ملک کے ہر شہری کو اپنے ملک کے دستور سے باخبر ہونا چاہیے:خورشید انور عارفی

ایسو سی ایشن فار مسلم پروٹیکیشن آف سول رائٹس(اے پی سی آر) کے زیر اہتمام قانونی بیداری مہم کے تحت پروگرام منعقد

پٹنہ:ہندوستان کے ہر شہری بالخصوص اقلیتوں کو اپنے ملک کے آئین اور قانون کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے ۔ کسی بھی جمہوری ملک میں عدلیہ کا اہم رول ہوتا ہے ۔ مقننہ ، انتظامیہ ، عدلیہ میں باہم روابط قائم کرنے کےلیے لوگوں کو اس کے متعلق واقفیت ہونا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عثمان غنی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ ، ہارون نگر پٹنہ میں ایسو سی ایشن فار مسلم پروٹیکیشن آف سول رائٹس( بہار چیپٹر) کے ذریعہ قانونی بیداری مہم کے موضوع پر منعقد پروگرام میں معمر صحافی خورشید انور عارفی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کیا ۔ انہوں نے ایسو سی ایشن فار مسلم پروٹیکیشن آف سول رائٹس( بہار چیپٹر) کے صدر محمد نوشاد انصاری اور ان کے معاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نسل اپنے آئینی حقوق سے بالکل نابلد ہے ۔ اس طرح کے بیداری پروگرام سے عوام الناس میں اچھا پیغام جائیگا اور ساتھ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
ایسو سی ایشن فار مسلم پروٹیکیشن آف سول رائٹس( بہار چیپٹر) کے صدر ایڈووکیٹ محمد نوشاد انصاری نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اگر بنیادی حقوق کی پامالی ہورہی ہو تو کس طرح عدلیہ سے رجوع کیا جائے اس کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین دنیا میں سب سے بڑا تحریری آئین ہے ۔ ہندوستان میں مختلف مذہب کے ماننے والے ، مختلف زبان بولنے والے ، مختلف رسم و رواج کو ماننے والے اور مختلف اقسام کا کھانا کھانے والے لوگ رہتے ہیں ۔ ہمارا بنیادی حقوق ان سب کو تحفظ بخشتا ہے ۔ عدلیہ کا کام یہ بھی ہے کہ حکومت آئین کے مطابق سرکار چلارہی ہے کہ نہیں ۔ اس کو دیکھنے کےلیےہندوستان کا آئین سپریم لاء ہے ۔ اس کے فریم ورک کے اندر ہی مختلف قوانین بنائے جاسکتے ہیں ۔ آئین کا پریمبل قوانین کی جان ہے ۔اس سے قبل ایڈووکیٹ شہزاد رشید نے ایسو سی ایشن فار مسلم پروٹیکیشن آف سول رائٹس( بہار چیپٹر)کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد سے حاضرین کو اگاہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایسو سی ایشن فار مسلم پروٹیکیشن آف سول رائٹس(اے پی سی آر) وکلاء ، سماجی کارکنان اور زمینی سطح پر کام کرنے والے پارا لیگل سوشل ورکر پر مشتمل ملک گیر سطح کا ایک سول رائٹس گروپ ہے جو ہندوستان میں شہری اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیےکوشاں ہیں ۔
مہمان مقرر ارہنم تنظیم کی صدر السہ فاطمہ نے قانونی بیداری کے حقوق اور بنیادی حقوق کے بارے میں تفصیل سے بتایا ۔ انہوں نے قانونی بیداری اور زیرو ایف آئی آر کی اہمیت کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا، اس کے تحت شکایت کنندہ کسی بھی تھانے میں جا کر اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے۔ زیرو ایف آئی آر خواتین کے لیے بے حد مددگار ثابت ہوئی ہے ، تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے ساتھ واقعہ کی رپورٹ درج کرا سکے۔انہوں صفر ایف آئی آر درج کرنے کے سلسلے میں بتایا کہ ایف آئی آر کی طرح ، شکایت کنندہ کا بیان بھی اس میں درج ہوتاہے۔پولیس کے ساتھ تحریری طور پر اس واقعے کو ریکارڈ کیا جاتاہے۔شکایت درج کرنے کے بعد ، کاغذ پر دستخط کرنے ، اندراج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔متاثرہ شخص کو بھی حق ہے کہ وہ اپنے پاس شکایت کاغذ کی ایک کاپی اپنے پاس رکھیں۔اگر 24 گھنٹے تاخیر سے کوئی رپورٹ آتی ہے تو پھر اس تاخیر کی وجہ بھی لکھی جانی چاہیے۔
گرفتاری کے دوران ، خاتون اس افسر سے پوچھ سکتی ہے جو اس سیکشن کو گرفتار کرنے آیا ہے جس کے تحت اسے گرفتار کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کو یہ بتانا بھی لازمی ہے کہ گرفتاری کے بعد خاتون کو کہاں رکھا جائے گا۔24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونا لازمی ہے۔
جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر مقامی سلطان احمد نے اس موقع پر کہا کہ حقوق کا جاننا بے حد ضروری ہے۔ وہین فرائض کی جانکاری بھی بہت ضروری ہے ۔ حقوق اور فرائض کے سلسلے میں عدم واقفیت کے لیےقانونی بیداری مہم کا چلانا نہایت ہی اہم ہے ۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت( بہار چیپٹر) کے سکریٹری ڈاکٹر انوارالہدیٰ نے کہا کہ قانون کی معلومات کی کمی کے وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اگر لوگ اپنے حق کے سلسلے میں جانیں گے نہیں تو حق کو کیسے حاصل کرسکتے ہیں ۔ عام آدمی اپنے ملک کے قوانین سے بالکل نابلد ہونے کے ساتھ ساتھ بنیادی حقو ق سے ناواقف ہے ۔ اس کی واقفیت ضروری ہے ۔ پروگرام میں خواتین کی تعداد اچھی تھی ۔پروگرام کااختتام ڈاکٹر عثمان غنی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ ، ہارون نگر پٹنہ کے سکریٹری انعام خاں کے اظہار تشکر سے ہوا۔