20 C
نئی دہلی
Image default
قندیل

مجھے کیابراتھامرنا،اگرایک بارہوتا!

 

2002تا2020: مودی نے میڈیاکوکیسے مینج کیا؟
نایاب حسن
رعناایوب نے اپنی کتاب”گجرات فائلس“ میں لکھاہے کہ جب وہ اپنی اصل شناخت چھپاکرگجرات فسادات کے مرکزی کرداروں سے تفتیش کے سلسلے میں گجرات میں تھیں اور اس دوران دیگر اہم لوگوں کے ساتھ مودی سے بھی ان کی ملاقات ہوئی تھی،تواس ملاقات میں جب انھوں نے مودی سے گجرات فسادات کے تعلق سے سوال کیا،توانھوں نے اس دوران جاں بحق ہونے والے ہزاروں لوگوں پر کسی افسوس یااعتذار کااظہار کرنے کی بجاے صاف طورپر میڈیاپرالزام لگایاکہ اس نے گجرات فسادات کی خبریں بڑھاچڑھاکر شائع کیں،جس کی وجہ سے ان کی امیج کو نقصان پہنچا،مودی نے کہاتھاکہ وہ میڈیاکو مینج نہیں کرپائے اوراس کے بعد سے ہی انھوں نے سیاسی سطح پر اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے ساتھ میڈیا پر بھی ”خاص دھیان“دینا شروع کردیا؛حتی کہ جب ہندوستان میں سوشل میڈیا کا ورود ہوا،تو سب سے پہلے اسے اپنی سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کرنے والی پارٹی بی جے پی تھی اور اس میں یقیناً مودی کا ہاتھ تھا، نریندرمودی 2009سے ہی ٹوئٹر پر پائے جاتے ہیں،جبکہ راہل گاندھی کو2015میں اس کی افادیت واہمیت کا احساس ہوا،اسی طرح دوسرے سیاسی لیڈران بھی بہت بعد میں ٹوئٹراور دیگر سوشل سائٹس پر ایکٹیوہوئے۔بی جے پی کا آفشیل ٹوئٹراکاؤنٹ2010سے ہی ایکٹیوہے،اس کے علاوہ تمام ریاستی یونٹس کے الگ ٹوئٹراکاؤنٹس ہیں اور سب سرگرم ہیں،جبکہ کانگریس ٹوئٹرپر2013میں آئی اور اس کی صوبائی یونٹس تواب بھی سوشل میڈیاپر اتنی سرگرم نہیں ہیں۔دونوں کی ویب سائٹس میں بھی حرکیات کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق ہے۔
2014میں عام انتخابات سے پہلے کے دوتین سالوں میں جبکہ یوپی اے حکومت کے خلاف پورے ملک میں بے چینی پائی جارہی تھی، میڈیامیں کھل کر اس حکومت کی بد عنوانیوں پرتنقید کی جارہی تھی اوراناہزارے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چھیڑچکے تھے،اس دوران مودی کو پورا موقع ملاکہ وہ حکومت مخالف میڈیاکو اپنا حامی بنالیں،سوعام انتخابات سے پہلے الیکشن کمپیننگ کے دوران ہی مین سٹریم میڈیاکے زیادہ تر چینلز مودی کے گن گان میں مصروف ہوچکے تھے۔اس وقت ملک بھر کامیڈیا کانگریس کی بدعنوانیوں کے خلاف تیغِ براں بناہوا تھا، اسی بدعنوانی پر مودی کی وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری کی بنیاد رکھی گئی اور ”سب کا ساتھ،سب کا وکاس“کے مکھوٹے کے ساتھ مودی نے انتخابی مہم شروع کی،جس میں انھیں میڈیاکا بھر پور ساتھ ملا، 2014کے جنرل الیکشن میں انھیں زبردست کامیابی ملی اورنتیجتاً2002کے قتلِ عام پر افسوس و معذرت کا ایک لفظ نہ بولنے والا انسان پورے ملک کا وزیر اعظم بن گیا۔اس کے بعد اچانک مین سٹریم میڈیاکا لب و لہجہ بدلا،اب اس نے حکومت کی تنقید کی بجاے اس کی توصیف کی پالیسی اپنالی؛کیوں کہ مودی حکومت نے جہاں انٹرنیٹ کی دنیاکو کنٹرول کرنے کے لیے آئی ٹی سیل کو سرگرم کیا،وہیں ٹی وی چینلوں کو بھی یکے بعد دیگرے رام کیاگیا،جو الطاف و عنایات سے مودی کے حلیف ہوئے،انھیں نوازنے کا عمل شروع ہوا اور زیادہ تر نیوز چینل اور مرکزی دھارے کے صحافی ایسے ہی نکلے،جبکہ گنے چنے چینلوں نے یا صحافیوں نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے سے منع کیا یا حکومت سے سوال پوچھنے کی جرأت کی،تو مودی حکومت نے پہلے انھیں پیار سے قائل کرنا چاہا،انھوں نے نہیں مانا،توان پر آنکھ بھؤں چڑھائے،پھر بھی نہ مانے،توان کے پیچھے سی بی آئی اور آئی ٹی سیل کے یودھاؤں کوچھوڑ دیا،ایک طرف قانونی داؤ پیچ کے ذریعے انھیں پھانسنے کی کوشش کی گئی،جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیاپر اپنے لوگوں کے ذریعے ان کی ناک میں دم کرنے کی سازش رچی گئی، نتیجہ یہ ہواکہ حکومت کے پانچ سال پورے ہوتے ہوتے سو میں سے نناوے فیصد ہندوستانی میڈیا مودی اینڈکمپنی کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگیا،جو سرپھرے نہ مانے،وہ اپنے چینلوں سے نکال دیے گئے یا بی جے پی نے عملی طورپر ان کا بائیکاٹ کردیا،شکر ہے کہ ایسے چند صحافی زندہ ہیں اور یوٹیوب یا دیگر پرائیویٹ میڈیاویب سائٹس پر لکھ بول رہے ہیں،یہ کتنی عجیب؛بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی شرمناک حقیقت ہے کہ چار سو سے زائد چینلوں کے درمیان اگر کسی نیوزچینل کو واقعی صحافتی ذمے داریاں نبھانے والا قراردیاجاسکتاہے،تو وہ ایک واحد چینل”این ڈی ٹی وی“ہے،جسے بی جے پی نے تقریباً اچھوت قراردیاہواہے اور جسے زیر کرنے کے لیے مودی حکومت ایک سے ایک حربے آزما چکی ہے۔
2002کے گجرات فساداور 2020کے دہلی فساد کے درمیان فرق صرف یہ نہیں ہے کہ ہندسوں میں الٹ پھیر ہواہے اور اس خونیں ڈرامے کواسٹیج کروانے والے جولوگ اُس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ ووزیر داخلہ تھے،اب وہ پورے ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ہیں؛بلکہ دونوں کے درمیان ایک نہایت ہی مہیب فرق یہ بھی ہے کہ اُس وقت کے ہندوستانی میڈیا نے گجرات قتلِ عام پر وہاں کی مودی حکومت کے خلاف سینہ سپرہوکر حقائق کا پردہ فاش کیاتھا،مگر آج کا ہندوستانی میڈیا مودی حکومت کے معاون اورشریکِ کار کے طورپر کام کررہاہے؛بلکہ گزشتہ ہفتے کشت و خون کی جو گرم بازاری ہندوستانی راجدھانی میں ہوئی ہے، اس میں وزیر داخلہ امیت شاہ، پرویش ورما،کپل مشرا،انوراگ ٹھاکر،گری راج سنگھ وغیرہ جیسے بی جے پی کے رہنماؤں کے زہریلے بیانات کے ساتھ ہندوستانی میڈیاکا بھی راست رول ہے،فسادیوں کے ساتھ اسٹوڈیوروم کو میدانِ جنگ بنانے والے نیوزاینکرزبھی دہلی کوجلانے میں برابرکے شریک ہیں۔ شمال مشرقی دہلی میں اب تک تقریباًپچاس لوگ مارے جاچکے ہیں اورتاحال مردہ خانوں کے باہر لوگ اپنے عزیزوں کی لاشوں کے انتظار میں کھڑے ہیں،مگرافسوس کہ ان خبیثوں کے سینے کی آگ اب بھی سردنہیں ہوئی ہے اور مین سٹریم میڈیاکے سارے نیوز چینل عام آدمی پارٹی کے ایک مسلمان کونسلرطاہرحسین کوآئی بی اہل کارانکت شرما کے قتل کے سلسلے میں ولن بناکر پیش کررہے ہیں،اس کے گھرکے کونے کونے کوچھان کرپتانہیں کیاکیا”برآمد“کرچکے ہیں،حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ طاہر حسین خود اس فساد کے متاثرین میں سے ایک ہیں اور وہ خود پولیس کی مدد کی وجہ سے بچ پائے تھے،مگر چوں کہ مذکورہ مقتول شخص کی لاش ان کے گھر کے پاس ملی،توسارابے شرم، ضمیر فروش میڈیایہ ثابت کرنے میں لگ گیاکہ اسے طاہر حسین نے ہی ماراہے،حالاں کہ ”دی وال اسٹریٹ جرنل“ نے مقتول کے بھائی انکورشرماکے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ اسے مارنے والے ”جے شری رام“ کے نعرے لگارہے تھے،گرچہ بعد میں متعدد رپورٹس میں یہ بھی آیاہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے غلط خبر چلائی ہے اور انکورشرمانے اس اخبار کوایسا کوئی بیان نہیں دیا،متعددپولیس افسران کی جانب سے”وال اسٹریٹ جرنل“ کے خلاف فرضی خبر شائع کرنے کی شکایت بھی درج کروائی گئی ہے۔اسی طرح مین سٹریم میڈیانے ایک بندوق بردارنوجوان جس کی شناخت شاہ رخ کے نام سے ہوئی،اس کی خبر کو بھی نہایت جارحانہ انداز میں چلایاگویاسارافساد اسی ایک بندے نے کیاہے،جبکہ ہسپتالوں میں داخل زخمیوں کی رپورٹس میں لگاتار یہ انکشاف ہورہاہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو گولی لگی ہے،تویقیناً چلانے والے بھی بے شمار لوگ ہوں گے اور سوشل میڈیاپر توایسی پچاسوں ویڈیوز گھو م رہی ہیں،جن میں فسادی کھلے عام آگ لگاتے،مسجدوں کو شہید کرتے اور لوگوں پر گولی چلاتے نظر آرہے ہیں،مگر ہمارے ملک کا میڈیااب بھی پوری کوشش میں ہے کہ اس اندوہناک سانحے میں متاثر ہونے والے خاندانوں کی اشک سوئی کرنے کی بجاے کسی طرح اس میں مسلم کرداروں کو تلاش کر انھیں ماسٹر مائنڈبنادیاجائے،حالات کے تئیں خود وزیر داخلہ کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ اتنے قتل و غارت گری کے بعد بھی کل اڑیسہ کی عوامی ریلی میں انھوں نے لٹنے پٹنے والوں کے تئیں تسلی و دلاسہ کاایک لفظ بولنے کی بجاے اپوزیشن پارٹیوں کے بہانے سی اے اے /این آرسی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو اپنی زہریلی زبان کانشانہ بنایا۔
بہرکیف یہ دورجمہوریۂ ہند کا تاریک ترین دور ہے،مودی کو2002میں جس میڈیاکو کنٹرول نہ کرسکنے کا افسوس تھا،اسے وہ2020میں پوری طرح اپنے شکنجے میں لے چکے ہیں۔ دہلی مسلسل تین دن تک جلتی رہی،مگر ملک کے وزیر اعظم کواس کی کوئی فکرنہیں تھی،وہ امریکی صدر کی مہمان نوازی میں مصروف تھے،لگ بھگ 70/گھنٹوں کے بعد ہلکے پھلکے اندازمیں چند لفظی ٹوئٹ کے ذریعے امن کی اپیل کرکے فارغ ہوگئے،مگر مجال ہے کہ ملک کے میڈیانے ان سے کوئی سوال کیاہو،الٹاان کے ٹوئٹ کواس طرح پیش کیاگیا،گویامسٹرمودی دہلی فساد سے بہت زیادہ غمگین ہیں اور انھوں نے فسادات کے70گھنٹے بعد ہی یہ اپیل کردی ہے۔مودی حکومت میں یہ ملک جس ہولناک تباہی کی طرف گامزن ہے،اس میں سب سے بڑا رول یہاں کے میڈیاکاہے۔نیوزروم میں بیٹھ کر حلق پھاڑنے والے اینکرز یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مودی حکومت کے نیشنلسٹ ایجنڈے کو فروغ دے رہے اور ان کے منھ سے نکلنے والی زہریلی جھاگ کے شکارصرف مسلمان ہوں گے،مگر دیکھ لیجیے کہ دہلی فسادات میں مرنے والے چالیس سے زائد لوگوں میں آدھے مسلمان ہیں توتقریباً آدھے ہی ہندوہیں،موجِ خون اگرہمارے سروں پر سے گزری ہے،توبرادرانِ وطن بھی بچ نہیں سکے ہیں،تباہی مسلمانوں کی املاک کی ہوئی ہے،توہندوبھی اچھوتے نہیں رہے،لوگوں نے اگر حقیقت پسندی سے کام نہیں لیا،تو یہ طے ہے کہ حکومت کے پالتواس میڈیا کی لائی ہوئی تباہی سے کوئی نہیں بچ پائے گا۔بس نام رہے گا اللہ کا!

متعلقہ خبریں

Leave a Comment