ہو سکی مگر ان کے شعری مجموعوں کے مطالعے سے یہ بات درجۂ یقین کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ اردو کے قابلِ اعتبار شاعر تھے اور ان کا ادبی سرمایہ بے حد سنجیدگی سے ہمیں اپنے علمی وقار کے ساتھ متوجّہ کرتا ہے۔ انھوں نے بہ طور نمونہ تسنیم انصاری کے چند اشعار پیش کیے جن سے شاعر کی اہمیت ثابت ہو جاتی ہے۔

چلو کہ آبِ رواں سے یہ درس لے آئیں

کہاں سکون سے بہنا کہاں اچھلنا ہے

مرے خلاف ہوا تھی، پر ایسا لگتا ہے

چراغِ رہ گزر نے بھی کچھ شرارت کی

میرے اندر بھی بہت بھیڑ ہے باہر کی طرح

کس سے کترائوں، کہاں جائوں، کدھر سے نکلوں

کون سمجھائے کہ ا ب ضد پہ اڑی ہے دنیا

خود کشی کے لیے تیار کھڑی ہے دنیا

جام و مینا ہو کہ پھولوں کے کٹورے کہ وہ آنکھ

سب خطاکار ہیں سب نے مجھے پیاسا رکھا

بزمِ صدف انٹرنیشنل کے چیرمین جناب شہاب الدین احمد اور ان کی نگرانی میں کام کررہی تکنیکی ٹیم نے اس پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔ مذاکرے میں شکریے کی رسم تسنیم انصاری کے فرزند اور بزمِ صدف کویت شاخ کے سکریٹری جناب اظہارالتسنیم نے ادا کی۔انھوںنے اپنے والد کا ایک خیالی خط اپنے نام پڑھ کر سُنایا ۔ اس خونِ جگر سے لکھی ہوئی تحریر سے تسنیم انصاری کی شخصیت کے خدو خال بھی واضح ہو گئے اور تمام شرکا کا انھوں نے فرداً فرداً شکریہ بھی ادا کر دیا۔ تین گھنٹے تک چلی اس نشست کاآغاز جناب مسعودحسّاس نے تلاوتِ قرآن پاک سے کیا۔ اس آن لائن تقریب میں دنیا کے مختلف ملکوں کے نمایندہ اصحاب بھی شریک تھے۔