مختار انصاری پر یوپی اور پنجاب آمنے سامنے

لکھنؤ:اترپردیش سے ایم ایل اے مختار انصاری پنجاب کی جیل میں ہیں۔ مختار کوپنجاب سے یوپی لانے کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ، لیکن اس کے بارے میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ یوپی اور پنجاب کی حکومتیں آمنے سامنے ہیں ، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی کانگریس کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر جیل سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہاہے کہ پنجاب حکومت پر بلا وجہ مختار انصاری کو سیاسی پناہ دینے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔انہوں نے اس الزام کو مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب حکومت وزارت داخلہ اور ریاستی حکومت کی عدالتوں کی ہدایت کے مطابق کام کرتی ہے۔ رندھاوا نے کہاہے کہ پورامعاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور سپریم کورٹ کی طرف سے جو بھی ہدایات آئیں گی اس کی بنیاد پر ہی کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی طرح کا خصوصی سلوک نہیں دیا جارہا ہے اور قواعد و ضوابط کے مطابق وہ عام قیدی کی طرح جیل میں ہی رہا ہے۔یوپی کے اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہاہے کہ وہ مختار انصاری کو اترپردیش لانے میں ناکام رہے اورکہاہے کہ ہماری کوشش ہے کہ انہیں لائیں اور انہیں عدالت میں پیش کریں۔ انہیں پیش کرنے کے لیے بار بار عدالت سے ہدایات آرہی ہیں اور ان کی صحت کی بنیاد پر انہیں وہاں سے نہیں بھیجا جارہا ہے۔