مفکر اسلام مولانامحمد ولی رحمانی کی جرأت وبیباکی -مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

مفکر اسلام مولانا محمدولی رحمانی بیباک وحوصلہ مند عالم، مضبوط فکروعمل کے سیاسی قائد ، بہترین صحافی وقلمکار، علمی وتعلیمی میدان کے رمز شناس ،سماجی وفلاحی خدمات کے علمبردار، جرأت وہمت کے پیکر، بے نظیر استقلال واستقامت کے حامل، مختلف زبانوں کے ماہر ،ندوی، قاسمی اور رحمانی فکر کے ترجمان ، اخلاق ومحبت کے پیکر، ملی وسماجی رہبر اور مثالی تجربہ کار قائد تھے، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے جنرل سکریٹری، امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیرشریعت ، رحمانی- ۳۰ و رحمانی فائونڈیشن کے بانی وچیئرمین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست بھی تھے۔
مولانامحمد ولی رحمانی ملک کے بڑے جید عالم تھے، انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ سے حاصل کی، پھر جامعہ رحمانی مونگیر میں مشکوٰۃ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۶۱ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت حاصل کی، پھر ۱۹۶۴ء میں دارالعلوم دیوبند سے باضابطہ تعلیم حاصل کرکے فضیلت کی سند حاصل کی۔ فراغت کے بعد ۱۹۶۹ء میں جامعہ رحمانی مونگیر میں تدریسی خدمات کے ساتھ فتویٰ نویسی میں حصہ لیا اور ۱۹۶۹ء میں جامعہ رحمانی کے ناظم مقرر کیے گئے، پھر ۱۹۷۰ء میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، اس طرح انہوں نے ایک جید عالم دین کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔
مولانا محمدولی رحمانی نے سیاسی قائد کی حیثیت سے سیاسی میدان میں نمایاں کردار پیش کیا، اور اپنی کارکردگی کی وجہ سے مقبول رہے۔۱۹۷۴ء میں بہارقانون ساز کونسل کے رکن اور ۱۹۸۵ء میں بہار قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے، تقریباً ۲۰؍ برسوں تک بہار ودھان پریشد کے ممبر اور محبوب اور پسندیدہ قائد کی حیثیت سے خدمات انجام دیے۔ سیاسی حلقوں میں ان کی شناخت مضبوط ہوئی اور سیاسی قائدین ان کی صلاحیتوں سے متا ثر ہوئے اور ان کی کارکردگی سے خوش ہوئے اور اپنی فکری صلاحیتوں کی وجہ سے بہار قانون ساز کونسل میں بڑا نام پیدا کیا۔
مولانا محمدولی رحمانی جس طرف گئے، وہاں انہوں نے اپنا اثر قائم کیا، صحافت کے میدان میں انہوں نے ۱۹۶۷ء ہی میں قدم رکھا، انہوں نے امارت شرعیہ کے ترجمان ہفت روزہ ’’نقیب‘‘ کی ادارت سنبھالی اور اس کے معیار کو بلند کیا، جامعہ رحمانی مونگیر کے ترجمان ’’صحیفہ‘‘ کی ادارت سے منسلک ہوئے اور اس کو آگے بڑھایا، پھر ۱۹۸۴ء میں پٹنہ سے روزنامہ ’’ایثار‘‘ جاری کیا، جس نے بہار کی اردو صحافت کو بہت متاثر کیا، یہ روزنامہ زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکا، لیکن جب تک جاری رہا، اس نے صحافت کی دنیا میں اہم کردار ادا کیا۔ بہار کے اردو روزنامے پُرانی روش پر چل رہے تھے، روزنامہ ’’ایثار‘‘نے صحافت کے معیار کو بڑھایا، اخبار کی طباعت کو اچھا اور معیاری بناکر رہنمائی کی، خبروں کے عنوانات کو جاذب اور پرکشش بنایا اور خبروں کوبااثربنانے کی طرح ڈالی۔ بازاری انداز اور استہزائی فکر کو ختم کیا اور سنجیدہ، فکر انگیز اور معیاری صحافت کی بنیاد ڈالی،یہ روزنامہ زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکا ،لیکن میرے خیال کے مطابق اس نے اپنا اثر اس قدر چھوڑا کہ آج تک بہار کی اردو صحافت اسی راہ پر گامزن ہے، یہی نہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ بہار کی سنجیدہ اردو صحافت اسی کی مرہون منت ہے تو بیجا نہ ہوگا۔
مولانا رحمانی دینی اور عصری علوم دونوں میں مہارت رکھتے تھے، اس طرح وہ ایک ماہر تعلیم بھی تھے، اس لیے وہ دونوں اداروں کے نظام اور تعلیم سے واقف تھے، اس لیے جہاں وہ مدارس کے سلسلہ میں وہ فکر مند رہتے تھے، وہیں عصری اداروں کی جانب بھی ان کی توجہ رہتی تھی،وہ مدارس کے تحفظ اور اس کے معیار تعلیم کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ہمیشہ کوشاں نظر آئے، اس کے لیے انہوں نے جلسے کیے اورکانفرنسیں کیں، مدارس اور اس کی تعلیم کی حفاظت کے سلسلہ میں اہم رول ادا کیا، جہاں تک عصر ی تعلیم کی بات ہے تو اعلیٰ تعلیم میںمسلمان بہت پیچھے ہیں، اس کے لیے وہ نہایت فکر مند رکھتے تھے، اس کمی کو دور کرنے کے لیے اور اعلیٰ تعلیم میں مسلمانوں کو آگے بڑھانے کے لیے رحمانی-۳۰ کے نام سے ادارہ قائم کیا، اس کی شاخیں پہلے کچھ شہروں میں تھیں ،لیکن اب تقریباً ملک کے ہر بڑے شہروں میں اس کی شاخیں قائم کی جاچکی ہیں، جس میں فری کوچنگ کا انتظام کیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں طلبہ کامیاب ہوتے ہیں، جس سے پورے ملک کے مسلمان بچے فیض حاصل کررہے ہیں، اس کوشش کو ملک کے ہرطبقہ نے سراہا، اور اس کی پذیرائی کی۔یہ مولانا رحمانی کی بڑی کامیابی رہی۔ رحمانی -۳۰ کے پروگرام میں اکثر میری بھی شرکت ہوتی رہی، یقیناً یہ قابل فخر کارنامہ رہا۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو جاری رکھے اور مضبوطی عطا کرے۔
مولانا رحمانی بڑے ملی قائد بھی تھے، وہ بیک وقت امارت شرعیہ کے امیر شریعت ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں کے اہم عہدوں پر فائز تھے، اس لئے ان کی قائدانہ صلاحیت نہایت مضبوط تھی، اوروہ افرادی قوت کے حامل بھی تھے، چنانچہ جب کبھی بھی انہوں نے کوئی میٹنگ کی تو افراد کھینچے کھینچے چلے آتے تھے۔ خواہ امارت شرعیہ کی میٹنگ یا اجلاس ہو، یا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس یا خانقاہ رحمانی کا جلسہ، اسی سلسلہ کی ایک کڑی ’’دین بچائو ،دیش بچائو‘‘ کا اجلاس بھی تھا، جو راجدھانی پٹنہ کے گاندھی میدان میں منعقد کیا گیا، یہ ایک تاریخی اجلاس تھا، جس نے یہ ثابت کردیا کہ قیادت کا حق ایسی ہی شخصیت کو حاصل ہے، اس تاریخی اجلاس کے موقع پر پٹنہ کا گاندھی میدان ہی نہیں ،بلکہ پورا پٹنہ گاندھی میدان بن گیا، واقف کاروں کے مطابق اتنا بڑا اجتماع گاندھی میدان میں اُس وقت تک نہیں ہوا، یقیناً یہ اس اجلاس کے لئے بڑی کامیابی کی بات تھی،لیکن نہایت افسوس کی بات یہ ہوئی کہ مسلم قیادت کو ابھرتے ہوئے دیکھ کر ایسا لگا کہ حکومت اس کو برداشت نہ کرسکی اور اس کوبے اثر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایسے فرد کے ایم ایل سی بنانے کا اعلان کردیا گیا، جو اجلاس میں حصہ لے رہے تھے، پھر کیا تھا، اجلاس تو بڑا کامیاب ہوا، مگر بے اثر ہوکر رہ گیا، جس کا افسوس سبھوں کو رہا۔ مولانا رحمانی نے بہت صفائی دی، لیکن ان کی صفائی سے ایک طبقہ مطمئن نہیں ہوا، جبکہ ایسے وقت میں سبھوں کی ذمہ داری تھی کہ اس سازش کو بھی بے اثر کرنے اور اپنی قیادت کو مضبوط کرنے کے لیے آگے کی حکمت عملی طے کی جاتی، تو ایک بڑی قیادت ابھر کر سامنے آتی، جس کی تمنا کی جاتی تھی، مگر ایسا نہیں ہوسکا،جہاں تک امیر شریعت مولانا رحمانی کی بات ہے ، میں نے ان کو اس معاملہ میں مخلص پایااور میں نے اس معاملہ کو اجلاس کے اثر کو ختم کرنے اور قیادت کو کمزور کرنے کے لیے حکومت کی سازش پر محمول کیا۔
مولانا رحمانی سے میرے تعلقات اس وقت قائم ہوئے ، جب وہ ۱۹۸۵ء میں قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے تھے، لیکن جب ۲۰۰۵ ء میں نائب امیرشریعت ہوئے تو امارت شرعیہ کی میٹنگ میں ملاقاتیں ہوتی رہیں، اسی زمانہ میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل کے عہدہ پر کارگذار کی حیثیت سے فائز تھا، اس لیے مدرسہ ایجوکیشن پر جب بھی کوئی بُرا وقت آیا تو میں نے ان کو بھی اس کی اطلاع دی، اور ضروری کارروائی کی درخواست کی۔ ایک مرتبہ حکومت ہند نے ایک پالیسی بنائی، جس کا مقصد ’’یکسا ں نظام تعلیم‘‘ تھا، یعنی پورے ملک کے ایجوکیشن سسٹم کو ایک کرکے یکساں نظامِ تعلیم نافذ کیا جائے، حالانکہ اس کا دائرہ صرف سرکاری اسکول تھے، لیکن اس کے ذمہ داروں نے بہار کا دورہ کیا، تو مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کو سرکاری ادارہ سمجھ کر مدرسہ کا بھی دورہ کیا، اور اس کو بھی یکسا تعلیم نظام سسٹم سے منسلک کرنے کی بات کی۔ میں نے انہیں ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مدرسہ ہے، یہ اسکول کے نظام سے الگ ہے، لیکن وہ کسی طرح بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوئے، وہ معائنہ کرکے واپس چلے گئے، دوسرے دن جب اخبار میں خبر شائع ہوئی تو مولانا رحمانی نے بروقت کارروائی کی، جس کے نتیجہ میں حکومت نے مدارس کو مستثنیٰ قرار دیا۔
مولانا رحمانی تحفظ مدارس کے بھی علمبردار رہے، انہوں نے ہر موقع پر بڑھ کر اس کے لئے کام کیا، ۲۰۰۹ء میں مرکزی حکومت نے رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے مسودہ کو جاری کیا تھا، اس کا مقصد یہ تھا کہ ۶؍سے ۱۴؍ تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرائی جائے،اس مسودے کے منظرعام پر آتے ہی یہ معاملہ سامنے آگیا کہ اس ایکٹ میں مدارس شامل ہیں کہ نہیں؟ اس ایکٹ کی وجہ سے اہل مدارس میں بڑی بے چینی پیدا ہوئی، چونکہ مجھے بھی ہمیشہ مدارس کی تحریک سے وابستگی رہی اور یہ ایکٹ مدارس کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی، اس لئے میں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ ۲۰۰۸ء- ایک جائزہ کے عنوان سے تجزیاتی مضمون شائع کیا، ملی تنظیموں سے اس کے خطرناک پہلوؤں پر گفتگو کی، اس معاملہ میں مولانا محمدولی رحمانی کا اقدام نہایت مئوثر رہا، انہو ںنے مرکزی وزیرتعلیم سے مل کر اس پر گفتگو کی، چونکہ یہ ایکٹ آئین ہند کی دفعہ ۲۹اور ۳۰؍میں اقلیتوں کو دیے گئے حقوق سے متصادم تھا، اس لیے مرکزی حکومت کے محکمۂ تعلیم نے ۲۳؍ نومبر ۲۰۱۰ء کو ایک گائیڈلائن جاری کیا، اس کے دفعہ ۲؍ میں تحریر کیا کہ ’’مدارس کے ساتھ پاٹھ شالہ جیسے ادارے جو مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے خصوصی تعلیم مہیا کرتے ہیں، ان کو آئین کی دفعہ ۲۹؍اور ۳۰؍ کے تحت حفاظت حاصل ہے، رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ ایسے اداروں کے جاری رہنے اور ان اداروں کے طلبہ کے حقوق کا راستہ نہیں روکتا ہے، اس طرح مدارس اور سنسکرت پاٹھ شالے رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ سے مستثنیٰ قرار دیے گئے۔اسی طرح مرکزی حکومت کی طرف سے مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام کا فیصلہ لیا گیا اور مدارس کے الحاق کے سلسلے میں کارروائی کی کوشش کی گئی،تو مولانا رحمانیؒ نے اس کی پُرزور مخالفت کی۔ فروری۲۰۰۲ء کو مونگیر میں ’’ناموس تحفظ مدارس کے نام سے‘‘ میٹنگ بلائی، اس میں مولانا رحمانی نے جو خطبۂ صدارت پیش کیا، اس کے چند اقتباسات پیش ہیں:
’’مدرسوں میں کام کرنے والے علماء اور اس سے تعلق رکھنے والوں نے ملک کی محبت اور ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ تاریخی ریکارڈ ہے، ان علماء نے وطن کی آزادی کا خواب اس وقت دیکھا جب غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہندوستانی عوام غفلت کی نیند سورہے تھے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار کے بعد سب سے پہلے علمائے کرام کی جماعت نے غیر ملکی اقتدار کے خاتمہ کا پروگرام بنایا، تاریخ اسلام کی عظیم شخصیت حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی ؒاور ان کے گرامی مرتبت صاحبزادگان حضرت شاہ عبد العزیزؒ اور حضرت شاہ عبد القادرؒ اور ان کے شاگردوں اور خلفاء نے وطن عزیز پر سے غاصبانہ اور ظالمانہ اقتدار کو ختم کرنے کے لیے جد وجہد شروع کی، ہندوستان میں ۱۷۵۷ء کا تاریخی موڑ اسی ذہن سازی اور عملی جد وجہد کی پہلی کڑی ہے، اس کے بعد حضرت شاہ محمد اسحاقؒ، حضرت اسماعیل شہیدؒ، حضرت سید احمد شہیدؒ کی جد وجہد کا دور ہندوستان کی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔
ان گرامی قدر شخصیتوں کے بعد حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا فضل حق خیر آبادیؒ، حضرت مفتی عنایت احمد کاکوریؒ، خاندان صادق پور کے مجاہدین باصفا اور ہزاروں علمائے کرام نے برٹش حکومت کے خاتمہ کے لیے آزادی کا صور پھونکا اور وطن کی عزت وعظمت کو زندہ کرنے اور غلامی کی زنجیر کو کاٹنے کے لیے عملی تدبیریں کیں، جس کے نتیجہ میں مدرسوں کے علماء، منتظمین اور مدرسہ سے تعلق رکھنے والوں کو قتل کیا گیا، پھانسی دی گئی، کالا پانی میں قید رکھا گیا، جیل کی سلاخوں کے پیچھے ان کی زندگی گذری۔
انیسویں صدی میں پانچ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو سزائے موت دی گئی، جن میں انیس ہزار علمائے کرام تھے، تین ہزار مسلمان کالا پانی (جزیرہ انڈمان) بھیجے گئے، جہاں وہ برسہا برس آزادی وطن کا خواب سینہ میں لیے ہوئے زندگی اور موت کی کشمکش جھیلتے رہے۔‘‘
اسی طرح ۲۰۰۱ء میں حکومت ہند کی جانب سے جب وزاراتی گروپ کی رپورٹ نے ملک کے مدارس کے بارے میں شکوک وشبہات پیش کئے تو مولانا رحمانی فوراً متحرک ہوگئے اور حکومت ہند کے ذمہ داروں کو بتایا کہ جو رپورٹ مدارس اسلامیہ کے تعلق سے پیش کی گئی ہے وہ درست نہیں ہے، مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد انہوں نے ملک گیر سطح پر مدارس اسلامیہ کے تحفظ کے لئے ۵۰؍ سے زائد جلسے منعقد کئے، مدارس اسلامیہ کے سلسلے میں مولانا رحمانی ناموس تحفظ مدارس کے اپنے خطبۂ صدارت میں واضح لفظوں میں اعلان کرتے ہوئے کہا :
’’آزاد ی کے بعد علماء اور مدارس کے لوگوں نے ملک کی تعمیر اور نئی نسل کی تعمیر وتربیت میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے، ملک میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے ہزاروں مدارس خدمت انجام دے رہے ہیں، یہ تعلیم وتربیت کا گہوارہ ہیں، ان کے ذریعہ دور دیہاتوں کی جھونپڑیوں میں علم کا چراغ روشن ہوتا ہے، بہت سے دیہات وقصبات ایسے ہیں جہاں علم پھیلانے کا ذریعہ صرف مدارس ہی ہیں، پھر یہ مدارس علم دین کے سیکھنے سکھانے اور علوم اسلامیہ کی تدقیق وتحقیق کے مراکز ہیں، اس لئے مدارس انسانی ضرورت ہے، علمی اور تعلیمی ضرورت ہے اور ہماری دینی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ’’جہاں تک معاملہ مدارس میں دہشت گردی کی تربیت دینے اور بنیاد پرستی کی تخم ریزی کرنے اور مدارس کے لوگوں کے دہشت گرد ہونے کا ہے، اس کا کوئی ایک ثبوت کسی مدرسہ میں آج تک نہیں ملا ہے۔ ‘‘
اسی طرح جب یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ کھڑا ہوا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ارریہ کچہری میدان میں ۳۰؍نومبر ۱۹۹۳ء کو عظیم الشان عام احتجاج کا انعقاد کیا گیا، اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ولی رحمانیؒ نے کہا:’’ یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ، یہ ہندوئوں کے خلاف بھی ہے اور سکھوں اور عیسائیوں کے خلاف بھی ہے، اگر یہ نافذ ہوگیا تو خود ہندو بھائی بھی اسے تسلیم نہیں کریں گے، مثال کے طور پر شادی کے طریقہ کو لے لیجیے، جنوبی ہندوستان کے ہندوؤں کا طریقہ شمالی ہندوستان کے ہندوؤں سے الگ ہے، جنوبی ہندوستان میں ماموں اور بھانجی کے درمیان رشتہ کو اچھا سمجھا جاتا ہے اور شمالی ہندوستان کے ہندوؤں کے یہاں یہ رشتہ خراب سمجھا جاتا ہے، اگر قانون ایک کردیا گیا تو یا تو شمالی ہندوستان کے ہندوؤں کے خلاف ہوگا یا جنوبی ہندوستان کے ہندوؤں کے خلاف ہوگا۔ یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ سے پورے ملک میں بے چینی آجائے گی، یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ملک کے اتحاد اور سا لمیت کا مسئلہ ہے، یہاں پُرانی قدروں اور تہذیبوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، بیشک دستور ہند میں اس کی گنجائش رکھی گئی ہے، مگر دستور بنانے والے بھیم رائو امبیڈکر کا یہ جملہ آج بھی پروسیڈنگ میں موجود ہے کہ کوئی پاگل گورنمنٹ ہی اس ملک میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرسکتی ہے۔‘‘
اسی طرح جب نئی تعلیم پالیسی کا مسودہ ۲۰۱۹ء میں آیا، تو اس موقع پر بھی مولانا رحمانی ؒ مسلم اقلیتی اداروں، مسلم اقلیت کی صحیح تعلیم بالخصوص مدارس کی تعلیم کو لے کر وہ نہایت بے چین نظر آئے،امارت شرعیہ میں میٹنگ بلائی ،میٹنگ میں میں بھی شریک رہا،نئی تعلیمی پالیسی پر انہوں نے خاص توجہ دی ، مولاناانیس الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ کی حیثیت سے کلیدی رول ادا کیا، اس کے تجزیاتی مطالعہ کے بعد مرکزی حکومت کو مشورے بھیجے گئے، مرکزی حکومت کے محکمۂ تعلیم نے ان میں سے بہت سے مشوروں کو قبول کیا، چونکہ رائٹ ٹو ایجوکیشن میں مدارس کو مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا، اس لیے جب تک اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی، اس وقت تک نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس کے سلسلہ میں کچھ شامل کرنا مشکل تھا، اس لیے مرکزی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی کے مسودہ میں مدارس اور سنسکرت پاٹھ شالائوں کے معاملہ میں خاموشی اختیار کی، البتہ کچھ ضروری اصلاحات کی طرف اشارہ کیا، اس کے باوجود وہ اس سلسلہ میں کافی متفکر نظر آئے، انہوں نے اس ایکٹ کا اردوزبان میں ترجمہ کرایا اور امارت شرعیہ کی جانب سے اس کو شائع کرایا، پھر لوگوں کے درمیان تقسیم کرایا، تاکہ لوگ اس کا مطالعہ کرکے نئی تعلیمی پالیسی پر مشورہ دیں، اس سلسلے میں مستقل سمینار کرانا چاہتے تھے، مگر وہ اللہ کے پیارے ہوگئے۔
مولانا رحمانی اپنی جرأت اور حوصلہ کی وجہ سے بھی عوام وخواص میں مقبول تھے،وہ ذہین اور بیباک تھے، انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے جنرل سکریٹری ہونے کی حیثیت سے بورڈ کو مزید متحرک اور فعال بنایا، طلاق بل کے موقع پر حکومت نے چند برقعہ پوش خواتین کو پیش کرکے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ترمیمی بل مسلم خواتین کے فائدہ کے لیے ہے، انہوں نے حکومت کے اس سازش کو بے نقاب کیا اور ان چند نام نہاد مسلم خواتین کے مقابلہ میں بھی لاکھوں کی تعداد میں ملت کی پردہ نشیں خواتین کے ذریعہ احتجاج کرایااور اس کی پرزور مخالفت کی، پھر یکساں سول کوڈ اور طلاق بل کی مخالفت میں چار کروڑ تحریری قرار دادیں حاصل کرکے ان کی سی ڈی بناکر لاکمیشن میں پیش کیا۔ حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے ،قوانین کا نہایت ہی حوصلہ اور ہمت سے مقابلہ کیا، ان کے بروقت بیانات نے بہت سے فتنوں کا سدباب کیا۔ جسٹس کاٹجو نے اپنے بیانوں کی اصلاح کی، سرکاری عہدیداروں نے وقف ایکٹ جیسے موضوعات کو واپس لینا پڑا،بابری مسجد مقدمہ کی مضبوطی کے ساتھ پیروی کی، پھر بابری مسجد کی شہادت کیس کے فیصلہ پر اٹھنے والے فتنہ کا نہایت ہی ہمت اور استقامت سے مقابلہ کیا ، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے جشن صد سالہ تقریب میں ان کا خطاب ان کی جرأت وحوصلہ پر آج بھی شاہد ہے۔
آخرمیں بورڈ کے زیراہتمام اصلاح معاشرہ کا پروگرام شروع کیا، لاک ڈائون کی وجہ سے گرچہ اس کے لیے عوامی جلسے کم ہوئے، مگر جو کچھ ممکن ہوسکا وہ کیا گیا، اس کا بھی اچھا اثر مسلم معاشرہ پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اصلاح معاشرہ کے پروگرام کی افادیت کے سلسلے میں مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا:
’’ آج یہ کہاجاتا ہے کہ مسلمان اقلیت میں ہیں، مسلمانوں کی تعداد کم ہے، اس لیے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب مسلمان ہندوستان میں آئے تو انہیں حکومت دی گئی، بڑے بڑے عہدوں پر وہ بٹھائے گئے، انہیں یہ عہدے اس لیے نہیں ملے، کہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی، طاقت بہت زیادہ تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان صرف لاکھ سوا لاکھ کی تعداد میں تھے، تو انہیں حکومت دی گئی، عہدے دیے گئے، انہیں عہدے اس لیے دیے گئے کہ ان کے پاس کردار وعمل کی دولت تھی، ان کے اچھے کردار نے ان کو عزت عطا کی، حکومت اور وقار عطا کیا، آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کا اچھا کردار بحال نہیں ہے، کردار سازی کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے، بلکہ کردار سازی کا مزاج ہی نہیں رہا، آج ہماری وہ پہچان ہی مٹ گئی ہے، جو پہچان بنائی تھی سرکارِ ذی وقار صلی اللہ علیہ وسلم نے ،آپ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق آج ہمارے اندر دنیا کی محبت اور آخرت کی غفلت پیدا ہوگئی ہے، اور یہ دونوں باتیں جس مسلمان کے اندر داخل ہوں گی ان میں بزدلی پیدا ہوگی، خدا کا خوف ان کے دل سے نکلے گا اور وہ سب کچھ رہے گا لیکن مسلما ن نہیں رہے گا، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیراہتمام اصلاح معاشرہ کا جو پروگرام منعقد ہورہا ہے، ہمیں دین کی ڈگر پر لوٹانے کے لیے ہورہا ہے، الحمدللہ اس کے فائدے نظر آرہے ہیں‘‘۔
مولانا رحمانی ایک متحرک، فعال اور دانشور عالم دین اور تجربہ کار سیاسی قائد بھی تھے، اس لیے ان کی شخصیت پر لوگ بہت اعتماد کرتے تھے، ملی تنظیموں میں بھی وہ بہت اثر رکھتے تھے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں ان کی شخصیت نمایاں نظر آتی تھی، جب کبھی ضرورت پڑی انہوں نے ملی تنظیموں کی میٹنگ منعقد کرکے ضروری فیصلے لیے اور حتی الامکان ملت کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی، میں تو اس کاہمیشہ قائل رہا کہ جو کام کرتا ہے، اسی سے غلطی بھی ہوتی ہے اور اس پر لوگ تنقید بھی کرتے ہیں، جو کام نہیں کرتا تو اس سے کیا غلطی ہوگی، کیا ان پر تنقید اور کیا تبصرہ کیا جائے گا۔ مولانا رحمانی ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری، امارت شریعہ بہار اڈیشہ، وجھارکھنڈ کے امیر، رحمانی فائونڈیشن اور رحمانی-۳۰کے چیئرمین، جامعہ رحمانی کے سرپرست اور برسوں تک بہار قانون سازکونسل کے ممبر اور ڈپٹی چیئرمین رہے۔ ہوسکتا ہے کہ کہیں انسان ہونے کے ناطے کچھ لغزش ہوئی ہو، لیکن بیشمار خوبیوں کے مقابلہ میں چند چھوٹی چھوٹی لغزشوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، اس لیے میں اس قحط الرجال کے دور میں ان کی جرأت وہمت ، تنظیمی صلاحیت، تعلیمی میدان میں مہارت اور ان کی سیاسی قائدانہ صلاحیت کا معترف رہااور خوشی کی بات ہے کہ میں ان کی تمام تحریکوں میں ان کے ساتھ رہا۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کی قدر میرے دل میں باقی ہے اور باقی رہے گی۔ ان سے بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں، مگر وہ ایسے وقت میں رخصت ہوگئے ،جب کہ ملک وملت کو ان کی شدید ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ملک وملت کو نعم البدل عطا کرے۔