ملک کے عوام کا بنیادی مسئلہ – ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

 

بھارت جمہوری ملک ہے، یہاں اپنے لئے خود عوام اپنی حکومت کا انتخاب کرتے ہیں ۔ اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ حکومت عوام کے حقوق کی حفاظت، معیار زندگی کی بلندی اور بھلائی کے قانون بنانے و نافذ کرانے کے لئے ذمہ دار ہوتی ہے ۔ ٹیکس کی شکل میں عوام ملک کا نظام چلانے کے لئے حکومت کو رقم فراہم کرتے ہیں ۔ لیکن اگر اس کے کسی اقدام سے عوام مطمئن نہیں ہوتے، انہیں کوئی کمی محسوس ہوتی یا اپنے خلاف لگتا ہے تو وہ اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں ۔ جلسہ، جلوس اور احتجاج کے ذریعہ اپنے احساسات سے حکومت کو واقف کراتے ہیں ۔ حکومت عوام کی تشویش، خدشات پر غور و خوض کرکے اپنے فیصلہ میں ترمیم کرتی، واپس لیتی یا پھر عوام کو مطمئن کرتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر حکومت اپنے فیصلہ کو لوگوں پر زبردستی تھوپتی ہے اور عوام کی آواز دبائی جاتی ہے تو مانا جائے گا کہ وہ جمہوریت کے بجائے آمریت کے راستہ پر چل رہی ہے ۔ اس کیفیت سے ہی گوناگون مسائل کا جنم ہوتا ہے ۔

عوام کے مسائل کو سماجی، سیاسی اور اقتصادی زمرہ بندی کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے ۔ مذہبی، اخلاقی، معاشرتی اور تعلیمی گراوٹ سماجیات کے دائرے میں آتی ہے ۔ جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا ملک مختلف مسائل سے جوجھ رہا ہے ۔ ان کی طرف سے دھیان ہٹانے کے لئے حکومت اور برسراقتدار جماعت عوام کو گمراہ کرنے، بھرم پھیلانے کی کوشش کرتی ہے ۔ کبھی ذات، مذہب کے نام پر ٹکراؤ پیدا کیا جاتا ہے تو کبھی ترقی کا شور ۔ سڑک بنانے، انفراسٹرکچر کو سدھارنے اور بجلی کی فراہمی کو ترقی کہا جاتا ہے ۔ بجلی اور سڑک تو محض ترقی کی پہلی سیڑھی ہے ۔ جبکہ ترقی کا اصل پیمانہ معیار زندگی کی بلندی ہے ۔ بھوکے یا بیمار شخص کو اچھی سڑک، بجلی نہیں اسے پہلے روٹی یا علاج چاہئے ۔ معیاد زندگی کو بہتر بنانے کے لئے وسائل کی تقسیم میں برابری اور سماجی رواداری، امن و امان ضروری ہے یا یوں کہیں کہ پرسکون رہائش کے لئے ماحول کو سازگار بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

اس لحاظ سے دیکھیں تو ملک میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ تعلیمی نظام درہم برہم ہے، نئی تعلیمی پالیسی میں حکومت نے جی ڈی پی کا چھ فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن 22-2021 کے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کے بجائے گزشتہ سال کے مقابلہ 600 کروڑ روپے کی کمی کر دی گئی ۔ تعلیمی معیار روز بروز گرتا جارہا ہے ۔ اس کی وجہ سے طلبہ ملک سے باہر جانے کو مجبور ہیں ۔ ملک کا اتنا تعلیمی بجٹ نہیں ہے جتنی رقم طلبہ بیرون ممالک میں تعلیم کے حصول پر خرچ کر رہے ہیں ۔ تعلیم کے لئے ملک سے باہر جانے والوں میں تعداد کے لحاظ سے بھارت پہلے نمبر پر ہے ۔ صحت کا نظام تعلیم سے بھی ابتر ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہئے لیکن ہمارے یہاں بہار جیسی ریاستیں بھی ہیں جہاں چوبیس ہزار لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہے ۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت بوسیدہ ہے ۔ ڈاکٹروں کے علاوہ پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھاری کمی سے اسپتال جوجھ رہے ہیں ۔ سرکاری اسپتالوں میں آوارہ کتوں کے گھومنے، آپریشن میں لاپرواہی برتنے اور مشینوں کے خراب ہونے کی شکایات عام ہیں ۔ اس کے برعکس نجی اسپتالوں کا کاروبار خوب ترقی کر رہا ہے ۔ صحت پر حکومت جتنا خرچ کرتی ہے اس سے زیادہ پرائیویٹ اسپتال سال بھر میں منافع کما لیتے ہیں ۔

نجی کمپنیاں دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں لیکن عام آدمی کا جینا دوبھر ہوتا جارہا بے ۔ بے روزگاری تعلیم یافتہ نوجوانوں کے خوابوں کو چکنا چور کر رہی ہے ۔ اس صورتحال کے لئے اکیلے غیر معیاری تعلیم ذمہ دار نہیں ہے اس میں حکومت کی پالیسی کا بھی دخل ہے ۔ ابھی تک ملک کی تعلیم کا روزگار کے ساتھ تال میل نہیں بیٹھایا جا سکا ہے ۔ نہ ہی یہ سمجھایا جا سکا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب نوکری کا حصول نہیں ہے ۔ گاندھی جی کے مطابق تعلیم ایسا ہونا چاہئے کہ وہ طالب علم کو روزگار کی طرف رہنمائی کرکے خود انحصاری بنا سکے ۔ اس پر غور کرنے کے بجائے سرکاروں نے تعلیم کے سالوں کو گھٹانے یا بڑھانے اور زبانوں کا تال میل بیٹھانے پر زیادہ زور دیا ۔ پہلے گیارہویں کے بعد گریجویشن تین سال کا یا پھر بارہویں کے بعد دو سال کا ہوتا تھا ۔ اب اسے چار سال کرنے کی تجویز ہے ۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ثانوی تک کتنے مضامین اور سبق ایسے پڑھائے جاتے ہیں جو زندگی میں کہیں کام نہیں آتے ۔ اسکولوں میں ایسا بھی کوئی انتظام نہیں ہے جو طلبہ کی رہنمائی کر سکے کہ وہ کس کلاس کے بعد آگے کن مضامین کی تعلیم حاصل کریں ۔ سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے معیار میں بھی بڑا فرق ہے ۔ سب کو یکساں تعلیم نہ ملنے کی وجہ سے سماج میں نابرابری کی کھائی چوڑی ہو رہی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ بھی اس طرف متوجہ کر چکا ہے ۔

تعلیم، روزگار کے ساتھ مہنگائی ملک کا بڑا مسئلہ ہے ۔ آمدنی اور اشیاء کی قیمتوں میں عدم توازن مہنگائی کے احساس کو اور بڑھاتا ہے ۔ وسائل کی تقسیم میں نابرابری نے سماج میں امیر غریب کی کھائی پیدا کر دی ہے ۔ ملک میں تیس فیصد سے زیادہ لوگ سطح افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ کورونا نے غریبوں کی تعداد میں اور اضافہ کیا ہے ۔ بھک مری کے معاملہ میں بھارت جنوبی افریقہ کی غریب ترین ریاستوں کی صف میں کھڑا ہے ۔ گلوبل ہنگر انڈیکس میں وہ اپنے پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا سے بھی نیچے ہے ۔ مگر سیاسی جماعتوں خاص طور پر بی جے پی کو صرف الیکشن لڑنے اور جیتنے سے مطلب ہے ۔ موجودہ حکومت بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کبھی مذہبی نفرت کا سہارا لیتی ہے تو کبھی طبقاتی تقسیم کا ۔ ہجومی تشدد، سی اے اے، این آر سی، دفعہ 370 اور اب کسانوں کا احتجاج اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔
حکومت کسانوں کی جائز مانگوں پر توجہ دینے کے بجائے نئے زرعی قانون کو واپس نہ لینے کی زد پر اڑی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر حکومت کسانوں کو الجھا کر رکھنا چاہتی ہے ۔ تاکہ نوٹ بندی، جی ایس ٹی سے ہوئی کاروباری تباہی، گڑھے میں جاتی معیشت، نجی کاری کے نام پر ملک کے اثاثوں کو نجی ہاتھوں میں سونپنے، خواتین، دلتوں، اقلیتوں کے خلاف مظالم اور آدی واسیوں کی جنگلوں سے بے دخلی پر اٹھ رہے سوالوں سے بچ سکے ۔ اس دوران زبان پر تالا لگانے اور بولنے کی آزادی پر پابندی کی ایسی مثالیں سامنے آ رہی ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں ۔ اظہار رائے کی آزادی اور عوام کو متحد ہونے سے روکنے کے لئے پولیس انتظامیہ سے لے کر تمام آئینی اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہ ادارے پارٹی کارکن کی طرح کام کرتے اور ان کے ذمہ داران پارٹی ترجمان کی زبان بولتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ کیفیت ملک کے آمریت کی طرف بڑھنے کا شک پیدا کرتی ہے ۔ جو جمہوریت، سماج اور سرکار کسی کے بھی حق میں نہیں ہے ۔