مختلف ریاستوں کی ایف آئی آرکوایک کرنے کی شرجیل امام کی درخواست مسترد

نئی دہلی:سپریم کورٹ میں جمعہ کوجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم شرجیل امام کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس پٹیشن میں ،شرجیل امام کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ ان کے خلاف مختلف ریاستوں میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کو ایک ساتھ جوڑا جائے اور ایک ہی ایجنسی کو تحقیقات کرنی چاہئیں ، جس کوسپریم کورٹ نے مستردکیاہے۔عدالت عظمیٰ نے مختلف عدالتوں میں شرجیل کے خلاف مقدمہ چلانے پر پابندی لگانے سے انکارکردیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے سامنے یہ مسئلہ نہیں ہے۔ ہم اس طرح کا عبوری حکم پاس نہیں کرسکتے ہیں۔شرجیل کے معاملے میں حلف نامہ داخل کرنے کے لیے عدالت نے منی پور ، آسام اور اروناچل پردیش کو دو ہفتے کا وقت دیاہے۔ دہلی اور یوپی نے بیان حلفی جمع کروائے ہیں۔ اب اس کیس کی سماعت تین ہفتوں کے بعدہوگی۔ گذشتہ سماعت میں عدالت نے اترپردیش ، آسام ، اروناچل اور منی پور ریاستوں کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاہے۔ دہلی حکومت کو اس سے قبل نوٹس جاری کیاگیاتھااور سالیسیٹر جنرل توشر مہتا نے کہاہے کہ جواب تیار ہے ، اسے بدھ کے روزدائرکیاجائے گا۔ انہوں نے کہاہے کہ اگر بہت سی ریاستوں میں ایف آئی آر ہیں تو انہیں بھی فریق بنایا جانا چاہیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*