مجتبیٰ حسین کی یاد میں- معصوم مرادآبادی

ممتاز مزاح نگار مجتبیٰ حسین نے اپنے بڑے بھائی محبوب حسین جگر کے انتقال پر لکھا تھا کہ” 1956سے میری تحریریں روزنامہ ’ سیاست‘ میں شائع ہوتی رہی ہیں اور زیر نظر تحریرمیری پہلی تحریر ہے ، جو جگر صاحب کی نظروں سے گز رے بغیر شائع ہورہی ہے اور مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتے اور یہ تحریر ان کی نظر سے گزرتی تو کبھی شائع نہ ہوتی۔“
میں اس بات کو اس انداز میں کہہ سکتا ہوں کہ مجتبیٰ حسین پرمیں نے ان کی زندگی میں کئی مضامین لکھے اوریہ سب ہی ان کی نظروں سے گزرے ۔ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو میرے اس مضمون کو دیکھ کر خاصے ناراض ہوجاتے ، جو میں ان کے انتقال کے بعد خراج عقیدت کے طور پر لکھ رہاہوں۔ حالانکہ انھوں نے خودبہت پہلے اپنی تعزیت میں ایک بڑا بھرپور مضمون لکھا تھا، جو ان کی کتاب ’ چہرہ در چہرہ ‘ میں’اپنی یاد میں‘ کے عنوان سے شامل ہے ۔ وہ ایک مزاحیہ مضمون تھا جو انھوں نے لوگوں کو ہنسانے کے لئے لکھا تھا اور اس بات کا ثبوت تھا کہ ایک بڑا مزاح نگار وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ پر بھی ہنس سکتا ہے ۔لیکن میں جو کچھ لکھ رہا ہوں ، وہ مزاح ہرگز نہیں ہے ۔یہ لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ ہمارے عہد کےمنفرد اورممتاز مزاح نگار مجتبیٰ حسین اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ انھوں نے گزشتہ26مئی2020 کو اپنے وطن ثانی حیدرآباد میں آخری سانس لی۔ یہ درست ہے کہ ان کی موت طبعی انداز میں ہوئی لیکن انھوں نے جتنی بھرپور زندگی جی، اسے دیکھ کر ان کے انتقال کی خبر پر یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔
پچھلے دنوںجب مجھے معلوم ہواکہ وہ صاحب فراش ہوگئے ہیں اور انھیں لوگوں کوپہچاننے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے تو سچ پوچھئے مجھے جھٹکا سا لگا ، کیونکہ مجتبیٰ صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کو دور سے پہچان لیتے تھے۔ جب مجھے یہ بتایا گیا کہ مجتبیٰ صاحب اب تنہائی میں رہ کر اپنے آخری ایام بسر کرناچاہتے ہیں تویہ بات میرے لئے قطعی ناقابل یقین تھی ، کیونکہ انھوں نے اپنی زندگی میں تنہائی کو کبھی منہ نہیں لگایا اور وہ ہمیشہ اپنے دوستوں اور چاہنے والوں کے درمیان میں رہے۔ حالانکہ آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی دیکھا دیکھی انھوں نے یہ سوچ کر اپنے گھٹنے کا آپریشن کرالیا تھا کہ بڑا آدمی بننے کے لئے یہ کام بھی ضروری ہے ، لیکن واجپئی کی طرح ان کے گھٹنے کا آپریشن بھی ناکام ہوا اور وہ آہستہ آہستہ اپنے دوستوں کے دیدار سے محروم ہوتے چلے گئے۔ انھوں نے اس کی تلافی اپنے موبائل فون سے کرنے کی کوشش کی ، لیکن اس میں بھی انھیں رہ رہ کر ایک کمی کا احساس ہوتا رہا،جیسا کہ انھیں ہرشے میں ہوتا تھا۔
مجتبیٰ حسین نے اپنی عملی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں گزارا اور یہاں کی ادبی زندگی کا لازمی حصہ بن کررہے۔آج میں مجتبیٰ حسین کے بغیردہلی کا تصور کرتا ہوں تو مجھے اس بھرے پرے شہر میں بڑی کمی محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ انھوں نے کئی برس پہلے اس شہر کو خیر باد کہہ کر اس حیدرآباد میں بودوباش اختیار لرلی تھی ، جہاں سے وہ1972 میں گجرال کمیٹی میں کام کرنے دہلی آئے تھے، لیکن اس دہلی شہر سے ان کا تعلق ایسا تھا کہ وہ حیدرآباد میں رہنے کے باوجود سانس دہلی کی ہوا سے ہی مستعار لیتے تھے۔دہلی سے ان کے قلبی تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آخری وقت میں جب انھوں نے اپنے ہوش وہواس کھودئیے تھے تو وہ اس حالت میں بھی خود کو دہلی میں تصور کرتے تھے اور کہتے تھے” مجھے پروگرام میں جانا ہے، دیر ہورہی ہے، مجھے جلدی لے چلو۔“
دہلی میں ان کے دوستوں کا حلقہ اتنا وسیع تھا کہ اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے ، لیکن ان کے کچھ دوست ایسے ضرور تھے جن سے وہ ایک دن بھی جداہونے کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ان میں ڈاکٹرخلیق انجم، پروفیسر نثار احمد فاروقی، شرددت، پروفیسر گوپی چند نارنگ، زبیر رضوی اور نارنگ ساقی تو ان کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ تھے۔ ان کے علاوہ نہ جانے کتنے لوگ تھے، جو ان کے ساتھ وقت گزارنے کے متمنی رہتے تھے۔ان میں سے بیشتر لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں اور اب پروفیسر گوپی چند نارنگ، دوردرشن کے سابق ڈپٹی ڈائرکٹر شرددت اور نارنگ ساقی ہی بقید حیات ہیں۔شرددت اور نارنگ ساقی کی حیثیت مجتبیٰ حسین کے لئے ان دوفرشتوں سے کم نہ تھی جو دونوں شانوں پر بیٹھ کر نامہ اعمال لکھتے ہیں۔پچھلے سال جب وہ دہلی اردو اکادمی کا بہادرشاہ ظفر ایوارڈ لینے یہاں آئے تھے تو ان کے یہ دونوں یار غار بھی وہاں منکر نکیر کی طرح ان کے ساتھ موجود تھے۔
مجتبیٰ صاحب کی انگلیاں ہروقت موبائل پررہتا تھا اور وہ کسی نہ کسی کو فون ملاتے رہتے تھے۔ ایک روز انھوں نے مجھے فون کرکے پوچھا کہ آپ کہاں کھڑے ہیں؟میں نے جواب دیاکہ میں اس وقت اپنی اسٹڈی میں بیٹھا ہوں تو انھوں نے کہا کہ بس یونہی پوچھ لیا ، کیونکہ میں نے ابھی زبیر رضوی کو فون کیا تو ان کی بیگم نے بتایاکہ ’ ’ زبیر تو ابھی آئینے کے سامنے ہی کھڑے تھے، پتہ نہیں کہا ں چلے گئے۔ شاید بیڈ روم کے آئینے کے سامنے ہوں گے۔“ میں نے سوچا شاید آپ بھی آئینے کے سامنے کھڑے ہوں ۔ بھلا بتائیے اس بڑھاپے میں بھی زبیر کو آئینے کا اتناشوق ہے۔”
میں گزشتہ 43 برس کے دہلی کے ادبی منظرنامے کا عینی گواہ ہوں۔ یہ زمانہ دہلی میں ادبی سرگرمیوں کے عروج کازمانہ تھا ۔ ان تقریبات کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ مجتبیٰ حسین ان کا لازمی حصہ ہواکرتے تھے ۔ شاید ہی ایسی کوئی تقریب ہو جس میں ان کی غیر حاضری ہوئی ہو۔آج دہلی کا ادبی منظرنامہ بہت اداس کرتا ہے، کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ وہی لوگ ان تقریبات میں شریک ہوتے ہیں ، جنھیں اسٹیج پر بیٹھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔پروگرام شروع ہونے کے بعد جب یہ لوگ سامعین کی نشستیں خالی کرکے اوپر بیٹھ جاتے ہیں تو نیچے کی نشستیں خالی ہوجاتی ہیں اور مقررین ان ہی خالی نشستوں کوخطاب کرتے رہتے ہیں۔ لیکن میں نے اس دہلی میں ایسی بھرپور محفلیں دیکھی ہیں جن میں ادب کی بڑی بڑی شخصیات صف سامعین میں نظر آتی تھیں۔
گزشتہ سال دہلی اردو اکادمی نے مجتبیٰ حسین کو جب اپنے سب سے بڑے اعزاز ’ بہادر شاہ ظفر ایوارڈ ‘ سے نوازنے کا فیصلہ کیاتو سب سے پہلے میں نے انھیں فون پریہ خوش خبری سنائی۔انھیں میری بات پر یقین نہیں آیا ، کیونکہ پچھلے کئی برسوں سے ان کا یہ حق مارا جارہا تھا۔ انھوں نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ یہ ایوارڈ انھیں نہیں مل سکتا ، کیونکہ ہمارے نقاد اور ادب کے کارپرداز طنز ومزاح کو دویم درجے کی صنف سمجھتے ہیں ۔ انھیں جب یقین ہوگیا کہ واقعی انھیں طنزومزاح کاآخری تاجدار تسلیم کرتے ہوئے آخری مغل تاجدار کے نام سے منسوب ایوارڈ تفویض کیا گیا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور ایوارڈ وصول کرنے خود حیدرآباد سے چل کر دہلی آئے۔مجھے انھیں دیکھ کر دھچکا سا لگا ، کیونکہ وہ بغیر سہارے کے کھڑے نہیں ہوپا رہے تھے۔ایوارڈ وصول کرنے کے بعد انھوں نے میرے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا” میاں اب میں واقعی بوڑھا ہوچکا ہوں اور اپنا سامان باندھنے کی تیاری کررہا ہوں۔“
مجتبیٰ حسین نے طنز ومزاح سے بھرپور تحریریں لکھیں اور ہم سب کو ہنساہنسا کرلوٹ پوٹ کرتے رہے ، یہاں تک کہ قبر میں جاتے جاتے بھی ہمارے لئے ہنسی کا سامان کرگئے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے جو بندشیں لگائی گئی تھیں ، ان کے تحت آخری رسومات میں صرف بیس لوگ ہی شریک ہوسکتے تھے جبکہ شادی میں شرکت کے لئے پچاس لوگوں کو شرکت کی چھوٹ تھی ، لیکن مجتبیٰ حسین کے جنازے میں پچاس لوگ شریک ہوئے۔ یہ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا یا پھر یوں ہی ہوگیا ، مجھے نہیں معلوم۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان کا انتقال اگر عام حالات میں ہوتا تو ان کے جنازے میں ہزاروں سوگواروں کا ہجوم ہوتا ۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوتے جنھیں ان سے سچی محبت تھی اور وہ بھی جنھوں نے ان کی زندگی میں کانٹے بوئے۔ ظاہرہے موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں ہے۔ وہ دہلی سے حیدرآباد شاید یہ سوچ کر منتقل ہوئے تھے کہ وہاں انھیں زیادہ سکون میسر آئے گا، لیکن المیہ یہ ہے کہ خود ان کے شہر میں ایسے بھی لوگ تھے جو ان کا تمسخر اڑاتے تھے اور انھیں نشانہ بناتے تھے۔ لیکن یہاں دہلی میں جہاں انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ، ان کے انتقال کے بعد مجھے بڑی اداسی نظر آئی ۔ جس وقت انھوں نے آنکھ موندی تو دہلی کی وہ سڑکیں ویران پڑی تھیں، جن پر انھوں نے برسوں اپنی اسکوٹر دوڑائی تھی۔ان ادبی اداروں میں تالے پڑے تھے ، جہاں انھوں نے سینکڑوں محفلوں میں شرکت کی اور انھیں زعفران زار بنایاتھا ۔ان کے بغیر دہلی کی ادبی زندگی بڑی سونی اور ویران نظر آتی ہے۔ حالانکہ وہ سب لوگ ہی تقریباً اللہ کو پیارے ہوچکےہیں ، جنھوں نے مجتبیٰ حسین کے ساتھ اپنی زندگی کے بہترین ایا م گزارے۔مجتبیٰ حسین بڑے زندہ دل انسان تھے اور جس محفل میں بھی شریک ہوتے تھے ، اسے اپنے طنز ومزاح سے بھرپور جملوں سے زعفران زار بنادیتے تھے۔وہ اسٹیج پر ہوں یا پھر صف سامعین میں ،ان کی جملے بازی محفل میں رنگ بھرتی تھی۔وہ بات میں بات پیدا کرنے کا ہنر خوب جانتے تھے اور اس میں مزاح کے پہلو نکلتے تھے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ مجتبیٰ حسین نے دہلی میں ایک ایسے طنزومزاح کی داغ بیل ڈالی جو اس سے پہلے یہاں نہیں تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں کی ادبی محفلوں پر چھاگئے۔ادبی سرگرمیاں اور ان کے ادبی دوست ہی دہلی میں ان کا اوڑھنا بچھونا تھے۔ ایسا شاید ہی کبھی ہواہو کہ وہ ایک فرماں بردار شوہر کی طرح دفتر سے سیدھے گھر گئے ہوں۔ وہ دفتر سے فارغ ہوکر اپنے دوستوں کی تلاش میں نکل جاتے تھے اور وہ جہاں بھی انھیں میسر آجاتے، وہیں محفل سجاتے تھے ۔ اس معاملے میں ان کی پرانی اسکوٹر ان کا کافی ساتھ دیتی تھی جس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ دہلی کے تنگ وتاریک گلی کوچوں میں آسانی سے سماجاتی تھی اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں بھی انھیں لئے لئے پھرتی تھی ۔مجتبیٰ حسین کی اس اسکوٹر کو اس اعتبار سے تاریخی حیثیت حاصل ہے کہ اس کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر بڑی بڑی شخصیات نے سواری کی۔ان میں پاکستانی مصور صادقین ، شہرہ آفاق پینٹر مقبول فداحسین،گلوکار غلام علی جیسی ہستیا ں شامل ہیں۔پروفیسر بیگ احساس کی تجویز تھی کہ” اس اسکوٹرکومیوزیم میں رکھنا چاہئے، جس کی وجہ سے ایک عظیم فنکار نے نہ صرف ترقی کی منزلیں طے کیں بلکہ کئی عظیم فنکاروں کو منزل مقصود تک پہنچایا۔“
ایک مرتبہ تو وہ اپنی اس اسکوٹر پر بیٹھ کر اپنے دوست شہریار سے ملنے علی گڑھ پہنچ گئے تھے، جو دہلی سے پورے 140کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہپن۔
مجتبیٰ حسین نے اپنے مضمون ’ میں اور میرا مزاح‘ میں اپنی مزح نگاری کی کیفیت کو بھرپور انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”میرا خیال ہے کہ مزاح نگاری صحیح معنوں میں ایک ’ کیفیت‘ کی پیداوار ہوتی ہے۔ یہ بڑی عجیب وغریب کیفیت ہوتی ہے جہاں پہنچ کر آدمی ذات کو بھی بھول جاتا ہے۔ اس لئے مزاح نگار کبھی خود غرض نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک مزاح انسان کے پیمانہ وجود کے لبریز ہوکر چھلک پڑنے کا نام ہے۔ جب انسان کے وجود کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو وہ قہقہوں میں چھلکنے لگتا ہے۔ ۔۔لوگ مزاح کی کیفیت کوبہت معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ سچا مزاح وہی ہے جس کی حدیں سچے غم کی حدوں کے بعد شروع ہوتی ہیں۔زندگی کی ساری تلخیوں اور اس کی تیزابیت کو اپنے اندر جذب کرلینے کے بعدجو آدمی قہقہے کی طرف جست لگاتا ہے، وہی سچا اور باشعور قہقہہ لگاسکتا ہے۔ ہنسنے کے لئے جس قدر گہرے شعور اور ادراک کی ضرورت ہوتی ہے، اتنے گہرے شعور کی ضرورت شاید رونے کے لئے درکار نہیں ہوتی۔“
مجتبیٰ حسین کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی طنزومزاح سے بھرپور تحریروں کی طرح ذاتی گفتگو میں بھی خاصے بڑے مزاح نگار تھے۔عام طور پر مزاح لکھنے والے ذاتی زندگی میں بڑے سنجیدہ اور متین نظر آتے ہیں اور وہ لوگوں کو اپنی تحریروں کی حد تک ہی مزاح سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیتے ہیں، لیکن مجتبیٰ حسین نجی گفتگو اور محفلوں میں بھی خوب رنگ جماتے تھے۔ایک قصہ ملاحظہ فرمائیے۔دہلی میں کرناٹک کے مشہور سیاسی لیڈر جعفر شریف ہربرس ایک بڑی افطار پارٹی منعقد کرتے تھے۔ اس میں ’ روزہ داروں‘ کا ہجوم ہوتا تھا۔ ایک بار اس افطار پارٹی میں مجتبیٰ حسین سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے مجھے حکم دیا کہ جب یہاں سے روانہ ہوں تو انھیں بھی ساتھ لے لوں ، کیونکہ ان کے پاس کوئی سواری نہیں ہے۔ہم دونوں کا روٹ ایک ہی تھا۔کچھ دیر بعد جب میں نے مجتبیٰ صاحب کو تلاش کیا تو وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ موبائل کا زمانہ تھا نہیں کہ ایک دوسرے کو پکڑ سکیں۔ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے ہم دونوں ایک دوسرے کو ڈھونڈتے رہے۔ بڑی دوڑ دھوپ کے بعد جب ہم دونوں ایک دوسرے کے روبرو ہوئے تو ان کا بے ساختہ جملہ کچھ اس طرح تھا” ایک معصوم کو ڈھونڈنے کے لئے کتنے گناہ گاروں سے ملنا پڑا۔“
کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ مجتبیٰ صاحب نے مجھے فون کیا ، لیکن نیٹ ورک کی خرابی کے سبب بات نہیں ہوپارہی تھی۔ کئی کالیں ڈراپ ہونے کے بعد جب ان سے رابطہ ہواتو وہ گویا ہوئے ” معصوم صاحب آپ میرا نمبر دیکھ کر بار بار فون کیوں کاٹ رہے ہیں۔میں سمجھ گیا اب آپ کا شمار بھی بڑے صحافیوں میں ہونے لگا ہے۔“
یہ ان کا گفتگو میں مزاح پیدا کرنے کا ایک طریقہ تھا اور وہ اپنے مخاطب کو کبھی بور نہیں ہونے دیتے تھے۔ ان کی اکثر تحریریں میرے اخبار ”خبردار جدید “ میں شائع ہوتی تھیں۔ ایک بار ایک قاری نے ان کی طنزیہ ومزاحیہ تحریروں پر عجیب وغریب تبصرہ کیا اور ان سے مزاح نگاری چھوڑ کر کوئی سنجیدہ کام کرنے کی گزارش کی۔ اس پر انھوں نے ’ سیاست‘ میں دلچسپ کالم لکھا۔اس کا عنوان تھا” ہنسنا چھوڑو اور قوم کی خدمت کرو“۔ اس مضمون کے چند ابتدائی جملے ملاحظہ فرمائیں:
”دہلی سے ایک ہفتہ وار رسالہ نکلتا ہے’خبردارجدید‘ ۔ جس کے ایڈیٹر ہمارے نوجوان دوست معصوم مرادآبادی ہیں۔ ہمارے حساب سے مرادآباد نے بمشکل تمام جگر مرادآبادی کے روپ میں ایک ہی معصوم ہستی پیدا کی تھی۔ ان کے بعد چونکہ مرادآباد میں معصوموں کی پیدائش پر پابندی سی عائد ہوگئی ہے۔ اس لئے اس کی تلافی کے لئے معصوم مرادآبادی نے ’ مرادآبادی‘ کو اپنے نام کا حصہ بنالیا ہے۔ معصومیت چاہے برائے نام ہی کیوں نہ ہو،بہرحال معصومیت ہی ہوتی ہے۔ ان ہی معصوم مرادآبادی نے ہمارا ایک مضمون اپنے رسالہ میں چھاپا تھا۔ چنانچہ اس مضمون کے سلسلہ میں ان کے پاس بعض توصیفی خطوط بھی آئے، لیکن ایک خط ایسا بھی آیا جسے نہ تو آپ تعریف کے خانہ میں ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی مذمت کے۔ اس خط کے لکھنے والے محمدعلاوالدین ہیں(یہ چراغ والے الہ دین نہیں ہیں)جو چتر پور ضلع ہزاری باغ کے رہنے والے ہیں۔ مضمون نگار نے ہمارے مضمون کی تعریف کرنے کے بعدجو کچھ لکھا ہے ، اس کا لب لباب یہ ہے ” میں ان کے مضامین اکثر پڑھتا رہتا ہوں، نہایت ہی شگفتہ اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ بے ساختہ ہنسی بھی آجاتی ہے، لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر یہ کب تک ٹھی ٹھی ،ٹھاٹھا، ہی ہی، ہا ہا کرتے رہیں گے۔ انھیں دیکھنا چاہئے کہ ان دنوں حالات کتنے سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ ان کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں معاشرے کی خرابیوں کا بخوبی اندازہ ہے، لیکن وہ جان بوجھ کر ان پر صرف ہنس کر خاموش ہوجانا چاہتے ہیں۔ انھیں اصلاح معاشرہ کے بارے میں عملی طور پر بھی کچھ کرنا چاہئے اور قوم کی خدمت کے لئے ایک باضابطہ لایحہ عمل بناکر کام کرناچاہئے۔ انھیں قبر کے عذاب کو بالکل نہیں بھولنا چاہئے۔ دوسری دنیا میں جب ان سے پوچھا جائے گا کہ نیچے کی دنیا میں وہ کیا کام کرکے آئے ہیں تو وہ کیا جواب دیں گے۔“
” یقین مانئے، جب سے ہم نے ’خبردارجدید‘ کی معرفت اپنے بارے میں یہ مکتوب پڑھا ہے، تب سے ہمیں رہ رہ کے ’ خبردار قدیم‘ کا خیال آرہا ہے۔ دل کو دہلانے والی ایسی تعریف سے آج تک ہمارا واسطہ نہیں پڑا تھا۔ قبر کے عذاب کے تصور سے ہی ہمارا سارا وجود لرزنے لگا ہے۔ مکتوب نگار نے بعد از وقت ہی سہی ہماری آنکھیں توکھول دی ہیں۔ اب پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ لگ بھگ چالیس برسوں سے ہم نے ہنسنے ہنسانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا(بشرطیکہ ہنسنے کو ایک کام سمجھا جائے) اس سارے عرصے میں ہم اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ لوگوں کو ہنسانا اور ان میں خوشیوں کوبانٹنابھی ایک نیک کام ہے۔ ہمیں دوسری خوش فہمی یہ بھی لاحق تھی کہ سماج کی بے اعتدالیوں پر ہنس کر اور ان پر طنز کے نشتر چلاکر ہم قوم کی اصلاح کررہے ہیں۔ قوم کی اصلاح تو نہ ہوئی الٹا ہماری عادت خراب ہوگئی۔چنانچہ اب ہر سنجیدہ بات کو ہنسی میں ٹال کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔“(بحوالہ ’میراکالم ‘صفحہ 117، ناشرحسامی بک ڈپو ، حیدرآباد، اشاعت جون 1998)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*