مجھ کو پہچانئے راہی کسی نسبت کے بغیر ـ ضیافاروقی

9685972242

غلام مرتضیٰ راہی کی شاعری سے میرا پہلا باضابطہ تعارف تو 1973 میں اس وقت ہوا جب میں نے بلٹز کے صفحات پر ان کے دوسرے شعری مجموعہ "لاریب” پر ظ انصاری کا تبصرہ پڑها تھا لیکن اس سے پہلے بھی ان کی غزلیں اکثر و بیشتر اس وقت کے معروف ادبی رسائل اور اخبارات میں نظر سے گزرتی رہتی تھیں بعد میں ان کے پہلے مجموعہ "لامکاں” تک بھی رسائی ہوئی ، حالانکہ اس کے بعد وہ تقریباً بارہ پندرہ سال شعری منظر نامے سے دور رہے ( اس کی ایک وجہ ان کی بیماری تھی جس سے بعد میں وہ شفایاب ہوئے )لیکن ان کا تذکرہ اور ان کے اشعار بہرحال دوستوں کی محفلوں میں گردش کرتے رہے پھر نوے کی دہائی میں ان سے نہ صرف یہ کہ شخصی طور پر قربت بڑهی بلکہ "حرف مکرر” اور "لاکلام” جیسے مجموعوں میں ان کا تازہ کلام بھی پڑھنے کو ملا ، پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا چنانچہ ادھر اکیسویں صدی کی دو دہائیوں میں ” لاشعور” اور "لاسخن” کے بعد شعری انتخاب "گل سرسبد” اور اس کے بعد کلیات راہی وہ منظر عام پر لائے ۔اپنی سوانح "راہی کی سرگزشت ” بھی شائع کی ۔وہ ۲۳ مارچ ۱۹۳۳۷ کو فتحپور ہسوا یو پی میں پیدا ہوئے اور لگ بھگ چوراسی سال اس جہان آب وگل میں گزار کر ۱۰ جولائی ۲۰۲۱ کو فتحپور کی خاک میں ہی آسودۂ خواب ہوئے ۔اہم بات یہ ہے کہ میدان سخن میں وہ عمر کے آخری پڑاؤ تک سرگرم رہے دوستوں کو مستقل فون کرنا اپنی اور ان کی خیریت لینا ۔رسائل کو پابندی سے اشاعت کے لئے اپنی غزلیں بھیجنا اور پھر ان رسائل کی بازیافت کے لئے رابطہ کرنا ان کا آخر تک معمول رہا ۔ البتہ ادھر ایک ڈیڑھ ماہ سے وہ تقریبا صاحب فراش تھے ـ
جہاں تک راہی کی شاعری کا تعلق ہے تو وہ جدید شاعروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ” شب خون” کے زیر اثر ہونے والی غزل کو نہ صرف وقار بخشا بلکہ موضوعاتی سطح پر اس کو وسعت بھی دی ،ان کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے خارجی مناظر اور سماجی مسائل کو اپنے مخصوص انداز بیان سے ذات و کائنات کا استعارہ بنا دیاـ ایک خصوصی رچاؤ اور سادگی کے ساتھ ان کے اشعار کی یہ انفرادیت اور یہ اسلوب ان کے تمام مجموعوں میں نمایاں ہے – حالانکہ انفرادیت کے سلسلے میں شمس الرحمن فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ "ہم لوگ انفرادیت کی نشاندہی کرنے کی دھن میں "اچھائی” کی نشاندہی کرنا بھول جاتے ہیں”ـ فاروقی صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ” اس زمانے میں جب اکثر شعرا روزمررہ کی اخباری باتوں یا کچھ مقبول بلکہ "چلنے والے ” مضامین کو نظم کرکے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے انسانی زندگی کے درد کو بیان کر دیا غلام مرتضی راہی ایسے تمام چلتے ہوئے مضامین سے گریز کرتے ہیں ۔ یہ گریز شعوری بھی ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر یہ ان کے مزاج کا خاصہ ہے "ـ

فاروقی صاحب کی اس رائے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کے اشعار میں اسلوبیاتی سطح پر انفرادیت بھی ہے اور تنوع بھی ۔اس کے ساتھ زبان و بیان میں وہ کشش ہے جو بہرحال قاری کو متاثر کرتی ہے ـ

بات بڑھتی گئی آگے مری نادانی سے
کتنا ارزاں ہوا میں اپنی فراوانی سے

بعض خوشیاں نہیں جینے دیتیں
بعض غم عمر بڑها دیتے ہیں

پہلے چنگاری اڑا لائی ہوا
لے کے اب راکھ اڑی جاتی ہے

سوار رہتی ہے کوئی نہ کوئی دهن مجھ پر
کسا ہوا جو مرا تار تار رہتا ہے

مجھے ملے گا وہ لیکن کہاں بٹھاوں گا
کہ ٹوٹ پھوٹ چکی اب تو کائنات مری

معرکہ سخت تھا لیکن مجھے سر کرنا تھا
جان پر کھیل گیا جان کے ڈر سے اب کے

شہرت جو سن کے آئے مری دور دور سے
پوچھا کئے مجھے مرے قرب و جوار میں

مجھ کو پہچانئے راہی کسی نسبت کے بغیر
جسم پر میرے مری کهال رہنی چاہیے

یہ اور اس کی قبیل کے اشعار میں جو ندرت اور الفاظ کا جو دروبست ہے وہ راہی کی شاعری کا نمایاں وصف ہے ۔