ممتاز ادیب و دانشور پروفیسر شمیم حنفی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کا اظہار تعزیت

دہلی:اردو دنیا کی ممتاز شخصیت پروفیسر شمیم حنفی کا کووڈ 19کی وجہ سے دہلی میں انتقال ہو گیا۔ اردو کی چند ممتاز ترین شخصیت میں شمار ہونے کی وجہ سے پوری ار دو دنیا ان کے انتقال کی خبر سے سوگوار ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیرمین جسٹس بدر درریز احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی سے میرا اور انسٹی ٹیوٹ کا پرانا رشتہ تھا۔ شمیم حنفی اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے ادب سے بھی گہری آگہی رکھتے تھے جس کی وجہ سے ان کے یہاں فکری سطح پر بڑی کشادگی تھی۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی میرے قریبی دوستوں میں تھے، میں نے ہمیشہ انھیں علمی کاموں میں مصروف دیکھا۔ ان کا مطالعہ غیر معمولی تھا اور وہ جب کسی موضوع پر بات کرتے تھے تو بصیرت کی ایک دنیا آباد کر دیتے تھے۔ ان کی کتاب ’غالب کی تخلیقی حسیت‘ کا پہلا اڈیشن غالب انسٹی ٹیوٹ سے شائع ہوا، وہ انسٹی ٹیوٹ کی اوارڈ کمیٹی کے بھی رکن تھے اور ان کے مشوروں سے ہم نے کئی اہم اقدام کیے۔ خدا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے اڈمنسٹریٹیو آفیسر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ شمیم حنفی کے انتقال کی خبر بڑی تکلیف کا باعث ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے ان کا تعلق بہت پرانا تھا اور وہ ہم سب پر بڑی شفقت فرمانے والے بزرگ تھے۔ وہ غالب نامہ کی مجلس مشاورت کے رکن تھے اور ان کے مشوروں سے غالب نامہ کا علمی وقار ہمیشہ قائم رہا۔ غالب نامہ میں بھی ان کے درجنوں مضامین شائع ہوئے جو اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ میں اپنی اور ادارے کے تمام اراکین کی جانب سے ان کے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں ۔ غالب نامہ کی مجلس مشاورت کے رکن ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی نے اپنے پورے عہد کو جس طرح متاثر کیا وہ ایک ادبی واقعہ ہے۔ میں نے ان جیسی بصیرت بہت کم لوگوں میں دیکھی ہے۔ ان کے یہاں باتوں کو دہرانے کا عمل نہیں بلکہ نئی تلاش اور نئی بصیرت کا عمل زیادہ نظر آتا ہے۔ کیسے ہی اچھوتے موضوع پر بات کیجیے وہ ہمیشہ اس تعلق سے کوئی نئی اطلاع فراہم کر دیتے تھے۔ اردو کے علاوہ ہندستان کی دیگر زبانوں کے ادب سے جیسی دلچسپی اور واقفیت ان کو تھی اس کی مثال ہمیں دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔ خدا ان کی مغفرت فرمادئے اور ان کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا ہے جلد اس کی تلافی کرے۔