ممتازنقادپروفیسرمولابخش کاانتقال

 

علی گڑھ:اردو کے ممتاز نقاد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں سینئر فیکلٹی ممبر، پروفیسر مولا بخش انصاری مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 59 سال تھی۔اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ان کے افسوسناک انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاہے کہ پروفیسر مولا بخش ایک مخلص استاد تھے، وہ اپنے طلباء کے ساتھ علم بانٹنا پسند کرتے تھے۔ ان کا انتقال یونیورسٹی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔پروفیسر محمد علی جوہر (صدر، شعبہ اردو) نے کہا کہ ”پروفیسر مولا بخش کی تدریسی صلاحیتوں کا طلبہ نے خوب فائدہ اٹھایا اور سینئر استاذ کی حیثیت سے ان کی رہنمائی میں نوجوان اساتذہ نے زبردست علمی اور پیشہ ورانہ پیشرفت کی ۔ پروفیسر مولا بخش اردو کے ایک صاحب اسلوب ادیب تھے جو نثر، تنقید اور مشرقی شعریات کے میدان میں ادبی نظریات کے تجزیے اور تشریح کے لیے خاص طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی طلباء کو پڑھایا اور چار کتابیں تصنیف کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 26 سے زیادہ کتابوں کے ابواب کی تدوین کی، اور معروف تحقیقی جرائد میں متعدد مقالے شائع کیے، نامور مصنفین کے لیے ان کی کتابوں کا تعارف لکھااور ہندی اور انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔پروفیسر مولا بخش دیگر موضوعات کے علاوہ اسٹائلسٹکس، تنقیدی مطالعات اور ثقافتی علوم پر چھ کتابوں پر کام کر رہے تھے۔ وہ باقاعدگی سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ادبی پروگراموں میں ماہر کی حیثیت سے شامل ہوتے تھے۔