ممبئی ڈائری:فرحان حنیف وارثی کی حق شناسی کا ثبوت-خان حسنین عاقبؔ

ممبئی عالم میں انتخاب! ممبئی شکم پرور شہر! ممبئی جرائم کا اڈا! ممبئی جود و سخا کامرکز! ممبئی حرص و ہواکا ہیڈکوارٹر!
غرض ممبئی صرف ایک جغرافیائی مظہر ہی نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ بھی بہت کچھ ہے۔اتنا کچھ کہ چند صفحات پر سمیٹنے کی کوشش ناکافی ہوسکتی ہے۔ ممبئی شہر سے میرا تعلق بہت گہرا رہا ہے۔ میں نہ صرف یہ کہ کسی زمانے میں ممبئی شہر میں مقیم رہا ہوں اور یہا ں ملازمت کی ہے بلکہ کئی اہم اور تاریخی شخصیات سے مراسم بھی رہے ہیں جن کی یاد حافظے کو مہکادیتی ہے۔ممبئی شہر سے مجھے اتنی ہی انسیت ہے جتنی اپنے آبائی شہر سے۔  اس کا ثبوت وہ نظمیں ہیں جو میں نے وقتاً فوقتاً ممبئی شہر پرلکھی ہیں اور جو مختلف رسائل و اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ دراصل یہ نظمیں اس قرض کی ادائیگی کی چھوٹی سی کوشش ہے جو مجھے ممبئی نے دیا ہے۔ اپنے قیامِ ممبئی کے دوران کا ایک شعر مجھے یاد آرہا ہے:
پونہ  ہے ،  ممبئی  ہے ،  سفر ہے ،  قیام  ہے
چکّر بندھا ہے اک مرے پاؤں میں اِن دنوں
اس مختصر سی تمہید کے بعد آمدم برسرِ مطلب!
دو روز قبل ڈاکیہ ایک کتاب دے گیا۔ یہ کتاب ممبئی سے برادرم فرحان حنیف وارثی نے ارسال کی تھی۔ کتاب کا عنوان تھا ’ممبئی ڈائری‘۔ عنوان سن کر یا پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید یہ کسی روزنامچے کے اندراجات ہیں۔ دراصل ہے بھی ایسا ہی، لیکن قدرے فرق کے ساتھ۔ یہ کتاب ایسی چھوٹی چھوٹی یادداشتوں کا مجموعہ ہے، جن کا مرکزی عنوان ہی ممبئی ہے۔مصنف نے اپنی ان تحریروں میں ممبئی شہر اور اس کے لوگوں کا بغور مشاہدہ اور ممبئی کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔چونکہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ فرحان بھائی سے میری گفتگو ممبئی کے موضوع پر ہوچکی تھی اور وہ ممبئی پر میری ایک کتاب کے مواد کے سلسلے میں معاونت کا وعدہ کرچکے تھے، لہٰذا ان کی یہ کتاب اپنے عنوان کے اعتبار سے بھی میرے لیے دلچسپی کا سامان تھی۔ ہزارہا مصروفیات کے باوجود اس کتاب نے ترجیحی طور پر خود کو مجھ سے پڑھوالیا۔ یعنی میں نے سب کام چھوڑ کر کتاب ایک ہی نشست میں ختم کرڈالی اور پھر جو تاثرات میرے ذہن پر مرتسم ہوئے ، ادبی ذوق نے یہ تحریر دو ہی دنوں میں مکمل کروالی۔ ’ممبئی ڈائری ‘ کی یہ تحریریں دراصل لفظی تصویریں ہیں جو فرحان وارثی نے روزنامہ اردو ٹائمز ، ممبئی کے مستقل کالم’ممبئی ڈائری‘ کے لئے 1997 سے 2000 کے درمیانی چار برسوں میں بنائیں۔اس موقع پر شکیلؔ بدایونی کا ایک شعر یاد آتا ہے:
بھیج  دی  تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر  شکیلؔ
آپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیے
فرحان وارثی نے ٹکڑوں ٹکڑوں میں ممبئی کی ایسی خوبصورت تصویریں بنادی ہیں جنہیں ہر شخص اپنی نظر ، اپنے زاویے سے دیکھ سکتا ہے۔ یہ ساری لفظی تصویریں اپنے بیانیہ اسلوب میں ایسی خوبصورت ہیں کہ عکسی تصویروں کی ضرورت کو ختم کردیتی ہیں۔ فرحان وارثی کی یہ لفظی تصویریں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔انہوں نے اپنے کالمس میں ممبئی شہر کی گوناگوں اور مختلف صفات، اس کے مناظر، اس کی عمارتیں،یہاں بسنے والے لوگ، ان لوگوں کی اچھی بری عادات و فطرت، یہاں کی تہذیب، یہاں کا تمدن۔ غرض ان تمام عناصر کو روزانہ کی بنیاد پر قلم بندکیا ہے۔ان کے یہ احساسات صحافتی تاریخ کے ساتھ ساتھ ادبی تاریخ کا بھی حصہ بن گئے ہیں۔
پھر آئیے ممبئی کے موضوع پر۔ ممبئی اپنے قلب میں اور اپنے بدن میں ان لوگوں کو بھی پناہ دیتی ہے جو اپنے اپنے گاؤں سے دیرینہ خواہشات کا اژدھام لئے بغیر کچھ سوچے سمجھے ، اپنی حسرتوں کو سنجوئے چلے آتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی حسرتِ ناکام کو دو کپڑا جوڑی کے ساتھ اپنے بیگ میں ڈالے واپس چلے جاتے ہیں، کچھ لوگ جو اپنی کشتیاں جلاکر آئے ہوتے ہیں، وہ یہیں رہ کر زندگی کی بے سود دوڑ کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر یہیں کہیں بے نام سی زندگی گزار کر مرکھپ جاتے ہیں۔ جی ہاں، ممبئی شہر زندگی کی ایک بے سود دوڑ اور ناآسودہ تگ و دو کا منبع ہے۔ اس شہر کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہاں ناکام اور نا آسودہ لوگ تواحساسِ شکستہ پائی کے سبب اندھیروں میں کہیں گم ہوجاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اپنی مرادیں پاکر کامیابی کے نشے میں چو ر ہوجاتے ہیں، وہ بھی نہ جانے کیوں اپنی زندگی سے ہار جاتے ہیں۔ یہاں آکر کامیابی کی دلہن سے شادی رچانے والے بہت سے دولہے اور بہت سی دلہنیں نہ جانے کیوں خودکشی کر لیتے/لیتی ہیں۔لیکن یہ بات صاف ہے کہ ممبئی شہر زندگی کی بے سود دوڑ کا شہر ہے۔ مجھے مجید اوحدی کا ایک فارسی شعر یاد آرہا ہے:
در تلاشِ زندگی سودی بجز حسرت نبردن
از پی ٔ مقصودِ نا معلوم روز و شب دویدن
یعنی زندگی کی تلاش میں سوائے حسرتوں کے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ زندگی کی تلاش ایک نا معلوم مقصود کے لئے دن رات دوڑنے کے علاوہ اور کیا ہے؟ بس، یہی خلاصہ ہے ممبئی کی زندگی کا!
مصنف نے کتاب جن معروف اہلِ علم و اہلِ قلم کے نام کی ہے ان میں سے تقریباً تمام سے میرے مراسم ہیں ، کچھ سے برادرانہ اور کچھ سے مربیانہ روابط۔ ’ممبئی ڈائری‘ ممبئی شہر کا ایک طائرانہ  Bird-view   نظارہ دکھاتی ہے۔لیکن طائرانہ نظارے میں گہرائی نہیں ہوتی، بلکہ سطحی پن ہوتا ہے جب کہ ممبئی ڈائری میں مصنف نے جتنے بھی واقعات درج کئے ہیں ان سب میںممبئی کا روزمرہ ہے، لوگوں کا معمول ہے، ان اندراجات کو پڑھ کر یہاں رہنے والے لوگوں کے مزاجوں کو سمجھا جاسکتا ہے۔فرحان وارثی نے ممبئی کے ’بہت اندر‘ کی باتیں کی ہیں۔ یہ اندراجات مختلف شکلوں میں مختلف روپ دھارتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے فرحان وارثی لوکل ٹرین کے اندر قلم کاغذ ہاتھوں میں لیے لوکل کے اندر روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی ’چہرہ خوانی‘ بھی کررہے ہیں، ان کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ بھی کررہے ہیں اور ان سے گفت و شنید یہاں تک کہ ان سے مصاحبہ بھی کررہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ ’لوکل‘ سے باہر کی ممبئی کا بھرپور نظارہ بھی کررہے ہیں اور ان سب تجربات و مشاہدات کو اردو ٹائمز کے دفتر پہنچتے ہی اپنے اخبار کے کالم کے حوالے کررہے ہیں۔یہ اندراجات بیک وقت ’کلوز سرکٹ کیمرا یعنی سی سی ٹی وی‘ بھی ہیں اور ’موونگ سیٹللائٹ بھی جو سب کچھ ’کَور ‘ کررہا ہے۔ فرحان وارثی نے خود اپنی اس کتاب کے بارے میں آخری فلیپ پر لکھا ہے،’’ ممبئی ایسا شہر نہیں ہے کہ جسے آپ اچٹتی نظروں سے دیکھیں اور آگے بڑھ جائیں۔ میں نے اس شہر کو بچوں کی طرح ٹھہر کے  Kaleidoscope   سے دیکھا ہے اور جو کچھ دیکھا ہے، اسے اس کتاب میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔‘‘
’ممبئی ڈائری‘ زندگی کی اسی دوڑ کی عکاسی کرنے والی لفظی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ہر تحریر کا عنوان زندگی کے نا معلوم مقصود کی تلاش میں بھٹکنے والے افراد، تاریخ اور اس کے مختلف گوشوں کی عقدہ کشائی ہے۔
کئی جگہوں پر مصنف نے اپنی تحریروں میں فلسفۂ حیات کی دانشمندانہ آمیزش بھی کی ہے۔مثلاً
صفحہ 30  پر ’’بھائی ، میں تم سے کہہ رہا تھا کہ جب بھی تم غصے میں ہوتے ہو، تب کچھ نہ کچھ کھوتے ہو۔‘‘
صفحہ42  ’’ممبئی شاید ایسے ہی نیک انسانوں کی وجہ سے محفوظ ہے ورنہ سمندر کا پانی کنارے کو غصے سے چھوتا ہے اور واپس چلا جاتا ہے۔‘‘
صفحہ 90   ’’ زندگی میں حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ دھوپ چھائوں آتی جاتی رہتی ہے۔‘‘
صفحہ 97  ’’ دیپاولی ان لوگوں کے لیے خوشی کا تہوار ہے جن کی تجوری میں لکشمی ہوتی ہے مگر دووقت کی روٹی جُٹانے میں مصروف افراد کے لیے دیپاولی اور پٹاخوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، انھیں بس فکر ہے تو چند کھنکتے سکوں اور نوٹوں کی۔‘‘
کچھ کڑوی سچائیاں:
صفحہ 32 ’’ بتایاجاتا ہے کہ ان کی(محمد علی جناح کی) زندگی جب آخری ہچکی لے رہی تھی تب و عروس البلاد(ممبئی) کو یاد کررہے تھے۔‘‘
ٓصفحہ 33  ’’ عروس البلاد کے لوکل ریلوے اسٹیشنوں پر ٹکٹ چیکروں کو اپنا شکار ڈھونڈنے میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی کیوںکہ ٹکٹ کے بغیر سفر کرنے والوں کی ایک مخصوص پہچان ہوتی ہے۔‘‘
صفحہ 47  ’’ بھائی صاحب ، ہمارے ملک میں دہلی سے لے کر ہر جگہ ملاوٹ کا دور دورہ ہے۔ ‘‘
صفحہ 79  ’’بالی ووڈ میں مندار کرولکر جیسے فنکاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔یہاں بہروپیوں کی قدر ہے۔‘‘
صفحہ 84   ’’ زیادہ ترڈاکٹروں اور سائنسدانوں کے نزدیک سمندروں، تالابوں اور جھیلوں میں گنیش کا وسرجن نقصان دہ ہے۔ کاش! مچھلیوں کو قدرت نے بولنے کی صلاحیت بخشی ہوتی تو یہ پتا چل جاتا کہ گنیش وسرجن ان کی موت کی وجہ بنتا ہے یا نہیں۔‘‘
صفحہ 88  ’’ ممبئی میں یوں تو کئی کبوتر خانے ہیں مگر ان میں پانجرہ کا کبوتر خانہ بے حد مشہور ہے۔ عموماً کبوتر خانوں میں کبوتروں کے لئے پانی اور دانے کی سہولت موجود رہتی ہے ۔ لیکن گندگی بھی اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔
صفحہ 98  ’’ ممبئی بڑی تیزی سے ایڈس کے شکنجے میں جکڑتے جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ شہر میں دوسو سے تین سو کے درمیان افراد ایچ آئی وی پازیٹیو کا شکار ہورہے ہیں۔‘‘

افسانوی اسلوب:
کہیں کہیں فرحان وارثی کا اسلوب افسانوی ہوجاتا ہے۔ یہاں ان کی تخلیقی صلاحتیوں کے درشن بھی بخوبی ہوجاتے ہیں۔ مثلاً صفحہ 65  کا اندراج دیکھیں۔
’’ جہاں وہ رہتی تھی، اب وہاں اداسی بھرا سناٹا ہے۔ سیاحوں کا استقبال کرنے والی اس کی کلکاری اب سنائی نہیں دیتی۔ جو بھی اس سے ملا ہے،

اس کی معصومیت سے پُر شیطانی حرکتوں کو بار بار یاد کرتا ہے۔ مگر وہ اپنے نئے بَلم کے ساتھ اوَدھ کی شاموں کو گلزار کررہی ہے۔
ان دنوں وہ خوابوں کے سفر پر ہے۔ ‘‘ آپ اگلا جملہ پڑھیں گے تب جاکر علم ہوگا کہ بھائی، فرحان وارثی ’مادہ گبن gibbon  ‘ یعنی مادہ لنگور یا چھوٹی جسامت کی بغیر دُم کی بندریاکے بارے میں بات کررہے تھے، کسی افسانوی کردار کے بارے میں نہیں۔
صفحہ 66 ’’اب گرمی کا موسم ممبئی میں اپنا غصہ دکھانے لگا ہے۔ کبھی کہاجاتا تھا کہ یہاں ہر موسم ایک جیسا ہوتا ہے مگر اب وہ دن کہاں اور وہ بات بھی کہاں؟ گرمی کا موسم ممبئی اور ممبئی والوں کو ہر وقت آنکھیں دکھاتا رہتا ہے۔‘‘
صفحہ  72  ’’ لیکن جینے کا فیصلہ کرنے میں انھوں نے بہت دیر کردی تھی کیونکہ موت کے دھویں نے زندگی کے دروازے میں سوراخ کردیا تھا۔‘‘
صفحہ 73  ’’ برکھا رانی نے پہاڑوں کی گھاٹیوں میں ہریالی کی چادر بچھادی ہے۔ کھیت کھلیان اور پیڑوں نے سبز پتوں کی چھتری پکڑ رکھی ہے۔‘‘
صفحہ 86   ’’ سنیچر کی رات تھی۔ لگ بھگ بارہ بجے کا وقت تھا۔ تھکن سے نڈھال مسافروں کا ہجوم لوکل سے اترکے گورے گائوں اسٹیشن سے باہر آرہا تھا۔ آٹو رکشا ڈرائیور اپنی مرضی سے کرایہ طے کررہے تھے۔۔ اوپر سے یہ شرط بھی عائد تھی کہ یہاں جائیں گے اور وہاں نہیں
جائیں گے۔ ایک بس کھڑی تھی جس میں مسافر بیٹھنے لگے تھے۔ ‘‘
ممبئی ڈائری کی ان عبارتوں میں درج بالا تین عنوانات یعنی فلسفہ ، کڑوی سچائیاں اور افسانوی اسلوب ، تینوں کی مزید امثال آپ کو بہ آسانی مل جائیں گی لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کتاب کا مکمل مطالعہ کریں۔مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ فرحان وارثی کی اس کتاب میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی بھی دکھائی دیتی ہے ۔یعنی وہ بات کو بات بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ انہوں نے ان تمام عبارتوں میں ممبئی کی روح کو مختلف واقعات کی شکل میں دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ ان کی نوعیت واقعاتی ہے لیکن ان کا طرز و اسلوب ادبی، نیم ادبی ، افسانوی اور کہیں کہیں کچھ کچھ شاعرانہ ہے۔یہی اس کتاب کی عبارتوں کی خوبصورتی بھی ہے۔اس کتاب پر شاہد صدیقی اور جمیل فاضلی نے مضامین لکھے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ نہ شاہد صدیقی ممبئی سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی جمیل فاضلی ۔ شاہد صدیقی دہلی سے ہیں اور جمیل فاضلی کراچی سے۔اس کے باوجود انہوں نے ممبئی کے بارے میں لکھا۔ یقینا انہوں نے ممبئی کو فرحان وارثی کی آنکھوں سے ہی دیکھا ہوگا۔ البتہ فلمی گیت کار سمیر اور سدھارک اولوے، شیام بینیگل اور سائرس ساہوکار ممبئی ہی سے تعلق رکھتے ہیں ۔
فرحان وارثی ان چند لوگوں میں ہیں جنہوں نے ممبئی شہر کے احسانوں کو یاد رکھا ہے اوراس شہر سے متعلق کچھ لکھنے کو اپنا فرض سمجھا ہے۔انہوں نے خود یہ قبول کیا ہے کہ ان کی شہرت اور ناموری میںاس شہر کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہ احسان شناسی کی صفت ہے جس کا استحسان جتنا بھی کیا جائے ، اتنا کم ہے۔ممبئی میں مقیم نوجوان شاعر، باصلاحیت نثر نگار اور مقبول ناظمِ مشاعرہ شاگردِ من محسن ساحلؔ کا برمحل شعر یاد آرہا ہے جو اس تحریر کے موضوع سے انصاف کرتا معلوم ہوتا ہے:
تونے اے ممبئی! جو کچھ بھی دیا ہے مجھ کو
وہ مرا شہر تو صدیوں بھی نہ دے پائے مجھے

 

کتاب:   ممبئی ڈائری ( کالموں کامجموعہ)
مصنف :    فرحان حنیف وارثی
قیمت:     250/-
مصنف کا پتہ:پوسٹ باکس نمبر4546،ممبئی سینٹرل پوسٹ آفس ،ممبئی 400008
موبائل نمبر :  9320169397