ملک قانون سے چلتا ہے،بھروسے سے نہیں،راکیش ٹکیت کامودی کو جواب

نئی دہلی:کیا کسانوں سے تحریک ختم کرنے کی اپیل وزیر اعظم نریندر مودی کے اثرات مرتب ہوں گے؟ اس وقت اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے ، لیکن یہ بات یقینی طور پر ہے کہ جلد ہی گفتگو شروع کرنے کی توقع بڑھ گئی ہے۔ زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والی کسان تنظیموں نے پیر کو حکومت سے مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنے کا مطالبہ کیا۔کسانوں کولفظی یقین دہانی پربھروسہ نہیں ہے۔کیوں کہ ’اب نہ گی مہنگائی کی مار‘،’اب نہ ہوگاناری پروار‘،’جی ایس ٹی کے فوائد‘،’دوکروڑروزگار‘اور’نوٹ بندی کے فوائد‘کاحال ملک دیکھ چکاہے۔دوسری طرف کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ وزیر اعظم نے آج کہا ہے کہ ایم ایس پی ہے ، اور رہے گی لیکن انہوں نے یہ نہیں کہاہے کہ کم سے کم سپورٹ قیمت پر کوئی قانون بنایا جائے گا، ملک بھروسے پرنہیں چلتاہے۔ملک آئین اور قانون سے چلتاہے ۔