مجسمۂ خلوص اور علم و عمل کے حسین سنگم قاضی شریعت مولانامحمد قاسم مظفرپوری- محمد عاصم قاسمی

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

شب وروز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے،بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج وغم محسوس کرتا ہے،لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی وفات کی خبردلوں پر بجلی سی گرادے،جن کا آفتاب زندگی مغرب میں غروب ہو تو مغرب والے اندھیرا محسوس کریں۔انہی عظیم شخصیات میں سے یادگار اکابر ،ماہرفقیہ ،امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ بہار کے سینیر قاضی شریعت ،اسلامک فقہ اکیڈمی کے باوقار رکن ،حضرت اقدس مولانا محمد قاسم مظفرپوری نوراللہ مرقدہ بھی ہیں۔
آپ سنہ 1937ء میں مادھوپور ڈاکخانہ انگواں وایا ججوارہ ضلع مظفرپور میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم آپ نےاپنےگھر میں حاصل کی ،متوسطات کی تعلیم مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ میں حاصل کی ،اعلی تعلیم کے لیے آپ نے مادر علمی دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا ،جہاں اکابر علماے کرام کےچشمۂ فیض سےسیراب ہوئے ،آپ مرجع الخلائق ،یکتاے زمانہ ،قدوۃ العلما والصلحا شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام والمسلمین حضرت اقدس مولانا سیدحسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ کے درس بخاری کے سال آخرکے شاگردوں میں اور حضرت مولانا سید فخرالدین علیہ الرحمہ کےسال اول کے تلامذہ میں تھے، آپ نے 1377ھ میں مادرعلمی دارالعلوم دیوبند سے سندفراغت حاصل کی ،آپ کا شمارمادرعلمی کے ممتازطلبہ میں ہوتا تھا ،آپ کے دورۂ حدیث شریف کے نمبرات مندرجہ ذیل ہیں :
بخاری شریف 53
مسلم شریف 40
ابوداؤد شریف 52
نسائی 53
ابن ماجہ 53
طحاوی 52
مؤطا امام مالک 52
مؤطا امام محمد 53
شمائل ترمذی 52
(روداد دارالعلوم دیوبند با بت1377)

مادر علمی دارالعلوم دیوبندکے قدیم ترین استاذ حضرت مولانا قمر الدین احمد گورکھپوری دامت برکاتہم العالیہ شیخ ثانی دارالعلوم دیوبند ،حضرت مولانا اسلم صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ سابق صدر المدرسین دارالعلوم وقف دیوبنداور حضرت مولانا برھان الدین صاحب سنبھلی نوراللہ مرقدہ سابق استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ آپ کے رفقائے درس میں سے ہیں۔
ویسےتو باری تعالیٰ نے سارے علوم میں دسترس عطا فرمائی تھی لیکن خاص طور پر فقہ وفتاویٰ اور قضا کے ساتھ آپ کا تعلق واشتغال اس درجہ تھا کہ قاضی صاحب آپ کے اسم گرامی کا جز بلکہ اسکا قائم مقام بن گیا ، شمالی بہار میں مطلقا قاضی صاحب بولا جاتا تو آپ کے سوا اور کسی کی طرف ذہن جاتا ہی نہ تھا، مدرسہ رحمانیہ سپول بیرول دربھنگہ میں ایک لمبے عرصے تک آپ نے حدیث وفقہ اور دیگر درسی کتابوں کی تدریس کے علاوہ لوگوں کے پیش آمدہ مسائل کو دارالقضا کے پلیٹ فارم سےبحسن وخوبی حل کیے ہیں ، عوام وخواص سبھی اپنے دینی ،ملی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے آپ کی خدمت میں مدرسہ رحمانیہ سپول کا ہی رخ کرتے تھے۔
باری تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خصوصیات وامتیازات سے نوازا تھا ،حسن اخلاق ، حسن کردار اور تواضع وانکساری کے ساتھ ساتھ رحمت و رافت اور شفقت ومحبت کا پیکر مجسم تھے،جس کسی کا بھی آپ سے تعلق ہوا وہ آپ کے اس وصف جمیل کا گہرا نقش لیے بغیر نہ رہ سکا ،راقم الحروف کےساتھ جو خصوصی شفقت کا معاملہ تھا،اسے الفاظ میں ڈھالنا ناممکن ہے ،جب بھی حاضر خدمت ہوتا ،آپ انتہائی شفقت اور خندہ پیشانی سے ملتے، جن دنوں مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور بہار میں دارالقضا کی خدمت پر مامور تھا، ان دنوں آپ زکریا کالونی مظفرپور میں اپنے مکان میں مقیم ہوا کرتے تھے ، تو جب کسی مقدمے کے متعلق بات کرتا تو آپ مسل (مقدمہ کی فائل ) لےکر قیام گاہ آنے کا حکم دیتے ، ایک مرتبہ تو آپ نے بنفس نفیس دار القضا تشریف لاکر ایک مقدمہ کی سماعت کی اور پھر فیصلہ نامہ تحریر فرمایا۔
مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا دربھنگہ سے آپ کا قلبی لگاؤ تھا۔آپ مدرسہ ہذا کے باوقار سرپرست اورمجلس شوری وعاملہ کے رکن تھے ، آپ بکثرت مدرسہ ہٰذا تشریف لاتے تھے ،یہاں کے اساتذہ وطلبہ سے مل کر بے حد خوشی کا اظہار فرماتے اور بوقت ضرورت ان کی اصلاح بھی فرماتے تھے ۔
مدرسہ امدادیہ لہیریا سراے دربھنگہ میں تقریباً ایک سال اور مدرسہ رحمانیہ سپول پیرول دربھنگہ میں تقریباً 46 سالہ تدریسی خدمات کے علاوہ اسلامک فقہ اکیڈمی ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں بحیثیت قاضی شریعت ورکن مجلسِ شوریٰ وعاملہ اور متعدد دینی ملی اداروں کے لیے بحیثیت سرپرست ونگراں آپ کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ،باری تعالیٰ ان تمام اداروں کو آپ کا نعم البدل عطا کرے۔
آپ کی بیش بہا اور قیمتی تصانیف مندرجہ ذیل ہیں:
(١) مکاتیب رحمانی
(٢) تذکرۂ عثمان
(٣) رھنماے قاضی
(٤) رھنماے مفتی (زیر طبع)
(٥) قرآنی سورتوں کا تعارف(زیر طبع)
( ٦) بینک سے متعلق چند مسائل
(٧) رشتہ داروں کا احترام کیجیے اور یتیموں کا اکرام کیجیے
(٨) مساجد کے آداب اور ان کے احکام
اس رنج والم کے موقع پر ہم آپ کے خانوادے سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں ۔ باری تعا آپ کے مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور آپ کے درجات کو بلند فرمائے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*