مجتبائی مزاح کی معنویت- حقانی القاسمی

 

اردو میں طنز و مزاح کو تحرک اور توانائی عطا کرنے والوں میں ایک اہم نام مجتبیٰ حسین کا بھی ہے جنہوں نے طنز و مزاح کی شعریات اور تکنیکی فنی لوازمات کا خیال رکھا ہے۔ انہوں نے طنز و مزاح میں تعریض، تقابل اور تصریف لفظی ومعنوی کا بطور خاص استعمال کیا اور مزاح کے انہی حربوں اور تکنیکوں سے اردو طنز و مزاح کو ایک نئی معراج بھی عطا کی ہے۔
مجتبیٰ حسین کے مزاح میں مارک ٹوئن کی طرح شستگی اور شائستگی اور متانت ہے ۔کہیں کہیں انہوں نے مزاح سے مصوری کا بھی کام لیا ہے۔ مجتبیٰ حسین کے یہاں وہ تمام تشخصاتی اوصاف ہیں جو طنزو مزاح کے لئے لازمی ہیں۔ انہوں نے صرف تفریح طبع یا تفنن کے لئے مزاح نگاری نہیں کی بلکہ ان کے یہاں تفکر اور تجسس بھی ہے۔ لفظیات فکریات ، موضوعات اور مسائل کی سطح پر بوقلمونی اور تنوع ہے۔ مجتبیٰ حسین کا مزاح منجمد یا مضمحل نہیں ہے بلکہ ان کے مزاح میں اتنی تقلیبی قوت ہے کہ وہ انسانی ذہن کے انجماد کو توڑ کر پورے وجود میں انبساط کی ایک لہر دوڑا دیتا ہے۔ ان کے طنز و مزاح میں بے پناہ انبساطی قوت ہے۔
وہ ہمیشہ نئے موضوعاتی اور اسلوبی جزیرے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ کبھی واقعات کے کھردرے پن اور کبھی کردار کی مضحکہ خیزی سے ایک معمولی سے احساس کو غیرمعمولی اظہار کا روپ دے دیتے ہیں۔ مجتبیٰ حسین کی نکتہ آفرینی ان کے ہر مضمون میں ملتی ہے اور ان کے ذہن رسا سے ایسے ایسے نکتوں کا نزول ہوتا ہے کہ حیرتوں کے در کھلتے چلے جاتے ہیں اور قاری ایک طلسم خانۂ تحیر میں قید سا ہو جاتا ہے۔
مجتبیٰ حسین کے طنز و مزاح میں شگفتگی اور نشتریت کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ انہوں نے اپنے طنز و مزاح کو سوقیانہ پن اور ابتذال سے محفوظ رکھا ہے۔ جعفر زٹلی یا کسی دوسرے طنز نگار کی طرح فضلیاتی لفظیات (ScatoLogical Vocabulary) کا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی ایسے موضوعات کو اپنی تحریروں کا محور بنایا جو اخلاقیات کے دائرے سے باہر ہو۔ ان کے موضوعات سماج، سیاست اور ثقافت سے ماخوذ ہیں اور انہی کی ناہمواریوں کو طنز و مزاح کا نشانہ بناتے ہیں۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ خود انہوں نے اپنی ذات کو بھی طنز کا ہدف بنانے سے گریز نہیں کیا۔اور اس طرح اپنی داخلی قوت اور خوداعتمادی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ خود تنقیدی (Self Criticism)کا یہ عمل بہت کم لوگوں کے یہاں نظر آتا ہے۔ مجتبیٰ حسین نے جب روزنامہ سیاست حیدرآباد سے کالم نگاری کا آغاز کیا تو سب سے پہلے اپنا ہی مذاق اڑایا۔ ’اپنی یاد میں‘ کے عنوان سے لکھے خود وفاتیہ میں اس کی طرف وہ یوں اشارہ کرتے ہیں:
’’آدمی چوںکہ ڈرپوک تھے اس لئے اپنے مضامین میں دوسروں کا مذاق اڑانے کے بجائے اپنا مذاق اڑانے لگے۔ یہ سب سے آسان طریقہ تھا مگر بعد میں کچھ تنقید نگاروں نے ان کی تعریف میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ دوسروں کا مذاق تو ہر کوئی اڑاتا ہے لیکن خود اپنا مذاق اڑانا بڑی ہمت کا کام ہے۔ اس تعریف سے وہ اتنا خوش ہوئے کہ زندگی بھر کے لئے طنز کے اپنی تیروں سے ہی اپنے آپ کو ہلکان کرتے رہے۔ اتنے کم معاوضے میں شاید ہی کسی نے اپنے آپ کو لہولہان کیا ہو۔ ‘‘
مجتبیٰ حسین کا موضوعاتی کینوس بہت وسیع ہے۔ انہوں نے سفرنامے بھی لکھے، خاکے بھی تحریر کئے اور اپنے سفرناموں میں بھی طنز و مزاح کا بہت ہی ہنرمندانہ استعمال کیا۔ ’جاپان چلو جاپان چلو‘ ان کا بہت مشہور سفرنامہ ہے۔ اسی طرح ’آدمی نامہ‘ ، ’سو ہے وہ بھی آدمی‘ ، ’چہرہ در چہرہ‘ ،’ ہوئے ہم دوست جس کے‘ ان کے خاکوں کے مشہور مجموعے ہیں۔ ان کے خاکوں کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے نثری قصیدے نہیں لکھے بلکہ شخصیتوں کی تفہیم کا ایک نیا زاویہ بھی عطا کیا۔ ان کے مثبت اور منفی اوصاف سے روبرو کرایا۔ داخلی اور خارجی احوال سے واقف کرایا۔ انہوں نے جہاں اپنے بزرگوں، ہم عصروں کے خاکے لکھے ہیں وہیں اپنے خوردوں کو بھی اپنی شفقت اور محبت میں شامل رکھا ہے۔ یہ ان کا بڑا پن ہے جو اب بڑے ادیبوں کے مزاج کا حصہ نہیں رہا۔ وہ اپنے خاکوں میں نہ صرف شخصیات سے اپنی شناسائی، مراسم اور ان کی خوبیوں سے واقف کراتے ہیں بلکہ شخصیت کے ان زاویوں سے بھی روشناس کراتے ہیں جن سے ہمیں ترغیب اور تحریک ملتی ہے اور معاشرے کو ایک مثالی کردار ۔ خشونت سنگھ اور شیام لال جیسی شخصیات پر انہوں نے خاکے لکھے ہیں اور ان کی حیات و افکار کے ایسے زاویوںکو روشن کیا ہے کہ ہمیں خاکہ پڑھ کر ان شخصیات سے نہ صرف محبت بلکہ گہری عقیدت ہو جاتی ہے ۔آج کے تعصب پسند معاشرے میں ہمارے لئے یہ شخصیات ایک روشن مینار کی طرح ہیں۔ ذرا دیکھئے خشونت سنگھ جیسے انگریزی کے بڑے ادیب اور کالم نگار کے حوالے سے مجتبیٰ حسین نے کتنے خوبصورت پہلو کواجاگر کیا ہے:
’’دوسرے دن ان کے دفتر گیا تو میرے آداب عرض کے جواب میں حسب معمول وعلیکم السلام کہہ کر زوردار مصافحہ کیا۔ ابھی میں کرسی پر اچھی طرح بیٹھنے بھی نہ پایا تھا کہ میری نظر دیوار پر پڑ گئی جس پر ایک طغرے میں ’اللہ‘ لکھا ہوا تھا اور دوسرے طغرے میں ’سورہ یٰسین‘ میں سوچنے لگا، خشونت سنگھ بھی عجیب آدمی ہیں۔ کل وعلیکم السلام کے بعد قدسی الاصل اور پیر گردوں میں پھنسا دیا تھا اور آج وعلیکم السلام کے بعد ان طغروں کا نظارہ کرا دیا۔ تھوڑی دیر کے لئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی اردو رسالے کے دفتر میں آگیا ہوں۔ میں ان کے طغروں کو غور سے دیکھنے لگا تو بولے جی ہاں، یہ طغرے ہمیشہ میرے دفتر میں ہوتے ہیں۔ السٹریٹیڈ آف انڈیا کا جب ایڈیٹر تھا تب بھی یہ طغرے میرے کمرے میں تھے۔ اب یہاں سے کہیں اور جائوں گا تو انہیں بھی ساتھ لیتا جائوں گا یہی نہیں میری موٹر کی چابی پر پوری آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے۔‘‘
کیا آج کے عہد میں تلاش بسیار کے بعد بھی دوسروں کے شعائر اور عقائد کا احترام کرنے والے ایسے افراد مل سکتے ہیں؟ تعصب کے اندھیرے میں روشن خیالی اتحاد و محبت کی یہ علامتیں اب کہاں نظر آتی ہیں۔ اسی طرح شیام لال کے بارے میں انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، اردو سے نفرت اور تعصب کے اس عہد میں ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں:
’’وہ بے حد اچھی اردو جانتے تھے اور ان کی لائبریری میں اردو کی کئی اہم کتابیں موجود ہیں۔ کبھی پوچھا تو نہیں کہ آیا انہوں نے کبھی شعر بھی کہے ہیں یا نہیں لیکن قیاس اغلب ہے کہ انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اردو سے ہی کیا تھا۔ انہیں اردوکے کلاسیکی شعراء کے کئی شعر ازبر تھے جن کا وہ برموقع استعمال بھی کرتے تھے۔ اب انگریزی ادب و صحافت میں ایسے لوگوں کی کمی ہوتی جا رہی ہے جو اردو سے بھی کماحقہ واقف ہیں سوائے خشونت سنگھ کے جو اردو کے بڑے شیدائی اور دلدادہ ہیں اور اپنی تحریروں میں اردو ادب اور ادیبوں کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں۔ شیام لال ادیب دس برس تک ٹائمز آف انڈیا کے ایڈیٹر رہے اور اپنے دور میں ٹائمز آف انڈیا کی ایک الگ شناخت بنائی اور اسے اعتبار بخشا۔‘‘
اب شیام لال جیسے ادیب کہاں، اب تو انگریزی کے ادیب اور مدیر اردو والوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتے۔ اسی طرح مجتبیٰ حسین نے ملک راج آنند جیسے انگریزی کے بڑے ادیب کے حوالے سے بہت ہی اہم ا نکشاف کیا ہے۔ جس سے شاید بہت کم لوگ واقف ہوں:
’’امرتاپریتم کے گھر سے کچھ دوری پرکرتار سنگھ دگل سابق رکن پارلیمنٹ پنجابی کے مشہور ادیب رہتے تھے۔ انہوں نے برسوں پہلے اپنے ادبی سفر کا آغاز اردو میں افسانے لکھ کر کیا تھا۔ اسی علاقے میں انگریزی کے شہرۂ آفاق ادیب ملک راج آنند رہا کرتے تھے جو ترقی پسند تحریک کے ابتدائی علم برداروں میں تھے اور اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے بھی اپنے ادبی سفر کا آغاز اردوسے کیا تھا۔‘‘
مجتبیٰ حسین نے اس طر ح کی بہت اہم شخصیات پر خاکے لکھے ہیں۔ خاص طور پر حیدرآبادی ادیبوں اور شاعروں پر تو ان کے خاکوں کی کثرت ہے کہ بنیادی طور پر مجتبیٰ حسین نے حیدرآبادیت سے ہر جگہ رشتہ جوڑے رکھا اور یہ حیدرآبادیت بھی ان کے طنز و مزاح کا ایک خاص پہلو ہے۔ اس باب میں وہ بالکل امروہہ والوں کی طرح تھے۔ رئیس امروہوی کا بہت مشہور شعر ہے:
شکل ظاہر کچھ بھی ہو جائے وہی رہتے ہیں ہم
جائیں دنیا میں کہیں امروہوی رہتے ہیں ہم
اسی سیاق میں وحید اختر نے لکھا ہے کہ جو خصوصیت مجتبیٰ حسین کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کی حیدرآبادیت ہے۔یوں تو مجتبیٰ حسین نے عالمی، قومی اور مقامی مسائل پر بھی لکھا ہے لیکن انہوںنے اردو کے عصری موضوعات اور مسائل کے حوالے سے جو لکھا ہے اس پر عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جب کہ ان مسائل پر اردو کے اخبارات و رسائل میں سینکڑوں صفحات سیاہ کئے گئے ہیں پھر بھی ذہن کی سیاہی دور کرنے میں یہ ناکام رہے۔ لیکن مجتبیٰ حسین نے بہت اختصار کے ساتھ ان مسائل پر لکھا تو ذہن کو روشنیوں اور تحرک سے بھر دیا۔ ذرا پڑھئے تو عالمانہ ، دانشورانہ اور مزاحیہ تحریروں کی خشکی اور مزاحیہ تحریروں کی شگفتگی کے ساتھ تاثیر اور تسخیر کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ ایک ہی طرح کے موضوعات اور مسائل پر لکھی گئی دونوں طرح کی تحریروں میں بنیادی فرق بے ساختگی اور آورد کا ہے۔ مزاحیہ تحریروں میں تاثیر اس لئے ہے کہ وہ قینچی اور گوند سے نہیں لکھی گئی ہیں بلکہ ان تحریروں میں ایک فطری ولادت کی کیفیت نظر آتی ہے اور ایسے نکتے روشن ہوتے ہیں جن کی طرف شاید ناقدین اور محققین کی نظر بھی نہیں پہنچ پاتی۔ اردو میں قاری کے بحران کے تعلق سے بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ مدیران مجلات بھی اکثر اپنے اداریوں میں برسوں سے یہی رونا روتے رہے ہیں۔ دہلی کے ایک البیلے اور طرح دار شاعر شجاع خاور نے بھی برسوں پہلے کہا تھا :
جدھر دیکھئے اک قلم کار ہے
نہیں ہے تو قاری نہیں ہے میاں
اسی موضوع کو مجتبیٰ حسین نے مس کیا تو اس موضوع کی معنویت کو اپنے انداز بیاں سے کیسا رنگ دے دیا کہ پڑھنے کے بعد آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور ہم ایک لمحے کو سوچنے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخر یہ المیاتی صورتحال کیوں کر پیدا ہوئی اور اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ ’اردو کا آخری قاری‘ کے عنوان سے لکھے گئے اس طنزیہ مزاحیہ تحریر کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:
’آپ نے اردو کیوں نہیں سیکھی؟‘
’میں پرندوں کی بولیاں سیکھنے کو ضروری نہیں سمجھتا۔‘
ایک اور شخص سے پوچھا گیا: آپ اردو جانتے ہیں؟
وہ بولا: میں اردو سیکھنا تو چاہتا تھا مگر مجھے معلوم ہوا کہ اردو بڑی میٹھی زبان ہے اور مجھے شوگر کی بیماری ہے۔ ڈاکٹروں نے میٹھی چیزوں سے پرہیز بتایا ہے۔ اس لئے اردو سے بہت دور رہتا ہوں۔
عام لوگوں سے مایوس ہو کر اردو کے شاعر و ادیب اردو کے ایک مرحوم نقاد کے بیٹے کے پاس گئے اور کہنے لگے:
بھئی تمہارے والد بزرگوار تو اردو کے پروفیسر اور نقاد تھے، وہ اردو کی بقا کے لئے ایک انجمن بھی چلاتے تھے، تم اردو ضرور جانتے ہو گے؟
نقاد کے بیٹے نے کہا: بھیا! کیوں میرے والد کی روح کو تکلیف پہنچاتے ہو۔ وہ اردو کے نقاد تھے ضرور مگر صرف اس لئے اردو کے نقاد تھے کہ انہیں کوئی دوسری زبان نہیں آتی تھی ورنہ کون اس زبان میں تنقید لکھتا۔ رہی اردو کی بقا کے لئے انجمن چلانے کی بات تو بھیا پیٹ بڑا بدکار ہے، شرافت کی زندگی گزارنے کے لئے آدمی کو بہت سے دھندے کرنے پڑتے ہیں۔ میرے والد نے صرف انجمن چلائی تھی، کسی کی جیب تو نہیں کاٹی تھی۔ اگر وہ انجمن نہ چلاتے تو میری تین بہنوں کی شادیاں اس قدر دھوم دھام سے کون کرتا؟
نقاد کے بیٹے سے پوچھا گیا: کیا تمہارے والد مرحوم نے تمہیں اردو نہیں سکھائی تھی؟
جواب ملا: میرے والد دوسروں کے لڑکوں کو اردو ضرور پڑھایا کرتے تھے لیکن ذرا سوچئے وہ خود اپنی اولاد کے ساتھ ایسی زیادتی کیسے کر سکتے تھے۔ اسی اردو سے بچنے کے لئے انہو ںنے مجھے انگلینڈ بھیجا تھا۔ میرے والد بڑے دوراندیش آدمی تھے۔ اردو کی خدمت اس ڈھنگ سے کرتے تھے کہ بھلے ہی اردو تباہ ہو جائے لیکن خاندان پر کوئی آنچ نہ آئے۔ نتیجہ میں آج ہمارا خاندان دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے اور اردو کا حشر دیکھئے کیا ہو چکا ہے؟‘
اسی مسئلہ سے جڑی ہوئی ان کی یہ تحریر بھی دیکھئے اور عبرت حاصل کیجئے کہ آج کی صارفی معاشرت میں کتاب کلچر سے ہمارا رشتہ کیوں ٹوٹتا جا رہا ہے:
’’جاپان کی آبادی تقریباً ساڑھے گیارہ کروڑ ہے اور سال بھر میں تقریباً 80 کروڑ کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ گویا ہر جاپانی سال بھر میں ساڑھے چھ کتابیں ضرور خریدتا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ پڑھنے لکھنے کے معاملہ میں شہرت رکھنے کے باوجود پچھلے تین برسوں میں ہم نے کوئی کتاب نہیں خریدی۔ ہاں ادیب دوستوں کی کتابوں کے اعزازی نسخے ضرور قبول کرتے ہیں اور انہیں پڑھے بغیر ردی میں بیچ دیتے ہیں۔‘‘
مجتبیٰ حسین کی یہ تحریریں ہمیں ہنسانے سے زیادہ رلاتی ہیں۔ انہوں نے طنز ومزاح کی آڑ میں ہمارے ذہن اور ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں خوابِ گراں سے بیدار کیا ہے اور نہایت قرینے سے ہماری بے حسی پر طنز کیا ہے۔ ان کے مزاح میں مقصدیت ہے اور اسی مقصدیت نے شاید ان کے طنز و مزاح کو سنجیدہ ادبی حلقے میں بھی اعتبار عطا کیا ہے۔ ان کے طنز و مزاح سے بند ذہن کی کھڑکیاں بھی کھل جاتی ہیں اور انسانی وجود میں اضطراب اور ارتعاش کی ایک لہر سی پیدا ہو جاتی ہے۔
مجتبیٰ حسین کے مزاح میں تخیل بھی ہے اور تحیر بھی۔ ان کے طنز و مزاح میں ایک طلسماتی اثر ہے، ایک سحر ہے جس میں قاری کھو سا جاتا ہے اور شاید یہی تسخیری قوت تھی جس کی وجہ سے میں علی گڑھ کے زمانۂ طالب علمی سے ہی مجتبائی مزاح کا قتیل رہا۔اور انہی تحریروں کا اثر تھا کہ میں نے بھی بعد میں کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا اور ہندوستان کے مقبول عام ہفت روزہ ’نئی دنیا‘ میں میرا کالم بھی ’تکلف برطرف‘ کے اسی عنوان سے شائع ہونے لگا جس عنوان سے مجتبیٰ حسین کی کتاب 1968ء میں اس وقت شائع ہوگئی تھی جب کہ میرے وجود کی اشاعت کو کئی برس باقی تھے ۔ بعد میںمیرے سیاسی، سماجی، ا دبی کالموں کا یہ مجموعہ ’تکلف برطرف‘ کے عنوان سے ہی شائع ہوا تو میں نے اپنے مقدمے میں ان کے کتاب کے عنوان پر شبخون مارنے کا اعتراف کیا اور یہ کتاب مجتبیٰ حسین کی خدمت میں پیش کی تو انہوں نے از راہ شفقت و محبت روزنامہ ’سیاست ‘حیدرآباد کے 13؍فروری؍2005 ء کے شمارے میں میرے حوالے سے ایک کالم لکھا جس میں مجھ ناچیز کی بڑی ہمت افزائی کی۔ یہ ان کی نوازش کرم عنایت ہے کہ انہوں نے مجھ جیسے نو آموز اور نومشق کالم نگار کی کاوشوں کو سراہا اور محبت میں مبالغہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا کہ’’ وہ ہمارے محبوب ادیب ہیں اور صاحبِ طرز کالم نگار ہیں۔‘‘ اگر خود نمائی پر محمول نہ کیا جائے تو ان کا یہ اقتباس پیش کرنے کی جرأت کروں جو انہوں نے اس کمترین کالم نگار کے تعلق سے لکھا ہے:
’’حقانی القاسمی اپنے منفرد لب و لہجہ اور اچھوتے اسلوب کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا مطالعہ نہایت وسیع اور زبان و بیان پر انہیں گہری قدرت حاصل ہے۔ نہ صرف اردو بلکہ عربی، فارسی اور انگریزی پر بھی وہ یکساں عبور رکھتے ہیں۔ ان کے پاس لفظوں کا ایک وافر ذخیرہ ہے اور وہ ہر لفظ کو حسب موقع اور حسب ضرورت استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر میں ہر لفظ نگینہ کی طرح جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ زبان پر گہری قدرت کے باوجود وہ الفاظ کی فضول خرچی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ یوں حقانی القاسمی ہمارے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔‘‘
مجتبیٰ حسین کے ان محبت بھرے جملوں کے لئے میں پوری زندگی ان کا شکریہ ادا کرتا رہوں پھر بھی شکریہ ادا نہیں ہو پائے گا۔ یہ کالم اس بات کا ثبوت ہے کہ مجتبیٰ حسین صرف ظریف نہیں ہیں بلکہ باظرف بھی ہیں۔ وہ اپنے چھوٹوں کے ساتھ بھی شفقت کا معاملہ رکھتے ہیں جو ان کی بہت بڑی خوبی ہے۔ میری اور ان کی عمر میں بعد المشرقین ہے بلکہ انہی کی زبان میں کہا جائے تو وہ عمر اور تجربہ میں مجھ سے دو جنگ عظیم آگے ہیں پھر بھی انہوں نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ ہمیشہ اپنی محبتوں میں شامل رکھتے ہیں اور اکثر ٹیلیفون کے ذریعے خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں جب کہ جو لوگ میرے ساتھ رہے اور اچانک بڑے ہوگئے وہ کبھی اتنی محبت سے نہ بات کرتے ہیں اور نہ ہی خیال رکھتے ہیں۔ مجھے ایسے وقت میں بس جون ایلیا کا ایک شعر یاد آتا ہے:
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو
میرے لئے فخر کی بات یہ ہے کہ میں نے مجتبیٰ حسین کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ ان سے اکثر مکتبہ جامعہ کے سابق منیجر اور کتاب نما کے مدیر شاہد علی خاں کے مکتبہ میں ملاقات بھی ہوتی رہی ہے۔ مجتبیٰ حسین نے خود ہی لکھا ہے کہ ’’جب بھی ہم دہلی میں ہوتے ہیں تو ہر اتوار کی شام شاہد علی خان سے ملنے مکتبہ جامعہ ضرور جاتے ہیں۔ اسے آپ حقانی القاسمی کی محبت نہ کہیں تو اور کیا کہیں گے کہ وہ ہم سے ملنے کے لئے شاہد علی خان صاحب کے پاس ضرور آجاتے ہیں۔‘‘
میرے لئے خوشی کی بات یہ ہے کہ جن کی تحریروں سے ملاقات کا سلسلہ علی گڑھ میں شروع ہوا تھا اور میں مدتوں سے جن سے ملنے کا متمنی اور مشتاق تھااس شخصیت سے میری ملاقات کی آرزو دہلی میں آکر پوری ہوئی۔ علی گڑھ میں ملاقات ہوتی تو شاید یہ برمحل اور موزوں نہ ہوتی کیو ںکہ وہاں بہت بلند بالا اور قدآور شخصیتیں ضرور تھیں مگر قطب مینار جیسی کوئی بلند عمارت نہیں تھی اور شاید مجتبیٰ حسین جیسے طنز و مزاح کے قطب مینار سے اسی دہلی میں ملنا مقدر میں لکھا تھا جہاں سے اس بلند بالا مینار کا رشتہ ہے۔

Cell:9891726444
E-mail:haqqanialqasmi@gmail.com