ممتاز عالم دین حضرت مولانا نذر الحفیظ ندوی ازہری کاانتقال ملک کا بڑا نقصان: امارت شرعیہ

پٹنہ:ایشیا کی عظیم دینی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مایہ ناز استاذ ، بے مثال ادیب و انشاء پرداز ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا نذر الحفیظ ندوی ازہری مختصر علالت کے بعد آج مورخہ 28؍ مئی 2021 کو عین جمعہ کی نماز کے وقت بیاسی سال کی عمر میں رب کائنات سے جا ملے ، انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ حضرت مولانا ندوی ، ضلع مدھوبنی کے موضع ململ کے باشندہ تھے، ان کے والد ماجد حضرت مولانا قاری عبد الحفیظ صاحب علاقہ کے با اثر قراء میں شمار ہوتے ، اسی علمی گھرانے میں ۱۹۳۹ءمیں پیدا ہوئے ، ابتدائی درجات کی تعلیم علاقہ کے مشہور و معروف اداروں سے حاصل کرنے کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل درس ہوئے ، ۱۹۶۲ءمیں عالمیت اور ۱۹۶۴ء میں فضیلت کی سند حاصل کی ، اس کے باہر جامعہ ازہر قاہرہ سے ۱۹۸۲ءمیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ، آپ کی ذہانت وفطانت اور علمی صلاحیت سے متاثر ہو کر ندوہ کی مجلس انتظامیہ نے ندوہ کا استاذ مقرر کیا، جہاں تا دم مرگ عربی ادب کی درجہ علیا کی کتابیں پڑھائیں ۔ آپ کا حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت و ارشاد کا بھی تعلق تھا۔
ان کے انتقال پر امارت شرعیہ میں نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی کی صدارت میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی ، جس میں حضرت نائب امیر شریعت نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا نذر الحفیظ صاحب باصلاحیت اور نکتہ رس ادیب و صحافی تھے ، قدرت نے ان کے قلم میں دلکشی و رعنائی عطا کی تھی ، وہ خوب لکھتے تھے ، قوت استدلال سے قارئین کو متاثر کرتے ، مغربی میڈیا اور اس کے اثرات نامی شہرہ آفاق کتاب تصنیف کر کے انہوں نے علم و ادب کی دنیا میں بڑی شہرت و ناموری حاصل کی۔ ان کی تحریر میں جاذبیت اور کشش تھی ، حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ کی سیرت و شخصیت پر ’’ابو الحسن علی ندوی؛کاتباً و مفکراً‘‘نا م کی کتاب لکھی ، جس نے عالم عربی میں بڑی پذیرائی حاصل کی ۔ایسے دیدہ ور عالم دین کا ہمارے درمیان سے اٹھ جاناایک بڑا علمی سانحہ ہے ، ہم اس غم میں اہالیان ندوہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب دامت برکاتہم سے اظہار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ندوہ کو حضرت مولانا کا نعم البدل عطا کرے۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ حضرت مولانا نذر الحفیظ صاحب نور اللہ مرقدہ ایک با فیض عالم دین تھے، ان کے شاگرد ملک و بیرون ملک میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ آپ کا امارت شرعیہ اور اکابر امارت شرعیہ سے گہرا اور عقیدت مندانہ تعلق تھا، امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ اور مجلس ارباب حل و عقد کے رکن بھی تھے، یہاںکی میٹنگوں میں پابندی سے شریک ہوتے اور اپنے قیمتی مشوروں سے ہم سب لوگوں کو استفادہ کا موقع عنایت فرماتے۔اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے ، ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے،ان کے پسماندگان کے علاوہ ملک وبیرون ملک میں پھیلے ہوئے ہزاروں شاگردوں کو صبر جمیل عطا کرے ۔ آمین۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ مولانا ایک بڑے صاحب قلم عالم دین تھے، وہ اپنی تحریروں سے نئی نسل کی ذہنی و فکری آبیاری کرنے میں مستقل لگے رہتے ،نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کہا کہ حضرت مولانا میرے شفیق و محسن استاذ تھے ، ان کے پڑھانے کا انداز بڑا نرالا اور اچھوتا تھا، اللہ نے انہیں افہام و تفہیم کی بڑی اچھی صلاحیت عطا کی تھی ، قحط الرجال کے اس دور میں ایسے مربی کا اٹھ جانا ایک بڑا سانحہ ہے ۔ مو لانا مفتی سعید الرحمن قاسمی صاحب نے کہا کہ مولانا سے امار ت شرعیہ کی میٹنگوں میں ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں ، وہ بڑے ہی خوش اخلاق اورخوش مزاج عالم دین تھے ،جب وہ میٹنگوں میں کوئی تجویز پیش کرتے تو سب لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ، ان کی رائے بہت ہی جچی تلی اور مضبوط ہوا کرتی تھی ، امارت شرعیہ سے بہت ہی محبت کرتے اور اس کو اپنے ایمان و عقیدے کا حصہ سمجھتے تھے ۔مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا ندوہ کے نامور اساتذہ کرام میں تھے ، طلبہ کے ساتھ ان کا طرز عمل مربیانہ اور مشفقانہ ہوا کرتا تھا، اس کی وجہ سے طلبہ و اساتذہ کرام بھی ان سے حد درجہ قریب رہا کرتے تھے ۔ وہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے مقبول اساتذہ میں شمار ہو تے ۔ ان کا انتقال دارا لعلوم دیوبند اور امارت شرعیہ ہی نہیں بلکہ علمی دنیا کا بڑا نقصان ہے۔مولانا رضوان احمد ندوی نائب مدیر ہفتہ وار نقیب نے کہا کہ حضرت الاستاذبڑے نیک عالم دین تھے ، وہ عرصہ سے ندوہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے اور عربی ادب کی معیاری کتابیں پڑھاتے تھے، حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ سے خصوصی تعلق تھا، اس حقیر سے بے پناہ شفقت و محبت رکھتے تھے ، وہ میرے استاذ بھی تھے اور شفیق و مہربان مربی بھی ۔
اس تعزیتی نشست میں مولانا ارشد رحمانی آفس سکریٹری ، مولانا منت اللہ قاسمی صدر مدرس دارا لعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ ، مولانا محمد شکیل قاسمی ، مولانا مفتی تبریز عالم قاسمی، مولانا محمد آفتاب عالم قاسمی اساتذہ دارا العلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ، مولانا منہاج عالم ندوی، مولاناسید محمد عادل فریدی قاسمی،مولانا مجیب الرحمن قاسمی دربھنگوی، مولانا عبد الماجد رحمانی ، مولانا محمد عمران قاسمی کے علاوہ دیگر کارکنان نے بھی شرکت کی۔ آخر میں حضرت نائب امیر شریعت نے مولانا کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی ۔