ملک کی دس ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں؟سپریم کورٹ میں درخواست دائر،مرکز کو نوٹس بھیجاگیا

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے ریاستی سطح پر اقلیتوں کی شناخت کے لئے ہدایات تیار کرنے کے مرکزکو حکم دینے کی اپیل کرنے والی عوامی مفاد کی درخواست پر حکومت سے جمعہ کو جواب طلب کیا ہے جس میں کہا گیا کہ 10 ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں۔ جسٹس ایس کے پال کی سربراہی میں بنچ نے وزارت داخلہ، وزارت انصاف و قانون اور اقلیتی امور کی وزارت کو نوٹس جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ 10 ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں لیکن انہیں ابھی تک اقلیت قرار نہیں دیا گیا ہے۔بی جے پی کے رہنما اور ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر درخواست میں قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ ایکٹ 2004 کی دفعہ 2 (ایف) کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔در حقیقت بی جے پی رہنما اور وکیل اشوینی کمار اپادھیائے کا کہنا ہے کہ وسیع اعداد و شمار کے تحت ملک گیر ہندو قوم اکثریت کے زمرے میں آتی ہے۔ جس کی وجہ سے اسے اقلیتوں کے فوائد نہیں مل رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں ہندو اب بھی اقلیت میں ہیں، جن میں ملک کے شمال ومشرق کی متعدد ریاستیں شامل ہیں۔ اشونی کمار اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ہندو اب بھی ان ریاستوں میں اقلیتوں کو فراہم کیے جانے والے فوائد سے بہت دور ہیں۔ اپادھیائے نے سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی تھی اور عدالت سے اقلیت کا پیمانہ طے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔