محمد کی محبت دین حق کی شرطِ اول ہے ـ اظہارالحق بستوی

 

اللہ کے رسول ﷺ سے محبت، آپ سے عقیدت اورآپ کی تعظیم وتکریم ہمارے ایمان کے بنیادی اجزا ہیں۔ اگر کوئی دل محبت رسول ﷺ سے خالی ہے تو وہ دل نہیں ویران صحراہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی ذات ہمارے لیے ایسا اسوہ وآئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر ہم خود کو سنوار اور سدھار سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ہم سے کتنا قرب ہے اس کا ذکر خوداللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایاکہ : نبی ایمان والوں کےلیے خود ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔ ایک مومن کے لیے نبی ﷺ سے تعلق ومحبت، آپ کا قرب و ارادت اس کا اعزاز و اکرام ہے۔

 

اللہ کے رسول ﷺ محبت کے تمام اسباب و علل کے جامع ہیں۔ آپ کے جمال جہاں آراء کے بارے میں حسان بن ثابت رض نے فرمایا تھا : کانک قدخلقت کماتشاء کہ گویاآپ اپنی حسب منشاء پیدا کیے گئے ہیں ۔ اگر انسان کو فرصت دی جائے کہ وہ اپنی منشا کے اعتبار سے خوب صورت بن جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک آدمی کتنا خوب صورت بننا چاہے گا۔ حضور ﷺ کی ذات گرامی ایسی ہی خوب صورت تھی کہ آپ گویا اپنی منشاو مرضی کے اعتبار سے خوب صورتی کے سانچے میں ڈھالے گئے تھے۔

 

آدمی کسی سے محبت یا تو اس کے حسن و جمال کی وجہ سے کرتا ہے۔ تو جاننا چاہیے کہ میرے نبی ﷺ کا حسن یوسف علیہ السلام کے حسن سے بھی بڑھا ہوا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہاتھا:

وَلَوْ سَمِعُوا فِي مِصْرَ أَوْصَافَ خَدِّهِ لَمَا بَذَلُوا فِي سَوْمِ يُوسُفَ مِنْ نَقْدِ

لَوَاحِي زَلِيخَا لَوْ رَأَيْنَ جَبِينَهُ لَآثَرْنَ بِالْقَطْعِ الْقُلُوبَ على الْأَيْدِي

 

کہ اگرآپ ﷺ کے رخسار مبارک کے اوصاف اہل مصر سنتے تو حضرت یوسف علیہ السلام کی قیمت لگانے میں سیم و زر نہ بہاتے۔

اگر زلیخا کو ملامت کرنے والی عورتیں آپ ﷺ کی جبین انور دیکھتیں تو ہاتھوں کی بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتیں۔

 

اگر کمالات کی وجہ سے کسی سے محبت کی جاتی ہے تو میرے آقا کے کمالات اتنے ہیں کہ:

 

قلم اشجار ہوں سارے سمندر روشنائی ہوں

مکمل ہو نہیں سکتی مگر سیرت محمد کی

 

اگر اخلاق کی وجہ سے محبت کی جاتی ہے تو میرے آقا کے اخلاق تمام انسانوں میں سب سے بہتر تھے۔ فتح مکہ کا موقع ہے۔ دشمنوں کے کلیجے مارے خوف کے منھ کو آرہے ہیں۔ ادھر آقا کے اخلاق کا اظہار ہوتا ہے اور ان لوگوں کو باعزت آزادی و رہائی کا پروانہ دیا جاتا ہے جنھوں نے کبھی آقا ﷺ اور آپ کے اصحاب کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا تھا: وانک لعلی خلق عظیم کہ آپ عظیم اخلاق کے حامل ہیں۔

 

ہم بحیثیت مسلمان آپ کے ان سارے اوصاف و کمالات کی طرف نظر کیے بغیر بھی آپ سے محبت کرتے ہیں کیوں کہ آپ ہمارے آقا و مولاہیں۔ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی محبت کا دم بھرتے ہیں۔

 

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری محبت کا وہی معیار معتبر ہے جس میں ہم قدم بقدم آپ ﷺ کی اتباع کرنے والے ہوں۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ سنت رسول پر عمل سے عبارت ہو۔اطاعت کے بغیر محبت کا دعوی صرف ایک ڈھونگ اور فریب ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے کیاخوب صورت بات ارشاد فرمائی کہ: آپ فرمادیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو،اللہ تم سے محبت کرے گا۔

 

آپ ﷺ سے محبت ہی کے تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ کسی بھی طرح آپ ﷺ کو کوئی تکلیف نہ پہونچائی جائے۔ اللہ تعالی اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتے ہیں: بلاشبہ جولوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالی نے دنیا وآخرت میں ان کے اوپر لعنت کو مسلط کررکھا ہےاور ان کے لیے ذلت آمیز عذاب تیار کررکھا ہے۔ لہذا اگر کوئی آپ ﷺ کو تکلیف پہونچائے تو اسے بہر صورت روکا جانا چاہیے۔

 

مگر اگر وہ بے لگام ہوکر اہانت و گستاخی کا مرتکب ہونے لگے تو اس کو کیفر کردار تک پہونچادینا چاہیے ۔جیسا کہ اس ایک صحابی نے کیا تھاجنھوں نے ایک یہودیہ عورت کا گلا گھونٹ دیا کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتی تھی۔ گستاخی کرنے والوں کے حوالے سے محبت رسول کا وہ معیار مطلوب ہے جو اس اندھے صحابی نے طے کیا تھا جس کی ام ولد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھی چناں چہ اس نابینا صحابی نے بھالا مارا اوراسے آخری انجام تک پہونچا دیا۔ جو انجام عصماء بنت مروان گستاخ رسول کا کیا گیا کہ عمیر بن عدی نے اس کو تلوار گھونپ کر جہنم رسید کردیاوہی انجام ہر گستاخ رسول کا ہونا چاہیے ۔ ایک دوسری عورت حضور ﷺ کو گالی دیا کرتی تھی چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا: من یکفینی عدوی کہ کون میرے دشمن کی خبر لے گا؟ چناں چہ حضرت خالدبن ولید نے اس کا کام تمام کردیا۔ کعب بن اشرف کا کام محمد بن مسلمہ نے تمام کیا۔ ایک دوسرے مشرک گستاخ رسول کی ذلت آمیز موت حضرت زبیر بن العوام کے ہاتھوں ہوئی۔

 

اسلام کی تاریخ رسول اللہ ﷺ کے دیوانوں کی محبت آمیز داستانوں سے لالہ زار ہے۔ انھوں نے جب بھی کسی دریدہ دہن کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر طعن و تشنیع کے تیروتفنگ چلا رہا ہے اور اس نے آپ ﷺ کی ذات گرامی کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ آگے بڑھے اور اسے جلد اس کے انجام تک پہونچا دیا۔ محبت رسول ﷺ کا یہی معیار مطلوب ہے اور سچ ہے یہ بات کہ:

 

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*