محسن انسانیت ،سرور عالمؐ-پرو فیسر شکیل احمد قا سمی

اور ینٹل کا لج پٹنہ سٹی
اس کائنات میں، اس جہان آب و گل میں بلکہ یوں کہیے کہ اس عالم عرش و فرش میں اللہ رب العزت کی ربوبیت اور کمال قدرت کی سب سے روشن دلیل سرورکونین حضرت محمد ا ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ انسان بحیثیت اپنی نوع کے اگر خلاصہ مخلوقات ہے تو بلاشبہ سرور کونین خلاصہ انسانیت ہیں۔ اس میں شک نہیں دنیا میں ایک سے ایک اہم شخصیتیں پیدا ہوئیں لیکن انسانیت کی پوری تاریخ میں انسان کامل اگر کوئی پیدا ہوا تو وہ سرورکونین، رسول رحمت، محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ربیع الاول کا مہینہ اور آنحضور کی ولادت باسعادت کی تاریخ آتی ہے تو عالم انسانیت کے لیے وہ موسم، موسم بہار اور وہ دن قابل صد افتخار ہوتا ہے۔ اس روز دنیا بھر کے مسلمان جس قدر اظہارِ مسرت کریں اور جتنا بھی درود کا نذرانہ پیش کریں کم ہے۔ بلاشبہ یہ مہینہ، یہ تاریخ اور دن تاریخ انسانیت کا عظیم ترین دن ہے۔ اس روز ضلالت اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو چیر کر ہدایت اور آگہی کا آفتاب طلوع ہوا جس کی منور کرنوں سے مشرق و مغرب جگمگا اٹھے۔
محبت رسول ؐ ایمان کا حصہ ہے ، محبت سے اتباع کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، جس درجے کی محبت ہوگی اسی درجے کا اتباع ہوگا ۔ دنیائے عشق و محبت میں محبت کا زبانی دعوی مطلوب نہیں ہے ، عاشق صادق جب تک اپنے عمل سے اپنی محبت کی صداقت کا ثبوت پیش نہیں کر دیتا ، اس کا ہر دعوی مسترد کر دئے جانے کے لائق ہے ۔ اطاعت اور اتباع اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا اصل معیار ہے ۔ بخاری شریف میں حضرت انسؓ کی روایت موجود ہے کہ ’’سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مومن نہ ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائوں‘‘۔اس محبت کا تقاضا ہے کہ حضور اکرمؐ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرکے خود بہتر انسان بنے اور سماج کے لئے بہترین نمونہ ثابت ہو، تاکہ حضور ؐ کے فرمودات سے دنیا خوشگوار ہو سکے۔
آج انسان فضاؤں میں پرندوں کی طرح پرواز کرنے لگا ہے، سمندروں میں مچھلیوں کی طرح تیرنے لگا ہے، ان ساری ترقیوں کے باوجود ساری دنیا کا اتفاق ہے کہ زمین پر شریف انسانوں کی طرح چلنے کا سلیقہ ابھی نہیں آیا ہے۔ اور یہ معاملہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ساری حصولیابیوں کے باوجود انسان اپنی زندگی میں درد و کرب محسوس کرتا ہے۔ پوری دنیا امن و سکون کے لئے ترس رہی ہے، سب لوگ ٹینشن میں مبتلا ہیں ،سارے نظام کا تجربہ کر کے انہوں نے دیکھ لیا ہے لیکن انہیں سکون نصیب نہیں ہو سکا۔آدمی کو انسان بنانے والی شخصیت کی سبھوں کو تلاش ہے۔
آئیے ہم محسن انسانیت کی سماجی تعلیمات کو سماج میں پھیلائیں، جنہوں نے چھوٹوں پر شفقت کا حکم دیا، بڑوں کے احترام پر توجہ دلائی، جنہوں نے بیماروں کی تیمارداری اور خدمت کی تعلیم دی ، جنہوں نے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے کو کار ثواب بتایا۔
ہمارا کوئی نوجوان بسوں میں سفر کر رہا ہو اور کسی ضعیف آدمی کو کھڑا دیکھ کر اپنی سیٹ چھوڑ دے اور محبت سے کہے کہ چچا آپ بیٹھئے، وہ تعجب کے ساتھ سوال کریں گے کہ بابو تم کو ہم نہیں پہچانتے ہیں، تمہارا کیا نام ہے؟ یہ جواب دے گا عبداللہ، وہ پھر تعجب سے پوچھیں گے کہ ہمارا نام تو رام پرشاد ہے، ہم کو یہ عزت اور سہولت تم کیوں دے رہے ہو ؟ نوجوان احترام کے ساتھ کہے گا کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم نے اگر بڑی عمر اور بزرگوں کا احترام نہیں کیا تو تمہارا تعلق ہم سے نہیں ہے ۔وہ بزرگ چاہے جس آبادی، جس خاندان اور جس مسلک و مذہب کے آدمی ہوں، ہمارے لئے ان کو عزت و سہولت دینا ضروری ہے ورنہ وہ ہمارا نام اپنے لوگوں کی لسٹ سے کاٹ دیں گے۔
ہمارے مسلمان نوجوانوں کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ ہاسپیٹل میں چلے جائیں اور سارے بیماروں کی عیادت کریں ، دو سیب تحفہ کے طور پر ان کو دیں، اپنی خدمت پیش کریں، جب وہ پوچھیں کہ آپ کون ہیں تو جواب دیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول (Prophet) ہیں اور ہم ان کی ٹیچنگ کو مانتے ہیں، انہوں نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ بیمار چاہے کوئی ہو، کسی مذہب کا ماننے والا ہو، تم کو ان کی سیوا کرنی ہے، میں اسی لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ وہ بیمار سوچے گا کہ جس کی تعلیم اتنی بلند ہو، وہ محسن انسانیت ہیں، انہوں نے ہماری مصیبت کے وقت میں ہماری مدد کا حکم دیا ہے، ان کو تفصیل سے جاننے کی کوشش کرے گا ،اس طرح غلط فہمی دور ہو گی۔ اسلام ، پیغمبر اسلام اور محسن انسانیت کا تعارف ہوگا اور سورج سے بادل کا ٹکڑا ہٹے گا، روشنی پھیلے گی ۔
تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*