ممتاز عالم دین و مصنف مولانا نظام الدین اسیر ادروی کا انتقال

 

نئی دہلی(قندیل ڈیسک):ملک کے ایک اور ممتاز عالم دین ، مصنف و سوانح نگار مولانا نظام الدین اسیر ادروی کا بھی طویل علالت کے بعد آج انتقال ہوگیا۔ انھوں نے لمبی عمر پائی اور تقریباً چورانوے؍ پچانوے سال کی حیاتِ مستعار گزار کر راہی ملک بقا ہو گئے۔ مولانا اسیر ادروی ہندوستان کے چند ایک کثیر التصانیف اور قابل اعتماد اہل قلم میں سے ایک تھے۔ انھوں نے ہندوستانی سیاست،تاریخِ آزادی،سوانح و شخصیات پر درجنوں کتابیں لکھیں۔ سیرت پاک پر ’’عہد رسالت۔غار حرا سے گنبد خضرا تک‘‘ اور دیگر موضوعات خاص طورپر اکابر علماے دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی،مولانا رشید احمد گنگوہی، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی زندگی اور کارناموں سے روشناس کرانے والی ان کی کتابیں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ انھوں نے دیگر کئی علما کی سوانح لکھیں۔ دارالعلوم دیوبند کی علمی و دینی خدمات پر ایک کتاب’’دارالعلوم دیوبند:احیاے اسلام کی عظیم تحریک‘‘ بھی ان کی اہم کتاب ہے،’’دبستانِ دیوبند کی علمی خدمات‘‘بھی ان کے تحقیقی ذوق کا بہترین نمونہ ہے۔ انھیں اگر مؤرخِ دارالعلوم دیوبند کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ ان سے پہلے سید محبوب رضوی نے دو جلدوں میں تاریخِ دارالعلوم دیوبند لکھی تھی، جو ستر کی دہائی میں شائع ہوئی تھی،اس سلسلے کو انھوں نے بڑھایا اور پھیلایا؛چنانچہ ان کی کم سے کم چھ اہم ترین کتابیں براہِ راست دارالعلوم اور اکابر دارالعلوم کی تاریخ و سوانح سے تعلق رکھتی ہیں، جو دارالمؤلفین اور شیخ الہند اکیڈمی دارالعلوم دیوبند وغیرہ سے شائع ہوئیں اور متعلقہ موضوع پر بنیادی مصادر کا درجہ رکھتی ہیں۔

مولانا کی پیدایش ۱۹۲۶ کی تھی، ابتدائی تعلیم وطن میں اور اس کے بعد مئو اور اعظم گڑھ کے مشہور اداروں مفتاح العلوم،احیاء العلوم ارو دارالعلوم مئو میں مشکوۃ تک کی تعلیم حاصل کی،مدرسہ شاہی سے ۱۹۴۲ میں فراغت حاصل کی،طویل عرصے تک مختلف علمی،ادبی و سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے بعد ۱۹۷۸ میں جامعہ اسلامیہ بنارس سے وابستہ ہوئے،وہاں تدریسی و انتظامی ذمے داریاں سنبھالنے کے ساتھ ایک سہ ماہی رسالہ’’ترجمان الاسلام‘‘نکالا جسے علمی حلقوں میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے کئی خاص نمبر نکالے۔ انھوں نے زیادہ تر تصنیفی کام بھی یہیں رہتے ہوئے کیا۔ پچھلے کئی سالوں سے چلنے پھرنے سے معذور اور صاحبِ فراش تھے۔ ان کا انتقال علمی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے۔