ملایم سنگھ کی سیاست-معصوم مرادآبادی

سماجوادی پریوار آج پارٹی کے بانی ملایم سنگھ یادو کا جنم دن منارہاہے۔ 22نومبر1939میں اٹاوہ کے گاؤں سیفئی کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے ملایم سنگھ یادو اترپردیش کی سیاست کا ایک اہم کردار مانے جاتے ہیں۔ میں نے جن سیاست دانوں کو بہت قریب سے دیکھا اور جانا ہے، ان میں وہ سرفہرست ہیں۔یوپی میں ان کی سیاسی طاقت ایودھیا تنازعہ کے اردگرد گھومتی رہی ہے۔ انھوں نے بابری مسجد انہدام کے فوراًبعد سماجوادی پارٹی بنائی ۔اس عرصہ میں یوپی کے مسلمانوں نے ان پرجتنا اعتماد کیا، اتنا کسی اور سیاست داں پر نہیں کیا۔ وہ کئی بار مسلمانوں کے بل پراقتدار میں آئے۔
2012 کے اسمبلی چناؤ میں پہلی بار انھوں نے مکمل اکثریت حاصل کرنے کے بعد اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا تھا کہ مسلمانوں نے اپنا سارا ووٹ ان کی جھولی میں ڈال دیا۔ مگر اس کے عوض مسلمانوں کو کیا ملا، اس پر آج بحث ہورہی ہے، کیونکہ یوپی کا الیکشن سر پہ ہے۔
آج ملایم سنگھ کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ عملی سیاست میں حصہ لے سکیں، مگر میں نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب وہ یونایٹیڈ فرنٹ کی حکومت میں وزیراعظم کی کرسی کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ انھیں یہاں تک پہنچانے والی شخصیت تیسرے مورچہ کے چانکیہ کہے جانے والے سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری کامریڈ ہر کشن سنگھ سرجیت کی تھی۔ مگر لالو پرساد یادو اس وقت ان کی راہ کا سب سے بڑا روڑا بن گئے اور اس طرح ان کا وزیراعظم بننے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ ان کے بدلے یہ کرسی آئی کے گجرال کو ملی۔
ملایم سنگھ کو دوسرا بڑا جھٹکااس وقت لگا جب پچھلےدنوں ان کے بیٹے اکھلیش نے ان کی سیاسی پونجی پر زبردستی قبضہ کرلیا، ورنہ وہ ابھی اور عملی سیاست میں زندہ رہنا چاہتے تھے۔ اکھلیش اور ملایم کی سیاست میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ملایم زمین سے جڑے ہوئے لیڈر ہیں اور اپنے ایک ایک ورکر کو اس کے نام سےجانتے تھے جبکہ آسٹریلیا میں پڑھے ہوئے اکھلیش یادو فائیوسٹار کلچر کی سیاست کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کے عہدیداران سے بھی دوررہتے ہیں۔
ملایم سنگھ یادو ملک کے وزیردفاع بھی رہ چکے ہیں، لیکن اب خودان کی دفاعی قوت کمزور ہوچکی ہے۔ انھوں نے اپناکیریر ایک معمولی ٹیچر کے طورپر شروع کیا تھا اور جوانی کے دنوں میں پہلوانی بھی سیکھی تھی۔بابری مسجد کے مسئلہ پر مسلمانوں کے حق میں بیان بازی کے سبب ان کے سیاسی مخالفین انھیں ’مولاناملایم‘ کہہ کر پکارتے تھے اور انھیں بھی ٹوپی اوڑھنے سے کوئی گریز نہیں تھا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں ۔ وہ اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ پر ہیں۔