مجتبیٰ حسین کی مزاح نگاری

 

(سفر نامہ’’جاپان چلو جاپان چلو‘‘کے حوالے سے)

ایس.ٹی.نوراللہ

 ریسرچ اسکالر،شعبہ عربی،فارسی و اردو

            مدراس یونیورسٹی،چنئی

noorulla50@gmail.com

8008786191

 

اردو ادب میں طنزو مزاح نگاروں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ان میں ابن انشاء، خواجہ حسن نظامی، رشید احمد صدیقی،مرزا فرحت اللہ بیگ،کنہیا لال کپور،،مشتاق احمد یوسفی،پطرس بخاری،شوکت تھانوی،کرنل محمد خاں اور فکر تونسوی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اس لمبی فہرست میں مجتبیٰ حسین کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔مجتبیٰ حسین کی شخصیت کوئی محتاج تعارف نہیں ہے۔وہ ایک کالم نویس،خاکہ نگار،انشائیہ نگار،سفر نامہ نگار،صحافی،مترجم اور مؤلف بھی ہیں۔مجتبیٰ حسین کوسرکاری اور نیم سرکاری اداروں نے اعزازات و انعامات سے نوازا،جن میں سے پدم شر ی ایوارڈ،غالب ایوارڈ،مخدوم یوارڈ،میر تقی میر ایوارڈ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں کرنا ٹک کی گلبرگہ یونیورسٹی نے ۰۱۰۲میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔موصوف کی بہت ساری تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں اور قارئین سے داد و تحسین بھی حاصل کر چکی ہیں۔

مجتبیٰ حسین نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور مزاح نگاری کے ذریعہ عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔موصوف نے اپنی تخلیقات کے ذریعے سینکڑوں قارئین کو محظوظ کیا۔ان کا پہلا مزاحیہ مضمون ۴۶۹۱ کو حیدرآباد کی ایک محفل میں پڑھا گیا اور سامعین سے خوب داد و تحسین وصول کی۔جس کا عنوان ”ہم طرف دار ہیں غالب کے،سخن فہم نہیں“ تھا۔

مجتبیٰ حسین نے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک کا بھی علمی و ادبی سلسلے میں سفر کیا اوران ممالک میں سے جاپان،یوروپ،سوویت یونین،مسقط(عمان)،سعود ی عرب، دوبئی، کناڈا، انگلستان، پیرس،پاکستان اور امریکہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ٹوکیو میں یونیسکو کے ایشیائی ثقافتی مرکز کی طرف سے پبلشنگ کا ایک تربیتی کورس اکتوبر ۰۸۹۱؁ء کو منعقد ہوا تھا۔اس کے لیے ہندوستان سے مرکزی وزارتِ تعلیم نے مجتبیٰ حسین کا نام منتخب کیا تھا۔اس سلسلے میں ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”جولائی ۰۸۹۱؁ء کے مہینے کی بات ہے۔ایک دن ہم حسب ِ معمول دیر سے دفتر پہنچے تو پتا چلا کہ خلافِ معمول ہمارے افسرِ بالا نے ہمیں یاد کیا ہے۔ہم ہانپتے کانپتے ان کی خدمت میں پہنچے تو فرمایا”ہم تمہیں جاپان بھیجنا چاہتے ہیں۔کیا تم جانے کے لیے تیار ہو؟“۔ہم نے کہا ”سر! ہم جانتے ہیں کہ زمانہئ قدیم میں جب کسی شخص سے کوئی جرم سر زد ہوجاتا تھا تو اسے سزا کے طور پر ملک بدر کردیا جاتا تھا۔مانا کہ ہم دفتر دیر سے آتے ہیں لیکن یہ اتنا بڑا جرم تو نہیں کہ آپ ہمیں جاپان بھیج دیں۔پھر ہم جاپان سے بیسیوں چیزیں در آمد کرتے رہیں۔کیا اس ملک سے جاپان کو بر آمد کرنے کے لیے ہم ہی ایک مناسب چیز رہ گئے ہیں؟“ (جاپان چلو جاپان چلو، مجتبیٰ حسین، ایم آر پبلی کیشنز، نئی دہلی، ص ۷)

مجتبیٰ حسین ۰۸۹۱؁ ء میں جاپان گئے اورجاپان سے واپس لوٹنے کے بعد قسطوں میں اس سفر کی روداد لکھی جو روزنامہ ’سیاست‘ میں شائع ہوئی تھیں۔اور یہ مضمون قارئین میں بے حدمقبول ہوا تھا۔بعد میں ان اقساط کو ترتیب دے کر ۳۸۹۱؁ء میں ایک کتابی شکل دی گئی اور اس کا نام سفر نامہ ”جاپان چلو جاپان چلو“ رکھا گیا اور اس کو بڑی مقبولیت اور ہر دلعزیزی حاصل ہوئی۔ سفر نامہ ’جاپان چلو جاپان چلو‘ میں کل پندرہ مضامین شامل ہیں اور ان کے عناوین سے پتا چلتا ہے کہ یہ مضامین خالص مزاحیہ ہیں اور ایک دو عنوان یہ ہیں کہ ”یونیسکو کی چھتری“،”بلیٹ ٹرین میں کبھی نہ بیٹھو“،”جاپان میں ہم لکھ پتی بن گئے“ وغیرہ۔ قیام جاپان کے دوران جو انہوں نے محسوس کیا وہی اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔اس کتاب کے کئی ایڈیشن بھی چھپ چکے ہیں اور یہ جاپانی زبان میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔

اردو ادب میں سفر نامے کی ایک تاریخ ہے۔غیر افسانوی نثر میں یہ صنف خاص اہمیت کی حامل ہے۔جس میں فن کار سفر کے دوران پیش آنے والے حالات کو الفاظ کے سانچے میں ڈھالتاہے۔اس کے علاوہ تاریخ،جغرافیہ، علمی و ادبی حالات،سیاسی و سماجی حالات، اپنی مصروفیات،ملاقاتیں،تقاریب کے علاوہ نت نئے تجربات ومشاہدات وغیرہ کو ایک منفرد اسلوب میں صفحہئ قرطاس پر رقم کیا جاتا ہے۔سفر ناموں کی مدد سے انسانی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی جا تی ہے۔اردو میں سفر ناموں کی فہرست کافی لمبی ہے جس سے ہمیں زبان و ادب کی تاریخ،مصنف کے ذہنی افکار و خیالات اور ان کی شخصیت کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔

مجتبیٰ حسین ہر چھوٹی چیز میں سیدھے سادے ا لفاظ سے مزاح پیدا کرنے کے فن پر دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے پاس ایک منفرد زبان کی چاشنی، بے تکلف اور نرالا انداز ِ بیان جو ان کی تحریروں سے قاری محظوظ ہوسکتاہے۔مزاح نگاری واقعی ایک دقت طلب ہنر ہے اور وہ اس ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔مجتبیٰ حسین جب جاپان کے لیے سفر کی تیاریاں کر رہے تھے اس و قت دوست احباب کو اس بات کا علم ہوا تو وہ موصوف کے گھر جاتے اور مبارکباد دیتے اور ساتھ ساتھ اپنی اپنی فرمائشوں کی فہرست بھی دیتے جاتے تھے۔فرمائشوں میں سے کسی کو ٹرانزسٹر،کسی کو ریڈیو،کسی کو ٹیپ ریکارڈر،کسی کو کیلکولیٹر،کسی کو’سیکو‘کی گھڑیاں، اور کسی کو جاپانی چھتریاں وغیرہ شامل ہیں۔مجتبیٰ حسین ہندوستان سے روانہ ہونے سے پہلے جب تمام احباب کی فرمائشوں کی فہرستیں ترتیب دے رہے تھے تو ان کی اہلیہ نے دیکھا اور انہوں نے بھی ایک فہرست ہاتھ میں تھما دی۔اور مجتبیٰ حسین نے اس فہرست کو بنا دیکھے اپنے پاس رکھ لیا۔اس سلسلے میں ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”ہم نے اس فہرست کا ہوائی جہاز میں بغور مطالعہ کیا۔خاصی دلچسپ فہرست ہے اور اس کے مطالعہ سے ہمارا سفر خاصا آرام سے کٹا۔اس لیے کہ اس فہرست میں نہ کہیں ٹرانزسٹر ہے نہ ساڑی،نہ ٹیلی ویژن ہے نہ جاپانی چھتری ہے۔بس ہم سے اتنی معصوم سی خواہش کی گئی ہے کہ ہم جاپان سے ۰۵ کلو گرام گیہوں،۰۴ کلو گرام چاول،مونگ پھلی کا تیل چھ کلو گرام،نہانے کا صابن چھ ٹکیاں،کپڑے دھونے کا صابن آٹھ ٹکیاں لے آئیں۔الغرض یہ فہرست ہوتے ہوتے سو گرام لونگ،سو گرام الائچی اور سو گرام شاہ زیرے پر ختم ہوگئی ہے۔ البتہ جاپان پہنچنے کے بعد ہماری اہلیہ محترمہ نے فون پر اطلاع دی ہے کہ غلطی سے مہینے بھر کے سامان کی فہرست ہمارے ساتھ چلی گئی“ (ایضاً، ص ۱۱)

مجتبیٰ حسین کایہ سفر نامہ اپنے اندرجاپان کی تہذیب،وہاں کی صنعتیں،لوگوں کی مصروفیات،تاریخ اور فنون لطیفہ کے علاوہ جغرافیائی معلومات سے مزین ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنے قیام کے دوران جاپان کو نہ صرف دیکھا بلکہ مشاہدہ بھی کیا ہے۔ااس سفر نامہ کے متعلق پروفیسر شارب ردولوی کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:

”’جاپان چلو جاپان چلو تو‘ اردو کے مزاحیہ سفر ناموں میں سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس سفر نامہ کی خوبی یہ ہے کہ یہ آپ کو جاپان کے بارے میں وہ ساری معلومات فراہم کرتا ہے جو کسی بھی ملک کے لیے ایک شخص جاننا چاہتا ہے۔اس میں شخصیتوں،علاقوں،اداروں،وہاں کی تہذیب اور کلچر کو منفرد انداز میں متعارف کرایا گیاہے“ (مجتبیٰ حسین اور فن مزاح نگاری ، حسن مثنّیٰ، نیو لائن پروسس، دہلی ،ص ۰۱)

مجتبیٰ حسین نے اپنے تجربات و مشاہدات جو قیام جاپان کے دوران پیش آئے ان کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اس سفر نامہ میں پیش کیا ہے۔جس کو قاری پڑھ کر محظوظ بھی ہوتا ہے۔مجتبیٰ حسین کو مرقع نگاری،منظر کشی،واقعہ نگاری اور جزئیات نگاری پرکافی مہارت حاصل تھی۔یونیسکو کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں مجتبیٰ حسین کو بہت ساری چیزیں دی گئیں اور ساتھ ساتھ ایک چھتری بھی یہ کہہ کر کہ ”یہ چھتری یونیسکو کی ملکیت ہے اور واپسی میں اس کو لوٹانا ہوگا“اور یہ چھتری اس لیے دی جا رہی ہے کہ یہاں موسم غیر یقینی ہے۔یہ چھتری وہ ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے۔اس سلسلے میں ایک اقتباس ملاحظہ ہوں:

”ہم جاپان کو ذرا دلجمعی اور اطمینان سے دیکھنا چاہتے تھے۔لیکن ہماری یہ خواہش محض اس لیے پوری نہیں ہوئی کہ یونیسکو کی چھتری ہمارے ساتھ تھی۔محض اس چھتری کی خاطر ہمیں ایک ہی مقام کو دو دو مرتبہ دیکھنا پڑتا تھا۔پہلی اس مقام کو دیکھنے جاتے تھے اور دوسری مرتبہ اس مقام سے اپنی بھولی ہوئی چھتری واپس لانے جاتے تھے۔جاپان ریڈیو بھی دو مرتبہ گئے۔ایک مرتبہ انٹرویو ریکارڈ کرانے اور دوسری مرتبہ یونیسکو کی چھتری کو واپس لانے کے لیے۔جاپان کی زنانہ یونیورسٹی میں دو مرتبہ گئے۔ایک مرتبہ اپنا خیر مقدم کروانے کے لیے اور دوسری مرتبہ اپنی چھتری کو واپس لانے کے لیے۔“ (ایضاً ،ص ۰۱)

سفرنامہ’جاپان چلوجاپان چلو‘کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ مجتبیٰ حسین مزاحیہ اسلوب نگارش میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔وہ قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ایک ساعت کے لئے بھی قاری ان کی توجہ سے غافل نہیں ہوتا۔زبان کی چاشنی اور لفظوں کے مناسب استعمال سے سفر نامہ میں جاذبیت اور کشش پیدا ہوگئی ہے۔مجتبیٰ حسین جاپان میں ۵۳دن مقیم رہے اور وہاں کے متعلق دلچسپ معلومات کے ساتھ ساتھ مضحک پہلو ؤں کویکجا کر کے قاری کے سامنے رکھ دیا ہے۔ الغرض یہ سفر نامہ مجتبیٰ حسین کے شہکاروں میں شمار ہوتا ہے اور اردو مزاح نگاری کے افق پر ان کا نام اجاگر کرنے میں اہم رول رکھتا ہے۔