مختصر کہانی:بچاؤ-محمدجمیل اختر

 

ایک جاگیردار کی فصلوں کو بچانے کی خاطر جب راتوں رات نہر کا حفاظتی بند توڑا گیا تو پانی کا رخ غریبوں کی بستی کی جانب موڑ دیا گیا۔ یہاں سے وہاں تک جہاں تک نظر جاتی تھی پانی ہی پانی تھا اور پوری بستی ڈوب چکی تھی۔

ایک روز پہلے جب بند توڑنے کی خبر پھیلی تو بستی کے لوگوں نے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کیا اور رات کو اس اطمینان کے ساتھ گھروں کو لوٹے تھے کہ حکومت وڈیرے کی فصلوں کو بچانے کی بجائے ان انسانوں کے بارے سوچنا شروع کردے گی لیکن آدھی رات کے وقت شور اُٹھا۔

"بھاگو، بھاگو، بند ٹوٹ گیا ہے، ایک گھنٹے میں بستی ڈوب جائے گی۔”

اتنے کم وقت میں جب آدمی کو کچھ بچانا پڑے تو وہ صرف اور صرف اپنی جان کے بارے میں ہی سوچتا ہے لیکن لوگوں نے پھر بھی جو ہاتھ آیا، اٹھایا اور پہاڑ پر چڑھ کر اپنے اپنے گھروں کو اندھیرے میں اس امید کے ساتھ دیکھنے لگے کہ شاید پانی گلیوں ہی سے اپنا رُخ تبدیل کرلے یا پھر ان کے کھلے دروازوں تک آئے اور انہیں اندر نہ پاکر لوٹ جائے۔ لیکن اگر پانی کی آنکھیں ہوتیں تو وہ ان کچے سیم زدہ مکانوں کو، جن کی الماریوں میں ٹوٹے ہوئے برتن تھے، کبھی نہ ڈبوتا۔ لیکن جب روشنی ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے گھر بھی ان کی قسمت کی طرح ذرا دیر کو ابھرتے اور پھر ڈوب جاتے۔

ایک بوڑھا ‘میرا گھر، میرا گھر’ پکارتا ہوا پہاڑ سے نیچے اترنے لگا۔ کئی نوجوان اسے پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگے لیکن وہ ان سے پہلے پاؤں پھسلنے کی وجہ سے لڑھکنے لگا تھا۔ دو، تین قلابازیاں کھا کر وہ ایک پتھر کی وجہ سے مزید نیچے گرنے سے بچ گیا۔

نوجوانوں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا۔

” چاچا کیا ہوگیا ہے؟ پہاڑ سے کوئی اس طرح اترتا ہے جیسے تم بھاگتے ہوئے اتر رہے تھے؟”

” لیکن وہ میرا مکان ڈوب گیا ہے۔”

” ساری بستی ڈوب گئی ہے، صرف تمہارا مکان تو نہیں ڈوبا۔ ہمارے مکان بھی ڈوب گئے ہیں۔”

” ہاں لیکن تمہارے بال ابھی سفید نہیں ہوئے۔۔۔” بوڑھے نے کہا اور وہیں بیٹھ کر رونے لگا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*