ملک میں پیشہ ورانہ تعلیم-ڈاکٹرمظفرحسین غزالی

پہلی مرتبہ سکندر لودی نے ایسے مدارس قائم کیے تھے، جن میں عام لوگوں کےلیے تعلیم کا انتظام تھا۔ اس سے قبل پڑھنا پڑھانا خواص تک محدود تھا۔ پیشہ ورانہ تعلیم استاد، شاگرد کے روایتی طریقہ سے آگے بڑھتی تھی۔ دھیرے دھیرے کام انسان کی پہچان بن گیا اور نہ جانے کب اس نے ذات کی شکل اختیار کرلی، پیشہ ور کامگار طبقات پیشوں کی بنیاد پر بنی ذاتوں کے نام سے پکارے جانے لگے۔ یہ سلسلہ نسل درنسل جاری رہا۔ اس کے نتیجہ میں موچی کا بیٹا موچی، لوہار کا بیٹا لوہار، کمہار کی اولادیں کمہار، تعمیرات سے جڑے لوگوں کے بچے مکان بنانے کا تو بنکروں کے بچے کپڑا تیار کرنے کاکام کرتے تھے۔ یہاں تک کہ طب وجراحی بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھی۔ فن سپہ گری کےلیے بھی استاد کی ضرورت تھی۔ اس وقت زیادہ تر ضرورتیں انہیں پیشہ وروں سے پوری ہوجاتی تھیں۔
پیشہ ورانہ تعلیم کا باضابطہ نظم برطانوی دور حکومت میں شروع ہوا۔ حکمراں جماعت کو سرکاری عمارتوں کی تعمیر، سڑک، کینال، پورٹ بنانے، مینوفیکچرنگ یونٹس اور کارخانوں و صنعتوں میں کام کرنے کےلیے تربیت یافتہ ہنر مند کاریگروں کی ضرورت تھی۔ برطانیہ سے ایسے لوگوں کو بھارت لانا مہنگا سودا تھا۔ یہاں کے زیادہ تر کاریگر ان پڑھ تھے اور ان کی کارکردگی غیراطمینان بخش تھی۔تب انگریزوں نے اور سیٹر، فورمین اور دست کاروں کو ٹرینڈ کرنے کےلیے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان اسکولوں کو آرڈیننس فیکٹریوں کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ اسکولوں میں لکھنا پڑھنا سکھانے کے ساتھ ارتھ میٹک، جیومیٹری اور میکنک کی تعلیم دی جاتی تھی۔ پریزیڈنسی شہروں کلکتہ، بمبئی، پونہ اور مدراس میں ان اسکولوں کی ابتدا ہوئی۔ سب سے پہلے کلکتہ اور بمبئی میں انڈسٹریل اسکول 1825 میں قائم ہوئے۔ اس کے بعد گونڈی مدارس میں گن فیکٹری کے ساتھ 1842 میں اسکول کھولا گیا اور سیٹروں کی ٹریننگ کےلیے1854 میں پونہ میں ا سکول کھلا۔
پہلا انجینئرنگ کالج1847 میں یوپی کے رڑکی میں سول انجینئروں کی ٹریننگ کےلیے قائم ہوا۔ اس کا نام تھامسن انجینئرنگ کالج تھا۔ وہ کسی بھی یونیورسٹی سے ملحق نہیں تھا۔ اس کا سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ ڈگری کے برابر مانا جاتا تھا۔ 15 اگست 1947 تک ملک کے مختلف حصوں میں سول، الیکٹریکل، میکنیکل اور دوسری مختلف برانچوں کی پڑھائی کےلیے قابل ذکر تعداد میں انجینئرنگ کالج قائم ہوچکے تھے۔ 1945میں آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کا قیام عمل میں آیا۔ جو تکنیکی تعلیم کی ترقی کےلیے صلاح کار کے طورپر کام کرتی تھی۔ 1987 میں پارلیمنٹری ایکٹ کے تحت اسے تکنیکی اداروں کی منظوری، گرانٹ، تکنیکی تعلیم کے معیار کو قائم رکھنے اور اسے ترقی دینے کےلیے ذمہ دار ادارہ کے طورپرمتعارف کرایا گیا۔ تعلیم کے پرائیویٹائزیشن کے بعد AICTEکی منظوری سے پورے ملک میں انجینئرنگ کالجوں کا جال بچھ گیا۔اس وقت تکنیکی تعلیم کی کوئی شاخ ایسی نہیں ہے جس کی تعلیم کی سہولت ہمارے ملک میں موجود نہ ہو بلکہ انجینئرنگ کی نئی برانچیں بھی متعارف ہورہی ہیں۔ شعبہ طب کی بات کریں تو بھارت میں آیورویدک ویونانی طریقہ علاج رائج تھا۔ اس کی بنیاد استاد شاگرد کی روایت پر ٹکی تھی۔ اس میں پڑھائی لکھائی کے مقابلے عمل مشق پر زیادہ زور تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1764 میں انڈین میڈیکل سروس شروع کی۔ جس کے تحت برٹش انڈیا میں رہ رہے یوروپین اور فوج کو علاج کی سہولت فراہم کرنی تھی۔ اس کےلیے بمبئی کلکتہ اور مدراس میں سول اور ملٹری اسپتال بنائے گئے۔ ان میں علاج کرنے کےلیے طبیبوں کی بھی ڈاکٹر کے طورپر تقرری کی گئی۔ مطلوبہ معیار کو پورا کرنے والے ڈاکٹر بہت کم تھے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے 21 جون 1822 کو کلکتہ میں دی نیٹیو میڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیاگیا۔ اس میں اناٹومی، میڈیسن اور سرجری کی تعلیم دی جاتی تھی۔ 1826 میں بھارت کی روایتی طبی تعلیم یونانی و آیورویدک کلکتہ، مدراس میں اور 1827 میں سنسکرت کالج میں شروع کی گئی۔ تربیت یافتہ میڈیکل اسٹوڈنٹ نیٹیو ڈاکٹر کے طورپر مختلف اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں جاکر علاج کرتے تھے۔ یہ تجربہ بہت کامیاب رہا۔ زیادہ تر طلبہ سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
سرکار نے دیسی طبی تعلیم (یونانی و آیوروید) جاری رکھی جائے یانہیں ؟اس کا جائزہ لینے کےلیے ایک کمیٹی بنائی، جس کے صدر ڈاکٹر جوہن گرانٹ تھے۔ 20اکتوبر1834 کو کمیٹی نے اپنی رپورٹ داخل کردی۔ اس کے نتیجہ میں 28 جنوری1835کو کلکتہ میں پہلا میڈیکل کالج بنایا گیا۔ اسی کے ساتھ بھارت میں میڈیکل ایجوکیشن کی شروعات ہوئی۔ لیکن سرکارنے کلکتہ، مدراس اور سنسکرت کالج میں یونانی، آیوروید کی جو تعلیم ہورہی تھی، اسے بندکردیا۔ اس کی پورے ملک میں مخالفت ہوئی، سرکارنے یونانی وآیوروید کے مقابلے ایلوپیتھی کو بڑھاوا دیا۔ بھارت کی تاریخ میں 1836 میل کے پتھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب برطانوی بھارت میں ویسٹرن میڈیسن کے تحت مدھو سودن گپتا نے ہیومن باڈی کا ڈی سیکشن کیا۔ 30اکتوبر 1838 کو کلکتہ میڈیکل کالج سے پڑھائی مکمل کرکے پہلا بیچ نکلا۔ جسے علاج و سرجری کرنے کا اہل مانا گیا۔
میڈیکل ایجوکیشن کے معاملے میں آج بھارت کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں ہے۔ اس وقت ملک میں 542 میڈیکل کالج ہیں جن میں 278 سرکاری اور 263 پرائیویٹ، ان میں کل 82926 ایم بی بی ایس کی سیٹیں ہیں ۔ 313 ڈینٹل کالج میں26949 نشستیں ہیں ۔ ملک کے 64 کالجوں میں پوسٹ گریجویشن کی سہولت دستیاب ہے ۔ آیوش کی بھی 52720 سیٹیں ہیں اس کے علاوہ ملک میں میڈیکل، پیرا میڈیکل کے درجنوں کورس موجود ہیں۔ میڈیکل رجسٹر کے مطابق ملک میں 10.41 لاکھ ڈاکٹر رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 8.33 لاکھ ڈاکٹر ہی میڈیکل پروفیشن میں سرگرم ہیں ۔ آبادی کے لحاظ سے ان کا تناسب ابھی بہت کم ہے۔ یہ شرح قریب 1700 لوگوں کےلیے ایک کی ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک ہزار لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے ۔

اس وقت زمانہ تخصیص کا ہے۔ بھارت میں ہر میدان کے ماہر ڈاکٹر موجود ہیں۔ ساتھ ہی ہماری میڈیکل سہولیات کئی ملکوں سے سستی ہیں۔ اس لیے دنیا بھر سے لوگ یہاں علاج کرانے آرہے ہیں۔ ہمارا میڈیکل ٹورزم کا کاروبار 2015 میں تقریباً 3بلین ڈالر تھا جو 2020 کے وسط میں 6 بلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ۔ اس لحاظ سے میڈیکل کے میدان میں کیریئر بنانے کےلیے طلبہ کو آگے آنا چاہیے۔ سرکار نے اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے نئے نئے میڈیکل کالج بنانے کی منظوری دی ہے۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا جو 1934میں بنی تھی۔ اس کے قوانین میں کئی مرتبہ تبدیلی کی جاچکی ہے تاکہ وہ میڈیکل ایجوکیشن کے معیار کو اعلیٰ بنانے، نئے کالجوں کی منظوری کی سفارش کرنے، ڈاکٹروں کا مستقل و عارضی رجسٹریشن کرنے اور بیرون ملک کے میڈیکل کالجوں کی تعلیم کا جائزہ لینے کے عمل کوانجام دے تاکہ اپنے ملک کی تعلیمی اداروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور بہتر طریقہ سے کام کرنے میں مدد مل سکے۔
انجینئرنگ یا میڈیکل میں ڈگری حاصل کرنے کیلیے بارہویں (10+2) لازمی ہے۔ البتہ ڈپلومہ یا سرٹیفکیٹ کورس دسویں کے بعد بھی کیے جاسکتے ہیں۔
آئی ٹی آئی میں بھی درجن بھر سے زیادہ پیشہ ورانہ کورس موجود ہیں۔ جو دسویں کے بعد کیے جاسکتے ہیں۔ اس میں الیکٹریکل، میکنیکل، مشی نسٹ، ہوٹل مینجمنٹ، کپڑے سینا، کمپیوٹر، کارپینٹری، کرافٹ مین، فوڈ پروڈکشن، ڈرافٹ مین، ڈینٹل لیباریٹری اسسٹنٹ، پبلی شنگ، الیکٹرانک، فٹر، ایمبروڈری، فیشن، ٹیکنالوجی، فونڈری مین، ہیراینڈ اسکن کیئر، ہیلتھ مینٹری انسپکٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انسٹرومنٹ میکنک لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس، ڈیڑل میکنک، ریڈیو ٹیلی ویژن میکنک، ریفریجریٹر میکنک، ٹریکٹر میکنک، مولڈر، پینٹر، فوٹو اگرافر، پلمبر، ریڈیو لوجی ٹیکنیشین، اسٹینوگرافر، سرویئر، ڈائی میکر، ٹرنر، ویلڈر اور وائرمین وغیرہ۔ اسی طرح پیرا میڈیکل کے بھی کئی کورس موجود ہیں جیسے لیب ٹیکنیشین، آپریشن اسسٹنٹ، انیس تھیسیا اسسٹنٹ وغیرہ۔
بزنس، ہوٹل مینجمنٹ، کمپیوٹر، مارکیٹنگ، فائنانس، جرنلزم، فلم ماس کمیونی کیشن، اسپورٹ اور پبلیشنگ و پرنٹنگ میں درجنوں پیشہ ورانہ کورس موجود ہیں۔ جو جس پروفیشن کو اختیار کرنا چاہتا ہے، اس سے متعلق کورس کرسکتا ہے۔ کورس سے متعلق زیادہ تر معلومات آن لائن موجود ہیں۔ کمپیوٹر کی وجہ سے اپنی صلاحیت کے مطابق اپنے مستقبل کی منصوبہ سازی کرنا آسان ہوگیا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)