مختار عباس نقوی نے حج کی تیاریوں اور ٹیکہ کاری کی صورت حال کاجائزہ لیا

ممبئی:اقلیتی امورکے مرکزی وزیرمختار عباس نقوی نے آج ممبئی کے حج ہاؤس میں حج 2021 کے متعلق ایک جائزہ میٹنگ لی۔ تاہم انہوں نے کہاکہ ’’ویسے تو ہم نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، لیکن بھارت حکومت سعودی عرب کے فیصلہ پر عمل کرے گا۔ کئی ممالک حج 2021 کے لیے اپنے شہریوں کو بھیجنے سے قاصر ہیں، لیکن بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم حکومت سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہم سعودی حکومت کے فیصلہ کے مطابق کام کریں گے۔ آج بھی ہماری اولین ترجیح دونوں ممالک کے باشندوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی صحت اور بہبود ہے۔‘‘نقوی نے یہ باتیں جائزہ میٹنگ سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہیں۔وزیر نے کہاہے کہ بھارت میں ٹیکہ کاری مہم کو لیکر جو افواہیں اور غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں انہیں ختم کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے متعدد سماجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعے ملک گیر مہم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ریاستی حج کمیٹیاں، وقف بورڈ، ان سے وابستہ تنظیمیں، سنٹرل وقف کونسل، مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور دیگر سماجی و تعلیمی ادارے اس مہم کا حصہ ہوں گے۔‘‘نقوی نے کہا کہ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے گا۔ یہ تنظیمیں اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں گے اور انہیں ٹیکہ لگوانے کے لیے آمادہ کریں گے تاکہ کورونا کے وبائی مرض سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکے۔ اس مہم کا نام ہوگا ’’جان ہے تو جہان ہے‘‘ اور اسے خاص طور سے گاؤوں اور ملک کے دور دراز علاقوں میں شروع کیا جائے گا۔اپنے ذریعے کیے گئے کچھ گاؤوں کے دورے، اور بیداری کی کمی کے سبب لوگوں کے درمیان ٹیکہ لگوانے کو لیکر ہچکچاہٹ کو یاد کرتیہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے کچھ محدود ذہنیت کے حامل افراد ٹیکہ کاری کو لیکر کنفیوژن اور خوف کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف عوام کی صحت اور بہبود کے دشمن ہیں، بلکہ وہ ملک کے بھی دشمن ہیں۔‘‘ٹیکہ کاری سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نقوی نے یقین دلایا کہ ’’ایک ریاست میں ہو یا دوسری ریاست میں، حکومت عوام کے لیے ہے۔ کنفیوژن اور ڈر کو ختم کرنا اورخودٹیکہ لگوانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس کے لیے آمادہ کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔‘‘نقوی نے اس بات کا بھی بھروسہ دلایا کہ ملک میں ویکسین یا کسی بھی دیگر اشیائے ضروریہ کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 24.3 کروڑ لوگوں کو پہلے ہی ٹیکہ کی خوراک دی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگرچہ ہمارے پاس کئی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے طبی سہولیات بہت کم ہیں، پھر بھی ہم نے آکسیجن کی سپلائی، وینٹی لیٹر اور دیگر ضروری سامانوں کی فراہمی میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔‘‘حج 2021 کے لیے ملک کی تیاریوں کے بارے میں بتاتے ہوئے نقوی نے کہا کہ ہندوستانی حج کمیٹی کے ذریعے دی گئی ہدایات اور حکومت سعودی عرب کے محکمہ صحت کی گائیڈ لائنس کی بنیاد پر، ٹیکہ کاری کی موجودہ حالت کولیکر ایک جائزہ میٹنگ منعقد کی گئی۔مقدس شہر، مکہ میں ہر سال 25 لاکھ سے زیادہ لوگ حج ادا کرتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال، کووڈ -19 وبائی مرض کے سبب حکومت سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’’محدود حج‘‘ کا انتظام کرے گی، جس میں مملکت سعودی عرب میں پہلے سے ہی رہ رہے مختلف ممالک کے کچھ ہی لوگ شامل ہوں گے۔آج کی میٹنگ میں سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر ڈاکٹر اوصاف سعید، جدہ میں ہندوستان کے قونصل جنرل شاہد عالم اور وزارت اقلیتی امور کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ ہندوستانی حج کمیٹی کے سی ای اوایم اے خان اور دیگر عہدیداران بھی اس موقع پرموجودتھے۔